Aslam o Alekum, welcome to the Paigham e Hussaini YouTube Channel. If you haven’t subscribed to my channel so far, then don’t forget to subscribe to Paigham e Hussaini YouTube Channel to watch videos #majlis #muharrammajlis #noha #quran and much more.
Majlis Videos:
Paigham e Hussaini provide live and recorded, majlis, videos of Islamic Scholars, Ulema, Zakir, Zakireen, Alima, Zakira, Including allama shahenshah hussain naqvi, allama talib johri, allama ali nasir talharra, allama arif hussain kazmi, maulana zaki baqri, maulana syed jan ali shah sazmi, allama nusrat abbas bukhari, nusrat bukhari, maulana hassan zafar naqvi, ali raza rizvi, maulana abid bilgrami, maulana dr kalbe sadiq, maulana sadiq hasan.
Find Us:-
Feel free to find us on the following social media platforms, if you need any help or clarification from me:-
On Facebook www.facebook.com/Paigham-e-Hussaini-TV-10499222526…
#LiveMajlisToday #Shia #Islam
Paigham e Hussaini
Biography of Hazrat Khadija a.s @paigham-e-hussaini
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Paigham e Hussaini
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام 128 ہجری میں، مدینہ اور مکہ کے درمیان "ابواء" نامی مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بیٹے تھے اور آپ کی ولادت، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی طیب و طاہر نسل سے تھی۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو "کاظم" کا لقب دیا گیا، جس کا مطلب ہے "غصہ کو پی جانے والا"۔ آپ کی زندگی ایک ایسی نمونہ تھی جو صبر، شرافت اور اللہ کے حکم پر کامل اعتماد کی عکاسی کرتی تھی۔
عباسی خلیفہ ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھا اور ان کے اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہو کر انہیں قید کر دیا۔ امام کی مقبولیت اور ان کے پیروکاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہارون کے اقتدار کے لیے چیلنج بن چکی تھی۔
ہارون نے امام علیہ السلام کو متعدد جیلوں میں منتقل کیا، جہاں آپ کو نہ صرف بدترین حالات میں رکھا گیا، بلکہ آپ کی بنیادی ضروریات تک کو نظرانداز کیا گیا۔ لیکن امام کا ایمان اور ان کا صبر کبھی کمزور نہیں ہوا۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی کا ایک بڑا حصہ عباسیت کے ظالم حکمرانوں کے ظلم میں گزرا۔ امام علیہ السلام کو ہارون رشید نے کئی سالوں تک قید رکھا اور آپ کی آزادی کو مسلسل روکا۔ یہ ظلم اور قید امام کی شخصیت کو کبھی بھی متزلزل نہ کر سکا، اور امام نے ہمیشہ اللہ پر مکمل توکل اور ایمان کا مظاہرہ کیا۔
ہارون رشید جو خود کو مسلم دنیا کا خلیفہ سمجھتا تھا، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھا۔ امام کا علم، عبادت، تقویٰ اور لوگوں کی رہنمائی کا طریقہ ہارون کے اقتدار کے لیے خطرہ تھا۔ اس لیے ہارون نے امام کو ایک کے بعد ایک جیل میں منتقل کر دیا۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قید میں صبر اور تحمل کی ایک اعلیٰ مثال قائم ہوئی۔ وہ تمام جسمانی اذیتوں، غذائی کمیوں اور ذہنی دباؤ کے باوجود بھی اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ امام کی روحانی عظمت اور اللہ کے ساتھ تعلق اتنا مضبوط تھا کہ قید اور ظلم نے کبھی بھی ان کے حوصلے کو متزلزل نہ کیا۔
اس دوران امام نے اپنی تعلیمات کو چھپ کر اپنے پیروکاروں تک پہنچایا، اور جیل میں اپنے ساتھی قیدیوں اور گارڈز کو بھی ہدایت دینے کا عمل جاری رکھا۔ ان میں سے بعض جیلر امام کی عبادت اور اخلاق سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے امام کے ساتھ نرم سلوک شروع کر دیا۔
ہارون رشید، امام کی شہادت کے لیے مختلف تدابیر اختیار کر رہا تھا، اور آخرکار اس نے امام کو زہر دے کر شہید کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ روایتوں کے مطابق، ہارون رشید نے امام کو بغداد کے جیل میں قید رکھا، جہاں امام کو زہر دے کر جینے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
امام کی صحت تیزی سے خراب ہونے لگی اور وہ شدید تکالیف میں مبتلا ہوگئے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے جسم پر اس زہر کا اثر اتنا شدید تھا کہ وہ چند دنوں میں بے حال ہو گئے۔ اس دوران امام کا پورا جسم سوج گیا اور شدید درد کا سامنا ہوا، لیکن امام نے اس ساری تکلیف کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ تاریخ کاایک انتہائی المناک باب ہے۔ امام کی شہادت کے وقت بھی ان کے ساتھ بے انتہا ظلم کیا گیا۔ امام کا جنازہ مبارک بے حرمتی کے لیے بغداد کے ایک پل پر رکھ دیا گیا، جہاں ظالم حکمرانوں نے آپ کی لاش کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
روایات میں یہ ملتا ہے کہ امام کی لاش کو پل پر رکھنے کے بعد اس کی بے حرمتی کی گئی اور کسی کو بھی امام کی تدفین کی اجازت نہیں دی گئی۔ آپ کے پیروکاروں کے دلوں میں غم اور غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ تاہم، امام کے وفادار پیروکاروں نے اس ظلم کے باوجود انتہائی عزت و احترام کے ساتھ دفن کیا۔
بغداد میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا مرقد، شہر کے مشہور علاقے "کاظمین" میں واقع ہے،
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت نے نہ صرف ان کے پیروکاروں کو گہرے دکھ میں ڈبو دیا، بلکہ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک سنگ میل بن گیا۔ امام کا صبر، استقامت اور اللہ کے حکم پر ایمان نے پوری دنیا کو ایک اہم پیغام دیا۔
آپ کی شہادت نے ہمیں یہ سکھایا کہ ظلم و فساد کے باوجود، انسان کو ہمیشہ اللہ کی رضا کے لیے صبر اور استقامت دکھانی چاہیے۔ امام کی شہادت کا پیغام یہ تھا کہ حق کے لیے جدوجہد کبھی ضائع نہیں جاتی، چاہے انسان کو اس کا نتیجہ دنیا میں نہ ملے، لیکن اللہ کی عدالت میں ان کا اجر ضرور ملے گا۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد، ان کی تعلیمات اور زندگی کا پیغام مزید پھیلتا گیا۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کے پیروکاروں نے ہمیشہ آپ کے اصولوں اور نظریات کو اپنے عمل میں لانے کی کوشش کی۔
آج بھی ہم امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی کے صبراورمصاٰئب کو یاد کرتے ہیں اس کے ساتھ اپنی زندگی میں امام کی طرح صبر، تقویٰ اور استقامت اختیار کر نا چاہئے۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت ایک عظیم واقعہ ہے جو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ امام کی شہادت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور حق کی حمایت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ امام کا صبر اور استقامت ہماری زندگیوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، اور ہمیں کبھی بھی اپنے ایمان کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہمیشہ اللہ کی رضا کے لیے زندگی گزاریں اور ہر حالت میں صبر کا دامن تھامے رکھیں۔
1 year ago | [YT] | 1
View 0 replies