Be Shah (اللہ المالک الملک)

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘-وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ-بِیَدِكَ الْخَیْرُؕ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (القرآن)

ترجمہ:

تُو کہہ دے اے میرے اللہ! سلطنت کے مالک! تُو جسے چاہے فرمانروائی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے فرمانروائی چھین لیتا ہے۔ اور تُو جسے چاہے عزت بخشتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے۔ خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقیناً تُو ہر چیز پر جسے تُو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
——-

صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫ وَّنَحۡنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ (القرآن)

ترجمہ:

اللہ کا رنگ پکڑو۔ اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

۔۔۔

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں

"اسلام کا منشا یہ ہے کہ بہت سے ابراہیمؑ بنائے۔۔۔ میں تمہیں سچ سچ کہتاہوں کہ ولی پرست نہ بنو بلکہ ولی بنو اور پیر پرست نہ بنو بلکہ پیر بنو"

۔۔۔۔


Be Shah! 🌹🐝



Be Shah (اللہ المالک الملک)

شاعری بطور پیشہ۔۔

4 days ago | [YT] | 12

Be Shah (اللہ المالک الملک)

اب اس حدیث کی تشریح میں علماء کے مختلف نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں، اس لیے اسے صرف ظاہری الفاظ پر نہیں لیا جاتا۔

1. ایک تشریح

بعض علماء کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں انسان کو مسلسل پریشانی، تنگی یا مشکلات کا سامنا ہو تو عملی طور پر وہ چیز اس کے لیے باعثِ اذیت بن جاتی ہے۔

مثلاً:

* ایسی بیوی جو ہر وقت جھگڑا کرے اور دین و اخلاق میں مددگار نہ ہو۔
* ایسا گھر جس میں انسان کو سکون نہ ملے۔
* ایسا سواری کا جانور (قدیم زمانے میں گھوڑا) جو مفید نہ ہو یا نقصان پہنچاتا ہو۔

2. حضرت عائشہؓ کی روایت

بعض روایات میں حضرت عائشہؓ نے اس مفہوم کی وضاحت فرمائی کہ جاہلیت والے عورت، گھر اور گھوڑے کو بذاتِ خود منحوس سمجھتے تھے، جبکہ اسلام نے عام توہم پرستی کی نفی کی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:

“لا طِیَرَةَ”

یعنی “کوئی چیز بذاتِ خود منحوس نہیں ہوتی۔”

لہٰذا اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ نہیں کہ عورت، گھر یا گھوڑا اپنی ذات میں نحوست رکھتے ہیں

1 week ago | [YT] | 11

Be Shah (اللہ المالک الملک)

حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز پیر سراج الحق صاحب سر ساوی اپنے علاقہ کے آموں کی تعریف کر رہے تھے کہ ہمارے علاقہ میں آم بہت میٹھے ہوتے ہیں۔جو لوگ ان کو کھاتے ہیںتو گٹھلیوں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں۔گویا لوگ کثرت سے آم چوستے ہیں۔اس وقت حضرت اقدس بھی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔فرمایا:پیر صاحب جو آم میٹھے ہوتے ہیں وہ عموماً ثقیل ہوتے ہیں اور جو آم کسی قدرترش ہوتے ہیں وہ سریع الہضم ہوتے ہیں۔پس میٹھے اور ترش دونوں چوسنے چاہئیں۔کیونکہ قدرت نے ان کو ایسا ہی بنایا ہے۔


(سیرت المہدی روایت نمبر۹۳۱)

2 weeks ago | [YT] | 12