🎙️ Welcome to FikirNama – Where Thought Meets Power.
I am Razaque Laghari
#History #Literature #Global Scenario #National Scenario
In a world overwhelmed by noise, FikirNama dares to think.
This channel is your gateway to intellectual awakening, where literature becomes a lens and politics a canvas to explore the truths often left unspoken. From the depths of Urdu classics to the landscapes of global geopolitics, we connect poetry with policy, fiction with fact, and philosophy with power.
We decode the hidden metaphors of literature and unmask the power plays of politics — both in our region and on the world stage. Whether it’s the soul of a ghazal or the heartbeat of a revolution, FikirNama reflects, questions, and redefines the narrative.
Join a growing community of thinkers, writers, dreamers, and change-makers.
Don’t just watch — contemplate. Challenge. Converse.
This is more than a channel. This is the mind in motion.
📌 Subscribe now. Let the conversation begin.
FikirNama
مولانا وحید الدین خان ایک بڑے مسلم اسکالر تھے ان کا اسلام کو سمجھنے کا زاویہ باقی سب علماء سے مختلف تھا وہ عصر حاضر کے ایک بڑے عالموں میں سے تھے ان کی تصانیف اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے امت مسلمہ کی کامیابی ٹکراؤ شکوے یا احتجاجوں کے بجائے مستقل ٫ مثبت اور عملی جدوجھد میں دیکھی
میں یہاں آپ کے لیے انکی کتاب کا ایک اقتباس یہاں پیش کر رہا ہوں
را بندر ناتھ ٹیگور کو حکومت برطانیہ نے 1915ء میں سر کا خطاب دیا تھا۔
1919ء میں جب انگریزی حکومت نے امرت سر میں نہتے ہندوستانیوں پر بے رحمانہ گولی چلوائی تو
ٹیگور نے سر کا خطاب واپس کر دیا۔
ڈاکٹر محمد اقبال کو حکومت برطانیہ نے 1922ء میں سر کا خطاب عطا کیا۔ اقبال نے اس کو قبول کر لیا اور پھر کبھی اس کو واپس نہیں کیا۔ راقم الحروف ذاتی طور پر سر کا خطاب لینے کو غلط نہیں سمجھتا۔ مگر اقبال نے اپنی شاعری میں جس طرح کی باتیں کیں، اس کے لحاظ سے انگریزی حکومت کا دیا ہوا سر کا خطاب ان کے لیے بالکل غیر مناسب تھا۔ مثال کے طور پر ان کا شعر ہے:
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اقبال کے اپنے معیار کے مطابق ، سر کا خطاب قصر سلطانی کے گنبد پر نشیمن بنانے کے ہم معنی تھا مگر دوسروں کو تو وہ اس قسم کی ذھن سازی سے باز رہنے کا اپدیش دیتے رہے لیکن خود ان کا اپنا حال یہ تھا کہ وہ آخر وقت تک قصر سلطانی کے گنبد پر اپنا نشیمن بنائے رہے۔
یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جو رہنما اٹھے ان کا حال کیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنما اصلًا یا تو شاعر تھے، مثلاً اقبال ۔ یا خطیب تھے ، مثلاً محمد علی ۔ یا انشا پرداز تھے، مثلاً ابوالاعلی مودودی۔ وہ مفکر اور بالغ نظر نہ تھے، جیسا کہ ایک رہنما کو ہونا چاہیے ۔ شاعری اور خطابت اور انشا پردازی دراصل لفاظی کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ یہ تمام رہنما لفظی بلند پروازی کے کرشمے دکھاتے رہے، حقائق حیات کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کو ٹھوس رہنمائی نہ دے سکے۔
اس تخیلاتی رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ رہنما حضرات کی اپنی شخصیت تو بن گئی مگر ملت کا تمام معاملہ برباد ہو کر رہ گیا۔ ہوائی کرشمے دکھانے والا ایک شخص بذات خود اخبار کی سرخیوں میں جگہ پا سکتا ہے،
مگر ہوائی کرشمے دکھانے سے کسی قوم کے مستقبل کی تعمیر نہیں ہوتی۔
مولانا وحید الدین خان
9 months ago | [YT] | 1
View 0 replies