امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک سوج گرہن کے وقت صلاۃ الکسوف، صلاۃ الاستسقاء اور تراویح کے علاوہ کسی بھی نفل نماز کی جماعت کے ساتھ ادائیگی جب کہ مقتدی چار یا چار سے زیادہ ہوں مکروہ ہے، تین افراد کی جماعت میں نوافل کی ادائیگی کے مکروہ ہونے نا ہونے میں اختلاف ہے، جب کہ دو افراد کا جماعت کے ساتھ نوافل ادا کرنا جائز ہے، پس صورتِ مسئولہ میں صلاۃ التسبیح میں چار یا چار سے زیادہ مقتدی ہونے کی صورت میں نفل نماز کی باجماعت ادائیگی مکروہ ہے،ورنہ نہیں۔
حلبی کبیر میں ہے:
"واعلم أن النفل بالجماعة علی سبيل التداعي مكروه". (تتمات من النوافل، ص: ٤٣٢، ط: سهيل اكيدمي)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
"( ولایصلی الوتر و) لا ( التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي؛ بأن يقتدي أربعة بواحد". (شامي، قبيل باب إدراك الفريضة، ٢/ ٤٨- ٤٩، ط: سعيد) فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144108200923
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
شریعت میں ''الوداعی جمعہ'' کی کیا حیثیت ہے؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم اس کی تیاری کرتے تھے؟ نیز جمعۃ الوداع میں جو مخصوص خطبہ پڑھا جاتا ہے صحیح ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں!
جواب
رمضان المبارک کے آخری جمعے کی تیاری اور بطور '' جمعۃ الوداع'' منانانبی کریم ﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور فقہاء کرام سے ثابت نہیں ہے، حضور ﷺ رمضان المبارک کا مکمل آخری عشرہ اعتکاف اور راتوں کو جاگ کر عبادت میں گزارتے تھے، پورے عشرے میں عبادت کا اہتمام تو احادیث میں منقول ہے، لیکن آخری جمعے کے لیے نئے کپڑے سلوانا، تیاری کرنا یا خاص عبادت کرنا احادیث سے ثابت نہیں ہے۔
نیز ’’الوداع والفراق والسلام یا شهر رمضان‘‘ وغیرہ کے الفاظ سے خطبۃ الوداع پڑھنا حضرت سید الکونین علیہ الصلاۃ والسلام، خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ہے، اس کو اکابر اہلِ فتاوی نے مکروہ اور بدعت لکھا ہے۔ ابوالحسنات حضرت مولانا عبد الحی لکھنؤی رحمہ اللہ نے ''مجموعۃ الفتاوی'' اور ''خلاصۃ الفتاوی '' (329/4) کے حاشیہ میں اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے ''فتاوی رشیدیہ'' (ص: 123) میں، اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ''امداد الفتاوی'' (685/1)میں، اورحضرت مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند، مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے ''فتاوی دارالعلوم دیوبند'' (96/5) میں اور فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمہ اللہ نے ''فتاوی محمودیہ'' مطبع ڈابھیل (296/8)، مطبع میرٹھ (416/12) میں، اور مفتی محمدشفیع رحمہ اللہ نے ''امداد المفتیین'' (ص: 404) میں بد عت اور مکروہ لکھا ہے۔ (بحوالہ فتاوی قاسمیہ) فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 143909200815
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
کتا پالنا اور کتے کی خرید و فروخت جائز ہے یا ناجائز
فقہاءِ احناف نے شکار وغیرہ کے لیے کتے کی تجارت سے متعلق یہ صراحت فرمائی ہے کہ اس کی خرید و فروخت جائز ہے جب کہ وہ کتا معلم ہو (سدھایا ہواہو) یعنی شکاری ہو یا حفاظت کے لیے ہو، لیکن اگر اس پر یہ اعتراض کیا جا ئے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی ثمن سے منع فرمایا ہے تو کیسے اس کی بیع جائز ہو گئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ابتداءِ اسلام کی بات ہے جب کتے سے کسی طرح انتفاع جائز نہیں تھا، پھر جب کتے سے انتفاع کو جائز قرار دیا گیا تو ان خاص صورتوں میں اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہوگئی۔احناف فرماتے ہیں کہ ابتداءً کتے سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہ تھا پھر تخصیص آئی اور جب اس سے انتفاع جائز قرار دیا گیا تو اس کی خرید و فروخت بھی جائز قرار دی گئی، اسی وجہ سے صرف قابلِ انتفاع کتے ہی کی خرید و فروخت کی اجازت دی گئی ہے، اس کے علاوہ مطلقاً کتے کی بیع کی اجازت نہیں، ذیل کی فقہی عبارت میں اسی بات کی صراحت ملتی ہے، ملاحظہ فرمائیے:
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 69):
"بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذا السنور".
کتے کی تجارت کے جواز کی صراحت کسی حدیث میں نہیں ہے، فقہاء نے اس کی صراحت فرمائی ہے، خلاصہ یہ کہ جس کتے سے انتفاع جائز ہے اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے، اور جس کتے سے انتفاع جائز نہیں اس کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں۔
5۔ بلا ضرورت کتے کو پالنا جائز نہیں اور فرشتوں کی آنے کے لیے رکاوٹ بھی ہیں، مغربی معاشرہ کے غیر مسلمین شریعتِ محمدی کی جزئیات کے مکلف نہیں ہیں؛ اس لیے یہ احکامات ان کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔
6۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس گھر میں کتے ہوں یا تصاویر ہوں؛ لہذا کتوں کو گھر میں رکھنا رحمت کے فرشتوں سے محرومی کا سبب ہے؛ اس لیے اس سے جس قدر ہو سکے احتراز کرنا ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم
انسان اور باقی مخلوق میں مابہ الامتیاز خصوصیت یہ ہے کہ کائنات کی دیگر مخلوق مجبو ر پیدا کی گئی ہے اور انسان کو صاحب اختیار وارادہ بنیا گیا ہے ۔ انسانی ذات کی نشوونما امور سے ہوتی ہے جو اس کے اختیاروارادہ کی صلاحیتوں میں وسعت پیدا کریں۔ اسلام جس نظام کو نوعِ انسان کے لئے تجویز کرتاہے اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انسان کے اختیار وارادہ کی آزادی برقرار رہتی او ر وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی ہے۔ اس لئے کہ نہ مجبوری کی نیکی‘ نیکی ہے‘ نہ مجبوری کی برائی‘ برائی۔۔۔ میزانِ خداوندی میں انسان کے اسی عمل کا وزن ہوتا ہے۔ جس کا وہ اپنے اختیاروارادے سے مرتکب ہوتا ہے۔ خدا کے قانونِ مکافاتِ عمل کی ساری عمارت اس بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ انسان اختیار وارادہ کی آزادی میں ’’مذہبی آزادی‘‘ کو بنیادی خصوصیت حاصل ہے۔ قرآن کریم کی رُو سے ایمان نام ہے کسی صداقت کو دل اور دماغ کے پورے اطمینان کے ساتھ تسلیم کرنے کا۔ اس میں اگر ذرا سی زبردستی ہو یا کسی کے ذہن کو ماؤف کرکے کوئی منوائی جائے تو اسے ایمان کہا ہی نہیں جا سکتا۔ اس لئے نہ کسی کو زبردستی مسلمان جا سکتا ہے اور اگر وہ مسلمان نہ رہنا چاہے تو نہ اسے زبردستی مسلمان رکھا جا سکتا ہے۔ ایک بات البتہ واضح ہے ۔ جب آپ سب کچھ دیکھ بھال اور سوچ سمجھ کر‘ بطیب خاطر کسی سوسائٹی کی رکنیت قبول کرتے ہیں تو اس کے بعد آپ پر لازم آجاتا ہے کہ آپ اس سے سوسائٹی کے قواعد وضوابط کو مانیں اور ان کی پابندی کریں۔ پھر آپ کو اس کا اختیار نہیں رہے گا کہ ان میں سے جس قاعدے اور ضابطہ کو جی چاہے انکار کر دیں۔ اگر آپ ان قواعد وضوابط کو ماننا نہیں چاہتے تو آپ اس سوائٹی کی ممبر شپ سے الگ ہوجائیں۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے ممبر بھی رہیں اور پھر اس کے ضوابط میں سے جسے چاہیں تسلیم کرلیں‘ جسے چاہیں اس سے انکار کر دیں۔یہی کیفیت اسلام میں داخل ہو کر اس کے اوامرونواہی کو تسلیم کرنے کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اُسے زبردستی نہیں کہا جائے گا۔ ویسے بھی‘ جب تک ان قواعد وضوابط کی پابندی نہ کی جائے‘ انسانی ذات میں نشوونما ہو نہیں سکتی۔ نہر کی روانی کے لئے راستے میں ٹھوکروں (FALLS) کا ہونا ضروری ہے ۔ اسی قسم کی خود عائد کردہ پابندیوں سے صحیح آزادی حاصل ہوتی ہے ۔ آزادی کے معنی ہیں‘اپنے آپ پر خود عائد کردہ پابندیوں کی بطیب خاطر نگہداشت کرنا۔ اگر کوئی پابندی زبردستی آپ پر ٹھونسی جائے تو اس کا نام آزادی کا سلب کرنا ہو گا۔
قانون۔ قوانین خداوندی قرآن کریم میں قانون کا لفظ تو نہیں آیا لیکن اس کی ساری تعلیم قانون کے تصور کے گرد گھومتی ہے اور دین کی عمارت اسی بنیاد پر استوار ہوتی ہے۔ قانون سے مراد ’’عدالتی قانون‘‘ ہی نہیں‘ یہ ایک بڑی وسیع اور ہمہ گیر اصطلاح ہے۔ قانون سے مراد یہ ہے کہ:۔ ’’اگر تم ایسا کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ اور ہمیشہ ایسا ہی ہوگا‘‘۔ اسے انگریزی میں ان مختصر الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہ IF.............THEN..........ALWAYS جب یہ اصطلاح نظام کائنات کے ضمن میں استعمال کی جائے تو اس سے مراد ہوتی ہے سلسلہ علف ومعلول۔۔۔ (CAUSE AND EFFECT) ۔یعنی فلاں بات کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ یا اس بات کا سبب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔ لیکن اس نے اپنے لامحدود واختیارات اور لا تنہا اقتدارات پر خود ہی کچھ پابندیاں عائد کرلی ہیں۔ انہی پابندیوں کا نام قانونِ خداوندی ہے۔ یعنی اس نے کچھ قوانین مقر کر دئیے ہیں جن کے مطابق یہ کارگہ کائنات اس حسن وخوبی سے چل رہا ہے۔ اسی قسم کے قوانین اس نے انسانی زندگی کے لئے بھی عطا کر دئیے ہیں اور کہہ دیا ہے کہ اگر تم نے ان کے مطابق چلو گے‘ تو یوں ہو گا۔ ان کی خلاف ورزی کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ اسی کو قانونِ مکافاتِ عمل کہا جاتا ہے۔ یہ قوانین غیر متبدل اور اٹل ہیں اور ہر انسان پر یکساں طور پر حاوی ہیں۔ زمان ومکان کا اختلاف یا شخصیتوں کی تفریق ان پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتی۔ قرآنِ کریم میں بیان کردہ قوانین تمام کے تمام تو اس عنوان کے تحت نہیں دئیے جا سکتے۔ وہ اپنے اپنے متعلقہ عنوانوں کے تحت آئیں گے۔ اس وقت صرف قانون کے اصول سے متعلق مقامات سامنے لائے جاتے ہیں۔ اور ان کی وضاحت کے لئے (مثال کے طور پر) کچھ آیات درج کی جاتی ہیں۔ وضاحت کے لئے عنوان تقدیرؔ اور مکافاتِؔ عمل دیکھئے۔
لغو لغوؔ ۔ بنیادی طور پر لغو‘ ان چیزوں یا باتوں کو کہتے ہیں جو ناقابل اعتناء ہوں۔ یعنی بے معنی‘ بے وزن‘ بیہودہ سی باتیں۔ یعنی ایسی باتیں جو شریف انسانوں کے شایانِ شان نہ ہوں۔ ایسی باتیں جن کا کوئی مطلب اور مفہوم نہ ہو۔ (پرندوں کی آواز کو بھی لغو کہتے ہیں)ایسی گفتگو جو بے سچے سمجھے کی جائے۔ ایسے کام جن کا کوئی وزن یا شمار نہ ہو۔ ان تمام مفاہیم کے لئے لغوؔ کا لفظ آتا ہے۔ قرآن کریم انسانی زندگی کو بڑا (SERIOUSLY) لیتا ہے۔ اس کے نزدیک اس کا ایک ایک لمحہ اس طرح قیمتی ہوتا ہے جس طرح کسان کا فصل بونے کا موسم۔ اسے (SERIOUSLY) نہ لینا اور بے معنی اور بیہودہ باتوں میں ضائع کر دینا‘ انسانیت کی عدالت میں جرم ہے اور فردِ متعلقہ کے لئے بہت بڑے خسارہ کا موجب۔ اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ قرآن‘ لغویاتؔ کی تفصیل نہیں دیتا۔ انہیں ہم (مندرجہ بالا مفہوم کی روشنی میں) خود متعین کر سکتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ چونکہ دنیا میں جنتی زندگی کا عکس ہوتا ہے اس لئے اس میں لغوؔ کا دخل نہیں ہوتا۔
Mufti Muhammad Umar
صلاۃ التسبیح کی جماعت کا حکم
سوال
کیا نمازِ تسبیح باجماعت ادا کی جاسکتی ہے؟
جواب
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک سوج گرہن کے وقت صلاۃ الکسوف، صلاۃ الاستسقاء اور تراویح کے علاوہ کسی بھی نفل نماز کی جماعت کے ساتھ ادائیگی جب کہ مقتدی چار یا چار سے زیادہ ہوں مکروہ ہے، تین افراد کی جماعت میں نوافل کی ادائیگی کے مکروہ ہونے نا ہونے میں اختلاف ہے، جب کہ دو افراد کا جماعت کے ساتھ نوافل ادا کرنا جائز ہے، پس صورتِ مسئولہ میں صلاۃ التسبیح میں چار یا چار سے زیادہ مقتدی ہونے کی صورت میں نفل نماز کی باجماعت ادائیگی مکروہ ہے،ورنہ نہیں۔
حلبی کبیر میں ہے:
"واعلم أن النفل بالجماعة علی سبيل التداعي مكروه". (تتمات من النوافل، ص: ٤٣٢، ط: سهيل اكيدمي)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
"( ولایصلی الوتر و) لا ( التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي؛ بأن يقتدي أربعة بواحد". (شامي، قبيل باب إدراك الفريضة، ٢/ ٤٨- ٤٩، ط: سعيد) فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144108200923
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
2 years ago | [YT] | 9
View 4 replies
Mufti Muhammad Umar
الوداعی جمعہ کی شرعی حیثیت
سوال
شریعت میں ''الوداعی جمعہ'' کی کیا حیثیت ہے؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم اس کی تیاری کرتے تھے؟ نیز جمعۃ الوداع میں جو مخصوص خطبہ پڑھا جاتا ہے صحیح ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں!
جواب
رمضان المبارک کے آخری جمعے کی تیاری اور بطور '' جمعۃ الوداع'' منانانبی کریم ﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور فقہاء کرام سے ثابت نہیں ہے، حضور ﷺ رمضان المبارک کا مکمل آخری عشرہ اعتکاف اور راتوں کو جاگ کر عبادت میں گزارتے تھے، پورے عشرے میں عبادت کا اہتمام تو احادیث میں منقول ہے، لیکن آخری جمعے کے لیے نئے کپڑے سلوانا، تیاری کرنا یا خاص عبادت کرنا احادیث سے ثابت نہیں ہے۔
نیز ’’الوداع والفراق والسلام یا شهر رمضان‘‘ وغیرہ کے الفاظ سے خطبۃ الوداع پڑھنا حضرت سید الکونین علیہ الصلاۃ والسلام، خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ہے، اس کو اکابر اہلِ فتاوی نے مکروہ اور بدعت لکھا ہے۔ ابوالحسنات حضرت مولانا عبد الحی لکھنؤی رحمہ اللہ نے ''مجموعۃ الفتاوی'' اور ''خلاصۃ الفتاوی '' (329/4) کے حاشیہ میں اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے ''فتاوی رشیدیہ'' (ص: 123) میں، اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ''امداد الفتاوی'' (685/1)میں، اورحضرت مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند، مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے ''فتاوی دارالعلوم دیوبند'' (96/5) میں اور فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمہ اللہ نے ''فتاوی محمودیہ'' مطبع ڈابھیل (296/8)، مطبع میرٹھ (416/12) میں، اور مفتی محمدشفیع رحمہ اللہ نے ''امداد المفتیین'' (ص: 404) میں بد عت اور مکروہ لکھا ہے۔ (بحوالہ فتاوی قاسمیہ) فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 143909200815
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
2 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Mufti Muhammad Umar
کتا پالنا اور کتے کی خرید و فروخت جائز ہے یا ناجائز
فقہاءِ احناف نے شکار وغیرہ کے لیے کتے کی تجارت سے متعلق یہ صراحت فرمائی ہے کہ اس کی خرید و فروخت جائز ہے جب کہ وہ کتا معلم ہو (سدھایا ہواہو) یعنی شکاری ہو یا حفاظت کے لیے ہو، لیکن اگر اس پر یہ اعتراض کیا جا ئے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی ثمن سے منع فرمایا ہے تو کیسے اس کی بیع جائز ہو گئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ابتداءِ اسلام کی بات ہے جب کتے سے کسی طرح انتفاع جائز نہیں تھا، پھر جب کتے سے انتفاع کو جائز قرار دیا گیا تو ان خاص صورتوں میں اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہوگئی۔احناف فرماتے ہیں کہ ابتداءً کتے سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہ تھا پھر تخصیص آئی اور جب اس سے انتفاع جائز قرار دیا گیا تو اس کی خرید و فروخت بھی جائز قرار دی گئی، اسی وجہ سے صرف قابلِ انتفاع کتے ہی کی خرید و فروخت کی اجازت دی گئی ہے، اس کے علاوہ مطلقاً کتے کی بیع کی اجازت نہیں، ذیل کی فقہی عبارت میں اسی بات کی صراحت ملتی ہے، ملاحظہ فرمائیے:
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 69):
"بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذا السنور".
کتے کی تجارت کے جواز کی صراحت کسی حدیث میں نہیں ہے، فقہاء نے اس کی صراحت فرمائی ہے، خلاصہ یہ کہ جس کتے سے انتفاع جائز ہے اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے، اور جس کتے سے انتفاع جائز نہیں اس کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں۔
5۔ بلا ضرورت کتے کو پالنا جائز نہیں اور فرشتوں کی آنے کے لیے رکاوٹ بھی ہیں، مغربی معاشرہ کے غیر مسلمین شریعتِ محمدی کی جزئیات کے مکلف نہیں ہیں؛ اس لیے یہ احکامات ان کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔
6۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس گھر میں کتے ہوں یا تصاویر ہوں؛ لہذا کتوں کو گھر میں رکھنا رحمت کے فرشتوں سے محرومی کا سبب ہے؛ اس لیے اس سے جس قدر ہو سکے احتراز کرنا ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم
2 years ago (edited) | [YT] | 1
View 5 replies
Mufti Muhammad Umar
جور واکراہ۔ مذہبی آزادی
انسان اور باقی مخلوق میں مابہ الامتیاز خصوصیت یہ ہے کہ کائنات کی دیگر مخلوق مجبو ر پیدا کی گئی ہے اور انسان کو صاحب اختیار وارادہ بنیا گیا ہے ۔ انسانی ذات کی نشوونما امور سے ہوتی ہے جو اس کے اختیاروارادہ کی صلاحیتوں میں وسعت پیدا کریں۔ اسلام جس نظام کو نوعِ انسان کے لئے تجویز کرتاہے اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انسان کے اختیار وارادہ کی آزادی برقرار رہتی او ر وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی ہے۔ اس لئے کہ نہ مجبوری کی نیکی‘ نیکی ہے‘ نہ مجبوری کی برائی‘ برائی۔۔۔ میزانِ خداوندی میں انسان کے اسی عمل کا وزن ہوتا ہے۔ جس کا وہ اپنے اختیاروارادے سے مرتکب ہوتا ہے۔ خدا کے قانونِ مکافاتِ عمل کی ساری عمارت اس بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔
انسان اختیار وارادہ کی آزادی میں ’’مذہبی آزادی‘‘ کو بنیادی خصوصیت حاصل ہے۔ قرآن کریم کی رُو سے ایمان نام ہے کسی صداقت کو دل اور دماغ کے پورے اطمینان کے ساتھ تسلیم کرنے کا۔ اس میں اگر ذرا سی زبردستی ہو یا کسی کے ذہن کو ماؤف کرکے کوئی منوائی جائے تو اسے ایمان کہا ہی نہیں جا سکتا۔ اس لئے نہ کسی کو زبردستی مسلمان جا سکتا ہے اور اگر وہ مسلمان نہ رہنا چاہے تو نہ اسے زبردستی مسلمان رکھا جا سکتا ہے۔
ایک بات البتہ واضح ہے ۔ جب آپ سب کچھ دیکھ بھال اور سوچ سمجھ کر‘ بطیب خاطر کسی سوسائٹی کی رکنیت قبول کرتے ہیں تو اس کے بعد آپ پر لازم آجاتا ہے کہ آپ اس سے سوسائٹی کے قواعد وضوابط کو مانیں اور ان کی پابندی کریں۔ پھر آپ کو اس کا اختیار نہیں رہے گا کہ ان میں سے جس قاعدے اور ضابطہ کو جی چاہے انکار کر دیں۔ اگر آپ ان قواعد وضوابط کو ماننا نہیں چاہتے تو آپ اس سوائٹی کی ممبر شپ سے الگ ہوجائیں۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے ممبر بھی رہیں اور پھر اس کے ضوابط میں سے جسے چاہیں تسلیم کرلیں‘ جسے چاہیں اس سے انکار کر دیں۔یہی کیفیت اسلام میں داخل ہو کر اس کے اوامرونواہی کو تسلیم کرنے کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اُسے زبردستی نہیں کہا جائے گا۔ ویسے بھی‘ جب تک ان قواعد وضوابط کی پابندی نہ کی جائے‘ انسانی ذات میں نشوونما ہو نہیں سکتی۔ نہر کی روانی کے لئے راستے میں ٹھوکروں (FALLS) کا ہونا ضروری ہے ۔ اسی قسم کی خود عائد کردہ پابندیوں سے صحیح آزادی حاصل ہوتی ہے ۔ آزادی کے معنی ہیں‘اپنے آپ پر خود عائد کردہ پابندیوں کی بطیب خاطر نگہداشت کرنا۔ اگر کوئی پابندی زبردستی آپ پر ٹھونسی جائے تو اس کا نام آزادی کا سلب کرنا ہو گا۔
2 years ago | [YT] | 4
View 0 replies
Mufti Muhammad Umar
قانون۔ قوانین خداوندی
قرآن کریم میں قانون کا لفظ تو نہیں آیا لیکن اس کی ساری تعلیم قانون کے تصور کے گرد گھومتی ہے اور دین کی عمارت اسی بنیاد پر استوار ہوتی ہے۔ قانون سے مراد ’’عدالتی قانون‘‘ ہی نہیں‘ یہ ایک بڑی وسیع اور ہمہ گیر اصطلاح ہے۔ قانون سے مراد یہ ہے کہ:۔
’’اگر تم ایسا کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ اور ہمیشہ ایسا ہی ہوگا‘‘۔
اسے انگریزی میں ان مختصر الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہ
IF.............THEN..........ALWAYS
جب یہ اصطلاح نظام کائنات کے ضمن میں استعمال کی جائے تو اس سے مراد ہوتی ہے سلسلہ علف ومعلول۔۔۔ (CAUSE AND EFFECT) ۔یعنی فلاں بات کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ یا اس بات کا سبب یہ ہے۔
اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔ لیکن اس نے اپنے لامحدود واختیارات اور لا تنہا اقتدارات پر خود ہی کچھ پابندیاں عائد کرلی ہیں۔ انہی پابندیوں کا نام قانونِ خداوندی ہے۔ یعنی اس نے کچھ قوانین مقر کر دئیے ہیں جن کے مطابق یہ کارگہ کائنات اس حسن وخوبی سے چل رہا ہے۔ اسی قسم کے قوانین اس نے انسانی زندگی کے لئے بھی عطا کر دئیے ہیں اور کہہ دیا ہے کہ اگر تم نے ان کے مطابق چلو گے‘ تو یوں ہو گا۔ ان کی خلاف ورزی کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ اسی کو قانونِ مکافاتِ عمل کہا جاتا ہے۔
یہ قوانین غیر متبدل اور اٹل ہیں اور ہر انسان پر یکساں طور پر حاوی ہیں۔ زمان ومکان کا اختلاف یا شخصیتوں کی تفریق ان پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتی۔
قرآنِ کریم میں بیان کردہ قوانین تمام کے تمام تو اس عنوان کے تحت نہیں دئیے جا سکتے۔ وہ اپنے اپنے متعلقہ عنوانوں کے تحت آئیں گے۔ اس وقت صرف قانون کے اصول سے متعلق مقامات سامنے لائے جاتے ہیں۔ اور ان کی وضاحت کے لئے (مثال کے طور پر) کچھ آیات درج کی جاتی ہیں۔ وضاحت کے لئے عنوان تقدیرؔ اور مکافاتِؔ عمل دیکھئے۔
2 years ago | [YT] | 4
View 0 replies
Mufti Muhammad Umar
لغو
لغوؔ ۔ بنیادی طور پر لغو‘ ان چیزوں یا باتوں کو کہتے ہیں جو ناقابل اعتناء ہوں۔ یعنی بے معنی‘ بے وزن‘ بیہودہ سی باتیں۔ یعنی ایسی باتیں جو شریف انسانوں کے شایانِ شان نہ ہوں۔ ایسی باتیں جن کا کوئی مطلب اور مفہوم نہ ہو۔ (پرندوں کی آواز کو بھی لغو کہتے ہیں)ایسی گفتگو جو بے سچے سمجھے کی جائے۔ ایسے کام جن کا کوئی وزن یا شمار نہ ہو۔ ان تمام مفاہیم کے لئے لغوؔ کا لفظ آتا ہے۔
قرآن کریم انسانی زندگی کو بڑا (SERIOUSLY) لیتا ہے۔ اس کے نزدیک اس کا ایک ایک لمحہ اس طرح قیمتی ہوتا ہے جس طرح کسان کا فصل بونے کا موسم۔ اسے (SERIOUSLY) نہ لینا اور بے معنی اور بیہودہ باتوں میں ضائع کر دینا‘ انسانیت کی عدالت میں جرم ہے اور فردِ متعلقہ کے لئے بہت بڑے خسارہ کا موجب۔ اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ قرآن‘ لغویاتؔ کی تفصیل نہیں دیتا۔ انہیں ہم (مندرجہ بالا مفہوم کی روشنی میں) خود متعین کر سکتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ چونکہ دنیا میں جنتی زندگی کا عکس ہوتا ہے اس لئے اس میں لغوؔ کا دخل نہیں ہوتا۔
2 years ago | [YT] | 5
View 3 replies
Mufti Muhammad Umar
رمضان اور دیگر معمولات سے متعلق شرعی راہنمائ کےلیے سوالات کریں
2 years ago | [YT] | 5
View 0 replies
Mufti Muhammad Umar
2 years ago | [YT] | 10
View 1 reply