Gaming with Ak Bhai

Hello guys my self aziz and this channels focuses on providing only android gameplay reviews, new upcoming games, guides gaming news
Related to the mass effect universe.on this channel you will see only android gameplays
New games video every day
So don't forget to subscribe for more videos
If this content interesting to you please Hit the subscribe button. For Questions comments and suggestions don't hesitate to email us at
EMAIL : azizkhan0344200@gmail.com
Like follow and subscribe to our channel 4 more online and offline gaming videos


Gaming with Ak Bhai

یہ ایک بیمار مچھلی ہے جس کے جسم میں ایک ٹیومر بن رہا تھا۔ چنانچہ اسے اس کے ایکویریم سے نکال کر سرجنز کی ایک ٹیم نے ایک محتاط سرجری کے زریعے اس کا ٹیومر الگ کر دیا۔۔۔ اس آپریشن کے دوران مچھلی کے منہ پر تازہ پانی کا ایک پائپ نصب کیا گیا تاکہ وہ سانس لے سکے اور زندہ رہے۔۔ اس طرح مچھلی کی جان بچا لی گئی!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری خبر :
ایک ماہ کے دوران 25 ہزار بےگناہ فل__ سطی__ نیوں کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا جس میں 8 ہزار بچے ہیں۔

2 years ago | [YT] | 0

Gaming with Ak Bhai

‏ایک صحتمند مرد کے عورت سے جماع کرنے کے بعد جو منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز موجود ہوتے ہیں۔ لہذا ، منطق کے مطابق، اگر اس مقدار میں نطفہ کو رحم میں جگہ مل جاتی ہے تو 400 ملین بچے پیدا ہوجاتے!
جبکہ یہ 400 ملین اسپرم ، ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں، اور اس دوڑ میں صرف 300 یا 500 سپرمیے ہی بچ پاتے ہیں۔
اور باقی؟ وہ راستے میں ہی تھکن یا شکست سے مر جاتے ہیں۔ یہ 300-500 سپرمیے ہیں، جو بیضہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک، جی ہاں صرف ایک بہت ہی مضبوط سپرمیہ ہوتا ہے، جو بیضہ میں داخل ہوکر فرٹیلائز ہوتا ہے ، یا بیضہ میں پہنچ کر اپنی نشست بنالیتا ہے۔
کیاآپ جانتے ہیں وہ خوش نصیب، فاتح اور مضبوط ترین سپرمیہ کون ہے؟
وہ خوش نصیب سپرمیہ آپ، میں، یا ہم سب ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
جب آپ بھاگے "تو آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھے، پھر بھی آپ جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ کے پاس سرٹیفکیٹس نہیں تھے، آپ کے پاس دماغ نہیں تھا، لیکن آپ پھر بھی جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ تعلیم یافتہ نہیں تھے، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی تھی لیکن آپ جیتے۔
آپ کے وجدان کی نظر میں صرف منزل تھی جب آپ بھاگے اور آپ ایک ہی ذہن کے ساتھ بھاگے تھے، آپ کا عزم صرف وہ منزل تھی اور آپ آخر میں جیت گئے۔

اس کے بعد ، بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں کھو گئے۔ لیکن آپ موجود رہے ، آپ نے اپنے 9 مہینے پورے کیے۔
اور آج ......
آپ گھبراتے ہیں جب کچھ ہوتا ہے تو آپ مایوس ہوجاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بہن بھائی ، سرٹیفکیٹس، سب کچھ ہے۔ یہاں ہاتھ پاؤں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کرنے کے لیے بہترین دماغ ہے، مدد کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں، پھر بھی آپ نے امید ختم کردی ہے۔
جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟
آپ کیوں کہتے ہیں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا؟
آپ نے کیوں کہا کہ میں ہار گیا؟
ایسی ہزاروں چیزوں کو اجاگر کرنا ممکن ہے ، لیکن آپ مایوس کیوں ہوگئے؟
آپ فرسٹریٹ کیوں ہوئے؟ آپ شروع میں جیتے، آپ آخر میں جیتے، آپ بیچ میں جیت جاتے ہیں۔

2 years ago | [YT] | 2

Gaming with Ak Bhai

*👈 ایک قابل رشک اور سبق آموز کہانی*

ایک معلم قرآن انتہائی نصیحت آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک بچہ میرے پاس آیا جو مدرسے میں داخلہ لینے کا شدید خواہشمند تھا۔
میں نے اس سے پوچھا: بچے! آپ کو قرآن کا کچھ حصہ زبانی یاد ہے؟ بچے نے کہا: جی۔

میں نے اس کا امتحان لیتے ہوئے کہا: پھر آپ مجھے تیسواں پارہ سنائیں۔
اس نے مجھے تیسواں پارہ زبانی سنا دیا۔
میں نے پوچھا: آپ کو سورۃ الملک بھی یاد ہے؟
اس نے مجھے سورۃ الملک بھی سنادی۔

مجھے بڑا تعجب ہوا کہ اس چھوٹے سے بچے نے کم سنی کے باوجود قرآن کریم کا کچھ حصہ حفظ کیا ہوا ہے۔
میں نے اس سے سورۃ النحل سنانے کو کہا تو اسے وہ بھی یاد تھی۔۔

جوں جوں وہ میرے سوالات کا جواب دے رہا تھا، میری حیرانی بڑھتی جا رہی تھی۔

میں نے سوچا کہ اب اس سے بڑی سورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ میں نے کہا: آپ کو سورۃ البقرہ بھی یاد ہے؟
اس نے ”ہاں“ میں جواب دیا اور ساتھ ہیں کسی غلطی کے بغیر سورۃ البقرہ بھی زبانی سنا ڈالی۔

میں نے متعجب ہو کر پوچھا: بچے! لگتا ہے آپ نے پورا قرآن حفظ کر رکھا ہے؟

اس نے کہا: جی۔ یہ سنتے ہی فرط مسرت سے میری زبان سے بے ساختہ سبحان اللّٰہ ، ماشاءاللہ، تبارک اللہ کے الفاظ ادا ہونا شروع ہوگئے۔

میں نے اس سے کہا: آپ کل میرے دفتر آجائیے گا اور ساتھ اپنے سرپرست کو بھی لیتے آئیے گا۔

میں بچے کے جانے کے بعد حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوبا رہا اور دل ہی دل میں تانے بانے بنتا رہا کہ یقینا اس کے والد صاحب دین کے پابند، نیک سیرت اور قرآن سے شدید محبت رکھنے والے ہوں گے جس کے نتیجے میں اس نے اپنے بچے کو اتنی چھوٹی عمر میں قرآن یاد کرا دیا ہے۔

مجھے اس وقت حیرانی کا شدید جھٹکا لگا جب وہ کل صبح اپنے والد صاحب کو لے کر آیا تو اس کے والد صاحب ظاہری شکل و صورت سے بالکل بھی متبع سنت اور پابند شریعت نہیں لگ رہے تھے۔

اس بچے کے باپ نے میری پریشانی اور استعجاب کو بھانپ لیا اور فوراً بولا: میں جانتا ہوں کہ آپ میرے اس بچے کا والد ہونے کی وجہ سے حیران و ششدر ہورہے ہیں۔۔ میں ابھی آپ کی حیرت ختم کیے دیتا ہوں۔۔ اصل بات یہ ہے کہ اس بچے کے حفظ قرآن کے پیچھے اس کی والدہ کا ہاتھ ہے جو بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔۔

آپ یہ بات سن کر مزید حیران ہوں گے کہ میرے تین بیٹے ہیں اور سب قرآن کے حافظ ہیں۔
میری سب سے چھوٹی بیٹی چار سال کی ہے اور وہ بھی تیسواں پارہ حفظ کر چکی ہے۔

میری حیرانی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔۔ میں نے پوچھا: یہ کیسے ممکن ہے!! چار سال کی بچی نے تیسواں پارہ کیسے یاد کر لیا ہے؟!

اس نے جواب دیا: بچوں کی والدہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ جب بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو وہ اسے قرآن یاد کروانا اور حفظ قرآن کا شوق دلانا شروع کردیتی ہے۔

وہ بچوں کا مقابلہ کرواتی ہے اور کہتی ہے کہ جو سب سے پہلے یہ سورۃ یاد کرے گا، رات کا کھانا اس کی پسند کا بنے گا۔۔

جو سب سے پہلے پارہ حفظ کرے گا، ہم ویک اینڈ پر اس کی پسند کی جگہ جائیں گے۔۔

جو سب سے پہلے قرآن ختم کرے گا، ہم سالانہ چھٹیاں اس کے منتخب کردہ علاقے میں گزارنے جائیں گے۔

یوں بچے اپنے اپنے شوق کی تکمیل کے کیے حفظ قرآن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

جی ہاں، ایسی نیک مائیں ہی گھر سنوارتی ہیں۔

امام بخاری رحمہ اللّٰہ کے امیر المومنین فی الحدیث بننے کے پیچھے ان کی والدہ ہی کی کاوشیں تھیں۔

امام شافعی رحمہ اللّٰہ کے عظیم فقیہ و محدث بننے کے پیچھے ان کی والدہ ماجدہ کی جہود مسعودہ تھیں۔

امام مالک رحمہ اللّٰہ کے امام دار الہجرہ کے منصب عالی پر فائز ہونے کے پیچھے ان کی والدہ محترمہ کا ہاتھ تھا۔

امام احمد بن حنبل کے امام اہل السنۃ و الجماعۃ کا لقب حاصل کرنے کے پیچھے ان کی والدہ محترمہ کی محنتیں تھیں۔

یاد رکھیے! نیک اور صالح عورت نصف معاشرہ نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کی بنیاد اور ستون ہوتی ہے۔

میری امت کی ماؤں کو معاشرے کو کار آمد اور دین کے نور سے آراستہ افراد فراہم کرنے کے لیے امت بننے کی ضرورت ہے۔۔ اگر مائیں امت بننے کا تہیہ کر لیں تو قوم کو بام عروج پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

2 years ago (edited) | [YT] | 1