Verily, in the remembrance of Allah do hearts find rest (13:28)
Spreading the message of Islam with Love.
Our team is committed to produce high quality visual reminders to help us maintain our Iman (faith) at a good level and also increase our love for our creator, Allah (S.W.T).
This channel aims to create educational and motivational Islamic reminders to help spread the word of Allah and teach us lessons from the Sunnah of The Prophet ﷺ.
SIRAT UL NOOR
وَاجْبُرْنِي " کا کیا مطلب ہے؟"
جب ہم نماز میں دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے ہیں تو ایک دعا پڑھتے ہیں
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي
وارْزُقْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي
ترجمہ
اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے مجھے عافیت عطا فرما، مجھے رزق دے اور میری کمیوں کو پورا فرما۔
حدیث
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے۔
سنن ابی داؤد (850) (جامع ترمذی (284)
اس دعا میں ایک لفظ آتا ہے "وَاجْبُرْنِي "۔
عربی میں جبر کا مطلب ہوتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑ دینا، بکھرے ہوئے کو سمیٹ دینا اور زخم پر ایسا مرہم رکھ دینا جو درد کو ٹھنڈک دے۔... سوچیں
جب کہیں گہرا زخم لگ جائے، خون بہہ رہا ہو، درد برداشت سے ... باہر ہو
اور کوئی آ کر اس زخم پر نرمی سے ٹھنڈا مرہم رکھ دے - تو
اس عمل کو جبر کہتے ہیں۔
جب بندہ دو سجدوں کے درمیان عاجزی سے بیٹھ کر کہتا ہے
" وَاجْبُرْنِي "
تو وہ دراصل اللہ سے یہ مانگ رہا ہوتا ہے
اے اللہ! میرے دل کی ٹوٹ پھوٹ جوڑ دے
میرے دکھوں پر مرہم رکھ دے
میری کمیوں کو پورا کر دے
اور میرے بکھرے ہوئے حال کو سنوار دے۔
انسان کے دل کے زخم ہوں، روح کی تھکن ہو، یا زندگی کی ٹوٹ پھوٹ
ان سب کا مرہم نماز میں ہی موجود ہے۔
3 months ago | [YT] | 23
View 0 replies
SIRAT UL NOOR
سب کچھ ہے، مگر سکون کیوں نہیں؟
ہم اپنے جسم کو روز کھانا کھلاتے ہیں، لیکن ہماری روح بھوکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر نعمت ہونے کے باوجود ہم اندر سے خالی محسوس کرتے ہیں۔ 🥀
اس کا علاج باہر کی دنیا میں نہیں، آپ کے اپنے اندر ہے۔
سلسلہ لطائفِ سبعہ کی اگلی قسط میں ہمارے ساتھ شامل ہوں جہاں ہم "لطیفہ روح" کے رازوں سے پردہ اٹھائیں گے۔
اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے:
✅ جسم میں روح کا مقام کہاں ہے؟
✅ حضرت نوح علیہ السلام سے اس کا کیا تعلق ہے؟
✅ خاموش ذکر اور سبز نور کا راز کیا ہے؟
👇 اگر آپ اس ویڈیو کا انتظار کر رہے ہیں تو کمنٹ میں "لبیک" یا "Ready" لکھیں!
#LatifaERooh #MentalPeace #Sufism #Zikr #SpiritualHealing #Tasawwuf #Urdu
6 months ago | [YT] | 15
View 0 replies
SIRAT UL NOOR
صوفیاء کا 1400 سال پرانا راز 🤫
کیا آپ جانتے ہیں کہ درود شریف کے ہزاروں صیغوں میں سے ایک "خاص درود" ایسا ہے جسے اہلِ تصوف "روحانی ٹائم ٹریول" کہتے ہیں؟ ⏳
یہ وہ واحد درود ہے جو آپ کی روح کو اس دنیا کی قید سے نکال کر سیدھا "عالمِ ارواح" میں لے جاتا ہے اور آپ کا تعلق نبی کریم ﷺ کے جسمِ اطہر اور قبرِ انور سے بیک وقت جوڑ دیتا ہے۔
یہ بڑے بڑے اولیاء کا سینہ بہ سینہ راز رہا ہے۔ کیا آپ اس "روحانی کوڈ" کو جاننا چاہتے ہیں جو بند دروازے کھول دیتا ہے؟
آج بہت جلد ایک ایسی ویڈیو آ رہی ہے جو آپ کے تصورات بدل دے گی۔ تیار رہیں! 💚✨
#ComingSoon #DaroodSharif #SufiSecret #SpiritualJourney
6 months ago | [YT] | 21
View 0 replies
SIRAT UL NOOR
حضرت جنید بغدادی کے پاس ایک عورت آئی ، اور پوچھا کے حضرت آپ سے ایک فتویٰ چاہئے کہ اگر کسی مرد کی ایک بیوی ہو تو کیا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح جائز ہے ؟
حضرت جنید بغدادی رح نے فرمایا بیٹی اسلام نے مرد کو چار نکاح کی اجازت دی ہے بشرطیکہ چاروں کی بیچ انصاف کر سکے اس پر اس عورت نے غرور سے کہا کہ حضرت اگر شریعت میں میرا حسن دکھانا جائز ہوتا تو میں آپ کو اپنا حسن دکھاتی اور آپ مجھے دیکھ کر کہتے کہ جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے دوسری عورت کی کیا ضرورت؟؟
اس پر حضرت نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے ۔ وہ عورت چلی گئی جب حضرت ہوش میں آئے تو مریدین نے وجد کی وجہ پوچھی ۔ حضرت نے فرمایا کہ جب عورت مجھے یہ آخری الفاظ کہ رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ الفاظ القا کیے کہ : اے جنید! اگر شریعت میں میرا حسن دیکھنا جائز ہوتا تو میں ساری دنیا کو اپنا جلوہ کرواتا تو لوگ بے اختیار کہہ اٹھتے کہ جس کا اتنا خوبصورت اللہ ہو اسے کسی اور کی کیا ضرورت ہے
8 months ago | [YT] | 11
View 0 replies
SIRAT UL NOOR
چھوٹا عمل مگر صرف اللہ کے لیے
بغداد کے قریب ایک بستی میں ایک درویش رہتا تھا۔ اس کے پاس نہ مال تھا نہ جائیداد نہ ہی دنیاوی عزت لوگ اکثر اسے فقیر سمجھ کر نظر انداز کرتے، لیکن اللہ کے ذکر اور اخلاص کی دولت نے اسے ایسا سکون دیا تھا جو بڑے بڑے مالداروں کو نصیب نہ تھا۔
ایک دن بادشاہ کے دربار میں اعلان ہوا کہ شہر کے سب نیک اور عبادت گزار لوگ جمع ہوں، تاکہ ایک بڑی محفل میں انعام دیا جا سکے۔ ہزاروں لوگ قرآن کی تلاوت نوافل اور روزوں کے قصے سناتے ہوئے آئے۔ دربار علم و عبادت کے چرچوں سے گونج رہا تھا۔
اسی دوران وه درویش بھی چپ چاپ آیا۔ اس نے کہا میں نے نہ ہزار رکعتیں پڑھیں، نہ سینکڑوں روزے رکھے۔ بس " ایک دن میرا پڑوسی بھوکا تھا، اور میں نے اپنے منہ کا نوالہ اس کو کھلا دیا۔
یہ سن کر لوگ ہنس پڑے کہ یہ چھوٹی سی بات ہے۔ لیکن بادشاہ کے دربار میں موجود ایک بزرگ عالم نے کہا تم سب کی عبادتیں اپنی جگہ مگر یہ عمل اخلاص کے ساتھ " تھا۔ کسی دکھاوے یا شہرت کے لیے نہیں۔ یاد رکھو، اللہ کے ہاں اخلاص کا ایک قطرہ بھی ہزار ظاہری عبادتوں سے بڑھ کر ہے۔
یہ سن کر سب کے دل کانپ گئے۔ وہ سمجھے کہ اصل قیمت عمل کی کثرت میں نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی میں ہے۔ درویش خاموشی سے اٹھا اور واپس اپنی جھونپڑی چلا گیا۔ لیکن اس دن سے لوگ جان گئے کہ اللہ کے نزدیک اخلاص کی وہ روشنی ہے جو سب سے قیمتی خزانہ ہے۔
کہانی کا سبق یہ ہے کہ ہم چاہے کتنی ہی عبادتیں کریں، اگر ان میں دکھاوا ہو تو وہ بیکار ہیں۔ لیکن اگر ایک چھوٹا سا نیک عمل صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو وہ قیامت کے دن ترازو کو بھاری کر دے گا۔
9 months ago | [YT] | 7
View 1 reply
SIRAT UL NOOR
مجالس صوفیاء کرام :
بیٹا… یہ دنیا لمحوں کا سفر ہے، اور ہر لمحہ تمہارے قافلے کو موت کی منزل کے قریب کر رہا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں موت ایک حادثہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ موت ایک مہمان ہے، جو اپنی گھڑی اور دن پہلے سے طے کر کے آتا ہے۔
جب پہلا لمحہ آتا ہے، روح ہلکی سی کانپتی ہے… یہ اشارہ ہے کہ سفر کا آغاز ہونے والا ہے۔ زمین، جو برسوں تمہیں تھامے رہی، اب تمہارے قدم چھوڑنے لگتی ہے۔
پھر دوسرا لمحہ آتا ہے… سانس، جو تمہارے اندر ایک مسلسل بہتا دریا تھا، وہ ٹوٹے ہوئے تالاب کی طرح رکنے لگتا ہے۔ تم محسوس کرتے ہو کہ دنیا کی آوازیں جیسے پانی میں ڈوب رہی ہیں۔
تیسرا لمحہ… آنکھوں کے پردے اترنے لگتے ہیں۔ چہرے پہچان میں نہیں آتے، اور نگاہیں ایک ایسی طرف ٹک جاتی ہیں جہاں تمہارے ارد گرد موجود کوئی نہیں دیکھ سکتا۔
چوتھے لمحے میں، دل جو برسوں دھڑکتا رہا، وہ ایک ساکت بادل کی طرح رک جاتا ہے۔ دنیا کی دھڑکن تم سے جدا ہو جاتی ہے، اور تم ایک دوسرے جہان کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہو۔
پانچواں لمحہ… فرشتوں کے قافلے آتے ہیں۔ نیک روح کے لیے یہ قافلہ نور کی خوشبو لیے آتا ہے، اور گناہگار کے لیے… خوف اور ہیبت کی تاریکی کے ساتھ۔
اور چھٹا لمحہ… تمہارا قافلہ روانہ ہو جاتا ہے۔ جسم زمین کی گود میں اور روح اُس مقام پر جہاں تم نے اپنی زندگی کے اعمال سے راستہ بنایا تھا۔
بیٹا، موت سے ڈرنا نہیں… بلکہ اُس کے بعد کی تیاری کرنی ہے۔ کیونکہ قبر کی پہلی رات… تمہارے اعمال ہی تمہاری روشنی یا تمہارا اندھیرا ہوں گے۔
10 months ago | [YT] | 8
View 0 replies
SIRAT UL NOOR
ایک بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی، بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا...!!!!
چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے ایک
■ایک عالم
■ ایک وکیل
■ اور ایک فلسفی
تھا سب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا، بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور عالم کے سر کے اوپر آکر رک گیا، یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور عالم کے پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا...!!!!
اس کے بعد وکیل کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا وکیل ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے. یہاں بھی انصاف ہو گا اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی وکیل کے سر پر پہنچ کر رک گیا، پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور وکیل کی جان بھی بچ گئی...!!!!
اس کے بعد فلسفی کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا عالم کو تو نہ ہی خدا نے بچایا ہے اور نہ ہی وکیل کو اس کے انصاف نے، دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کُھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا، فلسفی کی بات سُن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور فلسفی کا ذہین سر کچل کر رکھ دیا...!!!!
حکایت کا نتیجہ: بعض اوقات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی منہ بند رکھنا حکمت میں شمار ہوتا ہے💯
11 months ago | [YT] | 6
View 0 replies
SIRAT UL NOOR
Darood Shareef Parhain
Like kartay Jain aur share kartay Jain
Subscribe for daily Darood Shareef
11 months ago | [YT] | 6
View 0 replies
SIRAT UL NOOR
Kya Ap nay AJ Darood Shareef Parha hay???
Aye mil Kar isko sub tak pohnchain....
1 year ago | [YT] | 5
View 0 replies
SIRAT UL NOOR
الا بذکر اللّہ تطمئن القلوب
Today Zikr
1 year ago | [YT] | 7
View 0 replies
Load more