✓ Welcome to Education Forum Pak! ✓Education Forum Pak has Well Equipped Production House ,For Lectures & Live programs.
✓ We have a Dedicated Team of Experts, Countrywide Distribution Network, and Participation Of Most Popular Teachers & Professors .
✓Education Forum Pak is a Producing and releasing Company, which Introduces Play Group to PhD, Video Lectures.
✓ Education Forum Pak has a well equipped ,in-house ,quality voice recording Studio, Production house for Lectures, live Lectures and an ultra modern, Sound proof facility for indoor live audio and video shootings.
✓ With its excellent infrastructure, state of the art equipment, Dedicated team of experts, countrywide distribution network, and Participation of most popular Teachers & Professors, a performance of Education Forum Pak remains outstanding in its area of Business.
For Paid Service contact on what's app
03424884464
Education Forum Pak
یہ میرے دفتر کا اے سی ہے، جو تقریباً ہمیشہ 26 ڈگری پر ہی رہتا ہے۔
مجھے اس کا بجلی کا بل نہیں دینا پڑتا، نہ ہی کمپنی میں کوئی مجھ سے پوچھے گا کہ میں نے اسے 16 ڈگری پر کیوں رکھا۔ بلکہ الٹا کئی مرتبہ کمپنی والے حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ "ڈاکٹر صاحب! آپ نے اے سی صرف 26 پر کیوں رکھا ہوا ہے؟"
میرے دفتر کے باہر ایک بڑا ہال ہے جہاں ہمارے ورکرز کے دفاتر ہیں۔ وہاں چار بڑے چِلر لگے ہوئے ہیں جو مسلسل 16 ڈگری پر چلتے رہتے ہیں۔ کبھی وہاں سے گزروں تو یوں لگتا ہے جیسے کے ٹو بیس کیمپ میں آ گیا ہوں۔ کئی مرتبہ تو میں اپنے دفتر کا دروازہ کھول کر اے سی بند کر دیتا ہوں اور باہر سے آنے والی ٹھنڈی ہوا ہی کافی ہوتی ہے۔
البتہ پورا دن میرے پاس میٹنگز کے لیے لوگوں کی آمدورفت لگی رہتی ہے۔ اگر اے سی بند ہو تو مہمانوں کے لیے بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر کبھی سی ای او صاحب آ جائیں تو الگ مسئلہ بن جاتا ہے۔ وہ تو الٹا ڈانٹ دیتے ہیں کہ "ڈاکٹر صاحب، اے سی چلایا کریں!" اس لیے کبھی 26 پر چلا لیتا ہوں اور کبھی بند کر دیتا ہوں۔
وجہ صرف اتنی سی ہے کہ یہ میری ضرورت نہیں ہے، اور نہ ہی میں اس کا عادی ہوں۔
بچپن میں گھر سے یہی سیکھا، پھر مدرسے کے اساتذہ سے، پھر سکول، کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ سے بھی یہی سبق ملا کہ وسائل کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا چاہیے، فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے۔
گھر میں تو ہمیں یہ کہہ کر بھی سمجھایا جاتا تھا کہ "پانی بھی ضرورت سے زیادہ ضائع کرو گے تو اللہ کے حضور اس کا حساب دینا ہو گا۔" حالانکہ ہمارا تعلق کشمیر سے تھا، جہاں پانی کی کبھی کمی نہیں رہی۔ لیکن تربیت یہ تھی کہ نعمت کی قدر اس کی فراوانی یا قلت سے نہیں، بلکہ انسان کے کردار سے پہچانی جاتی ہے۔
اور بات صرف بجلی کے بل کی بھی نہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ ایک اے سی جتنی ٹھنڈک کمرے کے اندر پیدا کرتا ہے، اس سے 29 فی صد زیادہ حرارت باہر ماحول میں خارج کرتا ہے۔ یعنی ہم اپنے ایک کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے باہر کے ماحول کو مزید گرم کر رہے ہوتے ہیں۔ ذرا سوچئے، ایک طرف ہم آرام دہ ٹھنڈک میں بیٹھے ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہیں ایک پنکھا بھی میسر نہیں۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں، احساس کا بھی مسئلہ ہے۔
میرے نزدیک اے سی کا مقصد یہ نہیں کہ کمرہ برف خانہ بنا دیا جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اتنا آرام دہ ماحول میسر آ جائے جہاں آپ سکون سے اپنا کام کر سکیں۔ کہیں یہ مقصد 30 ڈگری پر بھی حاصل ہو جاتا ہے اور کہیں شاید 20 ڈگری بھی کم پڑ جائیں۔ ہر جگہ کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔
اصل چیز درجۂ حرارت نہیں، احساسِ ذمہ داری ہے۔
لیکن یہ احساس آئے گا کہاں سے؟
یہ احساس گھر سے پیدا ہوتا ہے، پھر اساتذہ اسے پروان چڑھاتے ہیں، اور بعد میں معاشرے کے لیڈر اپنے عمل سے اسے مضبوط کرتے ہیں۔ استاد اگر صرف تنخواہ لینے والا ملازم بن جائے، اور لیڈر صرف مراعات لینے والا حاکم، تو پھر نئی نسل احساس کہاں سے سیکھے گی؟
البتہ ایک بات ضرور کھٹکتی ہے۔
اگر کوئی شخص درجنوں گاڑیوں کے پروٹوکول، فل اسپیڈ اے سی اور سرکاری مراعات کے حصار سے نکل کر کسی ڈاکٹر کو یہ نصیحت کرے کہ اے سی کم چلایا کریں، تو بات کچھ عجیب سی لگتی ہے۔
بھائی، وہ ڈاکٹر تو ہسپتال میں بیٹھ کر مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔ اگر کسی کو نسبتاً بہتر ماحول ملنا چاہیے تو شاید وہ زیادہ حق دار ہے۔
لیکن ایک ایسے ملک کا وزیر، جو قرضوں میں ڈوبا ہوا ہو، جہاں لاکھوں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں، اسے تو سب سے پہلے اپنی زندگی میں کفایت شعاری کا نمونہ پیش کرنا چاہیے۔ قومیں تقریروں سے نہیں، مثالوں سے سیکھتی ہیں۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں، میرے اساتذہ تو اگر آج بھی مجھے فضول خرچی کرتے دیکھ لیں تو ڈانٹ دیں گے۔
کیا ہمارے حکمرانوں کے بھی کبھی ایسے استاد تھے، یا انہوں نے اپنے اساتذہ کی باتیں راستے ہی میں کہیں چھوڑ دیں؟
1 day ago | [YT] | 4
View 2 replies
Education Forum Pak
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ChatGPT آپ کے لیے کام بھی کر سکتا ہے؟
اب مصنوعی ذہانت صرف سوالوں کے جواب دینے تک محدود نہیں رہی۔ ہم میں سے اکثر لوگ ChatGPT کو ایک سرچ انجن یا ایک ایسے اسسٹنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو ہماری بات کا جواب دے دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں آپ اسے اپنے کام کے مطابق تربیت دے سکتے ہیں۔ یعنی آپ اسے یہ سکھا سکتے ہیں کہ آپ کا کام کس انداز میں کرنا ہے، کن اصولوں کے مطابق کرنا ہے اور ہر بار کس معیار کے مطابق نتائج فراہم کرنے ہیں۔
اسی مقصد کے لیے ChatGPT میں Skills اور Custom GPTs جیسے طاقتور فیچرز متعارف کروائے جا رہے ہیں، جو آپ کے کام کرنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکتے ہیں۔ اب آپ کو ہر بار لمبا چوڑا پرامپٹ لکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ آپ ایک مرتبہ اپنے کام کے اصول متعین کریں گے اور ChatGPT ہر بار انہی اصولوں کے مطابق کام انجام دے سکے گا۔
سادہ الفاظ میں اگر عام ChatGPT ایک ذہین معاون ہے تو Skills اس معاون کو کسی خاص کام کا ماہر بنا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک استاد ہیں تو آپ ایک ایسی Skill تیار کر سکتے ہیں جو ہر مرتبہ سبق کا عنوان، تدریسی مقاصد، سرگرمیاں، کوئز، ہوم ورک اور تشخیصی سوالات خودکار انداز میں ایک ہی معیار کے مطابق تیار کرے۔ اس طرح آپ کا وقت بھی بچے گا اور کام کا معیار بھی برقرار رہے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فیچر صرف اساتذہ کے لیے نہیں بلکہ تقریباً ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آپ ایک دکاندار ہیں تو آپ اپنی مصنوعات کے اشتہارات، قیمتوں کی فہرستیں اور سوشل میڈیا پوسٹس کے لیے الگ Skill بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک رائٹر ہیں تو آپ اپنی تحریروں کے مخصوص انداز، زبان اور ساخت کے مطابق ChatGPT کو تربیت دے سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک ٹرینر ہیں تو آپ کے پاس ایسا ذاتی اے آئی اسسٹنٹ ہو سکتا ہے جو آپ کے ٹریننگ میٹیریل کو سمجھتے ہوئے ورکشاپس، اسائنمنٹس اور پریزنٹیشنز تیار کرنے میں مدد کرے۔
طلبہ بھی اس ٹیکنالوجی سے غیر معمولی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وہ اپنی اسٹڈی پلاننگ، امتحانی تیاری، خلاصہ نویسی، پریکٹس سوالات اور مشکل موضوعات کی آسان وضاحت کے لیے مخصوص Skills بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے کاروباری افراد روزانہ کی سیلز رپورٹس، مارکیٹنگ مواد، کسٹمر سپورٹ اور انتظامی امور کو زیادہ منظم انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر Skill کسی ایک کام کی ماہر ہوتی ہے تو Custom GPT ایک مکمل ذاتی اے آئی اسسٹنٹ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک Skill صرف لیسن پلان تیار کر سکتی ہے، لیکن ایک Custom GPT ایک مکمل "Teacher Assistant" بن سکتا ہے جو لیسن پلانز بھی تیار کرے، ورک شیٹس بھی بنائے، والدین کے لیے رپورٹس بھی لکھے اور مختلف جماعتوں کے مطابق تدریسی مواد بھی تیار کر سکے۔
شاید مصنوعی ذہانت کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ اب ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ChatGPT کیا جانتا ہے، بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اسے اپنے لیے کیا سکھا سکتے ہیں۔ مستقبل میں کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو مصنوعی ذہانت کو صرف استعمال نہیں کریں گے بلکہ اسے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال کر اپنے کام کا حصہ بنا لیں گے۔
تصور کیجیے کہ آپ کے پاس ایک ایسا معاون موجود ہو جو کبھی نہیں تھکتا، چند سیکنڈز میں آپ کے کام کو منظم کر دیتا ہے، آپ کے مقرر کردہ اصولوں پر ہر بار ایک جیسا معیار برقرار رکھتا ہے اور آپ کے وقت کی بچت بھی کرتا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو Skills اور Custom GPTs ہمیں فراہم کر رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت انسان کا متبادل نہیں بن رہی بلکہ اسے زیادہ باصلاحیت، زیادہ مؤثر اور زیادہ پیداواری بنانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی آپ کا کام کر سکتی ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے اسے اپنے کام کا حصہ بنانے کی تیاری کر لی ہے؟ کیونکہ آنے والے برسوں میں شاید سب سے قیمتی مہارت یہی ہوگی کہ آپ مصنوعی ذہانت کے ساتھ کس قدر مؤثر انداز میں کام کرنا جانتے ہیں۔
1 day ago | [YT] | 5
View 0 replies
Education Forum Pak
کہتے ہیں انسان کی اصل پہچان اس کا عہدہ نہیں بلکہ اس کا کردار ہوتا ہے، مگر زندگی کا سب سے تلخ سچ یہ ہے کہ دنیا اکثر کردار نہیں، کرسی کو سلام کرتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم جب اپنی جوانی، اپنی خواہشیں، اپنے خواب اور اپنی زندگی کے سنہرے سال دفتر کی میز، فائلوں اور ذمہ داریوں کے حوالے کر دیتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہی لوگ، یہی ساتھی، یہی افسران اور یہی ماحول اس کا دوسرا گھر ہیں۔ برسوں تک صبح کی سلام، ایک دوسرے کی خیریت، چائے کی محفلیں، ہنسی مذاق، مشورے، مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے کے دعوے اور روزانہ کی ملاقاتیں ایک مضبوط رشتہ محسوس ہوتی ہیں۔ مگر وقت خاموشی سے اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ جیسے جیسے ریٹائرمنٹ کی تاریخ قریب آنے لگتی ہے، ویسے ویسے رویوں میں بھی ایک عجیب سی خاموش تبدیلی آ جاتی ہے۔ جن لوگوں کے پاس کبھی اس کے لیے وقت کم پڑ جاتا تھا، اب وہ نظریں چرا کر گزرنے لگتے ہیں۔ جن افسران کے کمروں کے دروازے ہمیشہ اس کے لیے کھلے رہتے تھے، اب ملاقاتیں رسمی سی ہو جاتی ہیں۔ وہ ساتھی جو ہر فیصلے میں اس کی رائے کو اہم سمجھتے تھے، اب نئے آنے والوں کے گرد جمع ہونے لگتے ہیں۔ فون کی گھنٹیاں کم ہونے لگتی ہیں، چائے کی دعوتیں ختم ہونے لگتی ہیں، اور وہ شخص جو کبھی دفتر کی رونق سمجھا جاتا تھا، آہستہ آہستہ ایک خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔ پھر ایک دن وہ آخری بار اپنی میز صاف کرتا ہے، دراز بند کرتا ہے، کرسی پر آخری نظر ڈالتا ہے، چند رسمی دعائیں، چند مسکراہٹیں اور چند تصویریں لے کر دفتر سے باہر نکل جاتا ہے۔ اگلے ہی دن اس کی کرسی پر کوئی اور بیٹھا ہوتا ہے، اس کا نام فائلوں سے مٹنا شروع ہو جاتا ہے، اور وہ دفتر جہاں اس نے اپنی پوری زندگی گزاری، معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے، جیسے وہ کبھی وہاں تھا ہی نہیں۔ یہی لمحہ انسان کو زندگی کا سب سے بڑا سبق دیتا ہے کہ تعلق اگر عہدے سے ہو تو ریٹائرمنٹ کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، مگر تعلق اگر اخلاق، محبت، خلوص اور انسانیت سے ہو تو وہ انسان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ اس لیے کبھی اپنے عہدے پر غرور نہ کریں، کبھی اپنے اختیار پر تکبر نہ کریں، اور کبھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسا رویہ نہ اپنائیں جو وقت کے ساتھ بدل جائے، کیونکہ کرسی ہمیشہ کسی اور کی ہو جاتی ہے، مگر اچھا کردار ہمیشہ اپنے مالک کے نام کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ یاد رکھیں، ریٹائر صرف ملازم ہوتا ہے، انسانیت، محبت اور نیک نامی کبھی ریٹائر نہیں ہوتی۔۔۔۔!
4 days ago | [YT] | 4
View 0 replies
Education Forum Pak
پنجاب سکول ری آرگنائزیشن پروگرام یا تعلیم کے ساتھ کھلواڑ
فرض کریں ایک سکول میں 100 بچے ہیں اور حکومت فی بچہ 1500 روپے ماہانہ دیتی ہے۔ سکول چلانے کے لیے کل رقم ڈیڑھ لاکھ روپے بنتی ہے۔ اسی رقم میں اساتذہ، کلرک، چوکیدار، آیا، بجلی، پانی، صفائی، مرمت، تدریسی سامان اور انتظامی اخراجات پورے کرنا ہیں۔ باقی صرف بچوں کو معیاری تعلیم دینا رہ جاتا ہے، جو ظاہر ہے سب سے سستا کام ہے۔
ایک پرائمری سکول کو مناسب طور پر چلانے کے لیے کم از کم چھ سے سات اساتذہ درکار ہوں گے۔ اس کے ساتھ سکول سربراہ، چوکیدار، کلرک اور آیا بھی چاہیے۔ اگر چھ اساتذہ کو صرف دس دس ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں تو 60 ہزار روپے وہیں خرچ ہو گئے۔ شاید اب تعلیم کا معیار تنخواہ سے نہیں، صبر سے بہتر کیا جائے گا۔
چوکیدار، کلرک، آیا اور سکول سربراہ کی تنخواہیں شامل کریں تو عملے کا خرچ ایک لاکھ روپے کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ باقی رقم میں بجلی کا بل، پانی، صفائی، بلیک بورڈ، پنکھے، روشنیاں، بیت الخلا، فرنیچر، سٹیشنری اور مرمت کرانی ہے۔ حساب نہ ملے تو شاید ریاضی کی کتاب بدل دینی چاہیے۔
بعض سکولوں میں دس ہزار روپے ماہانہ پر اساتذہ رکھے جانے کی اطلاعات ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کم تنخواہ لینے والا استاد محنت کرے گا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ دس ہزار روپے میں کون سا تربیت یافتہ اور قابل استاد مستقل طور پر کام کرے گا۔ شاید حکومت کا خیال ہے کہ استاد بھی ہوا، پانی اور تعریف پر زندہ رہتا ہے۔
جو استاد اپنے گھر کا کرایہ، بجلی کا بل اور سفری خرچ پورا نہ کر سکے، اس سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بچوں میں تحقیق، تخلیق اور تنقیدی سوچ پیدا کرے گا۔ استاد کا چولہا بجھے تو کیا ہوا، تعلیمی انقلاب کی شمع تو روشن رہے گی۔
یہ بھی دلچسپ ہے کہ جس بیوروکریسی سے لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے اساتذہ، پورے سرکاری ڈھانچے، بڑے بجٹ اور کئی سطحوں کی نگرانی کے باوجود تعلیمی معیار بہتر نہ کروایا جا سکا، وہی بیوروکریسی اب محدود سبسڈی اور دس ہزار روپے کے استاد سے بہترین نتائج لے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پروگرام کا مقصد تعلیمی معیار بہتر بنانا، داخلوں میں اضافہ کرنا اور بچوں کو مناسب ماحول دینا ہے۔ زمین حکومت کی رہے گی، لیکن بلیک بورڈ، پنکھا، لائٹ، صاف پانی، بیت الخلا، عملہ، تنخواہیں، تحفظ اور یوٹیلٹی بل لائسنسی کی ذمہ داری ہوں گے۔ حکومت صرف عمارت دے گی، باقی معجزہ منتظم خود کرے گا۔
انفرادی طور پر سکول لینے کے لیے دس ہزار روپے درخواست فیس ہے، جبکہ گروپ یا این جی او کے لیے یہ فیس ایک لاکھ روپے تک ہے۔ یعنی پہلے سکول سنبھالنے کی خواہش ثابت کرنے کے لیے رقم دیجیے، پھر محدود سرکاری رقم میں پورا نظام چلائیے۔ خدمت کا جذبہ ہو تو حساب کتاب کی کیا ضرورت ہے۔
لائسنسی بچوں سے ٹیوشن فیس، امتحانی فیس، داخلہ فیس یا کسی بھی مد میں رقم وصول نہیں کر سکتا۔ یہ شرط بالکل درست ہے، کیونکہ سرکاری سکول میں تعلیم مفت ہونی چاہیے۔ البتہ یہ سوال پوچھنا منع ہے کہ اخراجات پورے کہاں سے ہوں گے۔
اگر حکومتی رقم ناکافی ہو تو سکول چلانے والے کے پاس چند ہی راستے بچتے ہیں۔ کم تنخواہ پر اساتذہ رکھے، سہولتوں پر سمجھوتا کرے، عملہ کم کرے یا اخراجات کسی غیر رسمی طریقے سے پورے کرے۔ پالیسی سازوں کے نزدیک شاید معیار ایک ایسی چیز ہے جو بجٹ کے بغیر بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے منسلک سکولوں کو بنیادی سہولتوں کے لیے الگ بجٹ نہیں ملتا۔ فی بچہ رقم ہی سے تنخواہیں، فرنیچر، بجلی، تدریسی مواد اور باقی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں۔ اب اسی محدود ماڈل کو مزید سرکاری سکولوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ پرانی مشکل کو بڑے پیمانے پر دہرانا بھی شاید اصلاح کہلاتا ہے۔
پنجاب میں 95 لاکھ سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ صوبے میں سکول سے باہر بچوں کی شرح 27 فیصد بتائی جاتی ہے۔ ہدف بہت بڑا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ بچوں کو صرف رجسٹر میں داخل کرنا ہے یا واقعی پڑھانا بھی ہے۔ داخلہ اعداد و شمار بہتر کرتا ہے، تعلیم زندگی بہتر کرتی ہے۔
طلبہ سے منسلک سبسڈی ماڈل میں گھوسٹ داخلوں کا خدشہ بھی موجود ہے۔ جب رقم بچوں کی تعداد سے جڑی ہو تو ہر نیا نام آمدن بن جاتا ہے۔ اگر نگرانی کمزور ہو تو کلاس روم خالی اور رجسٹر بھرا ہوا بھی مل سکتا ہے۔ کاغذی بچے ویسے بھی سوال نہیں پوچھتے۔
آؤٹ سورسنگ سے غریب طبقے کے بچوں کی معیاری تعلیم تک رسائی مزید محدود ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ جب اخراجات پورے نہ ہوں تو سب سے پہلے معیار متاثر ہوتا ہے، اور معیار گرنے کی قیمت ہمیشہ غریب بچے ادا کرتے ہیں۔ امیر بچے پالیسیوں کے تجربہ گاہ میں نہیں پڑھتے۔
اگر حکومت واقعی تعلیم بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے فی بچہ مناسب رقم، بنیادی سہولتوں کے لیے الگ بجٹ، تربیت یافتہ اساتذہ کے لیے باعزت تنخواہ اور آزاد نگرانی کا نظام دینا ہوگا۔ صرف معاہدے میں ذمہ داری لکھ دینے سے پنکھا نہیں چلتا، استاد تربیت یافتہ نہیں ہوتا اور بچہ سیکھنا شروع نہیں کرتا۔ فائل میں سب کچھ مکمل ہو سکتا ہے، کلاس روم میں نہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ صرف وزیر تعلیم رانا سکندر حیات ہی نہیں بلکہ پوری کابینہ کی ذمہ داری لگا دیں کہ ہر وزیر ہفتے میں کم از کم ایک بار کسی سرکاری یا آؤٹ سورس سکول میں جا کر کلاس لے۔ وزیر خزانہ حساب پڑھائیں، وزیر منصوبہ بندی محدود بجٹ میں سکول چلانے کا عملی مظاہرہ کریں اور باقی وزرا بچوں کو سمجھائیں کہ دس ہزار روپے والا استاد اعلیٰ معیار کی تعلیم کیسے دے گا۔ شاید ایک پیریڈ کے بعد کابینہ کو معلوم ہو جائے کہ تباہ ہوتا تعلیمی نظام پریزنٹیشن میں نہیں، بچوں کی آنکھوں میں دکھائی دیتا ہے۔
ہمیں ہر سال بتایا جاتا ہے کہ تعلیم ریاست کی اولین ترجیح ہے، مگر ہر نئی پالیسی میں ریاست ایک قدم مزید پیچھے ہٹتی نظر آتی ہے۔ عمارت حکومت کی، زمین حکومت کی، آئینی ذمہ داری حکومت کی، لیکن خرچہ، انتظام، تنخواہیں، سہولتیں، نتائج اور جوابدہی کسی اور کی۔ حکومت کے پاس صرف افتتاح، تشہیر اور کامیابی کے دعوے رہ گئے ہیں۔
اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25-اے میں بھی ترمیم کر دی جائے۔ وہاں یہ لکھ دیا جائے کہ “ریاست ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کرے گی، بشرطیکہ کوئی دوسرا یہ ذمہ داری اٹھانے پر تیار ہو۔”
نوٹ: رانا سکندر حیات صاحب کو سوالات بھیجے تھے ابھی تک تو جواب نہیں آیا۔
Amir Mateen
4 days ago | [YT] | 7
View 0 replies
Education Forum Pak
📢 `PPSC Exam Alert!`
*PPSC has announced the written test dates for Deputy Accountant (BS-16) in the Finance Department.*
🗓️ Test Dates: July 25, 2026 (Saturday) & July 26, 2026 (Sunday)
📝 Test Type: MCQ-Based Written Test
🎓 Admission Letters: To be uploaded soon on the official website.
*Good luck to all the Candidates.*
4 days ago | [YT] | 3
View 0 replies
Education Forum Pak
اُن پاکستانیوں کےلیے جو کہتے ہیں" ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ "
سب سے پہلے میں 5 باتیں بتاتا ہوں۔
1- انٹرنیشنل سائیکل ریسر اپنی ٹانگوں کی شیو کرتے ہیں کہ ہوا کئی رگڑ کم ہو اور سپیڈ میں اضافہ ہو۔
2- کسی ملک میں پانی کا بحران آگیا تو کچھ بڑے بڑے اقدام کیے گئے، جیسے سوئمنگ پول نہیں بھرنا، گاڑی سروس نہیں ہوگی، اور 1 چھوٹا قدم یہ اٹھایا گیا کہ باتھروم کے فلیش ٹینک میں 1۔ 1 اینٹ ڈال دی جائے۔
3- کسی یورپی ملک میں 1 سٹوڈنٹ نے 1 ریسرچ کی کہ ہمارے ملک میں گورمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر میں کمپیوٹر میں جو فونٹ (لکھائی) استمال ہو رہی ہے اگر اس کی بجائے دوسرا فونٹ استمال کیا جائے تو ہمارے ملک کو پرنٹنگ اور سیاہی کی مد میں ملین ڈالرز کا فائدہ ہوگا۔ اس کے اس آئیڈیا کو نافذ کیا گیا اور اسٹوڈنٹ کو 30 ہزار ڈالر کا انعام دیا گیا۔
4- ہوائی جہاز کے پروں کے کنارے پر چھوٹے چھوٹے پر لگائے جاتے ہیں جن کو ونگلٹ ( Winglets) کہا جاتا ہے اس کے استمعال سے 4 سے6 فیصد پٹرول کی بچت ہوتی ھے۔
5- باکسنگ میں داڑھی رکھنا منع ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ باکسر کو کوشن مل جاتا ہے ڈاڑھی رکھنے سے مُکا کم شدت سے لگتا ہے۔
اب آئیں اصل موضوع پر
پاکستان تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور ہم اپنی سوچ نہیں بدل رہے۔
کچھ چھوٹے چھوٹے اقدام اٹھائیں ( ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اسکو پڑھ کر مجھے پاگل سمجیں )
سرکاری پرائیویٹ بالخصوص بینک، انشورنس ، فارماسیوٹیکل کمپنی وغیرہ میں اصول بنائیں کہ مارچ سے ستمبر تک کوئی کوٹ نہیں پہنے گا، کیو نکہ فل سوٹ پہن کے شدید گرمی میں دفاتر میں اے سی فل چلایا جاتا ہے ۔
آپ کسی کو کولڈ ڈرنک سے روک نہیں سکتے لیکن شادی ہال پر پابندی لگادی جائے کہ کھانے کے ساتھ سادہ پانی دیا جائے۔
ہوٹل ریسٹرانٹ میں فلٹر شدہ پانی دیا جائے نہ کہ منریل واٹر۔
ہفتہ میں ایک دن No tea کا ہونا چائیے، گھر، ہوٹل ریسٹرانٹ دفاتر وغیرہ میں اس دن چائے نہ بنے۔
مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ کی مساجد میں پانی کے نلکے اس طرح کے ھیں کہ اُن میں سے پانی کی پتلی دھار نکلتی ہے اگر آپ اس کو زیادہ کھولیں تو پانی ہاتھوں پے لگ کر آس پاس لوگو پے گرتا ہے اس لیے اس کو آہستہ کھولا جاتا ہے جِس سے پانی کی بچت ہوتی ہے۔ یہاں بھی ایسے نلکے ہونے چائیں ۔
چھوٹے بڑے ٹرک ، گڈز ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں وغیرہ میں لوہے کی ڈیکوریشن لگائی جاتی ہے جس سے گاڑی کا وزن 300 سے 2000 کلو تک بڑھ جاتا ھے اور ڈیزل زیادہ استمعال ہوتا ھے، اسکو روکا جائے۔
گھر ، دفاتر میں فالتو 10 واٹ کا بلب بھی بند کر دیں۔
اسی طرح کی سینکڑوں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن پہ عمل کر کے ہم اپنا فائدہ اور پاکستان کو تباہی سے بچا سکتے ہیں۔“
پتہ نہیں کس کی پوسٹ ہے مگر جس کی بھی ہے بہترین ہے۔
Copied
5 days ago | [YT] | 9
View 0 replies
Education Forum Pak
میری LinkedIn پر ایک گورے سے بات ہو رہی تھی…
عام سی conversation تھی، لیکن اس نے ایک ایسی بات کہی جس سے میںاختلاف نہیں کر سکا۔
میں نے casually پوچھ لیا:
“لوگ online earning کے لیے کہاں سے start کرتے ہیں؟ کون سی skills demand میں ہیں؟”
میں expect کر رہا تھا کہ وہ بھی وہی روایتی جواب دے گا…
Fiverr، Upwork، AI tools، freelancing skills وغیرہ۔
لیکن اس نے ہنس کر کہا:
“ہم یہاں یہ سوال ہی نہیں پوچھتے۔”
میں تھوڑا رکا… میں نے کہا: “تو پھر کیا کرتے ہو؟”
وہ بولا:
“ہم یہ دیکھتے ہیں کہ businesses کہاں پیسہ lose کر رہے ہیں… اور وہیں سے اپنا حصہ نکال لیتے ہیں۔”
یہ ایک لائن تھی…
لیکن اس میں پوری game چھپی ہوئی تھی۔
ہم یہاں بیٹھ کر سوچتے ہیں:
کون سا course لوں؟
کون سی skill سیکھوں؟
کون سا tool use کروں؟
وہاں سوچ کچھ اور ہے:
کس جگہ already پیسہ موجود ہے… اور میں اسے کیسے capture کر سکتا ہوں؟
اس نے مجھے ایک مثال دی۔
کہتا ہے:
“چھوٹے businesses ads پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں… لیکن انہیں results نہیں مل رہے۔
اگر تم انہیں better results دے دو… تو وہ تمہیں happily pay کریں گے۔”
اس نے یہ نہیں کہا کہ designer بنو، editor بنو، developer بنو…
اس نے کہا:
“problem finder بنو… اور پھر problem solver بنو۔”
بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔
میں نے اس سے پوچھا:
“تو skill important نہیں ہے؟”
وہ بولا:
“Skill important ہے… لیکن skill alone useless ہے اگر تم اسے کسی profitable problem کے ساتھ attach نہیں کرتے۔”
پھر اس نے ایک جملہ کہا جو میرے دماغ میں بیٹھ گیا:
“People don’t pay for what you do… they pay for what they get.”
اور اگر آپ غور کریں تو دنیا کی بڑی companies بھی یہی کر رہی ہیں۔
Netflix لوگوں کو movies نہیں بیچ رہا…
وہ انہیں boredom سے نجات دے رہا ہے۔
Amazon products نہیں بیچ رہا…
وہ convenience بیچ رہا ہے، speed بیچ رہا ہے۔
Uber rides نہیں بیچ رہا…
وہ وقت بچا رہا ہے، frustration ختم کر رہا ہے۔
اور یہی وہ چیز ہے جو زیادہ تر لوگ miss کر جاتے ہیں۔
ایک بندہ مہینوں لگا دیتا ہے graphic designing سیکھنے میں…
لیکن اسے یہ نہیں پتا ہوتا کہ client کو اصل میں کیا چاہیے۔
دوسرا بندہ average skill کے ساتھ آتا ہے…
لیکن وہ clear ہوتا ہے کہ
“میں business کو زیادہ leads دلا سکتا ہوں”
یا
“میں آپ کی sales بڑھا سکتا ہوں”
پہلا بندہ service offer کر رہا ہے…
دوسرا بندہ result offer کر رہا ہے۔
اور market ہمیشہ result خریدتی ہے۔
اس conversation کے بعد ایک چیز clear ہو گئی…
مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں سیکھنا نہیں آتا…
مسئلہ یہ ہے کہ ہم غلط چیز سیکھ رہے ہیں، یا صحیح چیز کو غلط طریقے سے use کر رہے ہیں۔
اگر آپ واقعی online earning کرنا چاہتے ہیں تو
اپنے آپ سے ایک سادہ سوال پوچھیں:
“لوگ اس وقت کس چیز پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں… اور کیوں؟”
جب آپ کو اس “کیوں” کا جواب مل گیا…
تو “How to Make Money Online” خود بخود solve ہو جائے گا۔
کیونکہ اس کے بعد آپ بے مقصد سوال نہیں کر رہے ہوں گے…
آپ directly demand کے ساتھ کام کر رہے ہوں گے۔
5 days ago | [YT] | 3
View 0 replies
Education Forum Pak
5 days ago | [YT] | 3
View 0 replies
Education Forum Pak
5 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
Education Forum Pak
5 days ago | [YT] | 4
View 0 replies
Load more