*اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*!! صحیح البخاری کی حدیث نمبر 833 میں ایک بہت حیرت انگیز بات بیا کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ راوی بیان کرتے ہیں میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے دیکھا !! لیکن کیا یہاں آپ کے ذہن میں سوال آیا کہ دجال نے تو آخری وقتوں میں آنا ہے تو پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دجال کے فتنے سے پناہ کیوں مانگتے تھے ؟ جب میں اس کا جواب جاننے کی کوشش کی تو مجھے پتا چلا کہ صرف آخری وقتوں والے لوگ ہی نہیں بلکہ حدیث میں آیا ہے کہ سب ہی دجال سے ملتے ۔۔۔ ایک فتنے میں مبتلا کئے جائیں گے ۔۔۔ And this is really Shocking اور وہ یہ۔ کہ صحیح البخاری کی حدیث 184 میں بیان کیا گیا ہے کہ ۔۔ اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا ۔ دجال جیسی آزمائش یا اس کے قریب قریب ۔ اور چند جلیل القدر تابعین کا یہ کہنا ہے کہ جو شخص نماز میں دجال۔کے فتنے سے پناہ نہیں مانگتا اس کی نماز نہیں ہوتی( طاؤس رح،حسن بصری رح ) لیکن ہم میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں کہ جنھیں شاید اس دعا کا بھی نا پتا ہو لیکن کوشش کریں کہ آج کل سے ہی اس دعا کو اپنا معمول بنائیں ۔۔اور وہ دعا ہے ۔۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ* ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ ، فَقَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ . *رسول اللہ ﷺ نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے ( ترجمہ ) اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ زندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے* ۔ کسی ( یعنی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) نے آنحضور ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ تو قرض سے بہت ہی زیادہ پناہ مانگتے ہیں ! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مقروض ہو جائے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلاف ہو جاتا ہے ۔
Sahih Bukhari#832 کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں (صفة الصلوة)
اسلام علیکم ! کیسے ہیں آپ سب ! آج کافی دیر بعد میں پوسٹ لکھنے لگا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان شاءاللہ آگے سے ساتھ جڑے رہیں گے !
سمندر اپنے اندر بہت راز دفن کیے ہوئے ہے کہ شاید جن کے بارے میں انسان کبھی نہیں جان سکتا کیونکہ اتنی ایڈوانس ٹیکنالوجی ہونے کے بعد بھی آج تک صرف 5٪ حصہ Explore کر سکا ہے ۔ اور اس 5٪ حصہ سے نیچے جانے کیلئے جو ٹیکنالوجی ہمیں چاہئے وہ شاید آنے والی صدیوں تک ہم حاصل نا کر سکیں
لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ Deep Sea کیا کیا عجیب و غریب مخلوقات کو سکتی ہیں؟ بہت سے تھیوریز یہ بھی ہے کہ Underwater Portals بھی موجود ہیں
آنے والی ویڈیو میں ہم اسی بارے میں جاننے والے ہیں اور جانے والے ہیں ان Creatures کو دیکھنے یا ان کو Imagine کرنے اور اس کے ساتھ اور بھی بہت سے راز جاننے تو تیار رہیے آگے آگے بہت کچھ حیران کرنے والا آرہا ہے !
اسلام علیکم ! کیسے ہیں آپ سب سورۃ نور کی وہ آیات تو آپ سب نے پڑھی ہوں گی کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اماں عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کی پاک دامنی بیان کی ۔۔ لیکن اس واقعہ کا پسِ منظر کیا تھا ؟
حضرت عائشہ رضی کہتی ہیں کہ سفر سے واپسی پر میرا یار گم ہوگیا اور پھر میں اس کو ڈھونڈنے کیلئے گئی اور پھر ۔۔۔۔( اپنی جگہ پہنچ کر ) میں یوں ہی بیٹھی ہوئی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی ۔ صفوان بن معطل سلمی ثم زکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے تھے ( جو لشکریوں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھا کر انہیں ان کے مالک تک پہنچانے کی خدمت کے لیے مقرر تھے ) وہ میری طرف سے گزرے تو ایک سوئے ہوئے انسان کا سایہ نظر پڑا اس لیے اور قریب پہنچے ۔ پردہ کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے ۔ ان کے إنا لله پڑھنے سے میں بیدار ہو گئی ۔ آخر انہوں نے اپنا اونٹ بٹھایا اور اس کے اگلے پاؤں کو موڑ دیا ( تاکہ بلا کسی مدد کے میں خود سوار ہو سکوں ) چنانچہ میں سوار ہو گئی ، اب وہ اونٹ پر مجھے بٹھائے ہوئے خود اس کے آگے آگے چلنے لگے ۔ اسی طرح ہم جب لشکر کے قریب پہنچے تو لوگ بھری دوپہر میں آرام کے لیے پڑاؤ ڈال چکے تھے ۔ ( اتنی ہی بات تھی جس کی بنیاد پر ) جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا اور تہمت کے معاملے میں پیش پیش عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافق ) تھا ۔ پھر ہم مدینہ میں آ گئے اور میں ایک مہینے تک بیمار رہی ۔ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا خوب چرچا ہو رہا تھا ۔ اپنی اس بیماری کے دوران مجھے اس سے بھی بڑا شبہ ہوتا تھا کہ ان دنوں رسول اللہ ﷺ کا وہ لطف و کرم بھی میں نہیں دیکھتی تھی جن کا مشاہدہ اپنی پچھلی بیماریوں میں کر چکی تھی ۔ پس آپ گھر میں جب آتے تو سلام کرتے اور صرف اتنا دریافت فرما لیتے ، مزاج کیسا ہے ؟ جو باتیں تہمت لگانے والے پھیلا رہے تھے ان میں سے کوئی بات مجھے معلوم نہیں تھی ۔ جب میری صحت کچھ ٹھیک ہوئی تو ( ایک رات ) میں ام مسطح کے ساتھ مناصع کی طرف گئی ۔ یہ ہماری قضائے حاجت کی جگہ تھی ، ہم یہاں صرف رات ہی میں آتے تھے ۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب ابھی ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء نہیں بنے تھے ۔ میدان میں جانے کے سلسلے میں ( قضائے حاجت کے لیے ) ہمارا طرز عمل قدیم عرب کی طرح تھا ، میں اور ام مسطح بنت ابی رہم چل رہے تھے کہ وہ اپنی چادر میں الجھ کر گر پڑیں اور ان کی زبان سے نکل گیا ، مسطح برباد ہو ۔ میں نے کہا ، بری بات آپ نے اپنی زبان سے نکالی ، ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہیں آپ ، جو بدر کی لڑائی میں شریک تھا ، وہ کہنے لگیں ، اے ! جو کچھ ان سب نے کہا ہے وہ آپ نے نہیں سنا ، پھر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی ساری باتیں سنائیں اور ان باتوں کو سن کر میری بیماری اور بڑھ گئی ۔ میں جب اپنے گھر واپس ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لائے اور دریافت فرمایا ، مزاج کیسا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے والدین کے یہاں جانے کی اجازت دیجیے ۔ اس وقت میرا ارادہ یہ تھا کہ ان سے اس خبر کی تحقیق کروں گی ۔ آنحضرت ﷺ نے مجھے جانے کی اجازت دے دی اور میں جب گھر آئی تو میں نے اپنی والدہ ( ام رومان ) سے ان باتوں کے متعلق پوچھا ، جو لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں ۔ انہوں نے فرمایا ، بیٹی ! اس طرح کی باتوں کی پرواہ نہ کر ، خدا کی قسم ! شاید ہی ایسا ہو کہ تجھ جیسی حسین و خوبصورت عورت کسی مرد کے گھر میں ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں ، پھر بھی اس طرح کی باتیں نہ پھیلائی جایا کریں ۔ میں نے کہا سبحان اللہ ! ( سوکنوں کا کیا ذکر ) وہ تو دوسرے لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ وہ رات میں نے وہیں گزاری ، صبح تک میرے آنسو نہیں تھمتے تھے اور نہ نیند آئی ۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیوی کو جدا کرنے کے سلسلے میں مشورہ کرنے کے لیے علی ابن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کو بلوایا ۔ کیونکہ وحی ( اس سلسلے میں ) اب تک نہیں آئی تھی ۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ کی بیویوں سے آپ کی محبت کا علم تھا ۔ اس لیے اسی کے مطابق مشورہ دیا اور کہا ، آپ کی بیوی ، یا رسول اللہ ! واللہ ، ہم ان کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی ہے ، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں ، باندی سے بھی آپ دریافت فرما لیجئے ، وہ سچی بات بیان کریں گی ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا ( جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خاص خادمہ تھی ) اور دریافت فرمایا ، بریرہ ! کیا تم نے عائشہ میں کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس سے تمہیں شبہ ہوا ہو ۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ، نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ۔ میں نے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس کا عیب میں ان پر لگا سکوں ۔ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ نوعمر لڑکی ہیں ۔ آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں پھر بکری آتی ہے اور کھا لیتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی دن ( منبر پر ) کھڑے ہو کر عبداللہ بن ابی ابن سلول کے بارے میں مدد چاہی ۔ آپ نے فرمایا ، ایک ایسے شخص کے بارے میں میری کون مدد کرے گا جس کی اذیت اور تکلیف دہی کا سلسلہ اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ چکا ہے ۔ اللہ کی قسم ، اپنی بیوی کے بارے میں خیر کے سوا اور کوئی چیز مجھے معلوم نہیں ۔ پھر نام بھی اس معاملے میں انہوں نے ایک ایسے آدمی کا لیا ہے جس کے متعلق بھی میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتا ۔ خود میرے گھر میں جب بھی وہ آئے ہیں تو میرے ساتھ ہی آئے ۔ ( یہ سن کر ) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! واللہ میں آپ کی مدد کروں گا ۔ اگر وہ شخص ( جس کے متعلق تہمت لگانے کا آپ نے اشارہ فرمایا ہے ) اوس قبیلہ سے ہو گا تو ہم اس کی گردن مار دیں گے ( کیونکہ سعد رضی اللہ عنہ خود قبیلہ اوس کے سردار تھے ) اور اگر وہ خزرج کا آدمی ہوا ، تو آپ ہمیں حکم دیں ، جو بھی آپ کا حکم ہو گا ہم تعمیل کریں گے ۔ اس کے بعد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے ۔ حالانکہ اس سے پہلے اب تک بہت صالح تھے ۔ لیکن اس وقت ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پر ) حمیت سے غصہ ہو گئے تھے اور ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ) کہنے لگے خدا کے دوام و بقا کی قسم ! تم جھوٹ بولتے ہو ، نہ تم اسے قتل کر سکتے ہو اور نہ تمہارے اندر اس کی طاقت ہے ۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ) اور کہا ، خدا کی قسم ! ہم اسے قتل کر دیں گے ( اگر رسول اللہ ﷺ کا حکم ہوا ) کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ تم بھی منافق ہو ۔ کیونکہ منافقوں کی طرفداری کر رہے ہو ۔ اس پر اوس و خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جو ابھی تک منبر پر تشریف رکھتے تھے ۔ منبر سے اترے اور لوگوں کو نرم کیا ۔ اب سب لوگ خاموش ہو گئے اور آپ بھی خاموش ہو گئے ۔ میں اس دن بھی روتی رہی ۔ نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ نیند آتی تھی ۔ پھر میرے پاس میرے ماں باپ آئے ۔ میں دو راتوں اور ایک دن سے برابر روتی رہی تھی ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ روتے روتے میرے دل کے ٹکڑے ہو جائیں گے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ماں باپ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری عورت نے اجازت چاہی اور میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگیں ۔ ہم سب اسی طرح تھے کہ رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لائے اور بیٹھ گئے ۔ جس دن سے میرے متعلق وہ باتیں کہی جا رہی تھیں جو کبھی نہیں کہی گئیں تھیں ۔ اس دن سے میرے پاس آپ نہیں بیٹھے تھے ۔ آپ ﷺ ایک مہینے تک انتظار کرتے رہے تھے ۔ لیکن میرے معاملے میں کوئی وحی آپ پر نازل نہیں ہوئی تھی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے تشہد پڑھی اور فرمایا ، عائشہ ! تمہارے متعلق مجھے یہ یہ باتیں معلوم ہوئیں ۔ اگر تم اس معاملے میں بری ہو تو اللہ تعالیٰ بھی تمہاری برأت ظاہر کر دے گا اور اگر تم نے گناہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہو اور اس کے حضور توبہ کرو کہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ جونہی آپ ﷺ نے اپنی گفتگو ختم کی ، میرے آنسو اس طرح خشک ہو گئے کہ اب ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا ۔ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے میرے متعلق کہئے ۔ لیکن انہوں نے کہا ، قسم اللہ کی ! مجھے نہیں معلوم کہ آنحضرت ﷺ سے مجھے کیا کہنا چاہئے ۔ میں نے اپنی ماں سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا ، اس کے متعلق آنحضور ﷺ سے آپ ہی کچھ کہئے ، انہوں نے بھی یہی فرما دیا کہ قسم اللہ کی ! مجھے معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے کیا کہنا چاہئے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نوعمر لڑکی تھی ۔ قرآن مجھے زیادہ یاد نہیں تھا ۔ میں نے کہا اللہ گواہ ہے ، مجھے معلوم ہوا کہ آپ لوگوں نے بھی لوگوں کی افواہ سنی ہیں اور آپ لوگوں کے دلوں میں وہ بات بیٹھ گئی ہے اور اس کی تصدیق بھی آپ لوگ کر چکے ہیں ، اس لیے اب اگر میں کہوں کہ میں ( اس بہتان سے ) بری ہوں ، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں واقعی اس سے بری ہوں تو آپ لوگ میری اس معاملے میں تصدیق نہیں کریں گے ۔ لیکن اگر میں ( گناہ کو ) اپنے ذمہ لے لوں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں ، تو آپ لوگ میری بات کی تصدیق کر دیں گے ۔ قسم اللہ کی ! میں اس وقت اپنی اور آپ لوگوں کی کوئی مثال یوسف علیہ السلام کے والد ( یعقوب علیہ السلام ) کے سوا نہیں پاتی کہ انہوں نے بھی فرمایا تھا ” پس صبر جمیل ‘‘ صبر ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم کہتے ہو اس معاملے میں میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے “۔ اس کے بعد بستر پر میں نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا اور مجھے امید تھی کہ خود اللہ تعالیٰ میری برأت کرے گا ۔ لیکن میرا یہ خیال کبھی نہ تھا کہ میرے متعلق وحی نازل ہو گی ۔ میری اپنی نظر میں حیثیت اس سے بہت معمولی تھی کہ قرآن مجید میں میرے متعلق کوئی آیت نازل ہو ۔ ہاں مجھے اتنی امید ضرور تھی کہ آپ کوئی خواب دیکھیں گے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے بری فرما دے گا ۔ اللہ گواہ ہے کہ ابھی آپ اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور نہ اس وقت گھر میں موجود کوئی باہر نکلا تھا کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی اور ( شدت وحی سے ) آپ جس طرح پسینے پسینے ہو جایا کرتے تھے وہی کیفیت آپ کی اب بھی تھی ۔ پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح آپ کے جسم مبارک سے گرنے لگے ۔ حالانکہ سردی کا موسم تھا ۔ جب وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ ﷺ ہنس رہے تھے اور سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا ، وہ یہ تھا اے عائشہ ! اللہ کی حمد بیان کر کہ اس نے تمہیں بری قرار دے دیا ہے ۔ میری والدہ نے کہا بیٹی جا ، رسول اللہ ﷺ کے سامنے جا کر کھڑی ہو جا ۔ میں نے کہا ، نہیں قسم اللہ کی میں آپ کے پاس جا کر کھڑی نہ ہوں گی اور میں تو صرف اللہ کی حمد و ثنا کروں گی ۔ صحیح البخاری : 2661 آج کے دن یعنی 17 رمضان المبارک کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی اللہ تعالیٰ مومنوں کی ماں کے درجات بلند کرے ! آمیں
اللّٰهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَان کا مطلب ہے: اے اللہ! ہمیں رمضان (کے مہینے) تک پہنچا دے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ہم۔سب کو رمضان تک پہنچا دیا ۔الحمداللہ ! آپ سب کو ہماری طرف سے رمضان بہت بہت مبارک ہو 💖
اسلام علیکم ! آج میں آپ کیساتھ کچھ تاریخی واقعات شئیر کرنے لگا ہوں اور آخر میں یہ بتاؤں گا کہ کیسے احادیث ہمیں 1400 سال پہلے ان واقعات کے بارے میں بتا رہیں تھیں !
1996 میں ایک شخص فرینک (نام تبدیل کیا گیا) لیورپول کی بولڈ اسٹریٹ پر چل رہا تھا۔ اس کے مطابق: اچانک سڑک کا منظر 1950–60 کی دہائی جیسا ہو گیا دکانوں کے بورڈ، گاڑیاں اور لوگوں کے کپڑے سب پرانے طرز کے تھے وہ ایک پرانی طرز کی دکان میں داخل ہوا چند لمحوں بعد سب کچھ دوبارہ جدید دور میں واپس آ گیا۔ یہ واقعہ برطانیہ میں "ٹائم سلِپ" کے مشہور قصوں میں شمار ہوتا ہے۔
ایک اور ایسا ہی واقعہ 1901 میں دو برطانوی خواتین، شارلٹ موبَرلی اور ایلیانور جورڈین،کیساتھ پیش آیا جب وہ فرانس کے ورسائی محل کی سیر کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق جب وہ "Petit Trianon" کے قریب پہنچیں تو ماحول اچانک بدل گیا: لوگ پرانے (18ویں صدی کے) لباس میں نظر آئے ماحول غیر معمولی حد تک خاموش اور سنجیدہ ہو گیا ایک خاتون کو انہوں نے دیکھا جسے بعد میں انہوں نے ملکہ میری انتوانیت قرار دیا واپس آ کر تحقیق کرنے پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ شاید وہ وقتی طور پر 1700 کی دہائی میں چلی گئی تھیں۔ انہوں نے اس پر 1911 میں ایک کتاب بھی لکھی An Adventure
لیکن سائنسی تحقیق اسکو محض اتفاق،ذہنی دباؤ کا نام دیتے لیکن کیا یہ سچ ہے ؟
اب میں آپ کے سامنے ایک حدیث پیش کرنے لگا ہوں اور اس کے بعد فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے !
مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ک ف ر لکھا ہو گا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہو گا ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی ﷺ نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو ( مجھے ) دیکھ لو ، رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں ، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں ۔ مسند احمد : 2501
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کہیں نا کہیں ماضی موجود ہے صرف پردے کی وجہ سے ہم اسے دیکھ نہیں پا رہے !
اسلام علیکم ؟ آج ایک سوال کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک صحابی ایسے بھی ہیں کہ جن کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ سر کے بالوں سے لیکر پاؤں کے ناخنوں تک ایمان سے بھرے ہیں ! کیا آپ ان صحابی کا نام جانتے ہیں اور اگر ہاں،تو ان کی خدمات کے بارے میں بتائیں !
BAB UL ILM
Salaam !! Watch this It will Definitely Blow your mind !
Give you new Perspective that How to see Different things
3 weeks ago | [YT] | 1
View 0 replies
BAB UL ILM
Must Watch This !!
It will Blow your mind
4 weeks ago | [YT] | 4
View 0 replies
BAB UL ILM
*اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*!!
صحیح البخاری کی حدیث نمبر 833 میں ایک بہت حیرت انگیز بات بیا کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ
راوی بیان کرتے ہیں میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے دیکھا !!
لیکن کیا یہاں آپ کے ذہن میں سوال آیا کہ دجال نے تو آخری وقتوں میں آنا ہے تو پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دجال کے فتنے سے پناہ کیوں مانگتے تھے ؟
جب میں اس کا جواب جاننے کی کوشش کی تو مجھے پتا چلا کہ صرف آخری وقتوں والے لوگ ہی نہیں بلکہ حدیث میں آیا ہے کہ سب ہی دجال سے ملتے ۔۔۔ ایک فتنے میں مبتلا کئے جائیں گے ۔۔۔ And this is really Shocking
اور وہ یہ۔ کہ صحیح البخاری کی حدیث 184 میں بیان کیا گیا ہے کہ ۔۔ اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا ۔ دجال جیسی آزمائش یا اس کے قریب قریب ۔
اور چند جلیل القدر تابعین کا یہ کہنا ہے کہ جو شخص نماز میں دجال۔کے فتنے سے پناہ نہیں مانگتا اس کی نماز نہیں ہوتی( طاؤس رح،حسن بصری رح )
لیکن ہم میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں کہ جنھیں شاید اس دعا کا بھی نا پتا ہو
لیکن کوشش کریں کہ آج کل سے ہی اس دعا کو اپنا معمول بنائیں ۔۔اور وہ دعا ہے ۔۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ* ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ ، فَقَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ .
*رسول اللہ ﷺ نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے ( ترجمہ ) اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ زندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے* ۔ کسی ( یعنی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) نے آنحضور ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ تو قرض سے بہت ہی زیادہ پناہ مانگتے ہیں ! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مقروض ہو جائے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلاف ہو جاتا ہے ۔
Sahih Bukhari#832
کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں (صفة الصلوة)
**السلام علیکم ورحمتہ اللہ*
1 month ago | [YT] | 31
View 4 replies
BAB UL ILM
Must Watch it !!!
Becz don't know what happened With Algorithm They didn't push the video 😔
1 month ago | [YT] | 3
View 0 replies
BAB UL ILM
اسلام علیکم !
کیسے ہیں آپ سب ! آج کافی دیر بعد میں پوسٹ لکھنے لگا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان شاءاللہ آگے سے ساتھ جڑے رہیں گے !
سمندر اپنے اندر بہت راز دفن کیے ہوئے ہے کہ شاید جن کے بارے میں انسان کبھی نہیں جان سکتا کیونکہ اتنی ایڈوانس ٹیکنالوجی ہونے کے بعد بھی آج تک صرف 5٪ حصہ Explore کر سکا ہے ۔
اور اس 5٪ حصہ سے نیچے جانے کیلئے جو ٹیکنالوجی ہمیں چاہئے وہ شاید آنے والی صدیوں تک ہم حاصل نا کر سکیں
لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ Deep Sea کیا کیا عجیب و غریب مخلوقات کو سکتی ہیں؟ بہت سے تھیوریز یہ بھی ہے کہ Underwater Portals بھی موجود ہیں
آنے والی ویڈیو میں ہم اسی بارے میں جاننے والے ہیں اور جانے والے ہیں ان Creatures کو دیکھنے یا ان کو Imagine کرنے اور اس کے ساتھ اور بھی بہت سے راز جاننے تو تیار رہیے آگے آگے بہت کچھ حیران کرنے والا آرہا ہے !
1 month ago | [YT] | 45
View 4 replies
BAB UL ILM
اسلام علیکم ! کیسے ہیں آپ سب
سورۃ نور کی وہ آیات تو آپ سب نے پڑھی ہوں گی کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اماں عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کی پاک دامنی بیان کی ۔۔ لیکن اس واقعہ کا پسِ منظر کیا تھا ؟
حضرت عائشہ رضی کہتی ہیں کہ سفر سے واپسی پر میرا یار گم ہوگیا اور پھر میں اس کو ڈھونڈنے کیلئے گئی اور پھر ۔۔۔۔( اپنی جگہ پہنچ کر ) میں یوں ہی بیٹھی ہوئی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی ۔ صفوان بن معطل سلمی ثم زکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے تھے ( جو لشکریوں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھا کر انہیں ان کے مالک تک پہنچانے کی خدمت کے لیے مقرر تھے ) وہ میری طرف سے گزرے تو ایک سوئے ہوئے انسان کا سایہ نظر پڑا اس لیے اور قریب پہنچے ۔ پردہ کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے ۔ ان کے إنا لله پڑھنے سے میں بیدار ہو گئی ۔ آخر انہوں نے اپنا اونٹ بٹھایا اور اس کے اگلے پاؤں کو موڑ دیا ( تاکہ بلا کسی مدد کے میں خود سوار ہو سکوں ) چنانچہ میں سوار ہو گئی ، اب وہ اونٹ پر مجھے بٹھائے ہوئے خود اس کے آگے آگے چلنے لگے ۔ اسی طرح ہم جب لشکر کے قریب پہنچے تو لوگ بھری دوپہر میں آرام کے لیے پڑاؤ ڈال چکے تھے ۔ ( اتنی ہی بات تھی جس کی بنیاد پر ) جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا اور تہمت کے معاملے میں پیش پیش عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافق ) تھا ۔ پھر ہم مدینہ میں آ گئے اور میں ایک مہینے تک بیمار رہی ۔ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا خوب چرچا ہو رہا تھا ۔ اپنی اس بیماری کے دوران مجھے اس سے بھی بڑا شبہ ہوتا تھا کہ ان دنوں رسول اللہ ﷺ کا وہ لطف و کرم بھی میں نہیں دیکھتی تھی جن کا مشاہدہ اپنی پچھلی بیماریوں میں کر چکی تھی ۔ پس آپ گھر میں جب آتے تو سلام کرتے اور صرف اتنا دریافت فرما لیتے ، مزاج کیسا ہے ؟ جو باتیں تہمت لگانے والے پھیلا رہے تھے ان میں سے کوئی بات مجھے معلوم نہیں تھی ۔ جب میری صحت کچھ ٹھیک ہوئی تو ( ایک رات ) میں ام مسطح کے ساتھ مناصع کی طرف گئی ۔ یہ ہماری قضائے حاجت کی جگہ تھی ، ہم یہاں صرف رات ہی میں آتے تھے ۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب ابھی ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء نہیں بنے تھے ۔ میدان میں جانے کے سلسلے میں ( قضائے حاجت کے لیے ) ہمارا طرز عمل قدیم عرب کی طرح تھا ، میں اور ام مسطح بنت ابی رہم چل رہے تھے کہ وہ اپنی چادر میں الجھ کر گر پڑیں اور ان کی زبان سے نکل گیا ، مسطح برباد ہو ۔ میں نے کہا ، بری بات آپ نے اپنی زبان سے نکالی ، ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہیں آپ ، جو بدر کی لڑائی میں شریک تھا ، وہ کہنے لگیں ، اے ! جو کچھ ان سب نے کہا ہے وہ آپ نے نہیں سنا ، پھر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی ساری باتیں سنائیں اور ان باتوں کو سن کر میری بیماری اور بڑھ گئی ۔ میں جب اپنے گھر واپس ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لائے اور دریافت فرمایا ، مزاج کیسا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے والدین کے یہاں جانے کی اجازت دیجیے ۔ اس وقت میرا ارادہ یہ تھا کہ ان سے اس خبر کی تحقیق کروں گی ۔ آنحضرت ﷺ نے مجھے جانے کی اجازت دے دی اور میں جب گھر آئی تو میں نے اپنی والدہ ( ام رومان ) سے ان باتوں کے متعلق پوچھا ، جو لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں ۔ انہوں نے فرمایا ، بیٹی ! اس طرح کی باتوں کی پرواہ نہ کر ، خدا کی قسم ! شاید ہی ایسا ہو کہ تجھ جیسی حسین و خوبصورت عورت کسی مرد کے گھر میں ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں ، پھر بھی اس طرح کی باتیں نہ پھیلائی جایا کریں ۔ میں نے کہا سبحان اللہ ! ( سوکنوں کا کیا ذکر ) وہ تو دوسرے لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ وہ رات میں نے وہیں گزاری ، صبح تک میرے آنسو نہیں تھمتے تھے اور نہ نیند آئی ۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیوی کو جدا کرنے کے سلسلے میں مشورہ کرنے کے لیے علی ابن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کو بلوایا ۔ کیونکہ وحی ( اس سلسلے میں ) اب تک نہیں آئی تھی ۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ کی بیویوں سے آپ کی محبت کا علم تھا ۔ اس لیے اسی کے مطابق مشورہ دیا اور کہا ، آپ کی بیوی ، یا رسول اللہ ! واللہ ، ہم ان کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی ہے ، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں ، باندی سے بھی آپ دریافت فرما لیجئے ، وہ سچی بات بیان کریں گی ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا ( جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خاص خادمہ تھی ) اور دریافت فرمایا ، بریرہ ! کیا تم نے عائشہ میں کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس سے تمہیں شبہ ہوا ہو ۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ، نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ۔ میں نے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس کا عیب میں ان پر لگا سکوں ۔ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ نوعمر لڑکی ہیں ۔ آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں پھر بکری آتی ہے اور کھا لیتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی دن ( منبر پر ) کھڑے ہو کر عبداللہ بن ابی ابن سلول کے بارے میں مدد چاہی ۔ آپ نے فرمایا ، ایک ایسے شخص کے بارے میں میری کون مدد کرے گا جس کی اذیت اور تکلیف دہی کا سلسلہ اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ چکا ہے ۔ اللہ کی قسم ، اپنی بیوی کے بارے میں خیر کے سوا اور کوئی چیز مجھے معلوم نہیں ۔ پھر نام بھی اس معاملے میں انہوں نے ایک ایسے آدمی کا لیا ہے جس کے متعلق بھی میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتا ۔ خود میرے گھر میں جب بھی وہ آئے ہیں تو میرے ساتھ ہی آئے ۔ ( یہ سن کر ) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! واللہ میں آپ کی مدد کروں گا ۔ اگر وہ شخص ( جس کے متعلق تہمت لگانے کا آپ نے اشارہ فرمایا ہے ) اوس قبیلہ سے ہو گا تو ہم اس کی گردن مار دیں گے ( کیونکہ سعد رضی اللہ عنہ خود قبیلہ اوس کے سردار تھے ) اور اگر وہ خزرج کا آدمی ہوا ، تو آپ ہمیں حکم دیں ، جو بھی آپ کا حکم ہو گا ہم تعمیل کریں گے ۔ اس کے بعد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے ۔ حالانکہ اس سے پہلے اب تک بہت صالح تھے ۔ لیکن اس وقت ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پر ) حمیت سے غصہ ہو گئے تھے اور ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ) کہنے لگے خدا کے دوام و بقا کی قسم ! تم جھوٹ بولتے ہو ، نہ تم اسے قتل کر سکتے ہو اور نہ تمہارے اندر اس کی طاقت ہے ۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ) اور کہا ، خدا کی قسم ! ہم اسے قتل کر دیں گے ( اگر رسول اللہ ﷺ کا حکم ہوا ) کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ تم بھی منافق ہو ۔ کیونکہ منافقوں کی طرفداری کر رہے ہو ۔ اس پر اوس و خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جو ابھی تک منبر پر تشریف رکھتے تھے ۔ منبر سے اترے اور لوگوں کو نرم کیا ۔ اب سب لوگ خاموش ہو گئے اور آپ بھی خاموش ہو گئے ۔ میں اس دن بھی روتی رہی ۔ نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ نیند آتی تھی ۔ پھر میرے پاس میرے ماں باپ آئے ۔ میں دو راتوں اور ایک دن سے برابر روتی رہی تھی ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ روتے روتے میرے دل کے ٹکڑے ہو جائیں گے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ماں باپ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری عورت نے اجازت چاہی اور میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگیں ۔ ہم سب اسی طرح تھے کہ رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لائے اور بیٹھ گئے ۔ جس دن سے میرے متعلق وہ باتیں کہی جا رہی تھیں جو کبھی نہیں کہی گئیں تھیں ۔ اس دن سے میرے پاس آپ نہیں بیٹھے تھے ۔ آپ ﷺ ایک مہینے تک انتظار کرتے رہے تھے ۔ لیکن میرے معاملے میں کوئی وحی آپ پر نازل نہیں ہوئی تھی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے تشہد پڑھی اور فرمایا ، عائشہ ! تمہارے متعلق مجھے یہ یہ باتیں معلوم ہوئیں ۔ اگر تم اس معاملے میں بری ہو تو اللہ تعالیٰ بھی تمہاری برأت ظاہر کر دے گا اور اگر تم نے گناہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہو اور اس کے حضور توبہ کرو کہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ جونہی آپ ﷺ نے اپنی گفتگو ختم کی ، میرے آنسو اس طرح خشک ہو گئے کہ اب ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا ۔ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے میرے متعلق کہئے ۔ لیکن انہوں نے کہا ، قسم اللہ کی ! مجھے نہیں معلوم کہ آنحضرت ﷺ سے مجھے کیا کہنا چاہئے ۔ میں نے اپنی ماں سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا ، اس کے متعلق آنحضور ﷺ سے آپ ہی کچھ کہئے ، انہوں نے بھی یہی فرما دیا کہ قسم اللہ کی ! مجھے معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے کیا کہنا چاہئے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نوعمر لڑکی تھی ۔ قرآن مجھے زیادہ یاد نہیں تھا ۔ میں نے کہا اللہ گواہ ہے ، مجھے معلوم ہوا کہ آپ لوگوں نے بھی لوگوں کی افواہ سنی ہیں اور آپ لوگوں کے دلوں میں وہ بات بیٹھ گئی ہے اور اس کی تصدیق بھی آپ لوگ کر چکے ہیں ، اس لیے اب اگر میں کہوں کہ میں ( اس بہتان سے ) بری ہوں ، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں واقعی اس سے بری ہوں تو آپ لوگ میری اس معاملے میں تصدیق نہیں کریں گے ۔ لیکن اگر میں ( گناہ کو ) اپنے ذمہ لے لوں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں ، تو آپ لوگ میری بات کی تصدیق کر دیں گے ۔ قسم اللہ کی ! میں اس وقت اپنی اور آپ لوگوں کی کوئی مثال یوسف علیہ السلام کے والد ( یعقوب علیہ السلام ) کے سوا نہیں پاتی کہ انہوں نے بھی فرمایا تھا ” پس صبر جمیل ‘‘ صبر ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم کہتے ہو اس معاملے میں میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے “۔ اس کے بعد بستر پر میں نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا اور مجھے امید تھی کہ خود اللہ تعالیٰ میری برأت کرے گا ۔ لیکن میرا یہ خیال کبھی نہ تھا کہ میرے متعلق وحی نازل ہو گی ۔ میری اپنی نظر میں حیثیت اس سے بہت معمولی تھی کہ قرآن مجید میں میرے متعلق کوئی آیت نازل ہو ۔ ہاں مجھے اتنی امید ضرور تھی کہ آپ کوئی خواب دیکھیں گے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے بری فرما دے گا ۔ اللہ گواہ ہے کہ ابھی آپ اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور نہ اس وقت گھر میں موجود کوئی باہر نکلا تھا کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی اور ( شدت وحی سے ) آپ جس طرح پسینے پسینے ہو جایا کرتے تھے وہی کیفیت آپ کی اب بھی تھی ۔ پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح آپ کے جسم مبارک سے گرنے لگے ۔ حالانکہ سردی کا موسم تھا ۔ جب وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ ﷺ ہنس رہے تھے اور سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا ، وہ یہ تھا اے عائشہ ! اللہ کی حمد بیان کر کہ اس نے تمہیں بری قرار دے دیا ہے ۔ میری والدہ نے کہا بیٹی جا ، رسول اللہ ﷺ کے سامنے جا کر کھڑی ہو جا ۔ میں نے کہا ، نہیں قسم اللہ کی میں آپ کے پاس جا کر کھڑی نہ ہوں گی اور میں تو صرف اللہ کی حمد و ثنا کروں گی ۔ صحیح البخاری : 2661
آج کے دن یعنی 17 رمضان المبارک کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی اللہ تعالیٰ مومنوں کی ماں کے درجات بلند کرے ! آمیں
2 months ago | [YT] | 49
View 2 replies
BAB UL ILM
اللّٰهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَان
کا مطلب ہے:
اے اللہ! ہمیں رمضان (کے مہینے) تک پہنچا دے۔
اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ہم۔سب کو رمضان تک پہنچا دیا ۔الحمداللہ !
آپ سب کو ہماری طرف سے رمضان بہت بہت مبارک ہو 💖
3 months ago | [YT] | 44
View 2 replies
BAB UL ILM
اسلام علیکم !
آج میں آپ کیساتھ کچھ تاریخی واقعات شئیر کرنے لگا ہوں اور آخر میں یہ بتاؤں گا کہ کیسے احادیث ہمیں 1400 سال پہلے ان واقعات کے بارے میں بتا رہیں تھیں !
1996 میں ایک شخص فرینک (نام تبدیل کیا گیا) لیورپول کی بولڈ اسٹریٹ پر چل رہا تھا۔ اس کے مطابق:
اچانک سڑک کا منظر 1950–60 کی دہائی جیسا ہو گیا
دکانوں کے بورڈ، گاڑیاں اور لوگوں کے کپڑے سب پرانے طرز کے تھے
وہ ایک پرانی طرز کی دکان میں داخل ہوا
چند لمحوں بعد سب کچھ دوبارہ جدید دور میں واپس آ گیا۔
یہ واقعہ برطانیہ میں "ٹائم سلِپ" کے مشہور قصوں میں شمار ہوتا ہے۔
ایک اور ایسا ہی واقعہ 1901 میں دو برطانوی خواتین، شارلٹ موبَرلی اور ایلیانور جورڈین،کیساتھ پیش آیا جب وہ فرانس کے ورسائی محل کی سیر کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق جب وہ "Petit Trianon" کے قریب پہنچیں تو ماحول اچانک بدل گیا:
لوگ پرانے (18ویں صدی کے) لباس میں نظر آئے
ماحول غیر معمولی حد تک خاموش اور سنجیدہ ہو گیا
ایک خاتون کو انہوں نے دیکھا جسے بعد میں انہوں نے ملکہ میری انتوانیت قرار دیا
واپس آ کر تحقیق کرنے پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ شاید وہ وقتی طور پر 1700 کی دہائی میں چلی گئی تھیں۔
انہوں نے اس پر 1911 میں ایک کتاب بھی لکھی An Adventure
لیکن سائنسی تحقیق اسکو محض اتفاق،ذہنی دباؤ کا نام دیتے لیکن کیا یہ سچ ہے ؟
اب میں آپ کے سامنے ایک حدیث پیش کرنے لگا ہوں اور اس کے بعد فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے !
مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ک ف ر لکھا ہو گا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہو گا ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی ﷺ نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو ( مجھے ) دیکھ لو ، رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں ، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں ۔ مسند احمد : 2501
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کہیں نا کہیں ماضی موجود ہے صرف پردے کی وجہ سے ہم اسے دیکھ نہیں پا رہے !
محمد فرقان ہاشمی
3 months ago | [YT] | 27
View 1 reply
BAB UL ILM
Assalam o Alaikum!
How are you Sibling's,must watch this !!
3 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
BAB UL ILM
اسلام علیکم ؟
آج ایک سوال کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک صحابی ایسے بھی ہیں کہ جن کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ سر کے بالوں سے لیکر پاؤں کے ناخنوں تک ایمان سے بھرے ہیں ! کیا آپ ان صحابی کا نام جانتے ہیں اور اگر ہاں،تو ان کی خدمات کے بارے میں بتائیں !
4 months ago | [YT] | 25
View 13 replies
Load more