سید جعفر الزمان نے اپنی کتاب 'مجالس المنتظرین' میں اس روایت کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا ہے
حضرت مسلم بن عقیلؑ جب امام حسینؑ کے سفیر بن کر کوفہ آئے، تو وہ اپنے دونوں کمسن بیٹوں (محمد اور ابراہیم) کو بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔
کوفہ میں قیام کے دوران یہ بچے جنابِ ہانی بن عروہ کے گھر میں موجود تھے۔ جب ابنِ زیاد نے جنابِ ہانی کو گرفتار کر لیا، تو حضرت مسلم بن عقیلؑ نے وہاں سے خروج کیا۔ بچوں کی حفاظت کی خاطر انہیں ہانی بن عروہ کے گھر ہی چھوڑ دیا گیا۔
جب حضرت مسلم ع کو اکیلا کر کے شہید کر دیا گیا، تو دونوں معصوم بچوں نے ہانی کے گھر کی پچھلی دیوار پھلانگی، جس کی پشت قاضی شریح کے گھر سے ملتی تھی۔ وہ قاضی شریح کے گھر میں چھپ گئے۔
قاضی شریح نے ابنِ زیاد کے خوف سے بچوں کو اپنے گھر رکھنا خطرہ سمجھا۔ اس نے رات کے وقت اپنے بیٹے کے ہمراہ دونوں بچوں کو مدینہ کے قافلے کی طرف روانہ کر دیا تاکہ یہ بحفاظت نکل جائیں۔ لیکن راستے میں اندھیرے اور خوف کی وجہ سے بچے قافلے سے بچھڑ گئے، راستہ بھول گئے اور ابنِ زیاد کے سپاہیوں کے ہاتھ چڑھ گئے، جنہوں نے انہیں کوفہ کے قید خانے میں ڈال دیا
مقتل کی معتبر کتابوں (جیسے مقتل الحسینؑ مقرم اور نفس المہموم) اور تاریخی شواہد کے مطابق، جب ۹ ذوالحجہ ۶۰ ہجری کو حضرت مسلم بن عقیلؑ کو دارالامارہ کی چھت پر شہید کر دیا گیا، تو ابن زیاد ملعون کے حکم سے آپ کے سر مبارک کو تن سے جدا کر کے یزید کو دمشق (شام) بھجوا دیا گیا۔
اہلِ کوفہ کے دلوں میں رعب اور خوف پیدا کرنے کے لیے، ابن زیاد نے حکم دیا کہ آپ کے اور جناب ہانی بن عروہ کے جسدِ اطہر کے ساتھ انتہائی بے حرمتی کی جائے۔
مؤرخین کے مطابق، جلادوں نے حضرت مسلم بن عقیلؑ اور جنابِ ہانی بن عروہؑ کے پیروں میں رسیاں باندھی کوفہ کے بازاروں میں گھسیٹنا ان رسیوں کے ذریعے ان دونوں عظیم ہستیوں کے بے سر لاشوں کو کوفہ کے بازاروں، گلیوں اور قصابوں کے محلے (سوق القصابین) میں گھسیٹا گیا۔
اس زمانے میں مکہ کا گورنر عمرو بن سعید بن العاص تھا، جسے “اشدق” کہا جاتا تھا۔ تاریخی کتب میں ملتا ہے کہ یزید نے اسے سخت ہدایات دیں کہ: امام حسینؑ سے بیعت لی جائے، ورنہ انہیں قتل کردیا جائے۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ: مسلح افراد کو حاجیوں کے بھیس میں مکہ میں داخل کیا گیا کچھ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے تاکہ شک نہ ہو منصوبہ یہ تھا کہ ہجوم میں اچانک حملہ کیا جائے
بنو امیہ کے خلیفہ (ہشام بن عبدالملک) نے آپ کو زہر دیا اور آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو وصیت فرمائی! صادقِ آلِ محمد ص فرماتے ہیں کہ میرے والد گرامی (امام محمد باقرؑ) نے اپنی شہادت کی رات مجھے پاس بلایا اور فرمایا: "اے جعفر! آج وہ رات ہے جس میں مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے (یعنی میری شہادت کی رات ہے)۔" پھر آپؑ نے وصیت فرمائی کہ میرے کفن دفن کا انتظام کرو اور میری شہادت پر عزاداری کا اہتمام کرو۔
حوالہ جات:شیخ کلینی، الکافی (شعبہ اصولِ کافی)، جلد 1، صفحہ 307 (باب الاشارة والنص على أبي عبد الله الصادق عليه السلام)۔ شیخ مفید، کتاب الارشاد، جلد 2، صفحہ 165
Hussaini Media Network
اگر لوگ "عیدِ غدیر" کی فضیلت کو جان لیتے!
16 hours ago | [YT] | 1,468
View 31 replies
Hussaini Media Network
کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے عیدِ غدیر نا منائی ھو
1 day ago | [YT] | 1,629
View 28 replies
Hussaini Media Network
علی ع والوں سے موت کے فرشتے کی رحمدلی ❤️
2 days ago | [YT] | 2,603
View 42 replies
Hussaini Media Network
سنان بن انس کا جرم اور عمر سعد کا خوف!
3 days ago (edited) | [YT] | 994
View 32 replies
Hussaini Media Network
پیر مبارکیں دیتے رھے مرید فتوے دیتے پھرتے ھیں
4 days ago | [YT] | 2,967
View 53 replies
Hussaini Media Network
جنابِ مسلم ع کے بچے والد سے کیسے جدا ھوئے؟
سید جعفر الزمان نے اپنی کتاب 'مجالس المنتظرین' میں اس روایت کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا ہے
حضرت مسلم بن عقیلؑ جب امام حسینؑ کے سفیر بن کر کوفہ آئے، تو وہ اپنے دونوں کمسن بیٹوں (محمد اور ابراہیم) کو بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔
کوفہ میں قیام کے دوران یہ بچے جنابِ ہانی بن عروہ کے گھر میں موجود تھے۔ جب ابنِ زیاد نے جنابِ ہانی کو گرفتار کر لیا، تو حضرت مسلم بن عقیلؑ نے وہاں سے خروج کیا۔ بچوں کی حفاظت کی خاطر انہیں ہانی بن عروہ کے گھر ہی چھوڑ دیا گیا۔
جب حضرت مسلم ع کو اکیلا کر کے شہید کر دیا گیا، تو دونوں معصوم بچوں نے ہانی کے گھر کی پچھلی دیوار پھلانگی، جس کی پشت قاضی شریح کے گھر سے ملتی تھی۔ وہ قاضی شریح کے گھر میں چھپ گئے۔
قاضی شریح نے ابنِ زیاد کے خوف سے بچوں کو اپنے گھر رکھنا خطرہ سمجھا۔ اس نے رات کے وقت اپنے بیٹے کے ہمراہ دونوں بچوں کو مدینہ کے قافلے کی طرف روانہ کر دیا تاکہ یہ بحفاظت نکل جائیں۔ لیکن راستے میں اندھیرے اور خوف کی وجہ سے بچے قافلے سے بچھڑ گئے، راستہ بھول گئے اور ابنِ زیاد کے سپاہیوں کے ہاتھ چڑھ گئے، جنہوں نے انہیں کوفہ کے قید خانے میں ڈال دیا
6 days ago | [YT] | 2,365
View 64 replies
Hussaini Media Network
مقتل کی معتبر کتابوں (جیسے مقتل الحسینؑ مقرم اور نفس المہموم) اور تاریخی شواہد کے مطابق، جب ۹ ذوالحجہ ۶۰ ہجری کو حضرت مسلم بن عقیلؑ کو دارالامارہ کی چھت پر شہید کر دیا گیا، تو ابن زیاد ملعون کے حکم سے آپ کے سر مبارک کو تن سے جدا کر کے یزید کو دمشق (شام) بھجوا دیا گیا۔
اہلِ کوفہ کے دلوں میں رعب اور خوف پیدا کرنے کے لیے، ابن زیاد نے حکم دیا کہ آپ کے اور جناب ہانی بن عروہ کے جسدِ اطہر کے ساتھ انتہائی بے حرمتی کی جائے۔
مؤرخین کے مطابق، جلادوں نے حضرت مسلم بن عقیلؑ اور جنابِ ہانی بن عروہؑ کے پیروں میں رسیاں باندھی کوفہ کے بازاروں میں گھسیٹنا ان رسیوں کے ذریعے ان دونوں عظیم ہستیوں کے بے سر لاشوں کو کوفہ کے بازاروں، گلیوں اور قصابوں کے محلے (سوق القصابین) میں گھسیٹا گیا۔
یا زھرا س 🙏😭
1 week ago | [YT] | 1,953
View 47 replies
Hussaini Media Network
اس زمانے میں مکہ کا گورنر عمرو بن سعید بن العاص تھا، جسے “اشدق” کہا جاتا تھا۔ تاریخی کتب میں ملتا ہے کہ یزید نے اسے سخت ہدایات دیں کہ:
امام حسینؑ سے بیعت لی جائے، ورنہ انہیں قتل کردیا جائے۔
بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ:
مسلح افراد کو حاجیوں کے بھیس میں مکہ میں داخل کیا گیا
کچھ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے تاکہ شک نہ ہو
منصوبہ یہ تھا کہ ہجوم میں اچانک حملہ کیا جائے
📚 (تاریخ طبری)
1 week ago | [YT] | 1,903
View 32 replies
Hussaini Media Network
وصیت📜 امام محمد باقر علیہ السلام ✍️
بنو امیہ کے خلیفہ (ہشام بن عبدالملک) نے آپ کو زہر دیا اور آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو وصیت فرمائی!
صادقِ آلِ محمد ص فرماتے ہیں کہ میرے والد گرامی (امام محمد باقرؑ) نے اپنی شہادت کی رات مجھے پاس بلایا اور فرمایا: "اے جعفر! آج وہ رات ہے جس میں مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے (یعنی میری شہادت کی رات ہے)۔" پھر آپؑ نے وصیت فرمائی کہ میرے کفن دفن کا انتظام کرو اور میری شہادت پر عزاداری کا اہتمام کرو۔
حوالہ جات:شیخ کلینی، الکافی (شعبہ اصولِ کافی)، جلد 1، صفحہ 307 (باب الاشارة والنص على أبي عبد الله الصادق عليه السلام)۔
شیخ مفید، کتاب الارشاد، جلد 2، صفحہ 165
1 week ago | [YT] | 2,249
View 78 replies
Hussaini Media Network
ربذہ کے شہید پر سلام
1 week ago | [YT] | 2,466
View 63 replies
Load more