All social media links 👇

Facebook:
facebook.com/sumiyaasad00

Instagram:
www.instagram.com/sumiyaasad000

TikTok:
www.tiktok.com/@sumiyaasad00

Threads:
www.threads.net/@sumiyaasad000

YouTube:
youtube.com/@sumiyaasad00

Twitter:
twitter.com/sumiyaasad00

SnackVideo:
s.snackvideo.com/u/@sumiyaasad00/tqAku6d9

Likee:
l.likee.video/p/3vVHdA

Telegram:
t.me/sumiyaasad00

Stay connected and don't miss out on my latest content. 😌
————————————————


Sumiya Asad

🌧️ کراچی سمیت سندھ بھر کے لیے امید افزا مون سون اپڈیٹ 🇵🇰☁️

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ابھی بھی برقرار ہے، اس لیے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ 🤲💙

اکثر لوگ El Niño (ال نینو) کا نام سن کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب بارشوں کا کوئی امکان نہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ال نینو صرف بارشوں کے پیٹرن کو متاثر کرتا ہے، انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔ کئی علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہو سکتی ہیں، لیکن اگر بحیرۂ عرب سے نمی، مون سون ہوائیں اور کم دباؤ کا مؤثر نظام ایک ساتھ فعال ہو جائیں تو اچھی اور موسلا دھار بارشیں بھی ممکن رہتی ہیں۔

🌦️ اس وقت مختلف عالمی موسمی ماڈلز میں مسلسل تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لانگ رینج فورکاسٹ کو حتمی پیش گوئی نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ چند دنوں میں سسٹمز کی طاقت، رفتار اور سمت تبدیل ہو سکتی ہے۔ موسم ایک متحرک نظام ہے اور اس میں معمولی تبدیلی بھی نتائج بدل سکتی ہے۔

📅 موجودہ رجحانات کے مطابق جولائی کے آخری ہفتے سے اگست کے ابتدائی دنوں کے دوران بحیرۂ عرب میں نمی میں اضافہ اور مون سون ہواؤں کی سرگرمی بہتر ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ اگر اس عرصے میں کم دباؤ کا مضبوط سسٹم سندھ کی جانب بڑھتا ہے اور موسمی حالات سازگار رہے تو کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص، سانگھڑ، شہید بینظیر آباد اور سندھ کے دیگر علاقوں میں اچھی بارشوں کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

🌧️ بارش صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ پانی کے ذخائر، زراعت، ماحول اور گرمی کی شدت میں کمی کے لیے بھی بے حد اہم ہے۔ اسی لیے ہم امید رکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں قدرت مہربان ہوگی اور سندھ کے پیاسے علاقوں کو بھرپور بارشیں نصیب ہوں گی۔

⚠️ یاد رہے کہ یہ لانگ رینج موسمی تجزیہ ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں نئے موسمی ڈیٹا اور ماڈلز کے مطابق اس میں کمی یا اضافہ ممکن ہے۔ حتمی اور قلیل مدتی پیش گوئی ہمیشہ سسٹمز کے قریب آنے پر زیادہ درست ہوتی ہے۔

🤲 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آنے والی بارشیں رحمت، خیر و برکت، خوشحالی اور پانی کی فراوانی کا ذریعہ بنیں، تمام آفات سے محفوظ رکھیں اور ہر خشک زمین کو سیراب کریں۔ آمین یا رب العالمین۔

💬 آپ کے خیال میں اس بار مون سون کراچی اور سندھ پر بھرپور مہربان ہوگا؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں، اور ایسی مستند موسمی اپڈیٹس کے لیے ہمارا پیج فالو کرنا نہ بھولیں۔
#KarachiWeather #SindhMonsoon #PakistanWeather #RainForecast #StormWeatherKarachi

3 days ago | [YT] | 2

Sumiya Asad

آج 14 جولائی کو مسلسل بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث شاہراہِ قراقرم (KKH) ضلع کوہستان کے علاقے بنر داس، جلی پور کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
متعلقہ ادارے بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے اور شاہراہ کو بحال کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، تاہم بارش کا سلسلہ جاری ہونے کے باعث بحالی کے کام میں وقت لگ سکتا ہے۔
عوام الناس، مسافروں اور ٹرانسپورٹرز سے گزارش ہے کہ اگلے اطلاع تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں، سفر سے پہلے شاہراہ کی تازہ صورتحال معلوم کریں اور ضلعی انتظامیہ و متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ / متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید اپڈیٹس بروقت جاری کی جائیں گی۔

#KKHUpdate #KarakoramHighway #GilgitBaltistan #RoadClosure #traveladvisor

5 days ago | [YT] | 5

Sumiya Asad

📍چھوربٹ ویلی (Chorbat Valley)، ضلع گانچھے (Ghanche District) | گلگت بلتستان (Gilgit-Baltistan) 🇵🇰

چھوربٹ ویلی (Chorbat Valley) گلگت بلتستان (Gilgit-Baltistan) کے ضلع گانچھے (Ghanche District) میں واقع ایک دلکش سرحدی وادی ہے، جو اپنی بلتی ثقافت، شاندار پہاڑی مناظر اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے خاص شہرت رکھتی ہے۔

تاریخی طور پر یہ وادی بلتستان (Baltistan) اور لداخ (Ladakh) کے درمیان رابطے کا اہم راستہ رہی ہے۔ آج بھی یہاں کی زبان، ثقافت اور روایات بلتی تہذیب کی خوبصورت عکاسی کرتی ہیں۔

چھوربٹ ویلی کے مشرق میں لائن آف کنٹرول (Line of Control – LoC) واقع ہے، جس کے اُس پار بھارت کے زیرِ انتظام لداخ (Ladakh) کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ اسی جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے یہ وادی تاریخی، ثقافتی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے۔

اگرچہ یہ خطہ سرحد کے قریب واقع ہے، لیکن اس کی اصل پہچان یہاں کے مہمان نواز لوگ، دلکش مناظر اور بلتستان کی قدیم ثقافت ہے، جو ہر سیاح پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

🇵🇰 اللہ تعالیٰ ہمارے وطن پاکستان اور اس کے سرحدی علاقوں کو ہمیشہ امن، خوشحالی اور حفاظت میں رکھے۔ آمین۔

#ChorbatValley #GhancheDistrict #GilgitBaltistan #Baltistan #Ladakh

5 days ago | [YT] | 3

Sumiya Asad

وادیِ خالتارو کی سات آبشاریں — گلگت بلتستان کا ایک ایسا قدرتی شاہکار، جہاں پہنچ کر ہر منظر قدرت کی عظمت کا احساس دلاتا ہے۔ 🏔️💙

اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو ہجوم سے دور، خاموشی، برفانی پانی، سرسبز وادیوں اور حقیقی قدرتی حسن کی تلاش میں رہتے ہیں، تو وادیِ خالتارو کی سات آبشاریں (Seven Waterfalls) آپ کی سفری فہرست میں ضرور ہونی چاہئیں۔ یہ مقام گلگت بلتستان کے ضلع گلگت، وادیِ ہراموش میں واقع ہے اور شمالی پاکستان کے کم معروف مگر انتہائی دلکش مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

خالتارو ویلی کا سفر آسان نہیں، لیکن یہی دشواری اس کی اصل خوبصورتی ہے۔ جگلوٹ–اسکردو روڈ پر واقع ساسی (Sassi) سے تقریباً تین گھنٹے کا انتہائی دشوار گزار 4×4 جیپ ٹریک آپ کو خالتارو گاؤں تک پہنچاتا ہے۔ راستہ تنگ پہاڑی کناروں، گہری کھائیوں اور پتھریلے موڑوں سے گزرتا ہے، اسی لیے صرف تجربہ کار ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنا مناسب سمجھا جاتا ہے۔

خالتارو گاؤں سے ٹریک کا آغاز ہوتا ہے۔ پہلے خایا (Khaya) گاؤں تک تقریباً دو سے اڑھائی گھنٹے کی ہائیک ہے، پھر صنوبر کے جنگلات، سرسبز چراگاہوں اور کالیجوت، دارشن (دارچن) اور پامیری جیسی چھوٹی بستیوں سے گزرتے ہوئے تقریباً تین گھنٹے بعد Seven Waterfalls View Point پہنچا جاتا ہے، جو سطحِ سمندر سے تقریباً 3,448 میٹر (11,312 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔

اس مقام کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ سامنے بلند پہاڑوں اور برفانی گلیشیئرز سے بہنے والی متعدد دھارائیں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ ویو پوائنٹ سے سامنے پانچ آبشاریں واضح دکھائی دیتی ہیں، جبکہ دو مزید آبشاریں بائیں جانب واقع ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے مزید آگے جانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام Seven Waterfalls کے نام سے مشہور ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق جون سے اگست کے دوران گلیشیئر زیادہ تیزی سے پگھلتے ہیں، جس کی وجہ سے ان آبشاروں کا بہاؤ سب سے زیادہ خوبصورت اور طاقتور ہوتا ہے۔

سات آبشاروں کی طرف جاتے ہوئے ایک اور شاندار آبشار بھی دکھائی دیتا ہے، جسے مقامی لوگ سرال آبشار (Saral Waterfall) کہتے ہیں۔ یہ آبشار اپنی جسامت اور خوبصورتی کی وجہ سے آنے والے ہر سیاح کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔

خالتارو صرف سات آبشاروں تک محدود نہیں۔ اگر آپ مزید آگے سفر جاری رکھیں تو خُن میڈوز (Khun Meadows) پہنچتے ہیں، جہاں سے ہراموش پیک، مالوبیٹنگ، میار پیک، بلچر دوبانی اور دور افق پر دنیا کے نویں بلند ترین پہاڑ نانگا پربت کے دلکش مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہ ٹریک مجموعی طور پر آسان سے درمیانے درجے کا سمجھا جاتا ہے، تاہم مناسب ٹریکنگ جوتے، گرم لباس، کیمپنگ سامان، خوراک اور مقامی گائیڈ کے ساتھ جانا زیادہ محفوظ اور بہتر ہے۔ بہترین وقت جون سے اکتوبر تک مانا جاتا ہے، جب راستے کھلے ہوتے ہیں اور قدرت اپنی پوری خوبصورتی میں نظر آتی ہے۔

اگر آپ پاکستان کے ان قدرتی خزانوں کو دیکھنا چاہتے ہیں جو ابھی بھی بڑے ہجوم سے محفوظ ہیں، تو وادیِ خالتارو کی سات آبشاریں ایک ایسا سفر ہے جسے زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور کرنا چاہیے۔

قدرت کا احترام کریں، کچرا ہرگز نہ پھیلائیں، تاکہ یہ حسین مقام آنے والی نسلوں کے لیے بھی اسی طرح محفوظ رہے۔ 🌿

#KhaltaroValley #SevenWaterfalls #GilgitBaltistan #ExplorePakistan #NaturePhotography

5 days ago | [YT] | 6

Sumiya Asad

🏔️ باسکوچی ٹاپ (Baskochi Top) — عطاآباد جھیل کا سب سے حسین فضائی نظارہ! 💙

اگر آپ ہنزہ کی اصل خوبصورتی کو ایک ہی مقام سے دیکھنا چاہتے ہیں تو باسکوچی ٹاپ آپ کی ٹریول لسٹ میں ضرور ہونا چاہیے۔ یہ شاندار ویو پوائنٹ گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ (گوجال) میں واقع ہے، جہاں سے فیروزی رنگ کی عطاآباد جھیل، مشہور پاسو کونز (Passu Cones)، ششکٹ گاؤں، گلمت، قراقرم ہائی وے اور اردگرد کی برف پوش قراقرم کی بلند چوٹیاں ایک ہی منظر میں نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باسکوچی ٹاپ تیزی سے فوٹوگرافرز، ہائیکرز اور نیچر لوورز کی پسندیدہ منزل بنتا جا رہا ہے۔

📍 مقام:
باسکوچی ٹاپ اپر ہنزہ (گوجال) میں عطاآباد جھیل کے قریب واقع ہے۔ اس کا ٹریک قراقرم ہائی وے پر عطاآباد جھیل کی سرنگوں (Attabad Tunnels) کے قریب سے شروع ہوتا ہے، جبکہ کریم آباد سے اس کا فاصلہ تقریباً 30 کلومیٹر ہے۔

⛰️ بلندی:
باسکوچی ٹاپ تقریباً 2,900 میٹر (9,500 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے، جہاں پہنچ کر ہنزہ کا نظارہ واقعی ناقابلِ فراموش محسوس ہوتا ہے۔

🥾 ٹریک کی معلومات:
یہ ہائیک آسان سے درمیانی درجے کی ہے۔ اوپر پہنچنے میں عموماً 45 منٹ سے 2 گھنٹے لگتے ہیں، جو آپ کی رفتار پر منحصر ہے۔ ابتدا میں چڑھائی کچھ زیادہ ہے، لیکن اوپر پہنچ کر ہر قدم کی تھکن ختم ہو جاتی ہے۔

🌿 بہترین وقت:
مئی سے اکتوبر تک کا موسم باسکوچی ٹاپ کی سیر کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ صبح سویرے سورج نکلنے کے وقت اور شام کو غروبِ آفتاب کے دوران یہاں کے مناظر انتہائی دلکش ہوتے ہیں۔

⛺ کیمپنگ اور رہائش:
باسکوچی میڈوز میں کیمپنگ کی جا سکتی ہے، لیکن یہاں کوئی مستقل ہوٹل موجود نہیں۔ زیادہ تر سیاح ہنزہ، کریم آباد یا عطاآباد جھیل کے اطراف ہوٹل میں قیام کرتے ہیں اور دن کے وقت ہائیک مکمل کرتے ہیں۔

🎒 ضروری احتیاط:
✔️ آرام دہ ٹریکنگ شوز پہنیں۔
✔️ پانی اور ہلکی پھلکی خوراک ساتھ رکھیں۔
✔️ سن اسکرین، ٹوپی اور جیکٹ ضرور رکھیں کیونکہ موسم اچانک تبدیل ہو سکتا ہے۔
✔️ بارش کے بعد راستہ پھسل سکتا ہے، اس لیے احتیاط سے چلیں۔
✔️ کوشش کریں کہ شام ہونے سے پہلے واپس نیچے آ جائیں۔

✨ اگر آپ ہنزہ جا رہے ہیں اور ایک ایسی جگہ دیکھنا چاہتے ہیں جہاں قدرت کی خوبصورتی اپنے عروج پر نظر آئے، تو باسکوچی ٹاپ کا سفر ضرور کریں۔ یہاں سے نظر آنے والا عطاآباد جھیل کا فیروزی پانی، پاسو کونز کی شاندار چوٹیاں اور قراقرم کے دل موہ لینے والے مناظر آپ کے سفر کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیں گے۔

📍 کیا آپ باسکوچی ٹاپ جا چکے ہیں؟ اپنے تجربات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں! 💚

#BaskochiTop #HunzaValley #AttabadLake #GilgitBaltistan #PakistanTourism

5 days ago | [YT] | 3

Sumiya Asad

نانگما ویلی — پاکستان کا پوشیدہ خزانہ، جہاں فطرت اپنے عروج پر نظر آتی ہے 🏔️

گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے ہوشے ریجن میں واقع نانگما ویلی (Nangma Valley) پاکستان کی خوبصورت ترین اور کم دریافت شدہ وادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کندے (Kanday) گاؤں کے قریب واقع یہ وادی اپنی فلک بوس گرینائٹ چٹانوں، سرسبز میدانوں، برف پوش چوٹیوں، شفاف چشموں اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے دنیا بھر کے ٹریکرز، کوہ پیماﺅں اور فوٹوگرافروں کے لیے ایک خواب کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی منفرد خوبصورتی کے باعث اسے اکثر "پاکستان کا یوسیمیٹی" (Yosemite of Pakistan) بھی کہا جاتا ہے۔

نانگما ویلی صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام نہیں بلکہ عالمی معیار کی ٹریکنگ اور راک کلائمبنگ کا مرکز بھی ہے۔ یہ وادی مشہور گرینائٹ ٹاور امین براک (Amin Brakk) اور بلند و بالا K6 اور K7 چوٹیوں تک رسائی کا اہم دروازہ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا بھر سے کوہ پیما ہر سال ان دلکش اور چیلنجنگ چوٹیوں کی مہم جوئی کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

نانگما ویلی تک پہنچنے کے لیے پہلے اسلام آباد سے بذریعہ فضائی یا زمینی سفر اسکردو پہنچا جاتا ہے۔ اگر موسم صاف ہو تو اسلام آباد سے اسکردو کی پرواز کے دوران نانگا پربت، K2 اور قراقرم کے دیگر برف پوش پہاڑوں کے دلکش مناظر بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ اسکردو سے تقریباً 3 سے 4 گھنٹے کی جیپ ڈرائیو کے بعد کندے گاؤں پہنچتے ہیں، جہاں سے نانگما ویلی کا ٹریک شروع ہوتا ہے۔ وادی کے مرکزی کیمپ تک پہنچنے کے لیے عموماً 2 سے 3 دن کی ٹریکنگ درکار ہوتی ہے، اس لیے مقامی گائیڈ، مناسب جسمانی تیاری اور ضروری سامان ساتھ رکھنا ضروری ہے۔

یہ وادی جون سے ستمبر تک اپنی مکمل خوبصورتی میں نظر آتی ہے۔ گرمیوں میں دن کے وقت درجہ حرارت عموماً 5 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے جبکہ رات کے وقت درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب بھی پہنچ سکتا ہے، اس لیے گرم لباس لازمی ساتھ رکھنا چاہیے۔ سردیوں میں شدید برف باری کے باعث یہاں تک رسائی انتہائی دشوار ہو جاتی ہے۔

اسکردو میں ہر بجٹ کے مطابق ہوٹل موجود ہیں، جبکہ کندے گاؤں میں محدود گیسٹ ہاؤس دستیاب ہیں۔ نانگما ویلی کے اندر کوئی ہوٹل موجود نہیں، اس لیے تمام سیاح اور ٹریکرز خیموں میں قیام کرتے ہیں، جو اس سفر کو مزید یادگار بنا دیتا ہے۔ مقامی آبادی کی زبان بلتی ہے، تاہم اردو بھی سمجھی اور بولی جاتی ہے۔

اگر آپ ہجوم سے دور، فطرت کی خاموشی، ایڈونچر، کیمپنگ، فلک بوس چٹانوں اور ناقابلِ فراموش مناظر کی تلاش میں ہیں تو نانگما ویلی پاکستان کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جو ہر قدرتی حسن سے محبت کرنے والے شخص کی سفری فہرست میں ضرور ہونا چاہیے۔

#NangmaValley #GilgitBaltistan #ExplorePakistan #NatureLovers #TravelPakistan

.

6 days ago | [YT] | 2

Sumiya Asad

یہ سوچنا ہی واقعی انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے کہ آپ کے اوپر آسمان میں سستی سے تیرتا ہوا روئی کی طرح نرم اور بے ضرر سا نظر آنے والا سفید کلس بادل (Cumulus cloud) دراصل 500 ٹن کا حیران کن وزن رکھتا ہے۔ اس بھاری رقم یا مقدار کو آسان لفظوں میں سمجھنے کے لیے، یہ وزن آسمان میں بڑی آسانی سے اڑتے ہوئے 100 مکمل جوان ہاتھیوں کے وزن کے برابر بنتا ہے۔ آپ شاید یہ سوچ کر حیران ہوں کہ اتنا زیادہ وزن نیچے گرے بغیر کششِ ثقل (Gravity) کو کیسے مات دیتا ہے، لیکن اس کا راز اس بات میں چھپا ہے کہ یہ دیو ہیکل کمیت (Mass) فضا کے ایک بہت ہی وسیع اور پھیلے ہوئے رقبے (Volume) پر بکھری ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ بادل اپنے حقیقی جسمانی وزن کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہلکا دکھائی دیتا ہے۔

اس ماحولیاتی عجوبے کے پیچھے چھپی فزکس بھی اتنی ہی دلچسپ ہے، جو کثافت (Density) کے ایک نازک توازن پر انحصار کرتی ہے۔ اگرچہ یہ بادل اربوں باریک پانی کے قطروں اور برف کے کرسٹلز سے مل کر بنتا ہے، لیکن وہ ہوا میں اس قدر باریکی سے پھیلے ہوتے ہیں کہ بادل کی مجموعی کثافت اپنے آس پاس کی خشک ہوا کے مقابلے میں کم رہتی ہے۔ چونکہ بادل کے اندر موجود نمی سے بھرپور ہوا باہر کی ہوا کے مقابلے میں کم کثیف (Less dense) ہوتی ہے، اس لیے یہ بادل بالکل ایک گرم ہوا کے غبارے (Hot air balloon) کی طرح کام کرتا ہے، جو اسے فضا میں تیرتے رہنے اور آسمان میں اپنا سفر اس طرح جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے جیسے یہ تقریباً بے وزن ہو۔
#cumuluscloud #Gravity #lessdense #hotairbloon

6 days ago | [YT] | 1

Sumiya Asad

محکمۂ موسمیات پاکستان (PMD) نے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے برفانی علاقوں کے لیے گلیشیائی جھیل پھٹنے (GLOF) کا الرٹ جاری کیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں مغربی ہواؤں کے نئے سلسلے کے باعث بادل، گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

زیادہ درجۂ حرارت اور بارش سے برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں۔

دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے اور اچانک سیلاب آنے کا خطرہ ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

عوام اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دریاؤں، ندی نالوں، گلیشیائی جھیلوں اور تنگ پہاڑی وادیوں کے قریب جانے یا کیمپنگ سے گریز کریں اور محکمۂ موسمیات کی تازہ ہدایات پر عمل کریں۔

#GilgitBaltistan
#WeatherAlert
#PakistanWeather
#FlashFloodAlert
#staysafe

1 week ago | [YT] | 2

Sumiya Asad

🌲 سیاحت صرف خوبصورت مناظر کا نام نہیں، بلکہ خوبصورت رویوں کا بھی نام ہے۔

گلگت بلتستان، ناران، دیر، کُمراٹ، سوات اور مری پاکستان کے وہ حسین علاقے ہیں جہاں ہر سال لاکھوں سیاح سکون، قدرتی حسن اور خوشگوار یادیں سمیٹنے آتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی، لڑائی جھگڑے، تشدد، دھمکیاں اور غیر مناسب رویوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا علاقہ سیاحت میں ترقی کرے، روزگار بڑھے اور دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تاثر جائے، تو ہمیں سب سے پہلے اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ ایک سیاح اپنے ساتھ صرف پیسہ نہیں لاتا، بلکہ وہ اپنے تجربے کے ذریعے پورے علاقے کی ساکھ بھی دنیا تک پہنچاتا ہے۔ ایک تلخ تجربہ ہزاروں لوگوں کو آنے سے روک سکتا ہے، جبکہ ایک اچھا رویہ ہزاروں نئے سیاحوں کو متوجہ کر سکتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف حکومت یا انتظامیہ کا نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مقامی افراد، دکاندار، ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز اور خود سیاح، سب کو قانون کی پابندی اور ایک دوسرے کے احترام کو ترجیح دینی ہوگی۔

اس مسئلے کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

سیاحوں کے ساتھ عزت اور خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے۔

قانون توڑنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔

سیاحتی علاقوں میں مؤثر پولیس گشت اور نگرانی بڑھائی جائے۔

مقامی لوگوں میں سیاحت اور مہمان نوازی کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے۔

سیاح بھی مقامی ثقافت، قوانین اور ماحول کا احترام کریں۔


آئیں ہم سب مل کر ایسا پاکستان بنائیں جہاں ہر آنے والا سیاح خوبصورت یادیں لے کر واپس جائے، نہ کہ خوف اور تلخ تجربات۔

سیاحت کا حسن صرف پہاڑوں، جھیلوں اور وادیوں میں نہیں، بلکہ وہاں رہنے والے لوگوں کے اخلاق اور مہمان نوازی میں بھی ہوتا ہے۔ ❤️🇵🇰

#GilgitBaltistan #Murree #Swat #Kumrat #Naran

1 week ago | [YT] | 1

Sumiya Asad

گرینڈ ٹرنک روڈ (GT Road) برصغیر کی قدیم ترین تاریخی شاہراہوں میں سے ایک ہے، جسے 16ویں صدی میں شیر شاہ سوری نے جدید شکل دی۔ صدیوں تک یہی راستہ تجارت، سفر اور تہذیبوں کے ملاپ کا اہم ذریعہ رہا۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں موٹر وے کے علاوہ تقریباً ہر بڑی سڑک کو جی ٹی روڈ کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ GT Road ایک مخصوص تاریخی شاہراہ کا نام ہے، نہ کہ ہر ہائی وے یا مرکزی سڑک کا۔

تاریخ صرف کتابوں میں نہیں، بعض اوقات ہمارے سفر کے راستوں میں بھی زندہ ہوتی ہے۔

#GTRoad #GrandTrunkRoad #SherShahSuri #HistoryOfPakistan #SouthAsiaHistory

1 week ago | [YT] | 2