Welcome to GREEN PROPERTIES – Your Trusted Real Estate Guide in West Lahore!
At Green Properties, we specialize in the sale and purchase of real estate in West Lahore, Pakistan. We are committed to helping buyers, sellers, and investors make informed and confident decisions in the dynamic property market.
📍 What We Offer:
🏘️ In-depth documentaries on leading housing societies
🏡 Exclusive house tours and real estate walkthroughs
📊 Practical tips, tricks, and investment strategies for real estate in Pakistan
📌 Regular updates on property rates, development status, maps, and legal guidelines
🌆 We Actively Cover Societies Including:
Lahore Motorway City
Al Rehman Garden Phase 2 & Phase 7
SA Garden
New Metro City Lahore
Lahore Smart City
Al Kabir Orchard
Urban City Lahore
📍 Our Offices Are Located In:
Lahore Motorway City
Al Rehman Garden Phase 2
SA Garden
New Metro City Lahore
💬 Connect With Us on Facebook:
👉 facebook.com/greenpropertiesusmanmalik
Green Properties (Usman Malik)
🚨 اہم اعلان برائے عام عوام 🚨
جولائی 2026 سے پنجاب میں پراپرٹی کی خرید و فروخت کے لیے صرف "پرائپرٹی سرٹیفکیٹ" ہی طلب کیا جائے گا۔ اب کوئی اور دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت نہیں!
یہ جدید اور شفاف نظام عوام کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعارف کیا جا رہا ہے۔ پرائپرٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے آپ کی ملکیت کی تصدیق HSMS سسٹم میں ہو جائے گی، جو LDA Act 1975 کے تحت مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
✅ فوائد:
جعلی دستاویزات سے مکمل تحفظ
ڈیجیٹل اور شفاف عمل
فنگر پرنٹ، نقشہ اور لاک سسٹم کے ساتھ محفوظ تصدیق
تفصیلی معلومات کے لیے پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) کے آفیشل چینلز ملاحظہ کریں۔
اپنی جائیداد کو محفوظ بنائیں – ابھی آگاہی حاصل کریں!
#PropertyCertificate #پرائپرٹی_سرٹیفکیٹ #PLRA #PunjabLandAuthority #جائیداد_کے_حقوق #PunjabGovernment #LDA
2 days ago | [YT] | 4
View 1 reply
Green Properties (Usman Malik)
4 مرلہ کمرشل پلاٹ برائے فروخت
الرحمان گارڈن فیز 2، P بلاک میں پلاٹ نمبر 32 برائے فروخت ہے۔
ڈیمانڈ 2 کروڑ 25 لاکھ روپے ہے۔
یہ پلاٹ 50 فٹ چوڑی سڑک پر واقع ہے اور پارک کے سامنے ہے، جو اس کی خوبصورتی اور قدر میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
یہ کمرشل پراپرٹی بہت زیادہ پوٹینشل رکھتی ہے کیونکہ یہ P بلاک، G بلاک، O بلاک اور نئے ڈویلپڈ Overseas Block سے گھری ہوئی ہے۔ اس مقام کی وجہ سے کسٹمرز کی بھرپور آمد، اعلیٰ رینٹل ویلیو اور پراپرٹی کی قدر میں مسلسل اضافہ یقینی ہے۔
تفصیلات کے لیے رابطہ کریں:
Green Properties
📞 0321-4440577
2 weeks ago | [YT] | 1
View 0 replies
Green Properties (Usman Malik)
گرین پراپرٹی سرٹیفیکٹ۔۔ اور ہوائی فائلوں والے مسکین
حکومت نے رئیل اسٹیٹ میں شفافیت اور کسی بھی پراپرٹی کو گنگا اشنان کروانے کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفیکیٹ کا ایک اچھا قدم اٹھایا جس کے تحت آپ اپنے کسی بھی پلاٹ کا گرین پراپرٹی سرٹیفیکیٹ بنوا سکتے ہیں جس میں گورنمنٹ آپ کے پلاٹ کی فرد، پٹوار، قانونی پیچیدگیوں، نشاندہی اور دیگر مسائل سے پاک کر کے آپ کو گرین سگنل یعنی گرین پراپرٹی سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے جس کو حاصل کرنے کے بعد آپ لمبی تان کر سو سکتے ہیں اور سینہ تان کر اپنی پراپرٹی بیچ سکتے ہیں کیونکہ اب آپ کی پراپرٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
لیکن ٹھہریے۔۔۔ کیا جس غریب نے کسی ہاوسنگ سوسائٹی میں فائل خرید رکھی ہے کیا وہ پاکستان کا شہری نہیں ہے؟ کیا اس کی ادا شدہ رقم جعلی تھی؟ کیا اس کی فائل کو ہمُ پراپرٹی نہیں سمجھتے؟ اگر یہ سب سچ ہے تو پھر فائل ہولڈرز سے مسکینوں والا سلوک کیوں؟ فائل ہولڈر ڈیویلپر کے رحم وکرم پر کیوں؟ ڈیویلپرز کو لوٹ مار کی کھلی آزادی کیوں؟
کیوں نہ ایک گرین پراپرٹی سرٹیفیکیٹ کی طرز پر ایک گرین فائل سرٹیفیکیٹ کا بھی اجراء کیا جائے جس میں ایک فائل ہولڈر کو پتہ ہو کہ اس کو کہاں پلاٹ ملے گا اور کب پلاٹ ملے گا۔ اس کے پلاٹ کی کلُ قیمت کیا ہے اور ڈیویلپمنٹ چارجز سمیت کتنے کا پڑے گا۔ ڈیویلپر نے اب تک کتنی فائلز بیچ رکھی ہیں اور اس کے عوض ڈیویلپرز کے پاس کتنی زمین موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ بکنگ کے نام پر جمع شدہ رقم پاکستان میں موجود ہے بھی یا کہ بیرونُ ملک پرواز کر چکی ہے۔
گرینُ فائل سرٹیفیکیٹ کے ساتھ ساتھ دبئی طرز پر ایک Escrow Account بھی متعارف کروایا جائے جس میں بکنگ اور ماہانہ اقساط جمع ہوں اور ڈیویلپر کو اتنی رقم جاری کی جائے جتنی ڈیویلپمنٹ کے لیے ضروری ہو۔ ویسے تو دبئی میں بکنگ اوپن کرنے سے پہلے ساری زمین کی ملکیت ڈیویلپر کے پاس ہونی ضروری ہے لیکن پاکستان میں زمین کی ملکیت نہ بھی ہو تو کم از کم حکومت کی ضمانت تو ہونی ہی چاہیے۔
اگر گرین فائل سرٹیفیکیٹ اور Escrow Account کو متعارف کروا دیا جائے تو وہ لوگ جو اپنی محنت سے کمائی گئی رقم اور پلاٹ کی تلاش میں گرم سڑکوں پر احتجاج کے لیے مجبور میں ان کے زخموں پر مرحم رکھا جا سکتا ہے۔ ڈیویلپرز کے لیے آسانیاں پیدا کی جاسکتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اربوں روپے جو منجمدfreez ہو چکے ہیں دوبارہ سے معیشت میں شامل ہو کر رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔
عثمان ملک
Green Properties
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Green Properties (Usman Malik)
قرض نہیں گھر دو
🌟 حکومت اگر خود "اپنا گھر" بنائے تو غریب آدمی کو 3 مرلہ مکمل تیار گھر کتنا سستا پڑ سکتا ہے؟ آئیں دیکھتے ہیں 🌟
دوستو، اپنا گھر سکیم میں حکومت 20 سال کے قرض پر پہلے 10 سال 5% markup دیتی ہے۔ یہ اچھی سکیم ہے، لیکن اگر حکومت خود زمین خرید کر، ڈویلپمنٹ کر کے، اور مکمل گھر بنا کر براہ راست عوام کو دے تو یہ بہت زیادہ سستا اور آسان ہو سکتا ہے۔
آئیے مکمل حساب کتاب دیکھتے ہیں:
📊 پروجیکٹ کی تفصیلات
زمین کی لاگت: 2 کروڑ روپے فی ایکڑ بحساب 272 مربع فٹ فی مرلہ
پلاٹ سائز: 3 مرلہ (675 مربع فٹ — ہر مرلہ 225 sq ft)
عوامی استعمال: 30% (سڑکیں، پارکس، مسجد، سکول وغیرہ)
ڈویلپمنٹ لاگت: 1 لاکھ فی مرلہ (3 مرلہ کے لیے 3 لاکھ)
تعمیراتی لاگت: 25 لاکھ روپے (مکمل بنیادی گھر)
💰 اصل لاگت کا حساب
خام زمین کی لاگت فی پلاٹ: تقریباً 3.10 لاکھ
30% عوامی حصہ شامل کرنے کے بعد موثر لاگت: 4.43 لاکھ
ڈویلپمنٹ: 3.00 لاکھ
تعمیر: 25.00 لاکھ
مکمل تیار گھر کی کل لاگت: تقریباً 32.5 لاکھ روپے
اگر حکومت تھوڑا مارجن رکھے (انتظامی اخراجات، نگرانی وغیرہ) تو فائنل قیمت 35 لاکھ رکھی جا سکتی ہے۔
🔄 تجویز کردہ ادائیگی کا پلان (حکومتی سکیم)
کل قیمت: 35 لاکھ روپے
ایڈوانس / بکنگ: صرف 10 لاکھ روپے
باقی: 25 لاکھ روپے
مدت: 10 سال (20 سال کی بجائے)
ہر 6 ماہ بعد: 1 لاکھ روپے (20 قسطیں = 20 لاکھ)
ماہانہ قسط: صرف 4,000 سے 5,000 روپے
یعنی ماہانہ بوجھ کرائے کے برابر یا اس سے بھی کم!
نتیجہ: حکومت اگر خود یہ پروجیکٹ بنائے تو غریب شخص کو 10-15 لاکھ سستا پڑ سکتا ہے، مدت آدھی ہو جائے گی اور ماہانہ قسط بھی 5 ہزار روپے ماہانی تک کم ہو سکتی ہے۔ کوئی بینک markup کا جال نہیں، براہ راست حکومت سے گھر مل سکتا ہے۔
✅ فوائد اگر حکومت سنجیدہ ہو
لاکھوں غریب خاندانوں کو اپنا گھر
شفاف balloting سے کرپشن ختم
بڑے پیمانے پر تعمیر سے لاگت مزید کم
روزگار کی تخلیق (تعمیراتی صنعت)
شہروں میں رہائشی بحران کا حل
حکومت کے پاس وسائل ہیں، ارادہ چاہیے۔
اگر یہ منصوبہ لاہور، پنجاب یا پاکستان بھر میں شروع کیا جائے تو حقیقی Naya Pakistan بن سکتا ہے۔
آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا حکومت کو ایسا خود کا پروجیکٹ لانچ کرنا چاہیے؟ اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
🏠 #اپنا_گھر_سکیم #3مرلہ_گھر #سستی_رہائش #حکومتی_ہاؤسنگ #غریبوں_کا_گھر #AffordableHousing #NayaPakistan
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
Green Properties (Usman Malik)
رحمان گارڈن فیز 7 کے D بلاک میں 8 مرلہ رہائشی پلاٹ برائے فروخت
لاہور کے بہترین رہائشی علاقے رحمان گارڈن فیز 7 میں 8 مرلہ کا خوبصورت رہائشی پلاٹ فروخت کے لیے دستیاب ہے۔
پلاٹ کی فائل کلئیر ہے اور 55% ادائیگی ہو چکی ہے۔
💰 کل قیمت: 30,40,000 روپے
💵 ادا شدہ رقم: 16,72,000 روپے
📉 بقایا: 13,68,000 روپے
📅 بکنگ تاریخ: 01 جنوری 2021
📍 بہترین لوکیشن، رہائش کے لیے موزوں
سنجیدہ خریدار حضرات فوری رابطہ کریں۔
03008006322
1 month ago | [YT] | 2
View 0 replies
Green Properties (Usman Malik)
لاہور موٹروے سٹی
موضوع: خصوصی اسائنمنٹ کمیٹی کی تشکیل
لاہور موٹروے سٹی کی مانیٹرنگ کمیٹی کے بائی لاز کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، گرین ویو کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ اور رینیسانس انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے درمیان انضمامی معاہدے، جسے رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز پنجاب لاہور نے خط نمبر 264-69 مؤرخہ 11-02-2016 کے ذریعے منظور کیا، کی بنیاد پر یہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔
یہ نوٹیفکیشن خصوصی اسائنمنٹ کمیٹی کی تشکیل کے لیے جاری کیا جا رہا ہے، جو لاہور موٹروے سٹی کی مانیٹرنگ کمیٹی / انتظامیہ کے فیصلوں کی نگرانی اور عمل درآمد کے لیے کام کرے گی۔ یہ کمیٹی رہائشیوں / الاٹیز کی فلاح و بہبود اور بہتر انتظامی امور کو یقینی بنانے کے لیے ایک (01) سال کی مدت کے لیے، اس نوٹیفکیشن کے اجرا کی تاریخ سے مؤثر ہوگی۔
1. کمیٹی کی تشکیل
خصوصی اسائنمنٹ کمیٹی درج ذیل اراکین پر مشتمل ہوگی:
مسٹر عاطف فاروق (ایڈووکیٹ) — صدر — P-627
مسٹر محمد نوید (ایڈووکیٹ) — سیکریٹری — T-478/1
مسٹر رائے عارف حسن (ایڈووکیٹ) — ممبر — Q-162
مسٹر محمد عابد مصطفیٰ (ایڈووکیٹ) — ممبر — Q-247
مسٹر حسن ظہیر (ایڈووکیٹ) — ممبر — Q-9
میاں غلام رسول (ایڈووکیٹ) — ممبر — R-279/2
مسٹر شیخ شعیب — ممبر — R-634
مسٹر عظمت اللہ باجوہ — ممبر — S-134/1
مسٹر سید جہانگیر حسین (ایڈووکیٹ) — ممبر — TP-2108
مس صدف ملک — کوآرڈینیٹر / رابطہ کار
2. اختیارات اور فرائض
کمیٹی کو درج ذیل اختیارات حاصل ہوں گے:
لاہور موٹروے سٹی کے رہائشیوں / الاٹیز سے متعلق تمام انتظامی امور کی نگرانی اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنا۔
3. ذیلی کمیٹیاں بنانے کا اختیار
خصوصی اسائنمنٹ کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہبہتر نگرانی اور انتظامی کارکردگی کے لیے بلاک کی سطح پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، اور خصوصی اسائنمنٹ کمیٹی ذیلی کمیٹیوں کے تمام اقدامات اور فیصلوں کی ذمہ دار ہوگی۔ ضرورت کے مطابق ذیلی کمیٹیوں کو مخصوص ذمہ داریاں سونپی جا سکیں گی۔
4. دفتر اور انتظامی معاونت
کمیٹی کو اپنی ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی کے لیے ایک مکمل طور پر آراستہ دفتر فراہم کیا جائے گا۔ تمام ضروری انتظامی اور لاجسٹک معاونت لاہور موٹروے سٹی کی مانیٹرنگ کمیٹی سے مشاورت کے بعد فراہم کی جائے گی۔
5. عمومی شق
کمیٹی کے تمام اراکین اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، محنت اور رہائشیوں / الاٹیز کے بہترین مفاد اور لاہور موٹروے سٹی (LMC) کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیں گے۔
6. قواعد و ضوابط
خصوصی اسائنمنٹ کمیٹی ہموار انتظامی امور اور ذمہ داریوں کی جلد انجام دہی کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرے گی اور بعد ازاں مانیٹرنگ کمیٹی سے منظوری حاصل کرے گی۔
یہ نوٹیفکیشن میرے اختیار کے تحت جاری کیا گیا ہے اور تحریری طور پر توسیع، ترمیم یا تنسیخ نہ ہونے کی صورت میں ایک سال تک مؤثر رہے گا۔
جاری کنندہ: میاں رفاقت علی صاحب
صدر : مانیٹرنگ کمیٹی، لاہور موٹروے سٹی
Copied,
3 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Green Properties (Usman Malik)
السلام علیکم ریئل اسٹیٹ فیملی!
فنانس ایکٹ 2025 اور بجٹ 2025-26 سے پراپرٹی سیکٹر کو بڑی ریلیف ملی ہے۔ یہاں آسان اور مختصر معلومات:
1. فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) ختم ہو گئی!
نئی رہائشی یا کمرشل پلاٹ/فلیٹ کی پہلی الاٹمنٹ یا ٹرانسفر پر -7.3٪ FED اب نہیں لگے گی۔
یعنی لاکھوں روپے کی بچت!
2. خریدار کے ٹیکس (236K – رجسٹریشن پر)
پراپرٹی کی ویلیو کے مطابق (فائلر کے لیے کم):
50 ملین تک: 1.5%
50-100 ملین: 2%
100 ملین سے زیادہ: 2.5%
نان فائلر کو بہت زیادہ (10.5% سے 18.5% تک) ادا کرنا پڑتا ہے۔
ٹپ: فائلر بنیں تو بچت ہو گی!
3. بیچنے والے کے ٹیکس (236C – سیل پر)
50 ملین تک: 4.5% (فائلر)
50-100 ملین: 5%
100 ملین سے زیادہ: 5.5%
نان فائلر کو 11.5% سے زیادہ دینا پڑتا ہے۔
4. اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی رعایت
NICOP/POC
والے اوورسیز پاکستانیوں کو 236C اور 236K میں فائلر ریٹ ملے گا، چاہے ATL میں نہ ہوں۔
یعنی باہر سے پراپرٹی خریدنا/بیچنا آسان اور سستا!
5. دیگر اہم باتیں
اسلام آباد میں سٹامپ ڈیوٹی 1% ہو گئی (پہلے 4% تھی)۔
کیپیٹل گینز ٹیکس فائلرز کے لیے 15% فلیٹ (جولائی 2024 کے بعد خریدی پراپرٹی پر)۔
سیکشن 7E (ڈیمیڈ رینٹل انکم) ابھی ہے، مگر اگلی بار ختم ہونے کی امید۔
FBR
ویلیوئیشن اسلام آباد سمیت شہروں میں بڑھ گئی ہے – ڈیل سے پہلے چیک کریں۔
نتیجہ:
اب دستاویزی اور فائلر لوگوں کو فائدہ ہے۔ نان فائلرز کو بہت زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اگر خرید/فروخت کا پلان ہے تو ٹیکس فائل کر لیں – ایک ڈیل پر 10-50 لاکھ بچ سکتے ہیں!
کوئی سوال ہو تو کمنٹس میں پوچھیں 👇
خرید رہے ہیں؟ بیچ رہے ہیں؟ اوورسیز سے ہیں؟ سب کی مدد کریں گے!
Green Properties
Usman Malik
#RealEstatePakistan #PropertyTaxes2026 #فائلربنیں #اوورسیزپاکستانی #DHA #Bahria #سرمایہکاری
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Green Properties (Usman Malik)
لاہور اندرون شہر کی بڑی مارکیٹس ختم کر کے نئے شاپنگ و پارکنگ پلازہ اور پارکس بنانے کا فیصلہ۔۔
تاجر پریشان ہونے کی بجائے اپنی مارکیٹس خود بسائیں۔ اگر ہر مارکیٹ میں 50 تاجر اتحاد کر کے شہر کے قرب و جوار میں سستی زمین خریدیں اور متعلقہ محکمہ سے کمرشل کی اپروول لے کر اپنی دوکانیں وئیر ہاؤس اور شورومز بنائیں تو آہستہ آہستہ وہی مارکیٹس مرکزی مارکیٹس میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔اور یوں چند ہزار روپے مرلہ والی زمین خرید کر کروڑوں کی مارکیٹس میں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ حکومت پر اکتفا اور انحصار ختم کریں اور اپنی دنیا خود بسائیں۔
مکمل روڈمیپ اور Feasibility کے لیے میگا مارکیٹ سمندری کا ماڈل Study کریں۔
عثمان ملک
Green Properties
#realestate
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Green Properties (Usman Malik)
سعودی عرب کے دروازے کھل گئے: غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت — جنوری 2026 سے ایک نئے دور کا آغاز
سعودی عرب دنیا کے لیے اپنے دروازے پہلے سے کہیں زیادہ کھول رہا ہے۔ ملک میں ایک تاریخی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ جنوری 2026 سے ایک نیا انقلابی قانون نافذ ہونے جا رہا ہے جس کے تحت غیر ملکی افراد، کمپنیاں اور عالمی تنظیمیں مقررہ زونز میں سعودی عرب میں جائیداد کی ملکیت حاصل کر سکیں گی۔
یہ صرف ایک رئیل اسٹیٹ ریفارم نہیں — بلکہ سرمایہ کاروں، تارکینِ وطن اور کمپنیوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت میں مستقل موجودگی کا نیا باب ہے۔
🌍 ایک تاریخی قانون جو سب کچھ بدل دے گا
25 جولائی 2025 کو منظور ہونے والا یہ قانون، 180 دن بعد نافذ ہوگا اور غیر سعودیوں کی ملکیت کے پرانے 2000 کے قوانین کی جگہ لے کر ایک جدید، شفاف اور عالمی معیار کا نیا فریم ورک متعارف کرائے گا۔
تاریخ میں پہلی بار:
✔ غیر ملکی افراد (رہائشی اور غیر رہائشی)
✔ غیر ملکی کمپنیاں اور انویسٹمنٹ فنڈز
✔ سعودی کمپنیاں جن میں غیر ملکی شیئر ہولڈرز ہوں
✔ بین الاقوامی تنظیمیں اور سفارتی مشنز
…سعودی عرب کے مخصوص مقررہ زونز میں قانونی طور پر جائیداد کے مالک بن سکیں گے۔
یہ اصلاح سعودی وژن 2030 کے مقاصد سے براہِ راست جڑی ہے، جس کا مقصد عالمی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنا، معیشت کو متنوع بنانا اور شہری ترقی میں اضافہ کرنا ہے۔
🏙 غیر ملکی کہاں جائیداد خرید سکیں گے؟ “مقررہ زونز” کا نیا نظام
غیر ملکی سعودی عرب میں جائیداد خرید اور اس میں سرمایہ کاری کر سکیں گے — لیکن پورے ملک میں نہیں۔
ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی (REGA) جلد تفصیلی نقشے جاری کرے گی جن میں یہ بتایا جائے گا کہ کن علاقوں میں غیر ملکی ملکیت کی اجازت ہوگی۔ یہ علاقے امکانات کے مطابق ان شہروں میں ہوں گے:
ریاض
جدہ
دمام
دیگر اُبھرتے ہوئے اکنامک زونز اور گیگا پراجیکٹس
ان زونز میں شامل ہونے کی توقع ہے:
✨ ہائی ڈیمانڈ شہری علاقے
✨ مکسڈ یوز ڈیولپمنٹس
✨ نئی لائف اسٹائل کمیونٹیز
✨ نیوم، دریعہ گیٹ، اور دی لائن جیسے میگا پراجیکٹس سے منسلک علاقے
🚫 پابندیاں اب بھی موجود ہیں
مقدس شہروں کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے:
مکہ اور مدینہ بدستور محدود علاقوں میں شامل رہیں گے
صرف محدود صورتوں میں مسلمان غیر ملکی یا غیر ملکی ملکیت والی سعودی کمپنیاں سخت شرائط کے تحت مخصوص حقوق حاصل کر سکیں گی
🏠 غیر ملکیوں کو کون سے حقوق مل سکیں گے؟
نئے فریم ورک کے تحت غیر سعودی حاصل کر سکیں گے:
✔ مکمل جائیداد کی ملکیت
✔ طویل المدت لیزیں
✔ حقِ انتفاع (Usufruct)
✔ راستہ اور تجارتی حقوق
غیر ملکی کمپنیاں خرید سکیں گی:
دفاتر اور ہیڈکوارٹرز
گودام
اسٹاف ہاؤسنگ
تجارتی سرگرمیوں کے لیے عمارتیں
سفارتی مشنز وزارتِ خارجہ کی اجازت سے سرکاری استعمال کی عمارتیں بھی خرید سکیں گے۔
📑 شفافیت، رجسٹریشن، اور پابندیوں کی پاسداری
نیا قانون شفافیت اور درست معلومات فراہم کرنے کی سختی سے تاکید کرتا ہے۔
لازمی رجسٹریشن
تمام غیر ملکی خریداریوں کو نیشنل ریئل اسٹیٹ رجسٹری میں درج کرانا ضروری ہوگا۔ بغیر رجسٹریشن کے ملکیت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
سخت سزائیں
غلط دستاویزات یا قانون کے غلط استعمال کی صورت میں:
❌ 1 کروڑ ریال (SAR 10 million) تک جرمانہ
❌ جائیداد ضبط
❌ پبلک نیلامی
❌ قانونی کارروائی اور اپیلیں
سعودی عرب واضح طور پر ایک محفوظ، شفاف اور باقاعدہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔
💰 فیس، ٹیکس اور مالی ڈھانچہ
غیر ملکی خریداروں کو جائیداد کی قیمت کا تقریباً 10% مختلف فیسوں اور ٹیکسز کی مد میں ادا کرنا ہوگا، جن میں شامل ہو سکتے ہیں:
رئیل اسٹیٹ ٹرانزیکشن ٹیکس (RETT)
غیر ملکیوں کے لیے ٹرانسفر فیس
رجسٹری اور انتظامی اخراجات
یہ ڈھانچہ مارکیٹ میں شفافیت اور استحکام پیدا کرنے کے لیے ہے۔
🚀 سعودی عرب میں ابھی سرمایہ کاری کیوں؟ وژن 2030 کا بڑھتا ہوا اثر
یہ تبدیلی ایک بہترین وقت پر سامنے آئی ہے۔
سعودی عرب عالمی سطح پر ابھر رہا ہے، جہاں کئی بڑے ایونٹس آنے والے ہیں:
🏗 ورلڈ ایکسپو 2030
⚽ فیفا ورلڈ کپ 2034
🏙 NEOM، قدیہ، دریعہ گیٹ جیسے پراجیکٹس
📈 بڑی کمپنیوں کا ہیڈکوارٹرز ریاض منتقل کرنا
🌱 سعودی گرین انیشی ایٹو کے ذریعے ماحولیاتی ترقی
ریاض جیسے شہروں میں جائیداد کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ رہی ہیں۔ 2026 تک مارکیٹ مزید مضبوط اور پختہ ہو چکی ہوگی — یعنی ابھی تیاری کا بہترین وقت ہے۔
🧭 غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے قدم بہ قدم رہنمائی (2026 کی تیاری)
✔ 1. اہلیت کی تصدیق کریں
دیکھیں کہ آپ غیر ملکی فرد، رہائشی، کمپنی یا ادارہ کی حیثیت سے اہل ہیں یا نہیں۔
✔ 2. REGA کی تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں
مقررہ زونز کے سرکاری نقشے جلد جاری ہوں گے۔
✔ 3. اپنے دستاویزات تیار کریں
آپ کو ضرورت ہو سکتی ہے:
درست پاسپورٹ اور رہائش کا ثبوت
کارپوریٹ رجسٹریشن دستاویزات
مالی حیثیت کا ثبوت
آجر کی جانب سے اجازت (اگر آپ مقیم غیر ملکی ہیں)
✔ 4. فیس اور ٹیکس کا بجٹ بنائیں (تقریباً 10%)
✔ 5. پریمیم ریزیڈنسی کا جائزہ لیں (اختیاری)
سعودی گرین کارڈ اضافی مراعات دیتا ہے، لیکن نئے قانون کے تحت لازمی نہیں۔
❤️ ایک نئے تعلق کا دور
یہ اصلاح محض سرمایہ کاری کا قانون نہیں — یہ ان لاکھوں تارکینِ وطن کے لیے امید ہے جو سعودی عرب میں برسوں سے رہ رہے ہیں۔
اب ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، بزنس مین اور خاندان پہلی بار مستقل جڑیں گاڑ سکیں گے۔
سعودی عرب دنیا کو پیغام دے رہا ہے:
👉 یہاں رہیں
👉 یہاں سرمایہ کاری کریں
👉 سعودی رئیل اسٹیٹ کا مستقبل آپ کے لیے کھل چکا ہے
Monsha’at اور LinkedIn کی حالیہ شراکت اس بات کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ سعودی عرب ایک جدید، پروفیشنل اور مضبوط کاروباری ماحول کی تشکیل کر رہا ہے۔
❓ عمومی سوالات (FAQs)
1️⃣ کیا غیر ملکی 2026 میں سعودی عرب میں جائیداد خرید سکیں گے؟
جی ہاں، جنوری 2026 سے غیر ملکی مقررہ زونز میں جائیداد خرید سکیں گے۔
2️⃣ کیا جگہ کے حوالے سے پابندیاں ہوں گی؟
جی ہاں، ملکیت صرف انہی زونز میں ممکن ہے جو REGA منظور کرے گی۔
مکہ اور مدینہ محدود رہیں گے، چند خصوصی استثناؤں کے ساتھ۔
3️⃣ فیس کتنی ہوگی؟
تقریباً 10% مجموعی فیس اور ٹیکس۔
4️⃣ اگر کوئی غیر ملکی غلط معلومات فراہم کرے؟
سخت جرمانے، 1 کروڑ ریال تک، اور جائیداد کی ضبطگی و نیلامی۔
5️⃣ کیا پریمیم ریزیڈنسی لازمی ہے؟
نہیں، اس نئے قانون کے تحت ملکیت کے لیے پریمیم ریزیڈنسی ضروری نہیں۔
📌 آخری پیغام
سعودی عرب:
بزنس کے لیے کھلا
سرمایہ کاری کے لیے کھلا
زندگی گزارنے کے لیے کھلا
چاہے آپ ایک ایکسپیریٹ ہوں، بین الاقوامی سرمایہ کار ہوں، یا ملٹی نیشنل کمپنی —
سعودی عرب کا رئیل اسٹیٹ مستقبل آپ کے لیے بنایا جا رہا ہے۔
تحقیق و ترتیب
Green Properties
Usman Malik
6 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Green Properties (Usman Malik)
ہم جناب سجاد سعید صاحب (لاہور) کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے گرین پراپرٹیز پر اعتماد کا اظہار کیا۔
#realestate #LahoreMotorwayCity #alrehmangardenphase2
6 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Load more