This channel focuses on Karachi news, current affairs, and real issues often ignored by mainstream media.
It highlights the voices of oppressed and underreported people through factual reporting and documentary-style analysis.
This is an independent and neutral platform with no political support or opposition.
All content is for public awareness and journalistic commentary only.
Backed by 25 years of professional journalism experience, this channel delivers verified and balanced reporting.
Subscribe for authentic Karachi-based journalism and responsible analysis.
www.facebook.com/share/1ScurYo1ki/
Z.B.J news
https://youtu.be/5zFNbIWyPAw
🌍🔥 کیا ایران واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، یا اس پوری کہانی میں ابھی کئی راز سامنے آنا باقی ہیں؟
جنگ، پابندیوں، سفارتی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی رسہ کشی کے بعد اچانک پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے، منجمد اثاثوں تک رسائی ممکن ہوتی ہے، تیل اور گیس کی برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید مستحکم ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ، پاکستان، خلیجی ممالک اور عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔
🤔 کیا ایران واقعی معاشی طور پر مضبوط ہونے جا رہا ہے؟
💰 منجمد اثاثوں کی بحالی سے ایران کو کتنا فائدہ مل سکتا ہے؟
🛢️ کیا تیل کی عالمی منڈی میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟
🌍 پاکستان، خصوصاً کراچی، پر اس کے کیا ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
⚖️ اور کیا یہ تمام پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے؟
اس ویڈیو میں انہی تمام اہم سوالات کا تجزیہ حقائق، موجودہ حالات اور مختلف ممکنہ پہلوؤں کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ مقصد کسی بھی قسم کی افواہ یا قیاس آرائی کو فروغ دینا نہیں بلکہ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے تاکہ ناظرین ایک متوازن اور معلوماتی نقطۂ نظر حاصل کر سکیں۔
📌 اگر آپ بین الاقوامی سیاست، مشرقِ وسطیٰ، ایران، پاکستان، عالمی معیشت اور اہم سفارتی پیش رفت پر مستند تجزیے دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ ویڈیو ضرور ملاحظہ کریں۔
💬 آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے۔ اس موضوع پر اپنی سوچ ضرور شیئر کریں۔
#IranNews
#MiddleEast
#WorldNews
#BreakingNews
#Geopolitics
#PakistanNews
#StraitOfHormuz
#Trending
#InstagramReels
7 hours ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/xSC8e2YbuVo
🏛️ ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن کی تیاریوں نے نہ صرف کراچی بلکہ سندھ اور ملکی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا پارٹی کے اندر قیادت کا نیا باب کھلنے جا رہا ہے، یا موجودہ قیادت ہی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگی؟ 🤔
الیکشن کمیشن کی ہدایات کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے تنظیمی انتخابات پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ مختلف سیاسی مبصرین کی جانب سے قیادت کے مستقبل، پارٹی کے اندر طاقت کے توازن اور ممکنہ تبدیلیوں پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں کامران خان ٹیسوری کا نام بھی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں اور مستقبل کا فیصلہ پارٹی کے آئینی و تنظیمی عمل سے ہی سامنے آئے گا۔
⚖️ اس ویڈیو میں ایم کیو ایم پاکستان کی اندرونی سیاست، کراچی کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات، سندھ کی مجموعی صورتحال اور قومی سیاست پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی اور تجزیاتی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ الطاف حسین کے بعد پارٹی کی قیادت میں آنے والی تبدیلیاں، فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور موجودہ سیاسی منظرنامے کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
🌍 کراچی کی سیاست ہمیشہ قومی سیاست پر اثر انداز رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے اندر ہونے والی ہر اہم پیش رفت صرف ایک جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ شہری سندھ، وفاقی سیاست اور مستقبل کے سیاسی اتحادوں کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔
📌 اس ویڈیو میں پیش کیے گئے نکات سیاسی تجزیے، عوامی سطح پر زیرِ گردش معلومات اور موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں بیان کیے گئے ہیں تاکہ ناظرین مختلف پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
💬 آپ کی رائے میں ایم کیو ایم پاکستان کی آئندہ قیادت کس کے ہاتھ میں جا سکتی ہے؟ کیا انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی کے مستقبل میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں؟
🔔 ملکی سیاست، کراچی، سندھ اور اہم قومی معاملات پر مستند تجزیے اور بروقت اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیے۔
#MQMPakistan #KamranTessori #KarachiPolitics #PakistanPolitics #BreakingNews #NewsUpdate #LatestNews
10 hours ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
🌍*👈 پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا*
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ( پی ایل ایل) کے مطابق 15 سے 16 جولائی کی ایل این جی کارگو سپلائی کے لیے 3 بولیاں موصول ہوئیں۔
پی ایل ایل نے بتایا ہے کہ ایل این جی کارگو کے لیے سب سے کم بولی کو منظور کیا گیا۔
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے مطابق سب سے کم بولی 18.23 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے آئی جبکہ باقی 2 بولیاں 18.59 ڈالر اور 18.72 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی تھیں ۔
1 day ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
ہر سال بےشمار پرندے شیشے کی کھڑکیوں سے ٹکرا کر ہلاک ہو جاتے ہیں- انسانی آنکھ کے لیے یہ شیشہ یا تو بالکل غائب (شفاف) دکھائی دیتا ہے یا پھر یہ آسمان اور آس پاس کے درختوں کا عکس اتنی باریانی سے دکھاتا ہے کہ پرندے اسے کھلا آسمان سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن قدرت کی نازک ترین تخلیقات میں سے ایک کے اندر ایک ایسا حل چھپا ہوا ہے، جِس کی اہمیت کا اندازہ سائنسدانوں کو حال ہی میں ہونا شروع ہوا ہے- آرب ویور (Orb-weaving) نسل کی مکڑیاں ایک ایسا ریشم (جالا) تیار کرتی ہیں، جو الٹرا وائلٹ (UV - بالائے بنفشی) روشنی کو منعکس کرتا ہے- انسان الٹرا وائلٹ روشنی کو نہیں دیکھ سکتے لیکن بہت سے پرندے اور کیڑے مکوڑے اسے واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں- یہ غیرمعمولی خصوصیت ایک ہی وقت میں دو اہم کام کرتی ہے، یہ کیڑے مکوڑوں کے لیے ایک چمکتے ہوئے سگنل کا کام کرتی ہے، جو انہیں جالے کی طرف راغب کرتا ہے اور یہ پرندوں کو دور رہنے کی تنبیہ کرتی ہے، جِس سے جالا کسی اڑتے ہوئے پرندے کے ٹکرانے اور تباہ ہونے سے محفوظ رہتا ہے- مکڑی الٹرا وائلٹ انجینئرنگ، آپٹیکل سگنلنگ (نوری اشاروں) یا پرندوں کی بصارت کی سائنس کو نہیں سمجھتی- اس کے باوجود یہ پورا نظام حیرت انگیز درستگی کے ساتھ کام کرتا ہے- سائنسدان اس قدرتی ڈیزائن سے اتنے متاثر ہوئے کہ کمپنیوں نے اس کی نقل کرنا شروع کر دی- اب چھوٹی، بڑی عمارتوں کے شیشے کی کھڑکیوں پر خصوصی یو وی ریفلیکٹو (UV-reflective) کوٹنگز کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پرندوں کو ان جان لیوا ٹکراؤ سے بچایا جا سکے- یہ ڈیزائن انسانوں کے لیے تو پوشیدہ رہتے ہیں لیکن پرندے انہیں آسانی سے پہچان لیتے ہیں- ایک بار پھر بنی نوع انسان نے تخلیقِ کائنات کا مطالعہ کیا اور خدا کی قدرت سے ایک ایسا آئیڈیا مستعار لیا، جِسے خدا نے پہلے ہی روز سے فطرت کے نظام میں پرو رکھا تھا- خالقِ کائنات کی حکمت مکڑی کے جالے کے ایک ایک دھاگے میں لکھی ہوئی ہے-
1 day ago | [YT] | 3
View 0 replies
Z.B.J news
کیا آپ جانتے ہیں؟
سائنسدانوں نے پہلی بار ایک ایسے سیارے کے بارے میں مضبوط شواہد حاصل کیے ہیں جہاں بادل ریت یا پانی کے نہیں، بلکہ پگھلے ہوئے معدنی ذرات کے ہو سکتے ہیں۔
جدید خلائی دوربینوں کی مدد سے ماہرین دور دراز سیاروں کے ماحول کا تجزیہ کر رہے ہیں، جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ کائنات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ عجیب اور حیران کن ہے۔
ہر نئی دریافت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زمین شاید کائنات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جبکہ اربوں دنیائیں ابھی بھی ہمارے انتظار میں ہیں۔
سوال یہ ہے: کیا مستقبل میں انسان ان دُور دراز سیاروں تک پہنچ سکے گا؟
#Space
#Science
#Universe
#astronomy
#Dilnawaz
#NASA
1 day ago | [YT] | 6
View 2 replies
Z.B.J news
کیا آپ یقین کریں گے کہ ناسا کا وائجر-1 ہمارے نظامِ شمسی کے کنارے پر تقریباً 90,000 ڈگری درجۂ حرارت والی دیوار کو پار کر آیا ہے۔
یہ کوئی ٹھوس دیوار نہیں، بلکہ انتہائی گرم پلازما کا ایک ہنگامہ خیز خطہ ہے، جسے NASA نے نظامِ شمسی کی آخری سرحد، یعنی ہیلیوپاز (Heliopause) کے قریب دریافت کیا۔
دوستو! جب وائجر-1 سورج کے اثر و رسوخ سے باہر نکلا تو اس نے ایک ایسے علاقے کا مشاہدہ کیا جہاں پلازما کا درجۂ حرارت تقریباً 30,000 سے 90,000 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ خطہ اس جگہ بنتا ہے جہاں سورج سے آنے والی شمسی ہوا، بین النجمی خلا (Interstellar Space) کے دباؤ سے ٹکراتی ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا زیادہ درجۂ حرارت ہونے کے باوجود اگر کوئی انسان وہاں موجود ہو تو اسے شدید گرمی محسوس نہیں ہوگی۔ وجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں پلازما کے ذرات انتہائی کم ہیں، یعنی خلا اتنا خالی ہے کہ حرارت مؤثر طریقے سے منتقل ہی نہیں ہو پاتی۔
یہ پلازما دیوار زمین کے لیے ایک قدرتی حفاظتی ڈھال بھی ہے، کیونکہ یہ کہکشاں سے آنے والی نقصان دہ کاسمک شعاعوں کا بڑا حصہ روکنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر یہ حفاظتی سرحد نہ ہوتی تو زمین پر زندگی کو کہیں زیادہ خطرناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
آج Voyager 1 زمین سے 15 ارب میل سے بھی زیادہ فاصلے پر موجود ہے اور اب بھی ہمیں قیمتی سائنسی معلومات بھیج رہا ہے۔ اس کی بدولت ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی کی سرحد ہماری توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پُراسرار ہے۔
آپ کے خیال میں Voyager 1 کو بین النجمی خلا میں آگے جا کر سب سے حیران کن چیز کیا مل سکتی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں! میری ریسرچ پسند آئی ہو تو فالو اور پوسٹ کو شیئر کریں۔
#Voyager1 #NASA #SolarSystem #Heliopause #Space
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
قدیم یونانیوں اور چینیوں دونوں نے ہی مقناطیسی پتھروں (Lodestones) کی کشش کے بارے میں لکھا ہے۔ چینیوں نے تقریباً 200 سے 100 قبل مسیح کے دوران اسے نیویگیشن (سمندری سفر) میں کمپاس کی ابتدائی شکل کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔
مقناطیسیت کے بارے میں باقاعدہ اور منظم سائنسی تحقیق کا آغاز 1600 عیسوی میں ہوا، جب برطانوی سائنسدان ولیم گلبرٹ (William Gilbert) نے اپنی کتاب De Magnete شائع کی۔
انہوں نے ہی پہلی بار یہ ثابت کیا کہ زمین بذات خود ایک بہت بڑا مقناطیس ہے
1 day ago | [YT] | 3
View 0 replies
Z.B.J news
اگر ہمارا سورج اچانک ایک ایسے ستارے سے بدل جائے جس کی سطح زحل کے مدار تک پھیلی ہو۔ زمین، مریخ، مشتری — سب اس ستارے کے اندر ہوں گے۔ ختم۔ غائب۔ ایسا کوئی ستارہ واقعی موجود ہے۔ اس کا نام ہے Stephenson 2-18۔
یہ کہانی 1990 کی دہائی میں شروع ہوتی ہے، جب آسٹریلیا کی ایک آبزرویٹری میں ماہرِ فلکیات چارلس سٹیفنسن ایک ستاروں کے جھرمٹ کا جائزہ لے رہے تھے۔ یہ جھرمٹ ہماری کہکشاں کے ایک بازو میں تھا، زمین سے تقریباً 20,000 نوری سال دور۔ اس جھرمٹ میں ایک ستارہ باقی سب سے مختلف نظر آیا — سرخ، دھندلا، اور عجیب طور پر بہت روشن ہونے کے باوجود بہت ٹھنڈا۔
یہ ایک "ریڈ ہائپرجائنٹ" تھا۔ سادہ الفاظ میں: ایسا ستارہ جو اپنی زندگی کے آخری مراحل میں اتنا پھول جاتا ہے کہ اس کا حجم تصور سے باہر ہو جاتا ہے۔ لیکن جب سائنسدانوں نے اس کا سائز ناپنا شروع کیا، تو نتیجہ خود انہیں پریشان کر گیا۔
اندازہ لگایا گیا کہ اس ستارے کا قطر سورج سے تقریباً 2,150 گنا زیادہ ہے۔ ایک لمحے کے لیے رکیں اور اسے محسوس کریں۔ اگر آپ روشنی کی رفتار سے اس ستارے کے گرد ایک چکر لگانا چاہیں، تو صرف ایک چکر مکمل کرنے میں آپ کو 9 گھنٹے سے زیادہ لگیں گے۔ سورج کے گرد ایک چکر؟ صرف 14.5 سیکنڈ۔
یہ سن کر ماہرینِ فلکیات کی برادری میں ایک بحث چھڑ گئی، اور یہیں سے کہانی کا وہ موڑ آتا ہے جو اسے باقی "سب سے بڑے ستاروں" کی کہانیوں سے الگ کرتا ہے۔
Stephenson 2-18 واقعی ایک ریڈ ہائپرجائنٹ ہے اور یہ اب تک دریافت ہونے والے سب سے بڑے ستاروں میں شمار ہوتا ہے۔
اس کا اصل سائز کوئی حتمی طور پر نہیں جانتا۔ کیوں؟ کیونکہ اتنے فاصلے پر — بیس ہزار نوری سال — فاصلے کی پیمائش میں تھوڑی سی غلطی بھی نتیجے کو بہت بدل دیتی ہے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں یہ ستارہ سورج سے 2,150 گنا بڑا ہے۔ کچھ کہتے ہیں اصل سائز اس سے کہیں کم ہے، شاید 1,000 سے 1,300 گنا کے قریب۔ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ ہو سکتا ہے یہ کہکشاں کا "سب سے بڑا ستارہ" ہونے کا اعزاز بھی نہ رکھتا ہو۔
اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں یہ کہانی ایک عام "حیرت انگیز فیکٹ" سے کچھ زیادہ بن جاتی ہے۔ ہم ایک ایسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو اتنی بڑی ہے کہ ہمارا پورا نظامِ شمسی اس کے اندر گم ہو جائے — اور پھر بھی، انسان اس کا صحیح سائز یقین سے نہیں بتا سکتا۔ ہماری بہترین دوربینیں، ہمارے بہترین حساب کتاب، سب اس ایک ستارے کے سامنے اپنی حد دکھا دیتے ہیں۔
ہم کائنات کے بارے میں جتنے یقین سے بات کرتے ہیں، حقیقت اس سے کہیں زیادہ دھندلی ہے۔ ایک ستارہ، اتنا بڑا کہ سیارے اس میں سما جائیں، اور پھر بھی ہماری پیمائش کی پہنچ سے تھوڑا باہر۔ کائنات نے شاید جان بوجھ کر ہمیں یہ سبق دیا ہے — کہ کچھ چیزیں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ انہیں مکمل طور پر ناپا ہی نہیں جا سکتا۔
اگر آپ کو خلاء کی ایسی کہانیاں پسند ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں — تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔
ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ 🌌
1 day ago | [YT] | 2
View 0 replies
Z.B.J news
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی اور دنیا میں بارش کیسی ہوگی؟
زمین سے تقریباً ایک ارب اسی کروڑ کلومیٹر دور، زحل کے گرد چکر لگاتا ایک چاند ہے — ٹائٹن۔ اور وہاں، بارش ہوتی ہے۔ بادل بنتے ہیں۔ دریا بہتے ہیں۔ جھیلیں اور سمندر تک موجود ہیں۔
مگر رکیے۔ یہ سب کچھ پانی کا نہیں۔
جب 2004 میں ناسا کا Cassini خلائی جہاز زحل کے نظام میں پہنچا، تو سائنسدانوں نے پہلی بار ٹائٹن کو قریب سے دیکھا۔ جو منظر سامنے آیا، وہ کسی سائنس فکشن فلم سے کم نہ تھا۔ ایک دھندلی، نارنجی رنگ کی فضا میں لپٹا ہوا چاند، جس کی سطح پر مائع کے بہنے کے واضح نشان تھے۔
پھر 2005 میں Huygens probe اس دھند کو چیر کر ٹائٹن کی سطح پر اترا — انسانیت کی تاریخ میں کسی خلائی جہاز کا کسی دوسری دنیا کی سطح پر، اتنی دور، پہلا حقیقی لینڈنگ۔ اور جو تصویریں واپس آئیں، ان میں کنکر نظر آئے۔ ندی کے کنارے جیسے نشانات۔ ایسا منظر جیسے کسی زمینی صحرا میں سیلاب کے بعد کا نقشہ ہو۔
مگر یہاں ٹھہریے، کیونکہ اصل حیرت ابھی باقی ہے۔
ٹائٹن پر درجہ حرارت منفی 179 ڈگری سیلسیس ہے۔ اتنی سردی میں پانی تو پتھر کی طرح جما ہوا ہے — دراصل ٹائٹن کی زمین ہی جمے ہوئے پانی کی برف سے بنی ہے۔ تو پھر وہ مائع کیا ہے جو بارش بن کر گرتا ہے، جو دریاؤں میں بہتا ہے، جو جھیلیں بھرتا ہے؟
میتھین۔ اور ایتھین۔ وہی گیسیں جو زمین پر ہمارے چولہوں میں جلتی ہیں، ٹائٹن پر اتنی سرد ہیں کہ مائع حالت میں موجود رہتی ہیں — بالکل ویسے جیسے زمین پر پانی۔
ذرا تصور کریں: آسمان پر نارنجی دھند کا پردہ۔ نیچے مائع میتھین کے قطرے، آہستہ آہستہ گرتے ہوئے — کیونکہ ٹائٹن کی کشش ثقل زمین سے بہت کم ہے، تو بارش کا ہر قطرہ زمین کی بارش سے کہیں زیادہ سست، جیسے سلو موشن میں گر رہا ہو۔ نیچے میتھین کی جھیلیں، جن میں سب سے بڑی، Kraken Mare، شمالی امریکہ کی جھیل سپیریئر سے کئی گنا بڑی ہے۔
اور طوفان؟ وہ بھی آتے ہیں۔ سائنسدانوں نے ٹائٹن پر میتھین کے بادلوں کو جمع ہوتے اور برستے دیکھا ہے — بالکل زمین کے موسمی نظام جیسا ایک مکمل چکر، مگر پانی کی جگہ ایک ایسی گیس کے ساتھ جسے ہم آتش گیر سمجھتے ہیں۔
یہاں وہ موڑ آتا ہے جو سائنسدانوں کی نیندیں اڑا دیتا ہے۔ جہاں مائع ہو، بہاؤ ہو، ایک مکمل موسمی نظام ہو — وہاں کیمسٹری بھی پیچیدہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کچھ سائنسدان یہ سوال اٹھاتے ہیں: کیا ٹائٹن پر ایسی زندگی ممکن ہے جو پانی کی بجائے مائع میتھین پر انحصار کرتی ہو؟ یہ ابھی صرف ایک مفروضہ ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں مگر ناسا کا Dragonfly مشن، جو 2030 کی دہائی میں ٹائٹن پر اترنے کی تیاری میں ہے، شاید اسی سوال کا جواب ڈھونڈے گا۔
سوچیں تو ایک بار: ہماری اپنی کہکشاں کے ایک کونے میں، ایک ایسی دنیا موجود ہے جہاں موسم ہے، بارش ہے، دریا اور سمندر ہیں — بس وہ سب کچھ ایک ایسے مادے سے بنا ہے جسے ہم زمین پر ایندھن سمجھتے ہیں۔ کائنات "زندگی کے لیے موزوں دنیا" کی تعریف کو کتنی آسانی سے بدل دیتی ہے، ہے نا؟
اگر آپ کو خلاء کی ایسی کہانیاں پسند ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں — تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔
ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ 🌌
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
سائنسدانوں نے ایک سال سے زائد ڈیٹا کے بعد پایا کہ الیکٹرون کبھی خود بخود نہیں ٹوٹتا- الیکٹرون کا نہ ٹوٹنا فزکس کے اس بنیادی قانون کی گواہی ہے کہ کائنات میں چارج ہمیشہ برقرار رہتا ہے- الیکٹرون کی یہ طویل عمر ثابت کرتی ہے کہ کائنات کے بنیادی تعمیری بلاکس کس قدر مضبوط اور پائیدار ہیں- 2015ء میں، اٹلی میں بوریکسینو تجربے (Borexino experiment) پر کام کرنے والے محققین نے تخمینہ لگایا کہ ایک الیکٹرون کی کم از کم عمر تقریباً 66,000 یوٹا سال (yottayears) ہوتی ہے- یہ دورانیہ کائنات کی موجودہ عمر سے تقریباً 5 کواڈریلیئن (quintillion) گنا زیادہ ہے، جس کا تخمینہ 13.8 ارب سال لگایا گیا ہے- الیکٹرونز بنیادی ذرات (fundamental particles) ہیں، جن پر منفی برقی چارج (negative electric charge) ہوتا ہے- ذراتی طبیعیات (particle physics) کے اسٹینڈرڈ ماڈل کے مطابق، انہیں پائیدار مانا جاتا ہے اور یہ فنا (decay) نہیں ہوتے- بوریکسینو تجربے کا مقصد الیکٹرونز کے ہلکے ذرات، جیسے کہ فوٹونز اور نیوٹرینوز میں ممکنہ طور پر ٹوٹنے یا فنا ہونے کا پتہ لگانا تھا- تاہم، ایک سال سے زیادہ کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد، الیکٹرون کے فنا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا- فنا کے عمل کی اس عدم موجودگی نے سائنسدانوں کو الیکٹرون کی عمر کی کم از کم حد (lower limit) کا تعین کرنے میں مدد دی- اگر الیکٹرون فنا ہوتے تو یہ تحفظِ چارج کے اصول (principle of charge conservation) کی خلاف ورزی ہوتی، جو کہ طبیعیات کا ایک بنیادی تصور ہے- آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو الیکٹرون کی متوقع عمر کائنات کی کل عمر سے کہیں زیادہ طویل ہے- اگر الیکٹرون فنا نہیں ہوتے تو وہ ایک ناقابلِ تصور طویل مدت تک تبدیل ہوئے بغیر برقرار رہیں گے، جو کائنات کی موجودہ عمر سے کہیں زیادہ ہے- یہ دریافت بنیادی ذرات کے شاندار استحکام اور کائنات کے بنیادی تعمیری بلاکس کی پائیدار نوعیت کو نمایاں کرتی ہے-
1 day ago | [YT] | 3
View 0 replies
Load more