Welcome to Manzoor Gujjar




Manzoor Gujjar

کارپوریٹ فارمنگ اور چھوٹا کسان۔

زرعی حلقوں میں یہ بحث بہت گرم ہے کہ آیا۔کارپوریٹ فارمنگ کے زراعت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ، بطور فارم کنسلٹنٹ مجھے کارپوریٹ فارمنگ اور چھوٹے کسان دونوں طرف کام کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے اور کنسلٹینسی کے شعبہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ملکی و عالمی زرعی مارکیٹ پر نظر رکھنا بھی میرے لیے ضروری ہوتا ہے۔

میرے خیال میں یہ پراجیکٹس چھوٹے کسان کے فائدے کے لیے شروع نہیں کیے گئے بلکہ چھوٹے کسان کو اس کارپوریٹ فارمنگ سے نقصان ہو گا کیونکہ کارپوریٹ فارمنگ کرنے والے مکمل بزنس مین ہیں جو پروڈکشن اور خرید و فروخت کے ہر مرحلے پر بطور پروفیشنل کام کریں گے پراڈکٹس ڈائریکٹ امپورٹ کریں گے اپنے فارمز سے خود ایکسپورٹ کریں گے انکی انپٹ کاسٹ ایک عام کسان سے کم ہو گی اور قیمت فروخت زیادہ ساتھ یہ ملکی و بین الاقوامی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتے ہوں گے جس وجہ سے چھوٹا کسان وقت کے ساتھ خود ہی مارکیٹ سے باہر ہوتا جاے گا۔

دوسری طرف اگر دیکھیں تو یہ بزنس نیچر ہے جیسے جیسے دنیا سکڑ رہی ہے بڑے کاروبار چھوٹے کاروباروں کو کھا رہے ہیں تو اس صورتحال میں اگر پاکستان ایسی حکمت عملیاں نہیں اپناتے گا اور ہر صورت چھوٹے کسان کی خاطر کارپوریٹ فارمنگ کا راستہ روکا جاے گا تو بیرونی دنیا کے ٹائیکون پاکستانی چھوٹے کسان کو کھا جائیں گے جیسے کہ کھا رہے ہیں۔

اب بھی مارکیٹ کا جائزہ لیں تو ہماری پیسٹیسائیڈز سے لیکر بیجوں تک بلکہ بڑی فصلیں جیسے گندم کپاس چینی سے لیکر چنے دالوں تک سب کچھ باہر سے آ رہا ہے کیونکہ ہمارے کسان کے پاس وہ پاور ہی نہیں نہ علمی نہ عملی اور نہ ہی انویسٹمنٹ کی کہ وہ دنیا کا۔مقابلہ کر سکے، میں یا میرے دیگر سینیر کنسلٹنٹس کارپوریٹ فارمز کا چند گھنٹوں کا دورہ کرتے ہیں تو فارمرز ہماری لاکھوں روپے فیسیں بخوشی افورڈ کرتے ہیں جبکہ ہمارے چھوٹے کسان کے پاس ہمارے پٹرول کے اخراجات برداشت کرنے کی طاقت بمشکل بنتی ہے یہ ایسے حقائق ہیں جن سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی کہ ملکی زراعت کو بچانے کے لیے یہاں بھی بڑی مچھلیاں مقابلہ کرنے کے لیے پالی جا رہی ہیں کیونکہ چھوٹے کسانوں کے بس کی یہ بات ہی نہیں اور نہ ہمارے ننانوے فیصد کسانوں نے زراعت کو بطور بزنس کبھی اپنایا ہے یہ جاگیر دار ہیں جنکی آمدن مزاروں۔ سے آ جاتی ہے اور یہ کتے ککڑ لڑانے دشمنیاں پالنے یا فریق مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے سیاسی جھمیلوں میں پڑے ہوے ہیں یا پھر گھر میں۔ جو ذہنی لحاظ سے سب سے کمزور ہو یا سب کے احترام میں خاموش رہنے والا ہو اسکے ذمہ ڈیرہ اور فصلیں لگا دی جاتی ہیں جبکہ زراعت ایک بزنس ہے جسے بزنس مین ہی چلا سکتے ہیں۔

یہ میری ذاتی آبزرویشن ہے دیگر سینیرز کی راے اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔

1 year ago | [YT] | 0

Manzoor Gujjar

ایلون مسک کی کمپنی سٹار لنک کو پاکستان میں بذریعہ سیٹلائیٹ انٹر نیٹ کی تیز ترین سروس دینے کا لائسنس مل گیا ہے جسکے دیگر شعبوں سمیت زراعت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے،

جہاں تک موجودہ فور جی سسٹم کی سپیڈ اور سٹار لنک سپیڈ کا تعلق ہے تو موجودہ کمپنیوں کے فور جی نیٹ ورکس پاکستان میں ایوریج اپ لوڈنگ سپیڈ 10 سے 15 میگا بائیٹس فی سیکنڈ دے رہے ہیں جبکہ ڈاؤن لوڈنگ ایوریج سپیڈ 15 سے 25 میگا بائیٹس فی سیکنڈ ہے، ٹاورز سے دوری نزدیکی اور کنزیومرز کا لوڈ سپیڈ پر اثر اندازہ ہوتا رہتا ہے۔

جبکہ سٹار لنک کی اپ لوڈنگ سپیڈ 50 میگا بائیٹس فی سیکنڈ تک ہو گی جبکہ ڈاؤن لوڈنگ سپیڈ 50 سے 250 میگا بائیٹس فی سیکنڈ تک ہو گی جو کچھ علاقوں میں ایک جی بی فی سیکنڈ تک بھی ہو سکتی ہے۔

اس سپیڈ کے بعد موجودہ نیٹ ورکس و کمپنیوں اور انکی سروسز کے لیے میدان میں رہنا ممکن نہیں رہے گا بلکہ تغیر پذیر دنیا میں جس نے بھی وقت کے ساتھ خودکو تبدیل نہ کیا اسکو بدلتا وقت ریس سے باہر کر دے گا اور بطور کسان اب ہماری ریس بھی اپنے پڑوسی کسان سے نہیں بلکہ پڑوسی ملک یا پڑوسی بر اعظم سے ہے اس لیے بطور کسان اپنے ساتھی یا پڑوسی سے آگے نکلنے کی بجاے اب اپنے ساتھی کو ساتھ لیکر بھاگنا ہو گا ورنہ ناکامی کاسامنا ہو گا آج دنیا گلوب کی صورت ہر انسان کی ہتھیلی پر ہے ،

جغرافیائی حدود اور حکومت و بادشاہت کا پرانا نظام ختم ہو چکا اب کسی ایک سوچ یا ذہن سے تعلق رکھنے والے افراد گلوبلی الگ الگ پلیٹ فارمز پر اکٹھے ہو رہے ہیں آنے والے وقت میں ممالک نہیں بلکہ آرگنائزیشنز کا کنٹرول ہو گا کیونکہ دنیا کے کسی حصے میں بیٹھ کر ایک کسان باغبان گروپ میں آرڈر کر کے کچھ منگوا رہا ہے تو پاکستان کے کسی دور دراز بظاہر پسماندہ علاقے میں بیٹھا دوسرا کسان اسے اپنے فارم پر تیار وہاں علاقائی حساب سے جس چیز کی کوئی ویلیو نہیں مثلا جانور کا گوبر بکری کی مینگنیاں مہنگے داموں سیل کر رہا ہے، تو کہیں ایک کاروباری ایریا میں گارڈ کی کرسی پر بیٹھا مخصوص ذہنیت کا شخص اپنے ذہنی لیول کے گروپ سے جڑ کر کچھ فضول دیکھ رہا ہے، اب علم تعلیم کاروبار ترقی و پستی میں جانا ہر انسان کے ذاتی اختیار میں ہو چکا ہے، یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں در حقیقت بہت بڑی تبدیلیاں ہیں انہیں محسوس کرنے کی ضرورت ہے ،

ایک دوست نے دنیا کی سپر پاور امریکہ میں بیٹھ کر پچھلے دنوں پاکستان میں باغبان گروپ کے زریعہ پچاس ہزار کے ڈرائی فروٹس امریکہ منگواے ، پھر دوست نے پاکستان سے بذریعہ باغبان رجسٹرڈ سیلر ہماری سرخ گاجر 🥕 مونگرے اور ٹینڈے پالک کا بیج امریکہ منگوایا ہے یہ بیس پچاس یا سو گرام ہیں لیکن اصل میسج اسکے پیچھے تبدیل ہوتی دنیا اور اس میں پاکستان کے نیچرل سورسز ہیں جو ہمارے پاس ہیں اور ہم انہیں استعمال کر سکتے ہیں جغرافیائی سرحدیں ختم ہو چکی ہیں دنیا آپکے سامنے کھلی پڑی ہے زبان کی قید سے بھی انسان آزاد ہو چکا ہے آج آپ ٹیکنالوجی کے ذریعہ دنیا کی کسی زبان میں کسی سے بات کر سکتے ہیں کسی تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں

بدلتے وقت کے ساتھ بدلتے باغبان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے فارم کا کوئی نام رکھے اور اس فارم کی لوکیشن اس پر موجود پروڈکٹس کی تفصیل۔لکھیں اور انٹر نیٹ پر ڈال دیں۔

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوے سورج کو ذرا دیکھ۔

فارم کنسلٹنٹ محمد اسلم میکن۔

1 year ago | [YT] | 3

Manzoor Gujjar

ایک کسٹمر کے لیے منگوایا گیا نصر پوری پیاز کا 100 کلو بیج سندھ سے وہاڑی پہنچا۔۔۔۔

2 years ago | [YT] | 27

Manzoor Gujjar

مون سٹارسیڈز کے CEO جناب حسان صاحب اپنے حیدرآباد فارم پر منظور گجر صاحب کو مرچ کی نئی آنے والی اقسام پر بریفنگ دیتے ہوئے۔۔۔۔۔10/05/2024

2 years ago | [YT] | 11