Shorts/YouTube shorts


short master

جہاد کا فتویٰ آنا اور نہ آنا برابر تھا اسلیے تو ہم ڈیڑھ سال تک بیٹھے رہے تھے۔۔
لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ آگ صرف فلسطین تک محدود نہیں رہے گی،گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں اور بھی ممالک شامل ہیں۔ یہ اسرائیل مسلمانوں کا نام و نشان مٹانا چاہتے ہیں۔۔
اگر ہم سوچ رہے ہیں کہ جہاد سے چھپ کر ہم بچ جائیں گے تو اول تو موت ہی سے فرار ممکن نہیں۔۔ اور نہ ہی آنے والے وقتوں میں ہم جنگ سے بچ سکتے ہیں۔۔ بزدلوں کا مقدر بزدلی کی موت ہوتی ہے۔۔
ہم نے اپنے گھر کے مردوں کو۔۔ اپنے بچوں کو یہ سب حالات سمجھا دینے چاہیے ۔۔ ان کی تربیت میں اس چیز کو شامل کرنا چاہیئے کہ جلد یا بدیر اگر ان کو اسلام کے لیے لڑنا پڑے تو وہ خوف کھا کر پیٹھ نہ دکھا دیں۔۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہے کہ ان کو امام مہدی کی فوج میں شامل ہونا ہے۔۔ہمیں اپنے بچوں کو احادیث کی رو سے آنے والے سارے حالات کے لیے تیار کرنا ہے۔۔
اسی دوران خدا نخواستہ پاکستان کے اندر بھی اگر یہ حالات بنتے ہیں جو ابھی فلسطین میں ہیں،تو کم از بچے اس قابل تو ہوں کہ انہیں حق و باطل کی لڑائی میں لڑنا نہ سہی،اپنا اور چھوٹے بہن بھائیوں کی دفاع کے بارے میں پتہ ہو۔۔اپنا رول پتہ ہو کہ میں نے کیا کرنا ہے۔
اپنے بچوں کو دھوپ،چھوٹے موٹے چوٹوں اور چھپکلیوں سے بچانے کی کوشش کے بجائے اب وقت ہے کہ ان کے اندر کے ایمان کو ابھی سے نکھارا جانے ۔۔ ان میں بہادری بیدار کرنے کی کوشش کی جائے۔۔
ہم سب کے بچے ترکی ڈرامہ شوق سے دیکھتے ہیں،دیکھ دیکھ کر انہیں لگنے لگا ہے کہ ہم بس گھوڑے پہ سوار ہونگے،گھڑسواری اور لڑنے کا طریقہ ،بہادری،حکمت عملی کی صلاحیت ۔۔سب خود بخود ہی آ جائیگا۔۔۔
بچوں کو اس خواب سے جگانے کی ضرورت ہے۔۔ عملی طور پہ ان کو کسی قابل بنانے کی کوشش کرنا ہے۔۔
اللّہ ہمارے بچوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے پیروکار،سفر و حضر اور امن و جنگ میں ان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو فالو کرنے والے،ایمان سے منور و معطر ظاہر و باطن والے بہترین انسان بنائے۔۔ حضرت عمر بن خطاب جیسے،حضرت علی جیسے،صحابہ کرام جیسے۔۔۔ صلاح الدین ایوبی جیسے بنائے ہمارے بچوں کو۔۔
ڈراموں میں اداکاروں کو دیکھ کر بچے کچھ نہیں سیکھتے،ان کا یہ مائینڈ سیٹ بنتا ہے کہ یہ سب انتہائی آسان ہے اور ہر حال میں فتح انہی کی ہونا ہے،دشمن کو ہمیشہ کمزور اور بیوقوف سمجھنے لگتا ہے،خود کو بہادر اور ذہین۔۔
ہمیں پیغمبروں ،اصحاب کرام کے واقعات سنا کر۔۔ غزوات اور جنگوں کے واقعات اور منظر کشی کر کے ان کو جنگوں کی حقیقت سے روشناس کروانا ہے۔
خوابوں کی دنیا میں تو ہم بھی بہت رہ لیے۔۔ اب جا کے بیداری ہوئی ہے کہ گریٹر اسرائیل بننے کی تیاریاں مکمل نظر آتی ہیں۔۔
اللّہ ہم پہ رحم فرمائے،اور یہ توفیق عطا فرمائے کہ فیس بک پہ دعائیں پوسٹ کرنے کے علاؤہ ہاتھ اٹھا کر بھی اپنے اور فلسطین کے حق میں دعا مانگ سکیں۔۔۔
آمین

1 year ago | [YT] | 0

short master

یہ جو ہمیں بڑے بڑے اعمال لگتے ہیں ہمیں تہجد،تحیتہ الوضو کی عادت،چاشت و اشراق کی عادت۔۔۔
وہ اعمال جو بہت ایفرٹس مانگتی ہیں ۔۔اعتکاف،عمرہ،حج،بڑی بڑی چیرٹیز۔۔۔
ہم اس کو کرتے ہوئے۔۔۔ بلکہ ارادہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پہ پوسٹ کر دیتے ہیں۔۔
یقین کریں ایسے بھی لوگ تھے جن کے اعمال ان کے اور اللّہ کے درمیان راز رہتے تھے۔۔ صدقہ خیرات کرتے تو ایسے کہ داہنے ہاتھ سے دیتے تو باہنے ہاتھ سے چھپا کر۔۔
تہجد پڑھتے تو خاموشی سے اٹھ کر سکون اور اکیلے میں۔۔
حج و عمرہ پہ جاتے تو قریبی ملنے ملانے والوں کے سوا کسی کو پتہ نہ ہوتا۔۔
یہاں پہ حج و عمرہ پوری دنیا کو دکھا رہے ہیں۔۔ اس دوران ویڈیوز شوٹ ہو رہی ہیں۔۔۔
دوسروں کو موٹیویٹ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ،امر باالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم ہے مگر اپنی نیکیاں دکھا دکھا کر نہیں بلکہ اس انداز سے کہ اگلے کے دل میں عبادت کی محبت اور شوق اور برائی اور گناہ سے خوف و نفرت پیدا ہو۔۔ ویڈیو شوٹنگ کر کے موٹیویشن کریں گے تو اگلا بھی ویڈیو بنانے کی موٹیویشن لے گا۔۔ نہ کہ دل سے عبادت اور ریاضت کرنے کی۔۔
یقین کریں یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی نیکیاں سوشل میڈیا پہ پوسٹ نہ کریں اور انہیں کر گزریں۔۔ بس نیت کرنا ہے،مضبوط ارادہ کرنا ہے کہ جو عمل اللّہ کی رضا اور اپنی آخرت کی بہتری کے لیے کریں گے اس کی واہ واہ دنیا میں نہیں سمیٹیں گے۔۔۔
اللّہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور ہم سے وہ اعمال کروائے جو ہمیں اس سے قریب کر دیں۔۔ آمین ثم آمین

1 year ago | [YT] | 1

short master

ہم تقریباً سبھی جب کھانا کھاتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے دعا پڑھتے ہیں۔۔۔
یہ دعا ہم پڑھتے ہی ہیں کبھی آپ نے اس کو دل سے ادا کرنے کا سوچا ہے؟
ہم نے کھانا کھایا یہ صرف ایک ہی کام تھا مگر اس کے ساتھ کتنے ہی شکر جڑے ہوئے ہیں۔۔
ہم نے حلال کھایا۔
ہمیں اللّہ نے وہ صلاحیت دی کہ ہم نے اپنی پسندیدہ خوراک کے ٹیسٹ کو محسوس اور انجوائے کیا۔
کھانا آرام و سکون سے بن گیا،نہ پرانے زمانے کی طرح پتھروں کو رگڑ کے آگ جلانا پڑی،نہ دور دراز سے پانی بھر کے لانا پڑا۔
دانت سلامت ہیں ان سے چبا کے کھایا۔
منہ،گلے،معدہ کی کوئی ایسی بیماری نہیں جس کی وجہ سے خوراک نگلنے اور ہضم ہونے میں مشکل ہو۔
ہماری صحت ٹھیک ہے،کوئی ایسی بیماری نہیں جس کی وجہ سے سامنے پڑے کھانے سے پرہیز کرنا ضروری تھا۔
ہاتھ سلامت ہیں،اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا کے کھائے۔
امن و سکون سے بیٹھ کے کھایا،حالت جنگ یا افراتفری نہیں تھی۔
ساتھ بیٹھ کے کھانے والے سب صحیح سلامت ساتھ بیٹھے تھے۔
اس کے علاؤہ بھی کتنی ہی وجہیں ہوں گی شکر ادا کرنے کی،جن تک شاید ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا ہوگا۔ بے شک بے شک میرے اللّٰہ کے ہمارے اوپر جو انعامات و احسانات ہیں ہم ان کا شکر کبھی بھی ادا نہیں کر پائیں گے۔
یہ تو صرف کھانے کی بات ہو رہی ہے،اپنی پوری زندگی پہ نظر دوڑائیں تو ہرگز ہرگز شمار نہ کر سکیں جو جو اللّہ نے ہمیں عطا فرمایا ہے،حساب ممکن ہی نہیں ہے۔
یا اللّہ ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل فرما دے،ہمیں عافیت سے رکھ اور ہمیں اپنی نعمتوں اور رحمتوں سے مالا مال فرما۔ آمین ثم آمین

1 year ago | [YT] | 0

short master

"پوسٹ کو بطور مزاح پڑھیں"

یہ آجکل اکثر ان پوسٹس کے ساتھ لکھا ہوتا ہے جن میں دین اسلام کے احکام،عبادات،مقدس مہینہ رمضان،سحور و افطار یا دیگر اسلامی معاملات کے بارے میں کوئی مذاق کیا گیا ہو۔۔ معاذاللہ
کوئی چاہے اپنے اس عمل کی کوئی بھی جسٹی فیکیشن دے،اصل بات یہ ہے کہ اسلام کے کسی بھی حکم،عبادت،طرز عمل کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنے کی جو وبا اس قوم میں داخل ہو چکی ہے وہ انتہائی مہلک اور تباہ کن ہے۔ کس طرح ہم اپنے دین و ایمان سے ہاتھ دھو رہے ہیں ہمیں خود ہی احساس نہیں ہے۔
اسلام کی احکامات اور عبادات و عقائد ہمارے لیے بہت ہی مقدس ہونے چاہیے ،کیسے ایک مسلمان جرات کر سکتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ استہزاء کرے اور پھر یہ بھی کہے کہ یہ کوئی اسلامی پوسٹ نہیں ہے آپ اس کو لائٹلی لیں۔۔ استغفرُللہ
جن مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ اس طرح عبادات،عقائد،اسلامی حلیہ وغیرہ کے بارے میں مذاق کوئی ایسی گناہ کی بات نہیں ہے تو وہ اپنے ذہن میں یہ تصور کریں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں موجود ہے اور اس نے وہی لطیفہ اس وقت کے مسلمانوں کے درمیان بیان کر دیا ہے جو آج کے مسلمانوں کے درمیان بیان کر رہا ہے۔۔
سوچیں جب دوسرے مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا کے بتائیں گے تو کیا آپ مطمئن ہوں گے کہ میرا مذاق بالکل جائز اور بے ضرر تھا اور اس کے لیے مجھے کوئی سزا نہیں ملے گی نہ مجھ سے جواب طلبی ہوگی۔۔
عمر بن خطاب کے زمانے میں کوئی ایسا کرتا،دوسرے خلفاء راشدین کے زمانے میں ایسا کرتا تو اس کا کیا حال کیا جاتا جبکہ مسلمانوں کے بیچ رہ رہا ہو،خود کو مسلمان سمجھتا ہو،منافقین میں سے بھی نہ ہو تو وہ کیسے کر سکتا تھا ایسے۔۔۔۔ کیا ہم لوگ اس دور اور کافرانہ نظام اور معاشرے کی دین سے دوری کا اتنا برا اور مہلک فایدہ اٹھا رہے ہیں یا ہمارے دل اتنا مردہ ہو چکے ہیں کہ ہم ایک لمحے کو بھی یہ نہیں سوچتے کہ ہم جو کر رہے ہیں انتہائی خطرناک ہے۔۔
سوشل میڈیا پہ ایسے لوگ بھی ہیں جو بظاہر اسلامی نظر آتے ہیں یا نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی تراویح،افطاری اور دوسرے اسلامی احکامات پہ استہزاء کرتے اور اس کو بالکل لائٹ لیتے ہیں،پلیز اس جہالت سے نکل آئیں،اس مہلک ٹرینڈ کو ختم کریں،اپ کے سامنے کوئی اسلامی شعار کو مزاحیہ انداز سے پیش کرے تو اس کو منع کریں۔ آجکل دین پہ کاربند رہنا بہت مشکل ہے لیکن دئیے سے دیا جلتا ہے،اپنے آس پاس اپنے پیاروں ،اردگرد کے مسلمانوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش میں ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے ورنہ اللّہ نے جو لوگوں تک رسائی کے یہ سب زریعے عطا کئے ہوئے ہیں ان کا جب سوال ہوگا ہم سے کہ کس طرح استعمال کئے تو ہمارے پاس سوائے ندامت اور آنسوؤں کے کچھ نہیں ہوگا۔
جو لوگ دین اسلام کی عبادات اور شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اس کو لائٹلی لیا جائے،وہ قرآن پاک کی ان آیات کو غور سے پڑھ لیں ۔۔

اللّہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے

" وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ (66)" (سورۃ التوبہ )

ترجمہ: اور اگر آپ ان سے پوچھیے تو کہہ دیں گے کہ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کررہے تھے، آپ (ان سے) کہہ دیجیے گا کہ کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تم ہنسی کرتے تھے۔ تم اب (یہ بیہودہ) عذرمت کرو تم اپنے کو مؤمن کہہ کر کفر کرنے لگے، اگر ہم تم میں سے بعض کو چھوڑ بھی دیں تاہم بعض کو تو (ضرور ہی) سزادیں گے بسبب اس کے کہ وہ (علم ازلی) میں مجرم تھے۔

1 year ago | [YT] | 0

short master

SubhanAllah.

1 year ago | [YT] | 0

short master

بہت برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ آ رہا ہے، اللّہ سے دعا ہے کہ ہم اس مہینے تک پہنچے اور اس کی برکتیں ساری کی ساری پا لیں،بخشے ہوئے،چنے ہوئے لوگوں میں شامل ہو جائیں۔
ماہ رمضان میں چونکہ روزہ جیسی عظیم عبادت ہو رہی ہوتی ہے اور زیادہ تر نفس اچھائی اور نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اسلیے اپنی طبیعت میں موجود ایسی خامیوں اور برائیوں سے چھٹکارہ پانا ممکن ہو جاتا ہے جو کہ عام دنوں میں شاید بہت زیادہ مشکل ہو۔۔
اگر ہم میں صبر کا مادہ بہت کم ہے،غصہ بہت زیادہ آتا ہے،لعن طعن کی عادت ہے،زبان پہ گالیاں یا ناشکری کے الفاظ چڑھے ہوئے ہیں،غیبت اور چغلی کی لت لگی ہے یا گانے گانے کا شوق ہے،جھوٹ بول لیتے ہیں یا اسی طرح کی دوسری بہت ساری خامیاں ہیں جو کہ ہم سب میں ہو سکتی ہیں۔۔
تو اس رمضان ہم نے تہیہ کرنا ہے کہ ہم ان خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔ اگر ہم پکا ارادہ کر لیں گے تو پھر جوں ہی منہ سے کوئی بری بات نکلے گی،ہمیں فوراً یاد آ جائیگا اور اسی وقت استغفار پڑھ لیں،اور اگلی بار نہ کرنے کا تہیہ کر لیں۔۔ چاہے غلطی سے اور پکی عادت ہونے کی وجہ سے جتنی بھی بار منہ سے بری بات پھسلے لیکن ہمت نہیں ہارنی بلکہ اور بھی زیادہ پکا ارادہ کرنا ہے،ان شاء اللّہ اس رمضان میں ہم اپنی ان برائیوں سے چھٹکارہ پانے کی مکمل کوشش کریں گے،توبہ سے اللّہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور دل سے توبہ کریں تو چاہے جتنی بھی بری اور پکی عادت ہو،وہ چھوٹ جاتی ہے۔
یہ رمضان ہم میں سے کسی کا بھی آخری رمضان ہو سکتا ہے،ہو سکتا ہے ہماری یہ کوشش اور برائی کو چھوڑنے کی نیت اللّہ کو اتنی پسند آ جائے کہ وہ ہماری بخشش کر دے۔ اسی طرح اپنے عزیزوں سے بھی یہ بات شئیر کریں،جن کو آپ دوزخ میں نہیں جانے دینا چاہ رہے۔۔ کوئی بھی عادت ہو ان کی،جو بری ہو۔۔ ان سے کہیں اس رمضان آپ نے ہر حال میں یہ فلاں عادت یا عادات چھوڑنا ہیں۔ اگر وہ راضی ہو جائیں تو ان سے کہیں کہ وہ بھی آگے اپنے پیاروں،گھر والوں،بچوں،بہن بھائیوں اور عزیزوں کو اس دعوت میں شریک کریں۔ فیس بک،وٹس ایپ اور ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے اس پوسٹ کو سب مسلمانوں کے ساتھ شئیر کریں ۔
آج ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے لیکن اگر ہم نیکی کرنے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں،ایک دوسرے کے لیئے نیکی کی راہ آسان کرنے کی کوشش کریں تو ان شاءاللہ جنت میں ہم ملیں گے اور وہاں ایک دوسرے کا شکریہ بھی ادا کریں گے۔

1 year ago | [YT] | 1

short master

ہمیں سکون کیوں نہیں ملتا؟
یقین کریں ہماری زندگی آسان ہو جائیگی،ہمارے دل کے سارے بوجھ اتر جائیں گے،ہمیں سکون مل جائیگا جب ہم اپنے اللّہ پہ اسی طرح توکل کرنا شروع کر دیں گے جیسا کہ کرنا چاہیئے ۔۔
جب ہم فرض اعمال کو فرض سمجھنے کے ساتھ ساتھ اللّہ سے محبت کرنے کا ذریعہ سمجھ کے ادا کرنے لگیں۔
جب ہم تہجد،نفلی روزہ،نفلی اعمال سوشل میڈیا پہ پوسٹ کرنے کے بجائے اتنی خاموشی سے کریں کہ ہمارے اللّہ کے سوا کوئی اس کا دیکھنے والا نہ ہو
جب ہمارے سجدے نوکری،مال و زر اور دنیا حاصل کرنے کے بجائے آخرت اور جنت حاصل کرنے کے لیے طویل ہونے لگے
جب ہمیں نماز ختم کر کے دنیاوی کام کرنے کی جلدی نہ ہو بلکہ کاموں کو سمیٹ کے نماز کی طرف جانے کی جلدی ہو
جب ہماری ترجیح لہو و لعب کرنے کے بجائے قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر سمجھنا ہو
جب ہماری تنہائیاں پاک اور منور ہوں
جب ہم نیکی کی بات لوگوں کی داد سمیٹنے کے بجائے صرف اللّہ کی رضا کے لیے کریں
جب ہم اپنی ان خرابیوں سے اللّہ کی رضا کے لیے کنارہ کر لیں جو ہماری روزمرہ کی زندگی میں رچ بس گئی ہوں۔۔
غیبت ،جھوٹ،بے ایمانی،چغلی،گالم گلوچ،دوسروں کو حقیر سمجھنا،بغض اور کینہ سمیت ان سب گناہوں کے خلاف اپنے نفس سے جہاد شروع کر دیں
جب ہم ترک گناہ میں کامیاب ہو جائیں،نیکیوں کی راہ اختیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں،اور ہمارا مقصد صرف اور صرف اللّہ کی خوشنودی ،جنت کا حصول اور ایک بہتر مسلمان بننا ہو تو یقین کریں دل کی دنیا پہ وہ بہار آئے گی کہ جس کا تصور کبھی ایک بے عمل،بد عمل یا ریا کار مسلمان نہیں کر سکتا ۔
اللّہ ہم سب کو یہ توفیق دے کہ ہم ظاہراً و باطناً اسلام کی ہوبہو پیروی کریں اور اللّہ کے محبوب بندوں میں سے ہو جائیں۔
آمین ثم آمین

1 year ago | [YT] | 0

short master

تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَّطَمَعاً وَّمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ۔‘‘ (الم السجدۃ: ۱۶، ۱۷)
’’اُن کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈر اور اُمید (کے ملے جلے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں، اور ہم نے اُن کو جو رزق دیا ہے وہ اُس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں، چنانچہ کسی متنفس کو کچھ پتہ نہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان اُن کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔ ‘‘
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’کَانُوْا قَلِیْلاً مِّنَ اللَّیْْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ وَبِالْأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔‘‘ (الذاریات:۱۷، ۱۸)
’’وہ رات کے وقت کم سوتے تھے، اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔ ‘‘
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
’’وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّداً وَّقِیَاماً۔ ‘‘ (الفرقان: ۶۴)
’’ترجمہ:’’اور (رحمان کے بندے وہ ہیں) جو راتیں اِس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے آگے (کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں اور (کبھی) قیام میں۔ ‘‘
ایک جگہ ارشاد ہے:
’’أَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ آنَائَ اللَّیْْلِ سَاجِداً وَّقَائِماً یَّحْذَرُ الْأٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْ رَحْمَۃَ رَبِّہٖ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ ‘‘ (الزمر: ۹)
’’بھلا (کیا ایسا شخص اُس کے برابر ہوسکتا ہے ) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار سے رحمت کا اُمید وار ہے؟ کہوکہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، سب برابر ہیں؟۔ ‘‘
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’وَمِنْ أٰنَائِ اللَّیْْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی۔ ‘‘ (طہ:۱۳۰)
’’اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دِن کے کناروں میں بھی، تاکہ تم خوش ہوجاؤ۔ ‘‘
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
’’ إِنَّ نَاشِئَۃَ اللَّیْْلِ ہِیَ أَشَدُّ وَطْئًا وَّأَقْوَمُ قِیْلاً۔‘‘ (المزمل:۶)
’’بے شک رات کے وقت اُٹھنا ہی ایسا عمل ہے جو جس سے نفس اچھی طرح کچلا جاتا ہے اور بات بھی بہتر طریقے پر کہی جاتی ہے۔ ‘‘
ایک جگہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں:
’’إِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُومُ أَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْْلِ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ وَطَائِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ۔‘‘ (المزمل:۲۰)
’’اے پیغمبر! تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم دوتہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (تہجد کی نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہو اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک جماعت (ایسا ہی کرتی ہے)۔ ‘‘
ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
’’وَمِنَ اللَّیْْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰی أَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوْداً۔‘‘ (بنی اسرائیل: ۷۹)
’’اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرو جو تمہارے لیے ایک اضافی عبادت ہے، اُمید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہیں ’’مقامِ محمود‘‘ تک پہنچائے گا۔ ‘‘
رمضان کے روزے کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والا روزہ محرم کا ہے۔ اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات (کے وقت تہجد ) کی ہے۔ ‘‘ ( مسلم، مشکوٰۃ)

1 year ago | [YT] | 1

short master

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَ عَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ،اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِی وَاَھْلِیْ وَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔
ترجمہ: اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس شخص کی محبت کا سوال کرتا ہوں، جو تجھ سے محبت کرتا ہےاور اس عمل کا بھی سوال کرتا ہوں، جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے۔
اے اللہ ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میرے اہل خانہ اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنادے۔

1 year ago | [YT] | 1

short master

Aameen summa aameen.

1 year ago | [YT] | 2