سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لیکر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں ۔ امام منذری کا کہنا ہے کہ : ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئ حرج نہیں ، لا بأس به کہا ہے ۔ الترغیب والترھیب ( 1 / 298 )
سانپ کو مارنے کا حکم : سانپوں کی اکثریت تکلیف دینے والی ہے ،اس لئے نبی ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خمسٌ فواسقٌ يُقتلْنَ في الحلِّ والحرمِ : الحيةُ ، والغرابُ الأبقعُ ، والفارةُ ، والكلبُ العقورُ ، والحُدَيَّا(صحيح مسلم:1198) ترجمہ: پانچ موذی (جا ندار ) ہیں ۔حل وحرم میں (جہاں بھی مل جا ئیں ) مار دئے جا ئیں۔ سانپ ،کوا (جس کے سر پر سفید نشان ہو تا ہے) چوہا ،پاگل کتا اور چیل ۔ سانپ اس قدر تکلیف دہ ہے کہ نماز توڑکراسے مارنے کا حکم ہوا ہے ۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اقتلوا الأسوَدينِ في الصَّلاةِ الحيَّةَ والعقربِ(صحيح أبي داود:921) ترجمہ: نماز میں دو کالوں یعنی سانپ اور بچھو کو مار ڈالو۔
گھروں کے سانپ : گھروں کے سانپ کا حکم کچھ مختلف ہے ، اسے پہلے تین بار گھر خالی کرنے کا حکم دیا جائے گا کیونکہ ممکن ہے کوئی جن سانپ کی شکل اختیار کرلیاہو۔ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، نهى عن قتلِ الجِنَّان التي تكونُ في البيوتِ ،إلا أن يكون ذا الطُّفْيَتَيْنِ، والأبترَ، فإنهما يخطفانِ البصرَ ويَطْرَحانِ ما في بطونِ النساءِ.( صحيح أبي داود: 5253) ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو جو گھروں میں رہتے ہیں مارنے سے منع فرمایا ہے سوائے ان کے جن کی پشت پر ( کالی یا سفید ) دو دھاریاں ہوتی ہیں اور جن کی دم نہیں ہوتی ۔ بلاشبہ یہ نظر زائل کر دینے اور عورتوں کا حمل گرا دینے کا باعث بنتے ہیں ۔ ایک نوجوان کا واقعہ ہے، نئی نئی ان کی شادی ہوئی تھی ، خندق سے اجازت لیکر گھر آیا تھا ، بیوی کو گھر کے باہر دیکھا تو آگ بگولہ ہوگیا۔ آج ہماری عورتیں گھر کے باہر کیا ، کہاں نہیں جاتیں۔ اس میں ہماری غفلت ہے ۔ بہرکیف بیوی نے کہا کہ گھر میں دیکھو کیا ہے ؟ نوجوان گھر میں دیکھتا ہے تو دیکھا کہ ایک سانپ کنڈلی مارے بستر پر بیٹھا ہے ۔ نوجوان نے سانپ کو نیزے میں پرولیا پھر گھر سے واپس نکلا تو وہ دوبارہ حملہ کرکے نوجوان کو مار دیا۔ اس واقعہ سے متعلق نبی ﷺ نے فرمایاہے: إنَّ بالمدينة جنًّا قد أسلموا . فإذا رأيتُم منهم شيئًا فآذِنوه ثلاثةَ أيامٍ . فإن بدا لكم بعد ذلك فاقتُلوه . فإنما هو شيطانٌ (صحيح مسلم:2236) ترجمہ: مدینہ میں جن رہتے ہیں، جو مسلمان ہو گئے ہیں پھر اگر تم سانپوں کو دیکھو تو تین دن تک ان کو خبر دار کرو، اگر تین دن کے بعد بھی نہ نکلیں تو ان کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہیں۔ علماء نے کہا ہے کہ تین مرتبہ اجازت کافی ہے ، اگر وہ گھر سے نہ نکلے یا نکل کر دوبارہ آجائے تو اسے قتل کردیں لیکن ابتر(وہ سانپ جس کی دم چھوٹی ہو) اور ذوالطفیتین (جس کی پشت پر دو سیاہ لکیریں ہوں) ان دونوں قسم کے سانپوں کو ہر جگہ اور ہر حال میں قتل کیاجائے گا جیساکہ اوپر والی روایت میں اس کا ذکر ہے ۔
Learn with Umme Haram
یہ باتیں بہت اہم ہیں محرم الحرام کے حوالے سے
2 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
Learn with Umme Haram
سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لیکر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں ۔
امام منذری کا کہنا ہے کہ : ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئ حرج نہیں ، لا بأس به کہا ہے ۔ الترغیب والترھیب ( 1 / 298 )
4 years ago | [YT] | 10
View 0 replies
Learn with Umme Haram
کیا آج آپ نے درود شریف پڑھا؟
4 years ago | [YT] | 5
View 0 replies
Learn with Umme Haram
اذان میں "حی علی الفلاح" کے جواب میں کیا کہتے ہیں؟
4 years ago | [YT] | 7
View 1 reply
Learn with Umme Haram
سانپ کو مارنے کا حکم :
سانپوں کی اکثریت تکلیف دینے والی ہے ،اس لئے نبی ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
خمسٌ فواسقٌ يُقتلْنَ في الحلِّ والحرمِ : الحيةُ ، والغرابُ الأبقعُ ، والفارةُ ، والكلبُ العقورُ ، والحُدَيَّا(صحيح مسلم:1198)
ترجمہ: پانچ موذی (جا ندار ) ہیں ۔حل وحرم میں (جہاں بھی مل جا ئیں ) مار دئے جا ئیں۔ سانپ ،کوا (جس کے سر پر سفید نشان ہو تا ہے) چوہا ،پاگل کتا اور چیل ۔
سانپ اس قدر تکلیف دہ ہے کہ نماز توڑکراسے مارنے کا حکم ہوا ہے ۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
اقتلوا الأسوَدينِ في الصَّلاةِ الحيَّةَ والعقربِ(صحيح أبي داود:921)
ترجمہ: نماز میں دو کالوں یعنی سانپ اور بچھو کو مار ڈالو۔
گھروں کے سانپ :
گھروں کے سانپ کا حکم کچھ مختلف ہے ، اسے پہلے تین بار گھر خالی کرنے کا حکم دیا جائے گا کیونکہ ممکن ہے کوئی جن سانپ کی شکل اختیار کرلیاہو۔ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، نهى عن قتلِ الجِنَّان التي تكونُ في البيوتِ ،إلا أن يكون ذا الطُّفْيَتَيْنِ، والأبترَ، فإنهما يخطفانِ البصرَ ويَطْرَحانِ ما في بطونِ النساءِ.( صحيح أبي داود: 5253)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو جو گھروں میں رہتے ہیں مارنے سے منع فرمایا ہے سوائے ان کے جن کی پشت پر ( کالی یا سفید ) دو دھاریاں ہوتی ہیں اور جن کی دم نہیں ہوتی ۔ بلاشبہ یہ نظر زائل کر دینے اور عورتوں کا حمل گرا دینے کا باعث بنتے ہیں ۔
ایک نوجوان کا واقعہ ہے، نئی نئی ان کی شادی ہوئی تھی ، خندق سے اجازت لیکر گھر آیا تھا ، بیوی کو گھر کے باہر دیکھا تو آگ بگولہ ہوگیا۔ آج ہماری عورتیں گھر کے باہر کیا ، کہاں نہیں جاتیں۔ اس میں ہماری غفلت ہے ۔ بہرکیف بیوی نے کہا کہ گھر میں دیکھو کیا ہے ؟ نوجوان گھر میں دیکھتا ہے تو دیکھا کہ ایک سانپ کنڈلی مارے بستر پر بیٹھا ہے ۔ نوجوان نے سانپ کو نیزے میں پرولیا پھر گھر سے واپس نکلا تو وہ دوبارہ حملہ کرکے نوجوان کو مار دیا۔ اس واقعہ سے متعلق نبی ﷺ نے فرمایاہے:
إنَّ بالمدينة جنًّا قد أسلموا . فإذا رأيتُم منهم شيئًا فآذِنوه ثلاثةَ أيامٍ . فإن بدا لكم بعد ذلك فاقتُلوه . فإنما هو شيطانٌ (صحيح مسلم:2236)
ترجمہ: مدینہ میں جن رہتے ہیں، جو مسلمان ہو گئے ہیں پھر اگر تم سانپوں کو دیکھو تو تین دن تک ان کو خبر دار کرو، اگر تین دن کے بعد بھی نہ نکلیں تو ان کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہیں۔
علماء نے کہا ہے کہ تین مرتبہ اجازت کافی ہے ، اگر وہ گھر سے نہ نکلے یا نکل کر دوبارہ آجائے تو اسے قتل کردیں لیکن ابتر(وہ سانپ جس کی دم چھوٹی ہو) اور ذوالطفیتین (جس کی پشت پر دو سیاہ لکیریں ہوں) ان دونوں قسم کے سانپوں کو ہر جگہ اور ہر حال میں قتل کیاجائے گا جیساکہ اوپر والی روایت میں اس کا ذکر ہے ۔
4 years ago | [YT] | 2
View 1 reply