Welcome to our YouTube Channel!
We upload a variety of videos here every day. From entertaining content to informative clips, our goal is to share something new and exciting with you daily.
Make sure to subscribe and turn on notifications so you never miss our latest uploads!


NOMI G

آج کا سوال

3 weeks ago | [YT] | 1

NOMI G

2 months ago | [YT] | 2

NOMI G

نسلیں کبھی صرف نصیحتوں سے نہیں سنورتیں، بلکہ وہ اپنے بڑوں کے کردار، رویّوں اور اعمال سے سیکھتی ہیں۔ الفاظ وقتی اثر رکھتے ہیں، مگر عمل مستقل نقش چھوڑتا ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو سچائی کا درس دے، مگر خود جھوٹ بولے تو اس کی نصیحت بے اثر ہو جاتی ہے۔ ایک استاد دیانتداری کی بات کرے، مگر خود خیانت کرے تو اس کی تعلیم کھوکھلی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان خود اپنے قول پر عمل کرے، تو اسے بار بار نصیحت کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی، کیونکہ اس کا کردار خود ایک زندہ مثال بن جاتا ہے۔
بچے اور نوجوان بہت باریک بین ہوتے ہیں۔ وہ صرف یہ نہیں سنتے کہ آپ کیا کہتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ اگر گھر میں بڑوں کے اعمال اچھے ہوں—سچائی، دیانت، صبر، احترام اور محنت—تو یہی اوصاف خاموشی سے اگلی نسل میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر قول و فعل میں تضاد ہو، تو یہی تضاد نئی نسل کے ذہنوں میں الجھن، بے اعتمادی اور دوغلے پن کو جنم دیتا ہے۔
اصل تربیت زبان سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کے افراد اپنے اصولوں پر خود عمل کرتے ہیں۔ ایک عملی انسان ہزار خطیبوں پر بھاری ہوتا ہے، کیونکہ اس کا ہر عمل ایک سبق ہوتا ہے۔ وہ بغیر بولے سکھاتا ہے، بغیر سمجھائے سمجھا دیتا ہے۔
لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں بہتر، باکردار اور بااصول ہوں، تو ہمیں اپنی زندگیوں کو درست کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی عادتوں سے لے کر بڑے فیصلوں تک، ہر جگہ دیانت، سچائی اور انصاف کو اپنانا ہوگا۔ کیونکہ نسلیں ہمارے الفاظ نہیں، ہمارے کردار کی تصویر اپنے دلوں میں بساتی ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نصیحتیں راستہ دکھاتی ہیں، مگر اعمال اس راستے پر چلنا سکھاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں، تو ہمیں خود وہ تبدیلی بننا ہوگا جسے ہم دوسروں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

2 months ago | [YT] | 2

NOMI G

بہترین آنکھ وہ ہے جس سے انسان اپنے اندر جھانک سکے

بہترین آنکھ وہ نہیں جو صرف دنیا کے رنگ، لوگوں کے چہرے اور ظاہری خوبصورتی کو دیکھے، بلکہ اصل بہترین آنکھ وہ ہے جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی صلاحیت دے۔ انسان ساری زندگی دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے میں لگا رہتا ہے، مگر جب وہ ایک لمحے کے لیے خود کو دیکھنے لگتا ہے تو اسے اپنی حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اپنے اندر جھانکنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں انسان کو اپنی کمزوریوں، غلطیوں اور خامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہی وہ عمل ہے جو انسان کو بہتر بناتا ہے۔ جب ہم اپنی غلطیوں کو پہچان لیتے ہیں تو انہیں درست کرنے کا راستہ بھی خود بخود مل جاتا ہے۔ جو شخص خود کو پہچان لیتا ہے، وہی اصل میں کامیاب ہوتا ہے۔
دنیا کو دیکھنے کے لیے آنکھیں سب کے پاس ہوتی ہیں، مگر خود کو دیکھنے کی بصیرت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ یہی بصیرت انسان کو عاجزی سکھاتی ہے، برداشت پیدا کرتی ہے اور اسے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے والا بنا دیتی ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں پر نظر رکھنے سے پہلے خود پر نظر ڈالیں، کیونکہ اصل اصلاح وہی ہے جو انسان اپنے اندر سے شروع کرے۔ یہی وہ آنکھ ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔
#

2 months ago | [YT] | 2

NOMI G

"زنجیروں میں جکڑی ہوئی بھلائی"
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ جو شے انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو، جو لوگوں کی زندگی آسان بنا سکتی ہو، جو معاشرے میں شعور، انصاف اور ترقی لا سکتی ہو، وہ اکثر زنجیروں میں جکڑی ہوئی ملتی ہے۔ کبھی یہ زنجیریں رسم و رواج کی ہوتی ہیں، کبھی مفادات کی، کبھی جہالت کی اور کبھی طاقتور طبقات کے خوف کی۔
تعلیم انسان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جاتی ہے، مگر بہت سے مقامات پر معیاری تعلیم آج بھی صرف چند لوگوں تک محدود ہے۔ سچ بولنے والا اکثر خاموش کرا دیا جاتا ہے، جبکہ جھوٹ اور فریب کو کھلی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ انصاف عام انسان کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، اور وہ لوگ جو معاشرے کی بہتری کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، اکثر مخالفت، تنقید یا دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
نئی سوچ، تحقیق، ایجاد اور مثبت تبدیلی بھی اکثر رکاوٹوں میں گھری رہتی ہے، کیونکہ کچھ لوگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ترقی کے راستے بند کر دیتے ہیں۔ یوں وہ چیزیں جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں، قید ہو کر رہ جاتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان زنجیروں کو پہچانیں اور انہیں توڑنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سچ، علم، انصاف اور ترقی کو آزاد کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب انسانیت کے فائدے کی چیزیں آزاد ہوں گی، تبھی معاشرہ حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

2 months ago | [YT] | 1

NOMI G

یہ حدیث ایک نہایت گہری اخلاقی اور ایمانی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان بھٹکتی رہتی ہے، کبھی ایک کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسری طرف۔"
یہ مثال انسانی کردار کی کمزوری اور دوغلے پن کو انتہائی سادہ مگر مؤثر انداز میں واضح کرتی ہے۔ بکری جب اپنے اصل ریوڑ کے ساتھ وفادار نہ رہے اور کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف بھٹکتی پھرے تو وہ نہ کسی ایک گروہ کا حصہ بن پاتی ہے اور نہ ہی سکون حاصل کر سکتی ہے۔ اسی طرح منافق شخص بھی ایمان اور کفر، سچائی اور جھوٹ، اخلاص اور دھوکے کے درمیان معلق رہتا ہے۔ وہ حالات اور مفادات کے مطابق اپنا رخ بدلتا ہے، کبھی اہلِ ایمان کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور کبھی مخالفین کے ساتھ جا کھڑا ہوتا ہے۔
اسلام ہمیں اخلاص، ثابت قدمی اور سچائی کا درس دیتا ہے۔ ایک مومن کا کردار واضح ہوتا ہے۔ وہ اپنے عقیدے، اپنے قول اور اپنے عمل میں مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے برعکس منافق کا دل بے یقینی، خوف اور دنیاوی مفادات میں گرفتار رہتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی منافقین کی یہی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ وہ "نہ اِدھر کے ہوتے ہیں اور نہ اُدھر کے"۔
یہ حدیث ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے کہ کہیں ہمارے قول و فعل میں تضاد تو نہیں؟ کیا ہم حالات کے مطابق اپنے اصول بدل دیتے ہیں؟ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ سچائی، دیانت اور اخلاص کو اپنائے اور ہر قسم کی منافقت سے بچنے کی کوشش کرے۔
اگر انسان اپنے ایمان کو مضبوط کرے، اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھے اور اپنے اعمال میں خلوص پیدا کرے تو وہ اس خطرناک صفت سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہی اس حدیث کا اصل پیغام ہے کہ انسان اپنے کردار میں یکسوئی اور اپنے ایمان میں پختگی پیدا کرے۔

2 months ago | [YT] | 1

NOMI G

ماشاءاللہ یہ دیکھنا باقی تھا جیسے حالات ہے لگتا کچھ ایسا ہی ہے ٹورنامنٹ کا انعام ایسا ہی ہوگا😂😂
@highlight

2 months ago | [YT] | 2

NOMI G

پنجاب میں نیا ٹیکس لگتے ہی لوگوں کا ردعمل
#allpunjab

3 months ago | [YT] | 1

NOMI G

‏کل صبح 25 کروڑ لاشوں کو کیسا محسوس ہوگا جب وہ پٹرول پمپ پر ہزار روپیہ پکڑائیں گے اور 2 لیٹر پٹرول ملے گا ؟
لیکن چھوڑیں ۔۔۔
لاشوں کو تو کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا !! 🙃

3 months ago | [YT] | 1

NOMI G

اگر پاکستان میں اسی طرح مسلسل چھٹیاں رہیں تو تعلیم کا یہی حال ہو جائے گا۔😁😁😃
#all

3 months ago | [YT] | 0