JPNSportsHubへようこそ!
このチャンネルでは、日本および世界の最新スポーツニュース、試合ハイライト、注目の瞬間をお届けします。
📌 サッカー試合ハイライト
📌 冬季スポーツ・オリンピック情報
📌 日本スポーツニュース
📌 ショート動画&トレンドスポーツ
スポーツが好きな方は、ぜひチャンネル登録して、最後まで動画をご覧ください。
最新のスポーツ情報を見逃さないようにしましょう!
🔥 定期的に新動画を投稿
🔥 スポーツファンのためのチャンネル
チャンネル登録よろしくお願いします!
JPNSportsHub
#日本スポーツ #スポーツニュース #サッカー #オリンピック #冬季スポーツ #試合ハイライト #JPNSportsHub
日本スポーツ, スポーツニュース, サッカーハイライト, オリンピック, 冬季オリンピック, スノーボード, 日本代表, 海外スポーツ, 試合ハイライト, スポーツ動画, スポーツ速報, JPNSportsHub
JPN Sports Hub
تاریخ اسلام کی پہلی مسجد کون سی ہے ؟
11 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
JPN Sports Hub
اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق کی شہادت کب ہے ؟
11 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
JPN Sports Hub
اسلامی سال پہلا مہینہ کون سا ہے ؟
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
JPN Sports Hub
خلافت فاروقی ؓ کے اہم واقعات
۲۳ جمادی الثانی ۱۳ ھ بروز سہ شنبہ مدینہ منورہ میں تمام مسلمانوں نے بلا اختلاف سیدنا فاروق اعظم ؓ کے ہاتھ پر بیعت کی‘ ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ ھ بروز دو شنبہ مثنیٰ بن ؓ حارثہ کے آنے اور حالات سنانے کے بعد سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے سیدنا عمر فاروق ؓ کو بلا کر جو حکم دیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے۔:
مجھے قوی امید ہے کہ میں آج ہی مر جائوں گا‘ پس میرے مرنے کے بعد تم کل کا دن ختم کرنے سے پہلے پہلے مثنیٰ کے ساتھ لوگوں کو لڑائی پر روانہ کر دینا‘ تم کو کوئی مصیبت تمہارے دینی کام اور حکم الٰہی سے غافل نہ کرنے پائے‘ تم نے دیکھا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کیا کیا تھا حالانکہ وہ سب سے بڑی مصیبت تھی‘ جب اہل شام پر فتح حاصل ہو جائے تو اہل عراق کو عراق کی طرف واپس بھیج دینا‘ کیونکہ اہل عراق‘ عراق ہی کے کاموں کو خوب سرانجام دے سکتے ہیں اور عراق ہی میں ان کا دل خوب کھلا ہوا ہے۔
ان الفاظ سے ایک یہ حقیقت بھی خوب سمجھ میں آ جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے وفات نبوی ﷺ کے بعد جو کچھ کیا دینی کام اور دینی مقصد کو مقدم سمجھ کر کیا‘ مرتے وقت بھی ان کو دینی کاموں ہی کی فکر تھی‘ اپنی اولاد و ازواج کے حق میں کوئی وصیت نہیں فرمائی‘ فاروق اعظم ؓ نے بیعت خلافت لینے کے بعد لوگوں کوجہاد کی ترغیب دی‘ مہاجرین و انصار کو خاص طور پر مخاطب کر کے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے پکارا‘ مگر مجمع نے آمادگی اور جوش کا اظہار نہ کیا‘ تین دن تک سیدنا فاروق اعظم ؓ نے لوگوں کو جمع کر کے جہاد کا وعظ سنایا مگر لوگوں کی طرف سے خاموشی رہی‘ چوتھے روز ابوعبیدہ بن مسعود ثقفی ؓ نے جہاد عراق کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی‘ ان کے بعد سعد بن عبید ؓ انصاری کھڑے ہوئے‘ پھر سیدنا سلیط بن قیس ؓ اور اسی طرح بہت سے لوگ یکے بعد دیگرے آمادہ ہو گئے‘ اورایک لشکر عراق کے لیے تیار ہو گیا‘ سیدنا عمرفاروق ؓ نے ابوعبیدہ بن مسعود ؓ ہی کو جو سب سے پہلے آمادہ ہوئے تھے اس لشکر کا سردار بنا کر مثنی بن حارثہ ؓ کے ہمراہ عراق کی جانب روانہ کیا۔
تین دن تک لوگوں کا خاموش رہنا مؤرخین کو خاص طور پر محسوس ہوا ہے اور انہوں نے اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ سیدنا عمرفاروق ؓ نے پہلے ہی دن چونکہ خالد بن ولید ؓ کی معزولی کا فرمان لکھ کر شام کے ملک کی طرف بھیجا تھا‘ لہذا لوگ ان سے ناخوش ہو گئے تھے اور اسی لیے ان کے آمادہ کرنے سے آمادہ نہیں ہوئے تھے‘ مگر یہ خیال سراسر غلط اور نا درست ہے‘ فاروق اعظم ؓ کے فرمان کی کسی نے بھی مدینہ میں ایسی مخالفت نہیں کی‘ کہ اس کا حال عام لوگوں کو معلوم ہوا ہو‘ اگر واقعی سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ سے لوگ مدینہ میں پہلے ہی دن ناخوش ہو گئے تھے تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا‘ اس کا ذکر خاص الخاص طور پر مؤرخین کو لکھنا پڑتا اور اس ناراضی کے دور ہونے کے اسباب بھی بیان کرنے ضروری تھے‘ یہ ایک ایسا غلط خیال ہے کہ اصحاب نبوی ﷺ کی شان میں بہت بڑی گستاخی لازم آتی ہے‘ وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ کسی اختلاف رائے کی بنا پر ترغیب جہاد کی تحقیر کرتے‘ بات صرف یہ تھی کہ جہاد کے لیے سب تیار تھے‘ مگر ذمہ داری لینے یا بیڑا اٹھانے میں متامل اور ایک دوسرے کے منتظر تھے‘ ان میں ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ مجھ سے زیادہ بزرگ اور مجھ سے زیادہ قابل عزت لوگ موجود ہیں وہ جواب دیں گے‘ اسی طرح ہر ایک شخص دوسرے کا منتظر تھا‘ بعض اوقات اس قسم کی گرہ بڑے بڑے مجمعوں میں لگ جایا کرتی ہے اور ہم اپنے زمانہ میں بھی اس قسم کی مثالیں دیکھتے رہتے ہیں ‘ یہ انسانی فطرت کا خاصہ معلوم ہوتا ہے‘ اسی لیے اعمال نیک اور خیرات و صدقات کے متعلق ایک طرف سے بچنے کے لیے چھپانے کی ترغیب ہے‘ تو دوسری طرف علانیہ بھی ان نیک کاموں کے کرنے کا حکم ہے‘ تاکہ دوسروں کو تحریص و جرات ہو‘ اور خاموشی و رکاوٹ کی کوئی گرہ نہ لگنے پائے۔
فاروق اعظم ؓ نے اگر اپنی خلافت کے پہلے ہی دن خالد بن ولید ؓ کی معزولی کا حکم لکھا تھا تو جہاد کی ترغیب تو انہوں نے بیعت خلافت لینے کے بعد ہی پہلی تقریر اور پہلی ہی مجلس میں دی تھی‘ اس تقریر اور اس ترغیب کے بعد ہی انہوں نے سیدنا خالد ؓ کی معزولی کا فرمان لکھوایا ہو گا‘ پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پہلی ترغیب کا جواب مجمع کی طرف سے کیوں نہ ملا؟ بات یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی استاد اپنے شاگردوں کو مدرسہ کے کمرہ میں حکم دیتا ہے کہ تختہ سیاہ کو کپڑے سے صاف کر دو یا نقشے کو لپیٹ دو‘ مگر اس کے حکم کی کوئی طالب علم تعمیل نہیں کرتا‘ اس کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ اس استاد کی تعمیل کو شاگرد ضروری نہیں سمجھتے بلکہ تعمیل نہ ہونے کا سبب یہ ہوتا ہے کہ استاد نے سارے کے سارے شاگردوں کو مخاطب کر کے حکم دیا تھا‘ جب وہی استاد کسی ایک یا دو شاگردوں کا نام لے کر یہی حکم دیتا ہے تو فوراً اس کے حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے۔
بہرحال لوگوں کے مجمع کا تین دن تک خاموش رہنا خواہ کسی سبب سے ہو مگر یہ سبب تو ہرگز نہ تھا کہ وہ خالد بن ولید ؓ کی معزولی کے حکم سے ناراض تھے کیونکہ خود مدینہ منورہ میں انصار ؓ کی ایک بڑی جماعت ایسی موجود تھی جو خالد بن ولید ؓ کو مالک بن نویرہ کے معاملہ میں قابل مواخذہ یقین کرتی تھی‘ اگر اور لوگ ناراض تھے تو وہ جماعت تو ضرور سیدنا فاروق اعظم سے خوش ہو گی‘ ان لوگوں کو کس چیز نے خاموش رکھا؟
1 year ago | [YT] | 5
View 0 replies
JPN Sports Hub
سیدنا عمر فاروق ؓ
عنوان: نسب و ولادت اور حلیہ مبارک
آپ ؓ اشراف قریش میں سے تھے‘ زمانہ جاہلیت میں آپ کے خاندان سے سفارت مخصوص و متعلق تھی‘ یعنی جب قریش کی کسی دوسری قبیلے سے لڑائی ہوتی تھی تو آپ ؓ کے بزرگوں کو سفیر بنا کر بھیجا جاتا تھا‘ یا جب کبھی تفاخر نسب کے اظہار کی ضرورت پیش آتی تو اس کام کے لیے آپ ؓ ہی کے بزرگ آگے نکلتے تھے‘ آپ ؓ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے ‘ عمر ؓ بن خطاب بن نفیل بن عبدالغریٰ بن رباح بن عبداللہ بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی‘ کعب کے دو بیٹے تھے‘ ایک عدی دوسرے مرہ‘ مرہ رسول اللہ ﷺ کے اجداد میں ہیں ‘ یعنی آٹھویں پشت میں سیدنا عمر ؓ کا سلسلہ نسب رسول اللہ ﷺ کے سلسلہ نسب میں مل کر ایک ہو جاتا ہے‘ عمر فاروق کی کنیت ابو حفص تھی رسول اللہ ﷺ نے آپ ؓ کو فاروق کے لقب سے ملقب فرمایا تھا‘ آپ ؓ ہجرت نبوی ﷺ سے چالیس سال پہلے پیدا ہوئے‘ لڑکپن میں اونٹوں کے چرانے کا شغل تھا‘ جوان ہونے کے بعد عرب کے دستور کے موافق نسب دانی‘ سپہ گری‘ شہسواری اور پہلوانی کی تعلیم حاصل کی‘ عہد جاہلیت میں بھی اور مسلمان ہونے کے بعد بھی تجارت کا پیشہ کرتے تھے۔
سیدنا فاروق اعظم ؓ کی رنگت سفید تھی‘ لیکن سرخی اس پر غالب تھی‘ قد نہایت لمبا تھا‘ پیادہ پا چلنے میں معلوم ہوتا تھا کہ سوار جا رہا ہے‘ رخساروں پر گوشت کم تھا‘ ڈاڑھی گھنی‘ مونچھیں بڑی‘ سر کے بال سامنے سے اڑ گئے تھے‘ ابن عساکر ؓ نے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر فاروق ؓ دراز قد موٹے تازے تھے‘ رنگت میں سرخی غالب تھی‘ گال پچکے ہوئے‘ مونچھیں بڑی تھیں اور ان کے اطراف میں سرخی تھی‘ آپ ؓ کی والدہ شریفہ ابوجہل کی بہن تھیں ‘ اس رشتے سے آپ ؓ ابوجہل کو ماموں کہا کرتے تھے۔
1 year ago | [YT] | 4
View 0 replies
JPN Sports Hub
جب عثمانی ترکوں کے پاس کوئی مہمان آتا تو وہ اس کے سامنے قہوہ اور سادہ پانی پیش کرتے
اگر مہمان پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتا وہ سمجھ جاتے کہ مہمان کو کھانے کی طلب ھے تو پھر وہ بہترین کھانے کا انتظام کرتے
اور اگر وہ قہوہ کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ جان لیتے کہ مہمان کو کھانے کی حاجت نہیں ھے
اگر کسی گھر کے باہر پیلے رنگ کے پھول رکھے نظر آتے تو اس کا مطلب ہوتا کہ اس گھر میں مریض موجود ھے آپ اس مریض کی وجہ سے گھر کے باہر شور شرابہ نہ کریں اور عیادت کو آسکتے ہیں
اور اگر گھر کے باہر سرخ پھول رکھتے ہوتے تو یہ اشارہ ہوتا کہ گھر میں بالغ لڑکی ہے لہذا گھر کے آس پاس بازاری جملے نہ بولے جائیں
اور اگر آپ پیغامِ نکاح لانا چاہتے ہیں تو خوش آمدید۔
گھر کے باہر دو قسم کے ڈور بیل (گھنٹی نما) ہتھوڑے رکھے ہوتے
ایک بڑا ایک چھوٹا
اگر بڑا ہتھوڑا بجایا جاتا تو اشارہ ہوتا کہ گھر کے باہر مرد آیا ھے لہذا گھر کا مرد باہر جاتا تھا
اور اگر چھوٹا ہتھوڑا بجتا تو معلوم ہوتا کہ باہر خاتون موجود ہے لہذا اس کے استقبال کے لئیے گھر کی خاتون دروازہ کھولتی تھی
عثمانی ترکوں کے صدقہ دینے کا انداز بھی کمال تھا
کہ
ان کے مالدار لوگ سبزی فروش یا دوکانداروں کے پاس جا کر اپنے نام سے کھاتہ کھلوا لیتے تھے
اور جو بھی حاجت مند سبزی یا راشن لینے آتا تو دوکاندار اس سے پیسہ لیئے بغیر اناج و سبزی دے دیتا تھا یہ بتائے بغیر کہ اس کا پیسہ کون دے گا
کچھ وقت بعد وہ مالدار پیسہ ادا کر کے کھاتہ صاف کروا دیتا
اگر کسی عثمانی ترک کی عمر تریسٹھ سال سے بڑھ جاتی اور اس سے کوئی پوچھتا کہ آپکی عمر کیا ہے؟
تو وہ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیاء و ادب کرتے ہوئے یہ نہ کہتا کہ میری عمر تریسٹھ سال سے زیادہ ہوگئی
ہے
بلکہ یہ کہتا
بیٹا ہم حد سے آگے بڑھ چکے ہیں
کیسا ادب کیسا عشق تھا ان لوگوں کا
کیسی بہترین عادات تھی ان لوگوں کی
یہی وجہ تھی کہ عالم کفر نے سلطنت عثمانیہ کے غداروں سے مل کر ٹکڑے کر ڈالے ۔
میرا دل کرتا ہے کہ اس پوسٹ کو میں ہر مسلمان تک پہنچاوں تاکہ تمام مسلمان اپنی تاریخ کو پڑھیں اور پھر سے یہ اصول اپنائیں انشاءاللہ
اللہ پاک ہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
1 year ago | [YT] | 5
View 0 replies
JPN Sports Hub
18 ذوالحج یومِ شہادت
خلیفۂ سوم، دوہرا دامادِ نبی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ......
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
عنوان: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ سوم
امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان ؓ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے چھ سال بعدہوئی،قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان ’’بنوامیہ ‘‘ سے تعلق تھا،سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں عبدمناف پررسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے،مزیدیہ کہ ان کی نانی ’’اُم حکیم‘‘رسول اللہ ﷺ کے والدگرامی جناب عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں ۔
٭حضرت عثمان بن عفان ؓ کی زندگی زمانۂ جاہلیت میں بھی انتہائی شریفانہ تھی جس کی وجہ سے قبیلۂ قریش میں نیزتمام شہرمکہ میں انہیں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا،اُس دورمیں جب ہرکوئی لہوولعب کادلدادہ اورشراب کاازحدرسیا تھا… مگرایسے میں بھی حضرت عثمان بن عفان ؓ کادامن ہمیشہ لہوولعب سے پاک رہا، اوران کے لب جامِ شراب سے ہمیشہ ناآشنارہے۔
٭مکہ شہرمیں دینِ اسلام کاسورج طلوع ہونے سے قبل ہی حضرت عثمان بن عفان ؓ کی حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے ساتھ خاص دوستی اورقربت تھی ، دونوں میں بہت گہرے روابط تھے،حضرت ابوبکرصدیق ؓ ٗ حضرت علی بن ابی طالب ؓ ٗاورحضرت زیدبن حارثہ ؓ کے بعدحضرت عثمان بن عفان ؓ چوتھے شخص تھے جنہوں نے دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے دینِ اسلام قبول کیا، تب ان کی عمرچونتیس سال تھی۔
٭حضرت عثمان بن عفان ؓ ’’السابقین الأولین‘‘یعنی بھلائی میں سبھی لوگوں پر سبقت لے جانے والوں میں سے تھے،یعنی وہ عظیم ترین افرادجنہوں نے بالکل ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمانوں کیلئے بہت ہی مظلومیت اوربے بسی وبے چارگی کازمانہ چل رہاتھا…یہی وجہ ہے کہ ان حضرات کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ٗ اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے۔
٭مزیدیہ کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ ’’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افراد میں سے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔
٭نیزرسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کومتعددمواقع پر ’’شہادت‘‘ کی خوشخبری بھی سنائی تھی،اور’’مظلومیت‘‘کی خبربھی دی تھی۔
٭حضرت عثمان بن عفان ؓ کورسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزیدیہ شرف بھی حاصل تھاکہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے دامادبھی تھے، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہااورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کانکاح ایامِ جاہلیت میں ابولہب کے بیٹوں عتبہ اورعتیبہ سے ہواتھا،آپ ﷺ نے جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ حکم {وَأنذِرعَشِیرَتَکَ الأقرَبِینَ} (۱) (یعنی:’’آپؐ اپنے قریبی رشتے داروں کو[اللہ کے عذاب سے]ڈرائیے‘‘)کی تعمیل کے طورپراپنے خاندان ’’بنوہاشم‘‘کوکوہِ صفاپرجمع کرکے دینِ برحق کی طرف دعوت دی ٗ تواس موقع پرابولہب بگڑگیا،اوریوں کہنے لگا: تَبّاً لَکَ ! أمَا دَعَوتَنَا اِلّا لِھٰذا…؟ یعنی:(نعوذباللہ) اے محمد! تم ہلاک جاؤ،کیاتم نے ہمیں اسی لئے یہاں بلایاتھا…؟(۲) ابولہب کی اس بیہودہ گوئی پرآپؐ انتہائی رنجیدہ ودل گرفتہ ہوئے،جس پرآپؐ کی تسلی ودلجوئی کیلئے سورۃ المسد{تَبّت یَدَا أبِي لَھَب وَتَبَّ…} نازل ہوئی(یعنی :’’ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اوروہ خودبھی ہلاک ہوجائے…‘‘)
اس پرابولہب مزید مشتعل ہوگیااوراس نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اورعتیبہ کوحکم دیاکہ وہ آپؐ کی صاحبزادیوں ( حضرت رقیہ ؓ ،وحضرت ام کلثومؓ)کوطلاق دے کرگھرسے نکال دیں ، چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا۔(۱)
کچھ عرصہ گذرنے کے بعدآپؐ نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی شادی اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عثمان بن عفان ؓ سے کردی،ان دونوں نے نبوت کے پانچویں سال مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت کی،جہاں اللہ نے انہیں بیٹاعطاء فرمایا،اس کے بعدنبوت کے دسویں سال ایک غلط فہمی کے نتیجے میں یہ دونوں میاں بیوی حبشہ سے واپس مکہ چلے آئے اورازسرِنومشرکینِ مکہ کی طرف سے تکلیفوں اوراذیتوں کے اسی سلسلے سے دوچارہوناپڑا…اورپھرنبوت کے تیرہویں سال ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہونے کے بعدمکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی۔
٭حبشہ میں قیام کے دوران ان دونوں میاں بیوی کے یہاں جس بیٹے کی ولادت ہوئی تھی ،اب مدینہ میں قیام کے دوران ان کایہ لختِ جگرجب چھ سال کاتھا…ایک روزاپنے گھرکے سامنے کھیل کودمیں مشغول تھاکہ اس دوران اچانک کسی جانب سے ایک لڑاکامرغاآیا اوراس بچے کی آنکھ میں چونچ ماری،جس کی وجہ سے چنددن شدیدزخمی رہنے کے بعدیہ بچہ داغِ مفارقت دے گیا…اس کے بعدحضرت رقیہ رضی اللہ کی عنہاکی کوئی اوراولادنہیں ہوئی۔
٭حضرت رقیہ رضی اللہ عنہاہجرتِ حبشہ کے موقع پراپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاسے دوری اورجدائی کے صدمے کی وجہ سے بیماررہنے لگی تھیں ،اب اپنے اکلوتے کم سن لختِ جگرکی اس اچانک موت نے انہیں نڈھال کرڈالا…جس پروہ مستقل صاحبِ فراش ہوگئیں ،اورپھرجلدہی سن دوہجری میں عین غزوۂ بدرکے روزمدینہ میں ان کاانتقال ہوگیا…تب حضرت عثمان بن عفان ؓ خاندانِ نبوت سے رشتہ منقطع ہوجانے پر انتہائی افسردہ ورنجیدہ رہنے لگے،لہٰذا آپ ؐنے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کانکاح حضرت عثمان ؓبن عفان ؓ سے کردیا،اسی دوہرے شرف کی وجہ سے وہ ’’ذوالنورین‘‘ (یعنی دونوروں والا)کے لقب سے معروف ہوئے۔(۱)
٭سن پانچ ہجری میں غزوۂ خندق کے بعدجب آپ ﷺ اپنے رب کی طرف سے غیبی اشارہ ملنے پر(۲) اگلے ہی سال یعنی سن چھ ہجری میں عمرے کی ادائیگی کی غرض سے مکہ کی جانب عازم سفرہوئے،اس موقع پر آپؐ جب مکہ شہرسے کچھ فاصلے پر’’حدیبیہ‘‘نامی مقام پر پہنچے تومعلوم ہواکہ مشرکینِ مکہ توقتل وخونریزی اورفتنہ وفسادپرآمادہ ہیں ، جس پرآپؐ نے ان کے ساتھ گفت وشنیدکی غرض سے بطورِسفیرحضرت عثمان بن عفان ؓ کوروانہ
(۱) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سن دوہجری میں ہوئی ،اس کے بعدسن تین ہجری میں حضرت عثمان بن عفان ؓ کانکاح حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاسے ہوا،اورپھرسن ۹ہجری میں رسول اللہ ﷺ کی غزوۂ تبوک سے مدینہ واپسی کے فوری بعدحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاکاانتقال ہوا،جبکہ اس سے محض ایک سال قبل یعنی سن آٹھ ہجری میں آپؐ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہاکابھی انتقال ہوچکاتھا۔
فرمایا،حضرت عثمانؓ جب وہاں پہنچے توان لوگوں نے انہیں اپنے پاس روک لیااوریہ خبرمشہورکردی کہ ہم نے عثمان کوقتل کرڈالاہے…تب رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا’’عثمان کے خون کابدلہ لینافرض ہے‘‘اورپھراس موقع پرآپؐ نے اپنے تمام ساتھیوں سے جاں نثاری وسرفروشی کی وہ تاریخی بیعت لی،جسے ’’بیعتِ رضوان‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے(۱)اس موقع پرآپؐ نے اپناہی ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پررکھتے ہوئے ارشادفرمایا’’یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے‘‘یقینااس سے رسول اللہ ﷺ کے نزدیک حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اہمیت اورقدر ومنزلت واضح وثابت ہوتی ہے۔
جبکہ اُدھرشہرمکہ میں ان مشرکین نے حضرت عثمان ؓ کوپیشکش کرتے ہوئے کہا’’ آپ جب عرصۂ درازکے بعدمکہ پہنچ ہی گئے ہیں ، تواب آپ بیت اللہ کاطواف توکرلیجئے‘‘
ان کی طرف سے اس پیشکش کے جواب میں حضرت عثمانؓ نے فرمایا: مَا کُنتُ لأفعَل ، حَتّیٰ یَطُوفَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ ۔ یعنی’’جب تک خودرسول اللہ ﷺ بیت اللہ کاطواف نہیں کرلیں گے اُس وقت تک میں بھی نہیں کروں گا‘‘ ۔
یقینااس سے حضرت عثمان بن عفان ؓ کے دل میں رسول اللہ ﷺ کیلئے موجزن بے مثال قلبی تعلق اوروالہانہ عقیدت ومحبت کااظہارہوتاہے۔
٭دینِ اسلام کے بالکل ابتدائی دورسے ہی رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان بن عفان ؓ سے ’’وحی‘‘نیزدیگرضروری اورخاص رازکی باتیں تحریرکروایاکرتے تھے،اورپھراس کے بعدبھی طویل عرصہ تک حضرت عثمانؓ ہی ’’کتابتِ وحی‘‘کامقدس فریضہ انجام دیتے رہے۔ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرمایاکرتی تھیں ’’مجھے وہ منظراب بھی بخوبی یادہے کہ رسول اللہ ﷺ عثمان کواپنے قریب بٹھاکران سے ’’وحی‘‘لکھوایاکرتے تھے…‘‘اس کے بعدمزیدفرمایاکرتی تھیں : فَوَاللّہِ مَا کَانَ اللّہُ لِیُنزِلَ عَبداً مِن نَبِیِّہٖ تِلکَ المَنزِلَۃَ اِلّا کَانَ عَلَیہِ کَرِیماً ۔ یعنی’’اللہ کی طرف سے یقینااپنے کسی ایسے بندے کوہی اپنے نبی کااس قدرخاص قرب عطاء کیاجاسکتاہے کہ جواللہ کے نزدیک اس قابل ہو…‘‘۔
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
JPN Sports Hub
https://youtu.be/Baut2LpgSlk?si=GliUz...
1 year ago | [YT] | 2
View 1 reply
JPN Sports Hub
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
JPN Sports Hub
1 year ago | [YT] | 7
View 0 replies
Load more