PakScope _ Pakistan ko naye angle se dekhein


PakScope

کہانی کا عنوان: "خاموشی کی دیوار"

راشد ایک عام سا آدمی تھا، صبح سویرے کام پر جانا، محنت مزدوری کر کے شام کو گھر لوٹنا، یہی اس کی زندگی کا معمول تھا۔ وہ ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا، اور جو کچھ کماتا، وہ اپنے بیوی بچوں پر خرچ کر دیتا۔ اس کی بیوی سمیرا اور دو چھوٹے بچے، علی اور مریم، اُس کی دنیا تھے۔

لیکن راشد کو ہمیشہ سے لگتا تھا کہ فیکٹری کی نوکری سے کچھ خاص حاصل نہیں ہوگا۔ وہ کچھ نیا کرنا چاہتا تھا۔ کچھ سالوں بعد اُس نے فیکٹری کی نوکری چھوڑ کر آن لائن کام شروع کیا۔ گورنمنٹ کی کسی اسکیم سے تربیت حاصل کی اور فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، یا مواد نویسی جیسے کام میں لگ گیا۔

شروع میں سب کچھ اچھا چل رہا تھا۔ مہینے میں کچھ ہزار آ جاتے، گھر کے خرچے کسی نہ کسی طرح پورے ہو جاتے۔ مگر یہ آمدنی مستقل نہ تھی۔ کبھی ہفتوں کوئی آرڈر نہ آتا، اور جب آتا تو ادائیگی میں دیر ہو جاتی۔ راشد کی ساری امیدیں کمپیوٹر کی سکرین سے بندھی ہوئی تھیں، لیکن سکرین پر اکثر صرف "No New Orders" لکھا ہوتا۔

مہنگائی بڑھتی گئی، گھر کا خرچ گھٹتا گیا۔ پھر بیماری نے آ لیا۔ ایک دن سینے میں شدید درد ہوا، اسپتال گیا تو پتہ چلا دل کا عارضہ ہے۔ ڈاکٹرز نے سختی سے کہا کہ ذہنی اور جسمانی دباؤ دونوں سے بچو، ورنہ جان کو خطرہ ہے۔

اب راشد کے لیے کام کرنا بھی مشکل، اور نہ کرنا بھی اذیت۔ جو تھوڑا بہت آن لائن کام ہوتا تھا، وہ بھی صحت کی خرابی سے رک گیا۔ ہر طرف سے مسائل نے گھیرا ڈال دیا۔

بجلی کا بل وقت پر ادا نہ ہونے کی وجہ سے کٹ گیا۔
پھر گیس کی لائن بند ہو گئی۔
کبھی پانی کے بل پر جھگڑے، تو کبھی محلے کے مینٹیننس والے آ کر گھنٹوں بحث کرتے۔
بچے موم بتیوں کی روشنی میں ہوم ورک کرتے، اور سمیرا دن بہ دن غصے میں بدلتی جا رہی تھی۔

"یہ آن لائن کام سے کیا حاصل؟ نہ سکون، نہ پیسہ۔ نہ تم باہر جاتے ہو، نہ بچوں کے لیے کچھ کر سکتے ہو!"
راشد چپ رہتا۔
بچے بھی اب راشد سے لپٹ کر اپنی خواہشات نہیں کرتے۔ علی کبھی کبھار پوچھتا،
"ابو، آپ ہمیشہ گھر میں کیوں ہوتے ہو؟ میرے دوست کے ابو تو روز باہر جاتے ہیں، کچھ لے کر آتے ہیں۔"

راشد کے دل پر ہر جملہ خنجر بن کر لگتا۔ اسے محسوس ہونے لگا جیسے وہ زندہ ہو کر بھی مر چکا ہے۔

ایک رات سمیرا نے صاف کہہ دیا:
"یا کچھ کرو، یا مجھے میرے میکے چھوڑ آؤ۔ ہم اس اندھیرے میں مزید نہیں رہ سکتے!"

راشد نے اس رات بخار میں تپتے ہوئے خاموشی سے آنکھیں بند کیں۔ دل سے ایک فریاد نکلی:

"یا اللہ! اگر مجھ سے کچھ کام لینا ہے تو ہمت دے… ورنہ مجھے اپنے پاس بلا لے۔ کیونکہ اس بے بسی کا بوجھ اب مجھ سے نہیں اٹھایا جاتا



نصیحت:
ہم میں سے ہر دوسرا راشد ہو سکتا ہے—محنت کش، خواب دیکھنے والا، اور حالات سے ہار نہ ماننے والا۔ لیکن افسوس، جب وہ گرنے لگتا ہے تو ہاتھ تھامنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ زندگی صرف کامیابی کی تصویریں نہیں، ان کہانیوں کو بھی دیکھنا چاہیے جو خاموشی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔

اگر آپ کو یہ کہانی کچھ محسوس کروا گئی ہو، تو کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں۔
اسے آگے شیئر کریں، شاید کسی اور راشد کا درد کوئی سمجھ سکے…


Like Comment & Share

1 year ago | [YT] | 1

PakScope

عام انتخابات 2024
اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے باہر نکلیں اور ووٹ دیں۔
انتخابی گہما گہمی کہیں نظر نہیں آئی سیاسی جماعتوں کے کیمپس اور پولنگ اسٹیشنز کے اندر وباہر سناٹے.
اب تک ٹرن آوٹ انتہائی کم نظر آرہا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے

2 years ago | [YT] | 11

PakScope

کون ہوگا ملک کا اگلا وزیراعظم ؟

2 years ago | [YT] | 7

PakScope

آپ کس جماعت کو ووٹ دیں گے ؟
#election2024 #vote

2 years ago | [YT] | 8

PakScope

Breaking News

2 years ago | [YT] | 4

PakScope

Pakistan ke liye Kaun behtar hai

2 years ago | [YT] | 3

PakScope

Yeh Saal Election Ka Hai Ya Nahin ?

2 years ago | [YT] | 3

PakScope

https://youtu.be/dBHC3azDI2M

القادر ٹرسٹ کی کرپشن اور عمران خان کی گرفتاری کا چاہ ماہ قبل ہی بتادیا تھا کہ القادر ٹرسٹ اسیکنڈل کیا ہے اور اس میں عمران خان کا جرم کیا ہے۔



زیشان احمد صدیقی
(صحافی وتجزیہ نگار)

3 years ago | [YT] | 3

PakScope

Your favourite person

3 years ago | [YT] | 5