سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہٰ واصحابہٰ وسلم،صحابہ و اھلیبیت رضَ اور اولیاء کرام کے اصلاحی واقعات واسلامی معلوماتی اور تاریخی ویڈیوز کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں اور سپورٹ کریں شکریہ
Islamic informative and historical vedios a hare
ایڈمن پیـــــــــــــــــــارے حیـــــــــــــــــــدری
Dastaan Go
دشمن سے پہلے غدار کو قتل کرو۔💯⚔️
شہید نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ موجود یہ شخص بنگان بگٹی ھے،اسکو کم لوگ جانتے ہیں، بنگان بگٹی انتہائی غریب اور یتیم بچہ تھا،شہید نواب اکبر خان بگٹی نے اسکو پالا پوسا بڑا کیا،اور اہم ترین ساتھیوں
(جاری⏬)
1/8میں شمار کیا، 2005 جنگ میں شہید نواب اکبر بگٹی نے بنگان بگٹی کو تمام کیمپوں کا سربراہ مقرر کیا اور تمام کیمپ انکے ماتحت ہوتے تھے اور سب بگٹی فراری انکے حکم کے پابند ہوتے تھے، مشرف کے ساتھ 17 مارچ لڑائی کے بعد نواب اکبر بگٹی نے ڈیرہ بگٹی شہر کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کیا
(جاری⏬)
2تو بنکان بگٹی پر بھروسہ کرکے اپنے ساتھ لے گئے، 3,4 ماہ تک نواب اکبر بگٹی پر مشرف نے شدید ترین فضائی حملے اور زمینی فوجی کارروائی کی لیکن خوش قسمتی سے شہید نواب اکبر بگٹی بچنے میں کامیاب ہوگئے، پھر ایک دن بنگان کے دل میں غداری کے خیالات پیدا ہوگئے، چونکہ بنگان کے پاس
(جاری⏬)
3سیٹلائٹ فون اور ہر چیز دستیاب تھے ، چنانچہ انہوں نے انٹیلیجنس اہلکاروں سےرابطہ کیا کہ مجھے معافی دی جائے تو میں سرنڈر ہونے کو تیار ہوں،بنگان بگٹی جنگ کے بہانے سے نواب اکبر بگٹی کے پاس نکل گیا اورپھر انہوں نے انٹیلیجنس اہلکاروں کے ساتھ رابطہ کیا کہ ہیلی کاپٹر روانہ کیا
(جاری⏬)
4جائے میں فلاں جگہ پر موجود ہوں، بنگان بگٹی کا فون کرنے کا صرف دیر تھا اسی گھڑی میں ہیلی کاپٹر آن پہنچا اور بنگان بگٹی کو اپنے ہمراہ لے کر گئے،پھر وہ ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر شہید نواب اکبر بگٹی اور انکےساتھیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہے،کیونکہ بنگان نواب اکبر بگٹی اور
(جاری⏬)
5انکے تمام ساتھیوں کے خفیہ ٹھکانوں کے بارے جانتے تھے، نواب اکبر بگٹی اور مشرف لڑائی میں ایک پاک فوج کے بزدرا بلوچ افسر بھی شامل تھے، انہوں نے بتایا کہ بنگان بگٹی نے نواب اکبر بگٹی کے ایسی خفیہ چیزیں ہمیں بتائیں حالانکہ ہم نے انکو پوچھا تک نہیں تھا وہ ہر چیز بغیر پوچھے
(جاری⏬)
6خود بتاتے رہے، پھر وہ بلوچ آرمی آفیسر نے بتایا کہ مجھے بنگان غداری پر اتنا دکھ ہوا کہ ایک دن میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ واقعی دشمن سے پہلے غدار کو قتل کرنا ضروری ھے، بلوچ افسر کو دکھ اس بات پر بھی تھا کہ نواب بگٹی نے یتیم خانے سے اٹھا کر پالا پوسا بڑا کیا سب
(جاری⏬)
7کچھ دیدیا، پھر بھی غداری کرکے ہمیں بغیر پوچھے سب کچھ بتا رہا ھے۔
نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بنگان بگٹی بھی زیادہ عرصے تک زندہ نہ رہے صرف دو ماہ کے اندر بنگان بگٹی پر شہید نواب اکبر بگٹی کے حامیوں نے زبردست حملہ کیا اور ریموٹ کنڑول بم سے حملہ کرکے بنگان بگٹی کے
(جاری⏬)
8سو کروڑ ٹکڑے کردیے اور لاش کو دفن ہونا بھی میرے خیال میں نصیب نہ ہوا۔ غدار کا یہی انجام ہونا تھا۔
اس لئے کہتے ہیں کچھ غریب بھی اچھے نہیں ہوتے ہیں۔ دوسری بات جس پر احسان کرو اسکے شر سے بھی بچو۔
🔚
@DastaanGo
#Bhugtti
3 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Dastaan Go
#عیدمبارک #EidMuabrik
#moulanafazalurrehman
3 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Dastaan Go
#9اپریل_یومِ_چپیڑ
#یومِ_چپیڑ
3 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dastaan Go
صوبے ہریانہ میں 16 اگست 1968ء کو پیدا ہونے والے 54 سالہ اروند کیجریوال پہلے بیوروکریٹ بنے پھر نظام بدلنے کی خواہش میں سیاست میں آگئے۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی hبنائی۔ دہلی سے سیاست شروع کی۔ وہ بہت تیزی سے آگے بڑھے، دسمبر 2013ء میں وزیر اعلیٰ بن گئے مگر پھر 49 دنوں کے بعد استعفیٰ دے دیا کیونکہ وہ اسمبلی سے کرپشن کے خلاف بل منظور نہیں کروا سکے تھے۔ انہوں نے اگلا الیکشن لڑا تو دہلی کے لوگوں نے اکثریت دی، وہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، پھر انہوں نے وعدوں پر عملدرآمد شروع کیا۔
دلی میں لوڈشیڈنگ تھی، بجلی مہنگی تھی، سرکاری اسکولوں اور ہسپتالوں کی حالت بری تھی، سڑکوں کی حالت بھی بہت خراب تھی، دلی میں صرف پچاس فیصد پانی کی سپلائی کیلئے پائپ لائن تھی، کیجریوال نے محنت کی۔ اب دلی میں لوڈشیڈنگ نہیں ہے، بجلی فری ہے، سرکاری اسکولوں میں تعلیم فری ہے، دلی کے ہسپتالوں میں علاج مفت ہوتا ہے، کیجریوال نے دلی میں محلہ کلینک متعارف کروایا۔ پورے بھارت میں دلی واحد ریاست ہے جہاں مالیاتی خسارہ نہیں، سات سال میں دلی حکومت کا بجٹ 30 ہزار کروڑ سے بڑھ کر 75 ہزار کروڑ ہوگیا ہے اس دوران دلی کے جی ڈی پی میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اروندکیجریوال اب تیسری مرتبہ دلی کے وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں، آج دلی کے دو کروڑ شہریوں کوبنیادی سہولیات مفت حاصل ہیں۔ دلی کی سڑکیں شاندار ہیں، انہوں نے دلی کی عورتوں کے لئے مفت ٹرانسپورٹ مہیا کر رکھی ہے۔ کیجریوال جدید ٹیکنالوجی کے قائل ہیں۔ انہوں نے مختلف ایپس بنا رکھی ہیں۔ آپ ہر وقت ایپ کے ذریعے اسکول میں گئے ہوئے بچے کو گھر سے چیک کر سکتے ہیں۔ دلی میں لوگوں کی حفاظت کے لئے اتنے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دیئے گئے ہیں کہ دلی، نیویارک، لندن اورشنگھائی سےاس معاملے میں آگے نکل گیا ہے۔ اروند کیجریوال دلی کے شہریوں کو کرپشن سے بھی بچا رہے ہیں۔انہوں نے دلی میں یہ طریقہ شروع کر رکھا ہے کہ دلی کا کوئی بھی شہری جس نے پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ڈومیسائل یا پھر کوئی لائسنس بنوانا ہو وہ ایپ یا بذریعہ فون بتائے گا کہ میں فلاں وقت گھر پر ہوں گا اور مجھے ڈومیسائل یا لائسنس بنوانا ہے۔ شہری نے بتادیا۔ اب شہری کا کام ختم، اب کیجریوال سرکار کا کام شروع۔ دلی کے شہری کے بتائے گئے مقام پر ایک ٹیم آئے گی، ان کے پاس فوٹو کاپی مشین بھی ہوگی۔ یہ ٹیم اپنی کارروائی کرکے چلی جائے گی، اس کارروائی کے بعد سات دن کے اندر حکومت پابند ہوگی کہ وہ شہری کا ڈومیسائل یا لائسنس اس کے گھر پر مہیا کرے۔ اس طرح شہری کو نہ کہیں جانا پڑا، نہ دفتروں میں دھکے کھانے پڑے اور نہ ہی کسی کو رشوت دینا پڑی۔ اسے جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے گھر پر مہیا کر دی گئی۔ اس وقت دلی کی اسمبلی میں 62 نشستیں اروندکیجریوال کی عام آدمی پارٹی کی ہیں جبکہ مودی کی بی جے پی کے پاس صرف آٹھ نشستیں ہیں۔ دہلی ماڈل دیکھ کر بھارت کی دوسری ریاستوں کے لوگ اپنی اپنی حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ بجلی، اسکول، صحت، ٹرانسپورٹ؟ جواب آتا ہے کہ کیسے کریں؟ لوگ جواباً کہتے ہیں جیسےکیجریوال نے دلی کے لوگوں کو سب مہیا کیا ہے۔ کیجریوال پر بہت دبائو تھا کہ وہ اپنی پارٹی کو دلی سے باہر نکال کر دوسری ریاستوں میں بھی لائیں کیونکہ کیجریوال کہتا ہے کہ ...’’ میں ہر شہری کا وزیر اعلیٰ ہوں خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو، خواہ وہ کسی بھی ذات کا ہو۔‘‘سیاسی دبائو پر کیجریوال نے پنجاب میں رسک لیا۔ پہلے آپ کو بتا دوں کہ پنجاب ہے کیا؟ 1947ء میں تقسیم سے پہلے پانچ دریائوں کی دھرتی پنجاب کے پانچ ڈویژن تھے۔ لاہور، راولپنڈی اور ملتان ہمارے حصے میں آگئے جبکہ دہلی اور جالندھر بھارت کے حصے میں، انہوں نے دہلی کو الگ ریاست بنا یا، پنجاب ہی سے نکال کر ہر یانہ کو الگ صوبہ بنایا، ہما چل پردیش کو بھی صوبہ بنایا۔ پنجاب کا بہت سا حصہ راجستھان کو دے دیا۔ اب جو باقی بچا وہی ہندوستان میں بچا کھچا پنجاب ہے۔ اسی سال 2022ء میں اروند کیجریوال نے اپنی پارٹی کو پنجاب میں الیکشن میں اتارا تو اس کی پارٹی نے بڑے بڑے لیڈروں کو ہرا کر 117 میںسے 92 سیٹیں جیت لیں۔ پنجاب کے لوگوں نے بھی دہلی ماڈل کو پسند کیا۔ کانگرس پھربھی اٹھارہ سیٹیں لے گئی، بی جے پی تو صرف ایک دو سیٹوں تک ہی محدود رہی۔ اب جب حلف کی باری آئی تو پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے شہید بھگت سنگھ کے گائوں میں حلف لیا۔ ویسے بھگت سنگھ شہید نے کہا تھا کہ ...’’ اگر ہم آزادی کے بعد نظام نہیں بدلیں گے تو کچھ نہیں ہوگا...‘‘ کیجریوال کہتا ہےکہ ... ’’ہمارے دیس میں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے انگریزں کا دیا ہوا نظام اپنا رکھا تھا، میں نے اسے بدل دیا ہے...‘‘۔یاد رہے کہ اروند کجریوال نے پنجاب کے ہر گھر کیلئے 300یونٹ بجلی فری یعنی بلا معاوضہ کر دی ہے۔مجھے پاکستان کی تنزلی کا دکھ ہے، 60ء کی دہائی میں یہ ملک سب سے آگےتھا۔ 90ء تک بھی ہمارا ایک روپیہ بھارت کے دو رپوں کے برابر تھا، بنگلہ دیش کاٹکہ ہم سے پیچھے تھا، ہماری حکومتوں اور ہمارے رہنمائوں نے یہ کیسا کھلواڑ کیا ہے، یہ لوگ ذاتی مفادات کا سوچتے ہیں، کاش یہ پاکستان کا سوچتے، میں بھی انگریز کے دیئے ہوئے نظام کے خلاف ہوں کیونکہ یہ نظام انگریزوں نے غلاموں کے لئے بنایا تھا۔ کاش ہمارے سیاستدان کیجریوال ہی سے کچھ سیکھ لیں۔ اگر وہ عوام کو بہت سی سہولتیں دے سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں؟ بقول شاعر
اے دوست کرو ہمت کچھ دور سویرا ہے
گر چاہتے ہو منزل تو پرواز بدل ڈالو
#DastaanGo #Arwindkejrewal @Arewind @Delhi Politics @indiatv
3 years ago (edited) | [YT] | 2
View 0 replies
Dastaan Go
عید مبارک
4 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dastaan Go
#Badzaat
4 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dastaan Go
👈 یہ حادثہ میری ہدایت کا سبب بن گیا 👉
۔
۔
یہ دو ایسے نوجوانوں کا قصہ ہے جو مدینہ شہر سے ترکی سیر سپاٹے کیلئے گئے ان کا مقصد اپنے جیسے دوسرے نوجوانوں کی طرح شراب و شباب کے مزے لینا اور مستیاں کرنا تھیں استنبول پہنچتے ہی ندیدوں کی طرح انہوں نے سب سے پہلے کچھ کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ اپنا مدعا اول شراب کی بوتلیں خریدیں اور ٹیکسی پر بیٹھ کر ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے ہوٹل انہوں نے شہر کے مضافات میں جا کر ایسا پسند کیا جہاں انہیں کوئی جاننے پہچاننے والا نا دیکھ سکے کاؤنٹر پر رجسٹریشن کراتے ہوئے کلرک کو جیسے ہی پتہ چلا یہ دونوں وہ مدینہ شہر سے آئے ہیں تو اس نے عام کمرے کے ریٹ میں ان کو ایک سوئٹ کھلوا کر دیدیا اہل مدینہ چل کر اس کے ہوٹل میں آ گئے ہیں اس کی خوشی دیدنی تھی
دونوں کمرے میں پہنچے اور بس بوتلیں کھول کر معدے میں انڈیلنے بیٹھ گئے ایک تو کم ظرف نکلا کچھ ہی دیر میں نشے سے دھت بے سدھ سو گیا جبکہ دوسرا نیم مدہوش باقی کی بوتلوں کو کل کیلئے چھوڑ کر سو گیا ان کو سوتے کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا صبح کے ساڑھے چار بجے تھے ایک نے غنودگی میں اُٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے کاؤنٹر کلرک کھڑا تھا کہنے لگا کہ ہمارے امام مسجد نے یہ جان کر کہ ہوٹل میں مدینہ شہر سے دو آدمی آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں اور یہ کہہ کر نماز پڑھانے سے انکار کردیا ہے کہ وہ ایسی بے ادبی ہرگز نہیں کرسکتا ہم لوگ آپ کا مسجد میں انتظار کر رہے ہیں آپ جلدی سے تیار ہو کر آ جائیں
اس جوان کو یہ بات سن کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا اس نے جلدی سے اپنے دوسرے ساتھی کو جگا کر بتایا کہ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کیا تجھے کچھ قرآن شریف یاد ہے؟
دوسرے ساتھی نے کہا ہاں گزارے لائق قرآن شریف تو یاد ہے مگر لوگوں کی امامت کراؤں ایسا نا سوچا ہے اور نا ہی کراؤں گا دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور لگے سوچنے کہ اس گلے آن پڑی مصیبت سے کیسے جان چھڑائیں
اس اثناء میں ایک بار پھر دورازہ کھٹکا کاؤنٹر کلرک کہہ رہا تھا بھائیو جلدی کرو ہم لوگ مسجد میں آپ کے منتظر ہیں کہیں نماز میں دیر نا ہوجائے ایک کے بعد دوسرے نے بھاگ کر غسل کیا جلدی سے تیار ہو کر نیچے مسجد پہنچے کیا دیکھتے ہیں کہ مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہے ایسا لگتا تھا نماز فجر کیلئے نہیں لوگ مدینہ شہر کے شہزادوں کی اقتداء میں جمعہ کی نماز کیلئے اہتمام سے بیٹھے ہوں
ایک جوان کہتا ہے میں مصلے پر چڑھا اللّٰہ اکبر کہہ کر لڑکھڑاتی زبان سے الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِين پڑھا نمازیوں میں سے کسی کی اس تصور سے کہ مدینے کا مکیں دیار حبیبﷺ سے آیا ہوا اور مسجد رسولﷺ کا ہمسایہ انہیں نماز پڑھا رہا ہے کی سسکیاں نکل گئی پھر کیا تھا کئیوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹے کہتا ہے نمازیوں کے رونے سے میری ندامت کیا بڑھی کہ میں بھی رو پڑا
سورۃ الفاتحہ کے بعد میں نے محض سورۃ الاخلاص ہی پڑھی مگر اپنے پورے اخلاص کے ساتھ نماز ختم ہوئی نمازی میرے ساتھ مصافحہ کرنے کیلئے امڈ پڑے اور کئی ایک تو فرط محبت سے مجھے گلے بھی لگا رہے تھے میں سر جھکائے کھڑا اپنا محاسبہ کر رہا تھا اللّٰہ نے مجھ پر اپنا کرم کیا اور یہ حادثہ میری ہدایت کا سبب بن گیا
================
#DastaanGo
#داستان_گو
4 years ago | [YT] | 2
View 0 replies
Dastaan Go
ایک تلخ حقیقت
ویاگرا کے پہلوان!
رات کے دو بجے ایک پرائیویٹ ھسپتال کی ایمرجنسی میں ایک 50 سالہ شخص کو لایا جاتا ہے جسے دل کا دورہ پڑا ہے- اس کی بیوی اور بھائ اس کے ساتھ ہے- ڈاکٹر طبی معائنے اور طبی امداد دینے کے دوران مریض سے اس کے زیر استعمال ادویات کے بارے میں استفسار کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ مریض بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا مریض ہے- مزید سوالات پر مریض ھچکچاتے ہوئے بتاتا ہے کہ اس نے جنسی ھیجان بڑھانے والی دوا استعمال کی تھی اور بیڈ روم میں بیگم پر مردانگی کی دھاک بٹھانے کے چکر میں بیگم کا جیارا ڈرانے سے پہلے دل کچھ زیادہ ہی دھک دھک کرنے لگا – ایکشن سے پہلے ری ایکشن ہوگیا—- اور نتیجتا” بجائے کاما سترا کے پینترے آزمانے کے دل پر ایسا دھوبی پاٹ پڑا کہ بیگم کو الٹے سیدھے ایمرجنسی میں اپنے پہلوان جی کو ھسپتال لے کر بھاگنا پڑا—
اس وقت پاکستان میں جنسی ھیجان پیداکرنےوالی گولیاں مختلف ناموں مثلاویاگرہ۔ویگاسگنیچر۔پینیگرا۔زیگرا۔لیویٹراوغیرہ وغیرہ بہت سےناموں اوربہت سےرنگوں میں دستیاب ھیں ان میں سائیلس۔سلڈینافل۔ٹائیلڈینافل وغیرہ سالٹ پائےجاتےھیں۔ان سب کاکام ایک ھی ھےجنسی اشتعال۔ھیجان۔انتشارپیداکرنا۔
کبھی کراچی کی جامع کلاتھ مارکیٹس جہاں میمن مسجد ہے اور سامنے لائٹ ہاوس ہے چکر لگے تو سیکس کی ادویات کے سٹالز لگے ہیں سینکڑوں کے حساب سے. .وہاں پر انڈیا برازیل امریکہ یورپ سے سمگل شدہ ادویات باآسانی دستیاب ہین اور سیکسی عریاں تصاویر سے سجے یہ اسٹالز ایک نائٹ کلب کا منظر پیش کرتے ہیں تصاویر دیکهر ہی کچهہ ہونے لگتا ہے فل عریان…جزبات کو بهڑکانے والی. ..بچے بوڑهے جوان سب خریدار ہوتے ہیں. …
اصل میں یہ دوائیاں 40سال سےزیادہ عمرکےلوگوں کےلئےایجادھوئی تھیں لیکن وطن عزیزمیں ان کااستعمال 15سال کی عمرسےدیکھنےمیں آیاھےجنسی بےراھروی عام ھےھمارانوجوان پورن فلمیں دیکھ کر اپنے سفلی جذبات کی تسکین کےلئے جائزوناجائزکی تمیزبھلاکرتمام ذرائع استعمال کرتاھےلیکن بلیوفلم جیساسین نہیں کرپاتاتواحساس کمتری کاشکارھوجاتاھےاورپھروہ ایسی ادویات کی تلاش میں بھٹکتاھواویاگرہ تک پہنچتاھےجوکہ اب نہایت آسانی سےمیڈیکل سٹورز۔جنرل سٹورزبلکہ بعض چائےوالےھوٹلوں تک پربھی بآسانی ارزاں نرخوں میں دستیاب ھے۔
اس دوائی کےاستعمال سےجسم خصوصااعضاءتناسل کی طرف خون کی گردش تیزھوجاتی ھےجس سےانتشارمیں زیادتی اوردوران جماع ایک مرتبہ انزال کےبعدفورا دوبارہ انتشارپیداھوجاتاھے۔فریق مخالف پراپنی مردانگی کی دھاک بٹھانےکےچکرمیں یہ قوم کہاں سےکہاں جاپہنچی ھے۔ ان ادویات سے دل دماغ گردے اور جگر بہت بری طرح متاثر ہورہے ہیں لیکن حال یہ ہے کہ لوگوں کو پراہ نہیں—- ایک طبی پیج پر ایک حکیم بلکہ عطائی کی جنسی طاقت میں ببر شیر بنانے والی دوا جس میں پارہ اور کچلہ ریچھ کی چربی گینڈے کا سینگ شیر کے کپورے ریگ ماہی مشک و عنبر وغیرہ سمیت دیگر انتہائی مضر ترین اشیا شامل تھیں کے لچھے دار فوائد بیان کئے گئے تھے کہ جن کے سامنے کروز میزائل بھی شرمندہ ہو کر منہ چھپا لے—- اور ٹام کروز خودکشی کرلے- کے کمنٹس میں ایک صاحب پوچھ رہے تھے کہ میرا ایک گردہ ناکارہ ہے- ایک گردے پر جی رہا ہوں- کیا میں یہ دوا استعمال کرسکتا ہوں؟ تو یہ حال ہے ہمارے مرد حضرات کا—- دل کے مریض—- شوگر ھائ—— بلڈ پریشر—- گردے کمزور—— جگر ناکارہ——- لیکن خواب پورن فلموں کے ہیرو والی کارکردگی کے——-
اب آتےھیں اس کےنقصانات کی طرف۔
میری اپنی ذآتی تحقیق کے مطابق ستر فیصد افراد مردانہ طاقت کے کیپسول گولیاں وغیرہ استعمال کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ نقصان دہ کیمیکل سے بهرپور ہیں مگر عادی ہو چکے ہیں اس کے بغیر واقعی انتشار اور کڑک پن اور ٹائمنگ زیرو ہے کچهہ پچاس سال کی عمر میں ہی ہارٹ اٹیک سے مر جاتے ھیں اور کچهہ انجانی بیماریوں کا شکار ھو جاتےہیں مگر لت لگ گئی ہے جیسے ہیروئین کی ہوتی ہے کچهہ میڈیکل اسٹور والے بهی واقف کار ہین..جب ان سے معلومات لی تو فرمایا کہ سیکس کی دوائیں پانچ سو فیصد منافع دیتی ہیں اگر پیچهے سے پچاس روپے کی گولی ہے تو ہم گاہک پہچان کر وہی پانچ سو روپے کی سیل کرتے ہیں
چونکہ اس سےجسم میں بلڈسرکولیشن تیزھوجاتی ھےاس لئےسب سےپہلےدل کی دھڑکن تیزھوتی ھےپھردماغ کی طرف خون کابہاوزیادہ ھونےسےسراورآنکھوں میں درد،چہرہ سرخ،منہ خشک،معدہ میں گرمی وخشکی،تمام جسم ذکی الحس،گھبراھٹ پیداھوتی ھےجتنی دیرتک اس کااثررھتایہ کیفیت برقراررھتی ھےپھرجسم میں ناطاقتی،کمزوری،ٹانگوں میں دردھونےلگتاھے۔اس کےمسلسل استعمال سےدل۔دماغ۔جگر۔معدہ اورگردےآھستہ آھستہ بالکل ناکارہ ھوجاتےھیں سب سےبڑانقصان یہ کہ چندباراستعمال کرنےکےبعدانسان اتنااس کاعادی ھوجاتاھےکہ اس کےاستعمال کیےبغیرانتشارھی نہیں ھوتااورخوداعتمادی ختم ھوجاتی ھےاسےاستعمال کرنےوالےکےدل میں پختہ یقین پیداھوجاتاھےکہ اس کے بغیراب میں جماع پرقادر نہیں ھوسکتا۔اس لئےشادی شدہ اوربغیرشادی شدہ ھرطرح کےلوگ اس مرض میں مبتلاھیں۔مغرب میں اس کااستعمال یہاں جیسانہیں ھےوھاں معالج یورالوجسٹ کےمشورےکےبغیراس کواستعمال نہیں کرتےدوسرا وھاں والی ویاگرہ اورپاکستان میں ملنےوالی ویاگرہ میں بہت فرق ھے۔یہاں ملنےوالی ویاگرہ زیادہ ترافغانستان اورانڈیاسےسمگل ھوکےآرھی ھےاس میں کئی دیگرنہایت مضراجزاءشامل ھیں۔
خدارا ! اللہ نے آپ کو انسان بنایا ہے- گھوڑا بننے کی کوشش میں کہیں آپ اپنا شجر حیات ہی منقطع نہ کر بیٹھیں——
یاد رکھئے——— آپ مریض نہیں حریص ہیں!
یہ بات بھی واضح کر دینا چاہئے کہ دل کے مریض اور دمہ والے ان ادویات سے پرہیز کریں کیونکہ یہ ادویات ہارٹ ریٹ بڑھا دیتی ہیں۔
دوسری طرف سوشل میڈیا پر مشرومز کی طرح اگتے ہوئے طبی گروپس اور پیجز ہیں جن میں سے کچھ تو بہت گرانقدر خدمت انجام دے رہے ہیں لیکن اکثریت وہی نیم حکیم اور عطائی حضرات ہیں جو ہر ھفتہ کوئی نہ کوئی معجون، کیپسول، سفوف اور طلا نئی نئی لچھے دار عبارت سے مزین کرکے نوجوانوں بلکہ ہر عمر کے مردوں کو ورغلاتے ہیں۔ سم الفار، کچلا، شنگرف، اور سیماب جیسے انتہائی خطرناک اور مہلک ترین اجزا کے کشتہ جات پر مشتمل نسخے جو اچھے بھلے صحتمند انسان کا بیڑہ غرق کردیتے ہیں۔ خدارا ان لچھے دار نسخوں سے بچیں۔ یہ آپ کے لئے سم قاتل ہیں۔ یہ آپ کے گردوں اور جگر کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔
اگر جوانی میں پہلوانوں والی بات یعنی لنگوٹ تھام کر رکھا جائے اور اپنی بیوی تک محدود رہا جائے تو کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑتی۔
دوسرے غذا میں "جو یعنی بارلے” کو لازم کیا جائے۔ کھانا ہمیشہ آدھا پیٹ کھایا جائے اور پسینہ روزانہ لازمی بہایا جائے تو قوت مردمی بحال رہتی ہے بلکہ واپس آجاتی ہے
آجکل کے نوجوانوں کو صرف یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میرے بھائی جب سارا جسم اور عضو صحیح سلامت ہیں صحت نارمل ہے تو پھر صرف ایک مخصوص جگہ کیسے ناکارہ و ابنارمل ہوسکتی ہے۔ یاد رکھئے کہ یہ صرف نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے۔
سادی عمدہ غذا، پابندی سےواک اور ورزش، نشہ آور اشیا سے پرھیز، چنے، کھجور، جو، ڈرائی فروٹس، عبادت، پاکیزہ خیالات آپ کا علاج ہیں۔
عمر کوئی بھی ہو۔ ہر ایک دن چھوڑ کر تین منقہ گرم دودھ کے ساتھ تناول فرمائیں۔ کھجوریں دیسی گھی میں بریاں کرکے رکھ لیں۔ پانچ سات رات کو گرم دودھ سے کھا لیا کریں۔ کچی سبزیوں کا سلاد کم از کم پاؤ بھر روزانہ ضرور کھائیں۔ موسمی پھل کھائیں۔ چالیس دن سے پہلے گھوڑا خود آکر پوچھے گا کہ بھائی کونسا نسخہ ہاتھ لگ گیا ہے
ایک ضروری بات:
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر کسی شادی شدہ بندے کو ذہنی دباؤ یا کسی دوسری جسمانی یا ذہنی و نفسیاتی وجہ سے انتشار نہ ہوتا ہو تو بندہ کیا کرے۔ کس ڈاکٹر کے پاس جائے؟وہ ڈاکٹر کیا تجویز کرے؟صرف پری ایجوکیلیشن کے لیے ایک دوائی prolong حکومت کی طرف سے منظور شدہ ہے باقی سب دو نمبر سمگلڈ شدہ ادویات یا عطائیوں کے نسخے۔
ایسے تمام افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ادھر ادھر کی دوائیں اور نسخے آزمانے کے بجائے سرٹیفائیڈ سیکسولوجسٹ یا جنسی معاملات میں ایکسپرٹ ماہر نفسیات سے ملاقات کریں۔ اپنے شہر میں سرٹیفائیڈ سیکسولوجسٹ کے بارے میں جاننے کے لئے گوگل سرچ پر Sexologist کے ساتھ اپنے شہر کا نام ٹائپ کیجئے تو آپ کو اپنے شہر میں موجود سیکسولوجسٹ کے نام اور فون نمبرز کی تفصیل مل جائے گی
4 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dastaan Go
"""''''''' باشرع ادکار"""""""
دیرلش ارتغل اور کارلوس عثمان میں عبد الرحمن غازی کا کردار ادا کرنے والے اداکار جلال آل شاید دنیا کے واحد ادکار ہیں جنہوں نے داڑھی شریعت کا حکم سمجھ کر رکھی ہے فیشن سمجھ کر نہیں رکھی
ان کی بیوی شرعی پردہ کرتی ہیں
جلال آل نے اپنی شادی پر ترکی کے صدر طیب اردگان کو مدعو کیا تھا شادی کے دن بھی دلہن باپردہ تھی
طیب اردگان نے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں جلال آل کو ایک باکمال وصیت کی کہ
بیٹا اپنی اولاد زیادہ پیدا کرنا یو ر پین کے کہنے پہ بچے دو ہی اچھے کو بالکل نہ دل و دماغ میں جگہ دینا
مزید کہا کہ
ایک بچہ حسرت ہوتی ہے دو ہوں تو آپس میں لڑتے رہتے ہیں تین ہو تو توازن برقرار نہیں رہتا ہاں چار ہوں تو دنیا مکمل ہوتی ہے
لہذا تم اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ عمل کرتے ہوئے بچے زیادہ پیدا کرنا
ایک انتہائی حیرت ناک بات ہے
کہ جلال آل نے عبد الرحمن غازی کا کردار ادا کیا تو شرط رکھی تھی کہ اس میں اسکی کوئی بیوی نہ ہوگی (حالانکہ تاریخ میں عبد الرحمن غازی کی بیوی بچے تھے) کیونکہ نامحرم کو چھونا جائز نہیں ہے
یہی وجہ تھی کہ اس ڈرامے کے تمام اداکاروں میں سے یہ واحد اداکار ہیں جن کے ہاتھوں پر کف ار نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا ہے
اللہ تعالیٰ کس سے دین کا کام لے اسکی مرضی ہے
کون اسکی بارگاہ میں مقبول ہے وہ جانتا ہے۔۔۔
4 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Dastaan Go
*" جبلِ ثور سے کرناٹک تک* "
کل 15 سالہ فاطمہ صغری یاد آگئی۔ تاج برطانیہ کے خلاف مزاحمت کرنے والی دلیر لڑکی ۔۔۔۔
یہی مہینہ تھا ۔۔14فروری اور 1947 کا سال ۔۔۔
پنجاب سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج پر پولیس لاٹھی چارج کر رہی تھی ، ایک دبلی پتلی لڑکی کالے رنگ کا دوپٹہ اوڑھے ہجوم سے نکلتی ہےاور پنجاب سول سیکرٹریٹ کی عمارت سے یونین جیک کو اتار کر اس کی جگہ سبز دوپٹہ ’مسلم لیگ کے پرچم‘ کے طور پر لہرا دیتی ہے اور تاریخ میں امر ہوجاتی ہے۔ اسے بھی نہ جان کی پرواہ تھی نہ ہجوم کا خوف ۔۔۔
یہ جبر کے خلاف نہتی لڑکی کی مزاحمت تھی ۔۔۔
*مسکان خان کے پاس بھی دو راستے تھے یا تو شدت پسندوں کی مرضی کے سامنے جھک جاتی اور جان* *کا رسک نہ لے کر مڑ جاتی کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے جان عزیز ہونی* چاہیے غیرت ، حمیت ، حقوق اور عقیدہ یہ سب ثانوی حیثیت رکھتی ہیں ۔
بات لباس یا حجاب کی نہیں بات یہ ہے کہ آپ حق پر ہوتے ہوئے باطل اور جبر و استعداد کے سامنے نعرہ حق کس طرح بلند کرتے ہیں ۔ *تاریخ کی کتابوں کے حاشیے بھی بہادر لوگوں کی داستاں سے پُر ہیں ۔ پون* *صدی کے بعد ایک اور بہادر لڑکی تاریخ کا حصہ بننے جارہی ہے ۔ اس کی چال ، اٹھتے قدم ، اعتماد ،* جرات نے دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے ۔ کچھ دانشوروں کی عقل تو اب بھی محو تماشائے لب بام ہے۔
*ایک بات یاد رکھیے ! وہ طرابلس کے میدان کی فاطمہ بنت عبداللہ ہو ، غار ثور میں کھانا پہنچانے والی* *اسما بنت ابوبکرؓ ، یونین جیک اتارنے والی فاطمہ صغری یا باطل کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والی کرناٹک کی مسکان* *خان ، ان کی تو گھٹی میں حق گوئی و بےباکی شامل ہوتی ہے ۔ یہ موت سے ڈر کر ہٹ جانے پر* ڈٹ جانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ بزدل اور بے حمیت تو ہم ہیں جو "یُوں ہوتا اور تُوں ہوتا" کے چکر میں پڑے رہتے ہیں ۔ تاریخ تو ہمیشہ سر پھرے ہی رقم کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی طاقت دیکھیے وہ باحجاب لڑکی اس وقت بہادری اور دلیری کی مثال بن چکی ہے۔ اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والی وہ دلیر لڑکی ❤
*وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود*
*ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا*
❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂
#AllahHuAkbar #Muskan #DilKeyQareebMuslimSisterMuskan
#HijabisOurRight #india
#DastaanGo #PyaryHaidri
4 years ago | [YT] | 4
View 0 replies
Load more