Assalam-o-Alaikum dear viewers…
Humein umeed hai aap hamare tamam novels enjoy kar rahe honge.
Agar aapko novels sun’na ya parhna pasand hai, to please hamara channel subscribe karna na bhoolen.
Aap sab ka dil se shukriya itne pyar aur support ke liye.
Mujhe aur meri team ko apni duaoon mein yaad rakhein.
JazakAllah Khair ❤️
Alhamdulillah


Dramatic Novels

📢📢📢📢
سنیک پیک کے ساتھ بہت اچھی خوشخبری ۔۔👇👇👇


زرتاشے کے نکاح کو صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ نہ محبت ملی، نہ قبولیت — بس ایک انجانے شوہر کی بیوی کا خطاب۔ اور اب؟ اب اسے اسی شوہر کی جان بچانے کے لیے کسی اور کے حوالے کیا جا رہا تھا۔
جب شاہ حویلی میں یہ خبر پہنچی تو وہ اپنے گلابی انچل کو سنبھالتی نیچے اتری۔ بظاہر پرسکون — لیکن اندر؟ اندر ایک قیامت برپا تھی۔

*"بی جان، میں جرگے میں کیوں جاؤں گی؟"*

اور بی جان نے سر جھکا لیا۔

اس کے بلکتے وجود کو سہیل شاہ نے تقریباً گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈال دیا۔ وہ بھی مجبور تھے — لیکن ان سے زیادہ مجبور وہ لڑکی تھی جو کسی اور کی بیوی ہوتے ہوئے بھی کسی کے حوالے کی جا رہی تھی۔

*"چچا سائیں، زرق کو بلائیں۔ خدا کا واسطہ ہے، زرق کو بلائیں!"*خان حویلی کے تاریک سٹور روم میں بند وہ لڑکی — جس کے رونے سے گال سرخ ہو چکے تھے، بڑی بڑی بھیگی آنکھیں، نازک چہرہ — بس ایک ہی امید پر جی رہی تھی:

*وہ آئے گا۔ زرق ضرور آئے گا۔*

شام سے صبح ہوئی۔ پھر ایک اور دن۔ لیکن کوئی نہ آیا۔

---

پھر اس چھوٹی سی لڑکی نے وہ ہمت دکھائی جو اس نے کبھی خود سے بھی نہ سوچی تھی۔

زنگ آلود کھڑکی، جس سے ہاتھ زخمی ہو گئے — کھول لی۔ اندھیرے لان میں دیوار کا سہارا لیے، دل تھامے، قدم اٹھائے۔ بے ہنگم دوڑتی رہی — گرتی رہی، اٹھتی رہی — پاؤں زخمی ہوتے رہے۔ لمبے بال ناگن کی طرح پشت پر لہراتے رہے۔ وہ بس دوڑتی رہی۔

*صرف اور صرف اس کے لیے جو اسے اپنی بیوی بھی تسلیم نہ کرتا تھا۔*ڈیڑھ گھنٹے کی تھکاوٹ کے بعد جب وہ شاہ حویلی کے سامنے کھڑی ہوئی تو آنکھوں میں ایک ہی یقین تھا:
"وہ مجھے بازوؤں میں سمیٹ لے گا۔"اور زرق نے اسے سینے سے لگایا بھی — لیکن صرف ایک لمحے کے لیے۔
"ٹھیک ہے، میں تمہیں یہاں سے لے جاتا ہوں۔"
اس ایک جملے پر اسے لگا جیسے تمام تھکن، تمام خوف، تمام درد — سب ختم ہو گیا۔ وہ اس کے بازو پر سر رکھ کر مسکرائی — پہلی بار، دو دنوں میں پہلی بار۔"کیا تم نے مجھے وہاں یاد کیا؟"
اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور بتانا چاہا کہ کب نہیں یاد کیا۔
فارم ہاؤس خوبصورت تھا، محل جیسا۔ وہ حیرت سے دیکھتی رہی۔ خوشگوار خواب پلکوں پر بکھرے اور پھر۔۔۔

اندر داخل ہوئی تو ایک شخص صوفے پر پشت پھیرے بیٹھا تھا۔ سگریٹ کا دھواں ہوا میں گھل رہا تھا۔ زرق کے چہرے پر وہ اطمینان تھا جو کوئی اجنبی نہیں پاتا۔

*"اسے لے جاؤ شمشیر خان۔ میں اسے اس رشتے کی قید سے بھی آزاد کر رہا ہوں۔"اور اس نے اسے دھکیل دیا — اس شخص کی طرف جو شمشیر خان تھا۔وہ کتنی دیر گم کھڑی رہی۔
جو خواب دکھا کر وہ یہاں لایا گیا، جس اعتماد کے سہارے اس نے یہ سفر کیا — سب چکنا چور۔

*"یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ تو مجھے بچانے لائے تھے!"*

زرق نے جواب نہیں دیا۔

اور شمشیر خان — زرق سے لاکھ درجے خوبصورت — اس کے لیے خوف کا استعارہ تھا۔
اس رات اسے ایک بات سمجھ آئی:

جن پر بھروسہ کیا، انہوں نے دھوکہ دیا۔ جن سے نفرت کی، وہ اس کی تقدیر بن گئے۔

اور وہ لڑکی جو محبت کے لیے ہر خطرہ مول لے آئی تھی — اب اس شخص کے سامنے کھڑی تھی جس کا لہجہ ہی روح کو کپکپا دیتا تھا۔
تو دوستو یہ مزیدار سا ناول پڑھنے کے لیے ہمارے چینل
@Zonianovels کو لازمی وزٹ کریں اور چینل کو سبسکرائب ضرور کیجئے گا۔۔۔۔

2 months ago (edited) | [YT] | 36

Dramatic Novels

Apko apni zindagi main sab se ziyda kia pannay ki wish hai?

3 months ago | [YT] | 3