پروفیسر : مولوی صاحب! یہ معاویہ بن ابو سفیان کون تھا؟ مولوی : جی وہ صحابی رسول اور کاتبِ وحی تھے۔
پروفیسر : اچھا یہ وہی شخص ہے کہ جس کا آپ کی جماعت عرس مناتی ہے؟ مولوی : جی جی وہی ہیں!
پروفیسر : یہ معاویہ کیا علانِ نبوتؐ کے فوراً بعد ایمان لے آئے تھے؟ مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : تو پھر دین کیلئے کفار کے کچھ مظالم سہے ہوں گے؟ مولوی : نہیں جی! وہ تو خود اُس وقت کفار میں شامل تھے۔
پروفیسر : پھر پہلی ہجرتِ حبشہ میں شرکت کی ہو گی؟ مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : تو پھر دوسری ہجرتِ حبشہ میں شامل رہے ہوں گے؟ مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : تو پھر ہجرتِ مدینہ میں تو ضرور شامل ہوں گے؟ مولوی : نہیں جی! وہ اُس وقت مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔
پروفیسر : پھر جنگِ بدر میں تو ضرور مسلمانوں کی طرف سے لڑے ہوں گے؟ مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : جنگِ احد میں شہید ہوئے ہوں گے؟ مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : کیا صلح حدیبیہ والوں میں شامل تھے؟ مولوی : نہیں جی! (اب مولوی صاحب تھوڑا گھبرانے لگے)
پروفیسر : جنگِ خیبر اور یرموک میں لڑنے والوں میں شامل ہوں گے؟ مولوی : نہیں جی! وہاں بھی نہیں تھے۔
پروفیسر : پھر فتح مکہ میں تو ضرور ہوں گے؟ مولوی : نہیں جی! وہ تو مسلمان ہی فتح مکہ کے بعد ہوئے تھے۔
پروفیسر : یعنی اُس وقت جب اسلام غالب ہو چکا تھا؟ مولوی : (مشکل سے بولتے ہوئے) جی ہاں!
پروفیسر : آپ کو معلوم ہے معاویہ کے اسلام لانے کے بعد کون سی وحی نازل ہوئی تھی؟ مولوی : جی نہیں معلوم!
پروفیسر : آپ نے بتایا کہ معاویہ کاتبِ وحی تھے تو پھر آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کون سی آیات کی کتابت کی تھی؟ مولوی : جی مجھے نہیں معلوم! بس سن رکھا ہے کہیں پڑھا نہیں ہے!
پروفیسر : یعنی آپ کے مطابق اسلام کے پہلے مشکل ترین اکیس سالوں میں معاویہ کہیں نہیں تھا؟ مولوی : جی ایسا ہی ہے!
پروفیسر : تو پھر آپ کی جماعت اُن میں سے کسی کا عرس کیوں نہیں مناتی کہ جن کی اکیس سالہ محنت اور قربانیوں کی وجہ سے معاویہ کو مجبوراً ہی سہی مگر مسلمان ہونا پڑا؟ مولوی : جی یہ معاویہ کا عرس ہمارے حضرت صاحب مناتے ہیں اِس لیے ہم بس آنکھیں بند کر کے اُن کی پیروی کرتے ہیں!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہ نے مولا علی علیہ السلام سے بغاوت کی تھی؟ مولوی : جی معلوم ہی ہو گا!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہ نے مولا علی علیہ السلام کے خلاف تلوار اُٹھائی اور آپؑ پر منبروں سے لعنتیں کہلوائیں؟ مولوی : حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام سے کی گئی صلح کی شرائط کو توڑا اور اسلامی اصولوں کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے جان بوجھ کر یزید (پلید) کو اپنا جانشین منتخب کیا؟ مولوی : حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ معاویہ نے امام حسن علیہ السّلام کی شہادت پر دبے لفظوں میں خوشی کا اظہار کیا؟ مولوی : حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب نہیں جانتے کہ معاویہ کے لشکر کو نبی ؐ نے "دوزخ کی طرف بلانے والا گروہ" کہا ہے؟ مولوی : (چہرے پر سے باقاعدہ ہوائیاں اُڑ رہی ہیں) حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : آپ کے حضرت صاحب کو یہ بھی نہیں معلوم کہ معاویہ حضرت عمار بن یاسر ؓ سمیت سینکڑوں صحابہ کے قتل کا ذمہ دار ہیں؟ مولوی : (تھوک نگلتے ہوئے حواس باختگی کی عالم میں) جی میں نہیں جانتا!
پروفیسر : قرآن کی کوئی آیت جو معاویہ کیلئے اتری ہو؟ مولوی : مجھے نہیں معلوم!
پروفیسر : صحاح ستہ سے کوئی ایک صحیح حدیث (جو ضعیف یا موضوع نہ ہو اور جس کی سند قابل قبول ہو) جو معاویہ کی فضیلت میں آئی ہو؟ مولوی : مجھے نہیں معلوم!
پروفیسر : تو آپ کو نبی ؐ کے ہزاروں صحابہ ؓ کو چھوڑ کر عرس منانے کیلئے صرف یزید کا باپ اور ظالم حاکم / بادشاہ ہی ملا تھا؟ مولوی : (باقاعدہ رونا شروع) حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : روزِ محشر کس منہ سے نبی ؑ کا سامنا کرو گے؟ مولوی : (روتے روتے کانپنے لگ گئے)
پروفیسر : جب نبی کریمؐ نے علیؑ کے دشمن کو اپنا دشمن کہا تو آپ نے علیؑ کے دشمن کا عرس منانا شروع کر دیا؟ یعنی تم لوگ اب کھل کر رسول اللہ ؐ کے سامنے کھڑے ہو گئے ہو؟ تم نے جہنم کا سودا کر لیا ہے ۔۔۔۔۔!
“محمد ص چلتے پھرتے طبیب ہیں کہ ہمیشہ انسانی روحوں کی طبابت (علاج) کرنے میں کوشاں تھے، اور بیماریوں کے علاج کے لیے مرہم فرام کر رکھی تھی اور اسے مناسب مورد میں کام میں لاتے تھے۔ اندھی روح، بہرے کان گنگی زبان کو شفا دیتے تھے۔ اور داؤوں کو انسانوں پر استعمال کرتے تھے جو حیرت اور غفلت میں غرق تھے اور اُن انسانوں کو جو حکمت اور علم کے نور سے استفادہ نہیں کرتے تھے اور حقائق اور معارف الہی کے ناشناس تھے اس لیے تو ایسے انسان حیوانات سے بھی بدتر زندگی بسر کر رہے تھے۔”
خود سازی یعنی تزکیہ اور تہذیب نفس تالیف آیت اللہ ابراہیم اِمینی
صادق آل محمد ع بیان کرتے ہیں: سرکار رسالت مآب ص نے ارشاد فرمایا: کہ یوم غدیر خُم میری اُمت کی تمام عیدوں میں سب سے بہتر ہے۔ یہ وہ دن ہے پروردگار عالم نے مُجھے اپنے بھائی علی ابن ابی طالب ع کو رہنمائے اُمت مقرر کرنے کا حُکم دیا تاکہ لوگ میرے بعد ان سے ہدایت حاصل کر سکیں اور اسی روز پروردگار عالم نے دین کی تکمیل کی ، اُمت کو اِتمامِ نعمت سے سرفراز کیا اور دین اسلام کو خوشنودی کی سند عطا فرمائی۔
انّا للّٰہِ وانّا الیہِ راجعونْ آہ اصغر خان ۔ ایک تحریر اٹھائے بولیں دربار میں آکر زہراء وہ خون رو کے یہ کہتا رہا زمانے سے مہندیاں والے نوں اکبر میں مر جاواں گی وطناں تے ویر آجا جیسے ان گنت نوحوں کے طرز نگار اصغر خان صاحب طویل علالت کے بعد اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ مولا ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین
Ahl al-Bayt ع
پروفیسر : مولوی صاحب! یہ معاویہ بن ابو سفیان کون تھا؟
مولوی : جی وہ صحابی رسول اور کاتبِ وحی تھے۔
پروفیسر : اچھا یہ وہی شخص ہے کہ جس کا آپ کی جماعت عرس مناتی ہے؟
مولوی : جی جی وہی ہیں!
پروفیسر : یہ معاویہ کیا علانِ نبوتؐ کے فوراً بعد ایمان لے آئے تھے؟
مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : تو پھر دین کیلئے کفار کے کچھ مظالم سہے ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی! وہ تو خود اُس وقت کفار میں شامل تھے۔
پروفیسر : پھر پہلی ہجرتِ حبشہ میں شرکت کی ہو گی؟
مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : تو پھر دوسری ہجرتِ حبشہ میں شامل رہے ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : تو پھر ہجرتِ مدینہ میں تو ضرور شامل ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی! وہ اُس وقت مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔
پروفیسر : پھر جنگِ بدر میں تو ضرور مسلمانوں کی طرف سے لڑے ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : جنگِ احد میں شہید ہوئے ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی!
پروفیسر : کیا صلح حدیبیہ والوں میں شامل تھے؟
مولوی : نہیں جی! (اب مولوی صاحب تھوڑا گھبرانے لگے)
پروفیسر : جنگِ خیبر اور یرموک میں لڑنے والوں میں شامل ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی! وہاں بھی نہیں تھے۔
پروفیسر : پھر فتح مکہ میں تو ضرور ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی! وہ تو مسلمان ہی فتح مکہ کے بعد ہوئے تھے۔
پروفیسر : یعنی اُس وقت جب اسلام غالب ہو چکا تھا؟
مولوی : (مشکل سے بولتے ہوئے) جی ہاں!
پروفیسر : آپ کو معلوم ہے معاویہ کے اسلام لانے کے بعد کون سی وحی نازل ہوئی تھی؟
مولوی : جی نہیں معلوم!
پروفیسر : آپ نے بتایا کہ معاویہ کاتبِ وحی تھے تو پھر آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کون سی آیات کی کتابت کی تھی؟
مولوی : جی مجھے نہیں معلوم! بس سن رکھا ہے کہیں پڑھا نہیں ہے!
پروفیسر : یعنی آپ کے مطابق اسلام کے پہلے مشکل ترین اکیس سالوں میں معاویہ کہیں نہیں تھا؟
مولوی : جی ایسا ہی ہے!
پروفیسر : تو پھر آپ کی جماعت اُن میں سے کسی کا عرس کیوں نہیں مناتی کہ جن کی اکیس سالہ محنت اور قربانیوں کی وجہ سے معاویہ کو مجبوراً ہی سہی مگر مسلمان ہونا پڑا؟
مولوی : جی یہ معاویہ کا عرس ہمارے حضرت صاحب مناتے ہیں اِس لیے ہم بس آنکھیں بند کر کے اُن کی پیروی کرتے ہیں!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہ نے مولا علی علیہ السلام سے بغاوت کی تھی؟
مولوی : جی معلوم ہی ہو گا!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہ نے مولا علی علیہ السلام کے خلاف تلوار اُٹھائی اور آپؑ پر منبروں سے لعنتیں کہلوائیں؟
مولوی : حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام سے کی گئی صلح کی شرائط کو توڑا اور اسلامی اصولوں کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے جان بوجھ کر یزید (پلید) کو اپنا جانشین منتخب کیا؟
مولوی : حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ معاویہ نے امام حسن علیہ السّلام کی شہادت پر دبے لفظوں میں خوشی کا اظہار کیا؟
مولوی : حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : کیا آپ کے حضرت صاحب نہیں جانتے کہ معاویہ کے لشکر کو نبی ؐ نے "دوزخ کی طرف بلانے والا گروہ" کہا ہے؟
مولوی : (چہرے پر سے باقاعدہ ہوائیاں اُڑ رہی ہیں) حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : آپ کے حضرت صاحب کو یہ بھی نہیں معلوم کہ معاویہ حضرت عمار بن یاسر ؓ سمیت سینکڑوں صحابہ کے قتل کا ذمہ دار ہیں؟
مولوی : (تھوک نگلتے ہوئے حواس باختگی کی عالم میں) جی میں نہیں جانتا!
پروفیسر : قرآن کی کوئی آیت جو معاویہ کیلئے اتری ہو؟
مولوی : مجھے نہیں معلوم!
پروفیسر : صحاح ستہ سے کوئی ایک صحیح حدیث (جو ضعیف یا موضوع نہ ہو اور جس کی سند قابل قبول ہو) جو معاویہ کی فضیلت میں آئی ہو؟
مولوی : مجھے نہیں معلوم!
پروفیسر : تو آپ کو نبی ؐ کے ہزاروں صحابہ ؓ کو چھوڑ کر عرس منانے کیلئے صرف یزید کا باپ اور ظالم حاکم / بادشاہ ہی ملا تھا؟
مولوی : (باقاعدہ رونا شروع) حیران پریشان اور چپ!
پروفیسر : روزِ محشر کس منہ سے نبی ؑ کا سامنا کرو گے؟
مولوی : (روتے روتے کانپنے لگ گئے)
پروفیسر : جب نبی کریمؐ نے علیؑ کے دشمن کو اپنا دشمن کہا تو آپ نے علیؑ کے دشمن کا عرس منانا شروع کر دیا؟ یعنی تم لوگ اب کھل کر رسول اللہ ؐ کے سامنے کھڑے ہو گئے ہو؟ تم نے جہنم کا سودا کر لیا ہے ۔۔۔۔۔!
(مولوی صاحب روتے رہے پروفیسر صاحب اٹھ کر چلے گئے)
9 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Ahl al-Bayt ع
امام علی علیہ السلام
“محمد ص چلتے پھرتے طبیب ہیں کہ ہمیشہ انسانی روحوں کی طبابت (علاج) کرنے میں کوشاں تھے، اور بیماریوں کے علاج کے لیے مرہم فرام کر رکھی تھی اور اسے مناسب مورد میں کام میں لاتے تھے۔ اندھی روح، بہرے کان گنگی زبان کو شفا دیتے تھے۔ اور داؤوں کو انسانوں پر استعمال کرتے تھے جو حیرت اور غفلت میں غرق تھے اور اُن انسانوں کو جو حکمت اور علم کے نور سے استفادہ نہیں کرتے تھے اور حقائق اور معارف الہی کے ناشناس تھے اس لیے تو ایسے انسان حیوانات سے بھی بدتر زندگی بسر کر رہے تھے۔”
خود سازی یعنی تزکیہ اور تہذیب نفس
تالیف آیت اللہ ابراہیم اِمینی
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
Ahl al-Bayt ع
امام علی ع
ہر شخص کا ایک انجام ہے خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ
نہج البلاغہ
1 year ago | [YT] | 4
View 0 replies
Ahl al-Bayt ع
صادق آل محمد ع بیان کرتے ہیں: سرکار رسالت مآب ص نے ارشاد فرمایا:
کہ یوم غدیر خُم میری اُمت کی تمام عیدوں میں سب سے بہتر ہے۔ یہ وہ دن ہے پروردگار عالم نے مُجھے اپنے بھائی علی ابن ابی طالب ع کو رہنمائے اُمت مقرر کرنے کا حُکم دیا تاکہ لوگ میرے بعد ان سے ہدایت حاصل کر سکیں اور اسی روز پروردگار عالم نے دین کی تکمیل کی ، اُمت کو اِتمامِ نعمت سے سرفراز کیا اور دین اسلام کو خوشنودی کی سند عطا فرمائی۔
کتاب غدیر خم اور خُطبہ غدیر
2 years ago | [YT] | 13
View 0 replies
Ahl al-Bayt ع
امام علی ع
جونہیں جانتا اور نہیں جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا
وہ بیوقوف ہے اس سے بچو۔
جونہیں جانتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا ہے
وہ جاہل ہے اسے سکھاؤ۔
جو جانتا ہے اور نہیں جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے
وہ سویا ہوا ہے اسے جگاؤ۔
جو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے
وہ عقلمند ہے اس کے پیچھے چلو۔
(نہج البلاغہ)
#ali #ahlulbayt
2 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Ahl al-Bayt ع
انّا للّٰہِ وانّا الیہِ راجعونْ
آہ اصغر خان ۔
ایک تحریر اٹھائے بولیں دربار میں آکر زہراء
وہ خون رو کے یہ کہتا رہا زمانے سے
مہندیاں والے نوں
اکبر میں مر جاواں گی وطناں تے ویر آجا
جیسے ان گنت نوحوں کے طرز نگار اصغر خان صاحب طویل علالت کے بعد اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ مولا ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین
2 years ago | [YT] | 4
View 1 reply
Ahl al-Bayt ع
امام علی ع
عُمر درحقیقت چند گِنی ہوئی سانسوں کا نام ہے
حکمت بُوتُراب ع
2 years ago | [YT] | 4
View 0 replies
Ahl al-Bayt ع
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
جو دُنیا سے کم لگاؤ رکھتا ہے اُس کی مُصیبتیں ختم ہوجاتی ہیں
کتاب
سُلیم بن قیس ھلالی
2 years ago | [YT] | 6
View 0 replies