ترجمہ: جابر بن عبداللہ ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ: عافیت والے قیامت كے دن جب وہ آزمائش والوں كا ثواب دیكھیں گے تویہ خواہش كریں گے كہ ان كی كھال قینچیوں سے كاٹ دی جاتی۔ الصحيحة رقم (2206) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ الْبَصَرِ رقم (2326)
اردو ٹائٹل قیامت کے دن عافیت والے بھی آزمائش والوں کے اجر پر رشک کریں گے | ایک عظیم حدیث English Title On the Day of Judgment, Even the Healthy Will Envy the Reward of Those Who Suffered حدیث عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنه مرفوعاً: "لَيَوَدَّنَّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ جُلُودَهُمْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِمَّا يَرَوْنَ مِنْ ثَوَابِ أَهْلِ الْبَلَاءِ" (السلسلة الصحيحة: 2206، سنن الترمذی: 2326) آسان اردو مفہوم حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن وہ لوگ جو دنیا میں بیماریوں، تکلیفوں اور آزمائشوں سے محفوظ رہے، جب مصیبت برداشت کرنے والوں کا عظیم اجر و ثواب دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتی رہتیں تاکہ وہ بھی اتنا بڑا اجر حاصل کر لیتے۔ English Translation Narrated by Jabir ibn Abdullah (RA) that the Prophet ﷺ said: "On the Day of Resurrection, those who lived in comfort and good health will wish that their skins had been cut with scissors in the world when they see the immense reward given to the people who endured trials and hardships." (As-Silsilah As-Sahihah 2206, Jami' At-Tirmidhi 2326) پشتو ژباړه له حضرت جابر بن عبدالله رضي الله عنه څخه روايت دی چې رسول الله ﷺ وفرمايل: د قيامت په ورځ به هغه خلک چې په دنيا کې په آرامۍ او روغتيا کې وو، کله چې د مصيبتونو او ازموينو زغمونکو خلکو لوی اجر وويني، نو هيله به وکړي چې کاش د دوی پوستکي په دنيا کې په قيچيو پرې کړل شوي وای، تر څو دوی هم دغه ستر ثواب ترلاسه کړی وای. 中文翻译 (Chinese) 据贾比尔·本·阿卜杜拉(愿真主喜悦他)传述,先知穆罕默德 ﷺ 说: 在复生日,那些在今世享有健康与安逸的人,当他们看到经历考验和苦难之人所获得的巨大回赐时,将会希望自己的皮肤曾被剪刀剪割,只为获得同样丰厚的报酬。 حدیث کا پیغام بیماری اور مشکلات ہمیشہ سزا نہیں ہوتیں۔ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر ہے۔ مومن کو آزمائش کے وقت اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کی تکلیف عارضی ہے جبکہ آخرت کا اجر ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ صبر اور اللہ پر بھروسہ انسان کو بلند درجات عطا کرتا ہے۔ YouTube SEO Description رسول اللہ ﷺ کی یہ عظیم حدیث ہمیں صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین رکھنے کا درس دیتی ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ لوگ بھی جو دنیا میں آرام اور عافیت میں رہے، آزمائشوں اور بیماریوں پر صبر کرنے والوں کا عظیم اجر دیکھ کر رشک کریں گے۔ یہ حدیث ہر مسلمان کو مشکلات کے وقت صبر کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ Hadith about patience, suffering, illness, trials, reward of hardship, Islamic reminder, Day of Judgment, reward for patience, sabr in Islam, authentic hadith explanation. 10 Keywords Hadith About Patience Reward of Suffering in Islam Islamic Reminder Sabr in Islam Day of Judgment Hadith Authentic Hadith Trials and Tribulations Reward for Patience Jannah and Sabr Islamic Motivation Hashtags #Hadith #Islam #Sabr #PatienceInIslam #IslamicReminder #QuranAndHadith #DayOfJudgment #IslamicKnowledge #Muslim #IslamicShorts مختصر وائس اوور کیا آپ جانتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن عافیت والے لوگ، آزمائش برداشت کرنے والوں کا اجر دیکھ کر آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کی کھالیں بھی قینچیوں سے کاٹی جاتی رہتیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صبر کا اجر بہت عظیم ہے۔ لہٰذا بیماری، پریشانی یا کسی بھی آزمائش میں صبر کریں اور اللہ سے اجر کی امید رکھیں۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا فرماتا ہے۔
اس حدیث میں جن دو شخصیات کا ذکر آیا ہے، وہ دونوں جلیل القدر مسلمان اور معتبر راوی ہیں: مطرف بن عبد اللہ یہ ایک بڑے تابعی تھے۔ ان کا پورا نام مطرف بن عبد اللہ بن شخیرؒ تھا۔ یہ عبادت، تقویٰ، علم اور نرمی کے لیے بہت مشہور تھے۔ انہوں نے کئی صحابۂ کرامؓ سے علم حاصل کیا اور احادیث روایت کیں۔ حدیث میں “مطرف” وہ راوی ہیں جو یہ واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عمران بن حصین یہ رسول اللہ ﷺ کے عظیم صحابی تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد پوری زندگی دین کی خدمت میں گزاری۔ یہ علم، صبر اور عبادت میں بہت مشہور تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بہت سی احادیث روایت کیں۔ اس حدیث میں جب انہوں نے حضرت علیؓ کی نماز دیکھی تو جذباتی ہو کر فرمایا: “انہوں نے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔” یعنی حضرت علیؓ نماز بالکل اسی انداز میں ادا کر رہے تھے جیسے نبی کریم ﷺ نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ علی بن ابی طالب یہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے، اور اسلام کے چوتھے خلیفہ تھے۔ علم، بہادری، عبادت اور سنت پر عمل میں بہت بلند مقام رکھتے تھے۔ اس حدیث میں وہ نماز پڑھا رہے تھے۔
اپ سب کو میرے اس اسلامی چینل میں جو کہ حدیثوں کے اوپر مبنی ہے خوش امدید کہتا ہوں میرے چینل پر ائیں اس کو سبسکرائب کریں اور اگے اپنے دوستوں یاروں میں شیئر ضرور کریں
ترجمہ: اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو حجرے تعمیر کرے ان کو عمدہ اور خوبصورت اور کامل بنائے مگر مکان کے کسی ایک کونے کی ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ جائے۔ لوگ پھر پھر کر مکان دیکھتے ہیں اور عمارت کو پسند کرتے ہیں۔ پس وہ کہتے ہیں یہاں ایک اینٹ رکھ دی جاتی جس سے عمارت مکمل ہوجائے۔ پھر محمد ﷺ نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہی ہوں۔ آپ اسلامی مواد یوٹیوب اور ٹک ٹاک کے لیے بناتے ہیں، اس لیے میں اس حدیث کے لیے مکمل SEO پیکج تیار کر دیتا ہوں تاکہ آپ آسانی سے ویڈیو بنا سکیں۔ 📜 حدیث کتاب: Sahifa Hammam ibn Munabbih حدیث نمبر: 2 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک خوبصورت اور مکمل عمارت بنائی، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے اور کہتے: یہاں ایک اینٹ لگا دی جاتی تو عمارت مکمل ہو جاتی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں۔” 🌍 Hindi Translation मेरी और मुझसे पहले आए नबियों की मिसाल उस व्यक्ति की तरह है जिसने एक बहुत ही सुंदर और मुकम्मल इमारत बनाई, लेकिन उसके एक कोने में एक ईंट की जगह खाली रह गई। लोग उस इमारत के चारों ओर घूमते, उसकी खूबसूरती देखकर हैरान होते और कहते: अगर यहाँ एक ईंट लगा दी जाती तो इमारत पूरी हो जाती। तब रसूलुल्लाह ﷺ ने फरमाया: वह ईंट मैं हूँ। 🌏 Chinese Translation (中文翻译) 先知穆罕默德 ﷺ 说: 我与我之前众先知的比喻,就像一个人建造了一座非常美丽而完整的房屋,但在房屋的一个角落里还缺少一块砖。人们围着房子观看,对它的美丽感到惊讶,并说:如果这里放上一块砖,这座房子就完全了。 于是先知穆罕默德 ﷺ 说:那最后的一块砖就是我。 ✨ آسان تشریح اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ایک بہت خوبصورت مثال دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف زمانوں میں بہت سے انبیاء بھیجے۔ ہر نبی نے دین کی عمارت کو مضبوط کیا۔ لیکن نبوت کی عمارت ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا۔ اس طرح نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی۔ 📌 اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ 🎬 YouTube Title (SEO Friendly) Urdu Title نبی ﷺ آخری اینٹ کیوں ہیں؟ | نبوت کی عمارت مکمل کرنے والی حدیث English Title The Final Brick of Prophethood | Beautiful Hadith of Prophet Muhammad ﷺ 🔍 Keywords Islamic hadith Prophet Muhammad final prophet final brick hadith prophethood in Islam Islamic short video hadith explanation last prophet Muhammad beautiful hadith about prophets Islamic knowledge short prophethood building example 🔖 Hashtags #ProphetMuhammad #FinalProphet #IslamicReminder #HadithOfTheDay #QuranAndHadith
🎤 Voice Over Script (Short Video) 🎙️ کیا آپ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے اپنی مثال کیسے بیان فرمائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت عمارت بنائی ہو لیکن اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ جائے لوگ اس عمارت کو دیکھ کر کہتے اگر یہاں ایک اینٹ لگا دی جائے تو عمارت مکمل ہو جائے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ✨ وہ آخری اینٹ میں ہوں یعنی اللہ تعالیٰ نے نبوت کی عمارت کو محمد ﷺ پر مکمل فرما دیا۔ 🎯 Hook (ویڈیو شروع کرنے کے لیے) کیا آپ جانتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خود کو عمارت کی آخری اینٹ کیوں فرمایا؟ یہ مثال اسلام کی ایک بہت بڑی حقیقت بیان کرتی ہے۔ 🧾 خلاصہ تمام انبیاء نے دین کی بنیاد مضبوط کی۔ ہر نبی ایک اینٹ کی طرح تھا۔ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
ترجمہ: عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان، جس کی دو راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن ابی اوفی ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الوصایا ١ (١٦٢٧)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٢ (٢٦٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٧٩٤٤) (صحیح) مسند احمد (٢/٥٧، ٨٠)، (ویأتي عند المؤلف فی الوصایا ٣ (٢١١٨)، وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٣٨)، صحیح مسلم/الوصایا (المصدر المذکور)، سنن النسائی/الوصایا ١ (٣٦٤٥، ٣٦٤٦، ٣٦٤٨)، موطا امام مالک/الوصایا ١ (١)، مسند احمد (٢/٤، ١٠، ٣٤، ٥٠، ١١٣)، سنن الدارمی/الوصایا ١ (٣٢٣٩)، من غیر ہذا الوجہ۔ قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2699) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 974
Translation: Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is upon every Muslim who possesses something for which he shQuld leave instructions that he should not let two nights pass without writing a will about it?.” [Ahmed5197, Bukhari 1314, Muslim 1627, Ibn e Majah 2699, Abu Dawud 2862]
ترجمہ: انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٧ (١٢٥٢)، و ٣١ (١٢٨٣)، و ٤٢ (١٣٠٢)، والأحکام ١١ (٧١٥٤)، صحیح مسلم/الجنائز ٨ (٩٢٦)، سنن ابی داود/ الجنائز ٢٧ (٣١٢٤)، سنن النسائی/الجنائز ٢٢ (١٨٧٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٩)، مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٢١٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1596) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 988
Translation: Thabit Bunani reported from Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “Patience is at the first shock.” --------------------------------------------------------------------------------
#islamicshorts#youtubeshorts#islamiceducation digitalaiislam Jami at-Tirmidhi کتاب: الجنائز (جنازوں کا بیان) باب: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو حدیث نمبر: 988 حدیث کا متن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى» "صبر تو وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔" امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ راوی کا تعارف Anas ibn Malik رضی اللہ عنہ آپ دس سال تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہے اور کثیر الاحادیث صحابی ہیں۔ حدیث کی تخریج یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے: Sahih al-Bukhari Sahih Muslim Sunan Abi Dawud Sunan an-Nasa'i Sunan Ibn Majah Musnad Ahmad شیخ Muhammad Nasiruddin al-Albani رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مختصر تشریح یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل صبر وہ نہیں جو وقت گزرنے کے بعد آ جائے، بلکہ حقیقی صبر وہ ہے جو اچانک صدمہ پہنچنے کے فوراً بعد اختیار کیا جائے۔ جب کوئی تکلیف، نقصان یا وفات کی خبر ملتی ہے تو دل گھبرا جاتا ہے۔ اس وقت: چیخ و پکار نہ کرنا اللہ سے شکوہ نہ کرنا ناشکری کے الفاظ نہ کہنا زبان اور عمل کو قابو میں رکھنا یہی اصل صبر ہے۔ اہم نکات (YouTube Points کے لیے مفید) صبر کا سب سے بڑا امتحان پہلا لمحہ ہوتا ہے۔ بعد میں تو دل خود ہی سنبھل جاتا ہے۔ جو شخص پہلے صدمے پر خود کو روک لے، وہی حقیقی صابر ہے۔ صبر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بے حساب اجر عطا فرماتا ہے۔ ماتم، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ کرنا منع ہے، لیکن آنسو بہانا جائز ہے۔
جزاک اللہ خیراً بھائی محمد عقیل 🙌 یہ رہا آپ کے لیے ایک ایک منٹ کا پاورفل وائس اوور اسکرپٹ — صاف، مدلل اور مؤثر انداز میں 👇 🎙️ وائس اوور اسکرپٹ (1 منٹ) کیا آپ جانتے ہیں فجر کی دو رکعت سنت کتنی قیمتی ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔” (Sahih Muslim) یہ دو رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں — یعنی نبی ﷺ ان کا ہمیشہ اہتمام فرماتے تھے، حتیٰ کہ سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ طریقہ کیا ہے؟ فجر کی دو سنتیں فرض سے پہلے ادا کی جاتی ہیں۔ اگر مسجد پہنچیں اور جماعت شروع نہ ہوئی ہو تو پہلے سنت پڑھیں، پھر جماعت میں شامل ہوں۔ لیکن اگر اقامت ہو جائے تو نبی ﷺ نے فرمایا: “جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔” (Sahih Muslim) ایسی صورت میں فوراً جماعت میں شامل ہو جائیں۔ اگر سنت رہ جائیں تو کیا کریں؟ حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابیؓ نے فرض کے بعد رہ جانے والی سنت ادا کی، اور آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔ (Sunan Abu Dawood) علماء فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ سورج طلوع ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد ادا کی جائیں، کیونکہ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک نفل نماز سے منع کیا گیا ہے۔ خلاصہ یاد رکھیں: فجر کی سنت مؤکدہ ہے، فرض سے پہلے پڑھنی ہے، رہ جائے تو بعد میں ادا کی جا سکتی ہے۔ اللہ ہمیں فجر کی سنتوں کا اہتمام کرنے والا بنائے۔ آمین۔ اگر آپ چاہیں تو میں اسی کا ریِلز/شارٹس والا اور بھی زیادہ اثر انگیز ورژن بھی بنا دوں جس میں ہُک اور کال ٹو ایکشن بھی شامل ہو۔
Digital AI islam
السلسلة الصحيحة
کتاب: بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
باب: بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
حدیث نمبر: 3300
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مرفوعا: ليَودّن أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ جُلُودَهُمْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِمّا يَرون مِن ثَوَاب أَهْلِ الْبَلَاءِ.
ترجمہ:
جابر بن عبداللہ ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ: عافیت والے قیامت كے دن جب وہ آزمائش والوں كا ثواب دیكھیں گے تویہ خواہش كریں گے كہ ان كی كھال قینچیوں سے كاٹ دی جاتی۔
الصحيحة رقم (2206) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ الْبَصَرِ رقم (2326)
اردو ٹائٹل
قیامت کے دن عافیت والے بھی آزمائش والوں کے اجر پر رشک کریں گے | ایک عظیم حدیث
English Title
On the Day of Judgment, Even the Healthy Will Envy the Reward of Those Who Suffered
حدیث
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنه مرفوعاً:
"لَيَوَدَّنَّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ جُلُودَهُمْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِمَّا يَرَوْنَ مِنْ ثَوَابِ أَهْلِ الْبَلَاءِ"
(السلسلة الصحيحة: 2206، سنن الترمذی: 2326)
آسان اردو مفہوم
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن وہ لوگ جو دنیا میں بیماریوں، تکلیفوں اور آزمائشوں سے محفوظ رہے، جب مصیبت برداشت کرنے والوں کا عظیم اجر و ثواب دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتی رہتیں تاکہ وہ بھی اتنا بڑا اجر حاصل کر لیتے۔
English Translation
Narrated by Jabir ibn Abdullah (RA) that the Prophet ﷺ said:
"On the Day of Resurrection, those who lived in comfort and good health will wish that their skins had been cut with scissors in the world when they see the immense reward given to the people who endured trials and hardships."
(As-Silsilah As-Sahihah 2206, Jami' At-Tirmidhi 2326)
پشتو ژباړه
له حضرت جابر بن عبدالله رضي الله عنه څخه روايت دی چې رسول الله ﷺ وفرمايل:
د قيامت په ورځ به هغه خلک چې په دنيا کې په آرامۍ او روغتيا کې وو، کله چې د مصيبتونو او ازموينو زغمونکو خلکو لوی اجر وويني، نو هيله به وکړي چې کاش د دوی پوستکي په دنيا کې په قيچيو پرې کړل شوي وای، تر څو دوی هم دغه ستر ثواب ترلاسه کړی وای.
中文翻译 (Chinese)
据贾比尔·本·阿卜杜拉(愿真主喜悦他)传述,先知穆罕默德 ﷺ 说:
在复生日,那些在今世享有健康与安逸的人,当他们看到经历考验和苦难之人所获得的巨大回赐时,将会希望自己的皮肤曾被剪刀剪割,只为获得同样丰厚的报酬。
حدیث کا پیغام
بیماری اور مشکلات ہمیشہ سزا نہیں ہوتیں۔
صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر ہے۔
مومن کو آزمائش کے وقت اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
دنیا کی تکلیف عارضی ہے جبکہ آخرت کا اجر ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔
صبر اور اللہ پر بھروسہ انسان کو بلند درجات عطا کرتا ہے۔
YouTube SEO Description
رسول اللہ ﷺ کی یہ عظیم حدیث ہمیں صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین رکھنے کا درس دیتی ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ لوگ بھی جو دنیا میں آرام اور عافیت میں رہے، آزمائشوں اور بیماریوں پر صبر کرنے والوں کا عظیم اجر دیکھ کر رشک کریں گے۔ یہ حدیث ہر مسلمان کو مشکلات کے وقت صبر کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
Hadith about patience, suffering, illness, trials, reward of hardship, Islamic reminder, Day of Judgment, reward for patience, sabr in Islam, authentic hadith explanation.
10 Keywords
Hadith About Patience
Reward of Suffering in Islam
Islamic Reminder
Sabr in Islam
Day of Judgment Hadith
Authentic Hadith
Trials and Tribulations
Reward for Patience
Jannah and Sabr
Islamic Motivation
Hashtags
#Hadith
#Islam
#Sabr
#PatienceInIslam
#IslamicReminder
#QuranAndHadith
#DayOfJudgment
#IslamicKnowledge
#Muslim
#IslamicShorts
مختصر وائس اوور
کیا آپ جانتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن عافیت والے لوگ، آزمائش برداشت کرنے والوں کا اجر دیکھ کر آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کی کھالیں بھی قینچیوں سے کاٹی جاتی رہتیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صبر کا اجر بہت عظیم ہے۔ لہٰذا بیماری، پریشانی یا کسی بھی آزمائش میں صبر کریں اور اللہ سے اجر کی امید رکھیں۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا فرماتا ہے۔
1 day ago | [YT] | 0
View 0 replies
Digital AI islam
1 week ago | [YT] | 3
View 0 replies
Digital AI islam
اس حدیث میں جن دو شخصیات کا ذکر آیا ہے، وہ دونوں جلیل القدر مسلمان اور معتبر راوی ہیں:
مطرف بن عبد اللہ
یہ ایک بڑے تابعی تھے۔
ان کا پورا نام مطرف بن عبد اللہ بن شخیرؒ تھا۔
یہ عبادت، تقویٰ، علم اور نرمی کے لیے بہت مشہور تھے۔
انہوں نے کئی صحابۂ کرامؓ سے علم حاصل کیا اور احادیث روایت کیں۔
حدیث میں “مطرف” وہ راوی ہیں جو یہ واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔
عمران بن حصین
یہ رسول اللہ ﷺ کے عظیم صحابی تھے۔
انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد پوری زندگی دین کی خدمت میں گزاری۔
یہ علم، صبر اور عبادت میں بہت مشہور تھے۔
انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بہت سی احادیث روایت کیں۔
اس حدیث میں جب انہوں نے حضرت علیؓ کی نماز دیکھی تو جذباتی ہو کر فرمایا:
“انہوں نے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔”
یعنی حضرت علیؓ نماز بالکل اسی انداز میں ادا کر رہے تھے جیسے نبی کریم ﷺ نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔
علی بن ابی طالب
یہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے، اور اسلام کے چوتھے خلیفہ تھے۔
علم، بہادری، عبادت اور سنت پر عمل میں بہت بلند مقام رکھتے تھے۔
اس حدیث میں وہ نماز پڑھا رہے تھے۔
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Digital AI islam
اپ سب کو میرے اس اسلامی چینل میں جو کہ حدیثوں کے اوپر مبنی ہے خوش امدید کہتا ہوں میرے چینل پر ائیں اس کو سبسکرائب کریں اور اگے اپنے دوستوں یاروں میں شیئر ضرور کریں
2 weeks ago | [YT] | 2
View 0 replies
Digital AI islam
2 months ago | [YT] | 4
View 0 replies
Digital AI islam
Upgrade my new logo
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Digital AI islam
صحیفہ ابن ہمام
کتاب: ا ب ج
باب: عمارت مکمل کرنے والی اینٹ
حدیث نمبر: 2
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَكْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمُ الْبُنْيَانُ، فَيَقُولُونَ أَلَا وُضِعَتْ هَاهُنَا لَبِنَةٌ فَتَمَّ بِنَاؤُهُ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ
ترجمہ:
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو حجرے تعمیر کرے ان کو عمدہ اور خوبصورت اور کامل بنائے مگر مکان کے کسی ایک کونے کی ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ جائے۔ لوگ پھر پھر کر مکان دیکھتے ہیں اور عمارت کو پسند کرتے ہیں۔ پس وہ کہتے ہیں یہاں ایک اینٹ رکھ دی جاتی جس سے عمارت مکمل ہوجائے۔ پھر محمد ﷺ نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہی ہوں۔
آپ اسلامی مواد یوٹیوب اور ٹک ٹاک کے لیے بناتے ہیں، اس لیے میں اس حدیث کے لیے مکمل SEO پیکج تیار کر دیتا ہوں تاکہ آپ آسانی سے ویڈیو بنا سکیں۔
📜 حدیث
کتاب: Sahifa Hammam ibn Munabbih
حدیث نمبر: 2
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک خوبصورت اور مکمل عمارت بنائی، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے اور کہتے: یہاں ایک اینٹ لگا دی جاتی تو عمارت مکمل ہو جاتی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں۔”
🌍 Hindi Translation
मेरी और मुझसे पहले आए नबियों की मिसाल उस व्यक्ति की तरह है जिसने एक बहुत ही सुंदर और मुकम्मल इमारत बनाई, लेकिन उसके एक कोने में एक ईंट की जगह खाली रह गई। लोग उस इमारत के चारों ओर घूमते, उसकी खूबसूरती देखकर हैरान होते और कहते: अगर यहाँ एक ईंट लगा दी जाती तो इमारत पूरी हो जाती।
तब रसूलुल्लाह ﷺ ने फरमाया: वह ईंट मैं हूँ।
🌏 Chinese Translation (中文翻译)
先知穆罕默德 ﷺ 说:
我与我之前众先知的比喻,就像一个人建造了一座非常美丽而完整的房屋,但在房屋的一个角落里还缺少一块砖。人们围着房子观看,对它的美丽感到惊讶,并说:如果这里放上一块砖,这座房子就完全了。
于是先知穆罕默德 ﷺ 说:那最后的一块砖就是我。
✨ آسان تشریح
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ایک بہت خوبصورت مثال دی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مختلف زمانوں میں بہت سے انبیاء بھیجے۔
ہر نبی نے دین کی عمارت کو مضبوط کیا۔
لیکن نبوت کی عمارت ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا۔
اس طرح نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی۔
📌 اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ
رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔
🎬 YouTube Title (SEO Friendly)
Urdu Title
نبی ﷺ آخری اینٹ کیوں ہیں؟ | نبوت کی عمارت مکمل کرنے والی حدیث
English Title
The Final Brick of Prophethood | Beautiful Hadith of Prophet Muhammad ﷺ
🔍 Keywords
Islamic hadith
Prophet Muhammad final prophet
final brick hadith
prophethood in Islam
Islamic short video
hadith explanation
last prophet Muhammad
beautiful hadith about prophets
Islamic knowledge short
prophethood building example
🔖 Hashtags
#ProphetMuhammad
#FinalProphet
#IslamicReminder
#HadithOfTheDay
#QuranAndHadith
🎤 Voice Over Script (Short Video)
🎙️
کیا آپ جانتے ہیں
نبی کریم ﷺ نے اپنی مثال کیسے بیان فرمائی؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے
جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت عمارت بنائی ہو
لیکن اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ جائے
لوگ اس عمارت کو دیکھ کر کہتے
اگر یہاں ایک اینٹ لگا دی جائے تو عمارت مکمل ہو جائے
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
✨ وہ آخری اینٹ میں ہوں
یعنی
اللہ تعالیٰ نے نبوت کی عمارت کو
محمد ﷺ پر مکمل فرما دیا۔
🎯 Hook (ویڈیو شروع کرنے کے لیے)
کیا آپ جانتے ہیں
رسول اللہ ﷺ نے خود کو عمارت کی آخری اینٹ کیوں فرمایا؟
یہ مثال اسلام کی ایک بہت بڑی حقیقت بیان کرتی ہے۔
🧾 خلاصہ
تمام انبیاء نے دین کی بنیاد مضبوط کی۔
ہر نبی ایک اینٹ کی طرح تھا۔
رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔
آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Digital AI islam
جامع ترمذی
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: وصیت کی ترغیب
حدیث نمبر: 974
حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان، جس کی دو راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن ابی اوفی ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الوصایا ١ (١٦٢٧)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٢ (٢٦٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٧٩٤٤) (صحیح) مسند احمد (٢/٥٧، ٨٠)، (ویأتي عند المؤلف فی الوصایا ٣ (٢١١٨)، وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٣٨)، صحیح مسلم/الوصایا (المصدر المذکور)، سنن النسائی/الوصایا ١ (٣٦٤٥، ٣٦٤٦، ٣٦٤٨)، موطا امام مالک/الوصایا ١ (١)، مسند احمد (٢/٤، ١٠، ٣٤، ٥٠، ١١٣)، سنن الدارمی/الوصایا ١ (٣٢٣٩)، من غیر ہذا الوجہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2699)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 974
Translation:
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is upon every Muslim who possesses something for which he shQuld leave instructions that he should not let two nights pass without writing a will about it?.” [Ahmed5197, Bukhari 1314, Muslim 1627, Ibn e Majah 2699, Abu Dawud 2862]
3 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Digital AI islam
جامع ترمذی
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو
حدیث نمبر: 988
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ:
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٧ (١٢٥٢)، و ٣١ (١٢٨٣)، و ٤٢ (١٣٠٢)، والأحکام ١١ (٧١٥٤)، صحیح مسلم/الجنائز ٨ (٩٢٦)، سنن ابی داود/ الجنائز ٢٧ (٣١٢٤)، سنن النسائی/الجنائز ٢٢ (١٨٧٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٩)، مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٢١٧) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1596)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 988
Translation:
Thabit Bunani reported from Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “Patience is at the first shock.” --------------------------------------------------------------------------------
#islamicshorts #youtubeshorts #islamiceducation
digitalaiislam
Jami at-Tirmidhi
کتاب: الجنائز (جنازوں کا بیان)
باب: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو
حدیث نمبر: 988
حدیث کا متن
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
«الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى»
"صبر تو وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔"
امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
راوی کا تعارف
Anas ibn Malik رضی اللہ عنہ
آپ دس سال تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہے اور کثیر الاحادیث صحابی ہیں۔
حدیث کی تخریج
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے:
Sahih al-Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abi Dawud
Sunan an-Nasa'i
Sunan Ibn Majah
Musnad Ahmad
شیخ Muhammad Nasiruddin al-Albani رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
مختصر تشریح
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل صبر وہ نہیں جو وقت گزرنے کے بعد آ جائے، بلکہ حقیقی صبر وہ ہے جو اچانک صدمہ پہنچنے کے فوراً بعد اختیار کیا جائے۔
جب کوئی تکلیف، نقصان یا وفات کی خبر ملتی ہے تو دل گھبرا جاتا ہے۔ اس وقت:
چیخ و پکار نہ کرنا
اللہ سے شکوہ نہ کرنا
ناشکری کے الفاظ نہ کہنا
زبان اور عمل کو قابو میں رکھنا
یہی اصل صبر ہے۔
اہم نکات (YouTube Points کے لیے مفید)
صبر کا سب سے بڑا امتحان پہلا لمحہ ہوتا ہے۔
بعد میں تو دل خود ہی سنبھل جاتا ہے۔
جو شخص پہلے صدمے پر خود کو روک لے، وہی حقیقی صابر ہے۔
صبر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بے حساب اجر عطا فرماتا ہے۔
ماتم، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ کرنا منع ہے، لیکن آنسو بہانا جائز ہے۔
3 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Digital AI islam
جزاک اللہ خیراً بھائی محمد عقیل 🙌
یہ رہا آپ کے لیے ایک ایک منٹ کا پاورفل وائس اوور اسکرپٹ — صاف، مدلل اور مؤثر انداز میں 👇
🎙️ وائس اوور اسکرپٹ (1 منٹ)
کیا آپ جانتے ہیں فجر کی دو رکعت سنت کتنی قیمتی ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔”
(Sahih Muslim)
یہ دو رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں — یعنی نبی ﷺ ان کا ہمیشہ اہتمام فرماتے تھے، حتیٰ کہ سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔
طریقہ کیا ہے؟
فجر کی دو سنتیں فرض سے پہلے ادا کی جاتی ہیں۔
اگر مسجد پہنچیں اور جماعت شروع نہ ہوئی ہو تو پہلے سنت پڑھیں، پھر جماعت میں شامل ہوں۔
لیکن اگر اقامت ہو جائے تو نبی ﷺ نے فرمایا:
“جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔”
(Sahih Muslim)
ایسی صورت میں فوراً جماعت میں شامل ہو جائیں۔
اگر سنت رہ جائیں تو کیا کریں؟
حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابیؓ نے فرض کے بعد رہ جانے والی سنت ادا کی، اور آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔
(Sunan Abu Dawood)
علماء فرماتے ہیں:
بہتر یہ ہے کہ سورج طلوع ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد ادا کی جائیں، کیونکہ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک نفل نماز سے منع کیا گیا ہے۔
خلاصہ یاد رکھیں:
فجر کی سنت مؤکدہ ہے،
فرض سے پہلے پڑھنی ہے،
رہ جائے تو بعد میں ادا کی جا سکتی ہے۔
اللہ ہمیں فجر کی سنتوں کا اہتمام کرنے والا بنائے۔ آمین۔
اگر آپ چاہیں تو میں اسی کا ریِلز/شارٹس والا اور بھی زیادہ اثر انگیز ورژن بھی بنا دوں جس میں ہُک اور کال ٹو ایکشن بھی شامل ہو۔
3 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Load more