السلام علیکم
Assalam o alaikum
خوش آمدید
Well come
تلاوت قرآن مجید
Tilawat e Quran
نعت رسول مقبول ﷺ
Naat Rasool Sala ho alaih wassalam
اردو احادیث مبارکہ پڑھنے کے لیے
اور بیانات کے لیے اس چینل کو سبسکرائب کریں ۔۔
Please Subscribe to this Channel...
Keywords :::
Tilawat e Quran
Tilawat e Quran e Pak
Tilawat e Yaseen
Tilawat e Kalam Pak
Arabic Qiraat
Arabic Qiraat Quran Tilawat
Arabic Qiraat Quran
Arabic Qiraat surah
Surah rahman
Surah Yaseen
Surah baqarah
Qari Akhtar Munir Links
Facebook page ==== QARI Akhtar Munir
Links === www.facebook.com/Qari-Akhtar-Munir-109539940736934…
Instagram ====I'm on Instagram as @qari_akhtar_munir
#QariAkhtarMunir623 #MakkiMadniMedia #PoliticalActivism
#IslamicMediaMultan #MultanNaats
#ExtremeNaats #USANaats #ImranKhanIslamicStatus #RazaSaqibMustafai623 #QariAkhtarmunirVoice #MuslimMedia
#QariAbdullahSaeed
#Amirahkoise
Qari Akhtar Munir 623
مرد کا جھوٹا پانی پینا کیسا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
6 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
#fatwa #islam
6 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
#jumamubarak #qariakhtarmunir
7 months ago | [YT] | 6
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان
حوالہ: TAP-3082
تاریخ: 26-10-202
سانحہ مریدکے پر عدالتی کمیشن قائم کیا جائے ۔
25 جنوری 2026 کو مینارِ پاکستان لاہور میں ملک گیر سنی کانفرنس کا اعلان
تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان کے زیرِ اہتمام اہلِ سنت جماعتوں، خانقاہوں، وفاقوں اور اداروں کی مشترکہ مجلسِ شوریٰ کا ہنگامی اجلاس
لاہور۔۔۔۔۔۔
تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان کے زیرِ اہتمام اہلِ سنت جماعتوں، خانقاہوں، وفاقوں اور اداروں کی مشترکہ مجلسِ شوریٰ کا ہنگامی اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔اجلاس کی میزبانی سابق وفاقی وزیر سید حامد سعید کاظمی،جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر الوری،آستانہ عالیہ قادریہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر میاں عبدالخالق القادری، پیر آف مانکی شریف پیر زادہ محمد امین قادری نے کی۔ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ
تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان کے وفد کے ساتھ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے مذاکرات میں طے پانے کے باوجود مساجد،مدارس اور خانقاہیں کھولنے،خطباء و علماء کو رہا کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا بلکہ مزید مساجد و مدارس کو بند کیا جا رہا ہے اور علمائے کرام کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ہم دوبارہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اہلِ سنت کی مساجد و مدارس کو فوری طور پر کھول کر مقامی کمیٹیوں کے سپرد کرے اور بے گناہ کارکنان کو فوری طور پر رہا کرے۔
پنجاب حکومت کی کارروائیوں سے یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ یہ صرف ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن نہیں بلکہ پورے اہلِ سنت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اگر اس تاثر کو عملی اقدامات کے ذریعے ختم نہ کیا گیا تو ملک بھر سے سخت ررعمل آئے گا۔
تحریکِ لبیک پاکستان پر عائد پابندی کو مسترد کرتے ہیں،حکومت ریفرنس سپریم کورٹ میں پیش کرکے پابندی کے جواز کو ثابت کرے۔
سانحہ مریدکے پر عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
حکومت شہداء کی لاشیں ورثاء کے حوالے کرے اور زخمیوں کا بہترین علاج کروائے۔
سانحہ مریدکے میں قادیانی سازش اور مذہبی تعصب پر انکوائری کروائی جائے۔
مینارٹی ایکٹ 2025ء اور نیشنل کمیشن فار مینارٹی کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایکٹ قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ اور قانونِ ختمِ نبوت ﷺ کو عملاً غیر مؤثر کرنے کے مترادف ہے۔
فلسطین پر اسرائیلی جارحیت اور پاکستان میں طالبان کی دراندازی کی مذمت کرتے ہیں۔
مودی حکومت کی بریلی شریف میں آپریشن اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتی توقیر رضا خان قادری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے کیا گیا وقف بل مسترد کرتے ہیں حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
اہلِ سنت پاکستان کے 80 فیصد ہیں، ان کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔
۲۵ جنوری 2026 کو مینار پاکستان لاہور میں ملک گیر سنی کانفرنس ہوگی۔
اجلاس میں سابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر محمد امین الحسنات شاہ۔سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی۔سابق ممبر قومی اسمبلی و جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر الوری۔سابق ممبر قومی اسمبلی و آستانہ عالیہ شرقپور شریف صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری۔مرکزی جماعت اہلِ سنت پاکستان کے امیر پیر میاں عبدالخالق القادری،پاکستان سنی تحریک کے سربراہ انجینئر ثروت اعجاز قادری،انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے، عوامی تحریک پاکستان کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور،جماعتِ اہلِ سنت کے مرکزی ناظم اعلیٰ پیر خالد سلطان قادری،سنی تحریک کے سربراہ شاداب رضا نقشبندی،جمعیت علمائے پاکستان کی سپریم کونسل کے چیئرمین قاری زوار بہادر،نظام مصطفیٰ پارٹی کے چیئرمین میاں خالد حبیب الٰہی ایڈووکیٹ،آستانہ عالیہ امیر ملت کے سجادہ نشین پیر سید منور حسین جماعتی،
منہاج القرآن علماء کونسل کے صدر مفتی غلام اصغر صدیقی، پاکستان فلاح پارٹی پنجاب کے صدر ضمیر گجر،جماعت اہلسنت پنجاب کے امیر سید خلیل الرحمٰن شاہ بخاری جمعیت علماء پاکستان (نیازی) کے سربراہ پیر سید معصوم نقوی،وفاق المساجد الرضویہ کے مرکزی صدر مفتی مقیم خاں،سجادہ نشین سواگ شریف صاحبزادہ پیر افتخار الحسن۔آستانہ عالیہ شرقپور شریف کے سجادہ نشین میاں ولید احمد شرقپوری۔جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی، مفتی حسن علی قادری، سید محمد صفدر شاہ،صاحبزادہ معاذ المصطفی قادری۔جواد سلیم لودھی،ڈاکٹر شمس الرحمن شمس۔حامد رضا چشتی۔ڈاکٹر مفتی حسیب قادری، محمد علی نقشبندی،اسامہ حنیف,نعمان ملک،محمد اکرم رضوی اور دیگر نے شرکت کی۔۔۔۔
7 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
7 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
رفع یدین ترک کرنے کے احادیث مبارکہ سے حوالے ۔۔۔
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
1 year ago | [YT] | 4
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
#golra #golrashareef
1 year ago | [YT] | 5
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
احمد پور شرقیہ کے غلام عائشہ بنام عبدالرزاق کیس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا تاریخی فیصلہ صادر کرنے والے ریاست بہاول پور کے سابق چیف جسٹس و ناظم اعلیٰ مذہبی امور جناب غلام اکبر خان ہاشمی کا آج یوم وفات ہے
+اوچ شریف (جناح لائبریری رپورٹ/ 5 مئی 2025ء) ریاست بہاول پور کے چیف جسٹس و ناظم اعلیٰ مذہبی امور غلام اکبر خان کا آج یوم وفات ہے۔ 7 فروری 1935ء کو ریاست بہاول پور کے ڈسٹرکٹ جج کے طور پر غلام اکبر خان نے احمد پور شرقیہ کے غلام عائشہ بنام عبدالرزاق کیس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا تاریخی فیصلہ صادر کیا اور یوں یہ اعزاز سلطنت خداداد بہاول پور ہی کے حصے میں آیا کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ختم نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تحفظ کرنے والی دنیا کی پہلی ریاست بنی، یہاں تک کہ 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی 'مجلس شوری' (قومی اسمبلی) نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی تاریخی قرارداد منظور کی۔
ریاست بہاول پور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں ایک شخص مسمی عبدالرزاق مرزائی ہو کر مرتد ہو گیا، اس کی منکوحہ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش نے سن بلوغ کو پہنچ کر 24 جولائی 1926ء کو فسخ نکاح کا دعویٰ احمد پور شرقیہ کی مقامی عدالت میں دائر کر دیا جو 1931ء تک ابتدائی مراحل طے کر کے پھر 1932ء میں ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کی عدالت میں بغرض شرعی تحقیق واپس ہوا۔
آخر کار 7 فروری 1935ء کو فیصلہ بحق مدعیہ صادر ہوا۔ بہاول پور ایک اسلامی ریاست تھی اور اس کے والی عظیم صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مند تھے۔ خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے تمام خلفاء کو اس مقدمہ میں گہری دلچسپی تھی۔ اس وقت جامعہ عباسیہ (اسلامیہ یونیورسٹی) بہاول پور کے شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) مولانا غلام محمد گھوٹوی تھے جو حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے ارادت مند تھے۔ لیکن اس مقدمہ کی پیروی اور امت محمدیہ کی طرف سے نمائندگی کے لئے سب کی نگاہ انتخاب شیخ الاسلام حضرت مولانا انور شاہ کشمیری پر پڑی۔
مولانا غلام محمد گھوٹوی کی دعوت پر اپنے تمام تر پروگرام منسوخ کر کے مولانا محمد انور شاہ کشمیری بہاول پور تشریف لائے تو فرمایا کہ جب یہاں سے بلاوا آیا تو میں ڈابھیل کے لے بارکاب تھا مگر میں یہ سوچ کر یہاں چلا آیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی شاید یہی بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانب دار بن کر بہاول پور آیا تھا، اگر ہم ختم نبوت کی حفاظت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کے تشریف لانے سے پورے ہندوستان کی توجہ اس مقدمہ کی طرف مبذول ہو گئی، اس صورت حال سے مرزائیت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔ مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا محمد حسین کولوتارڑوی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری، مولانا نجم الدین، مولانا ابو الوفاشاہ جہان پوری اور مولانا محمد انور شاہ کشمیری کے ایمان افروز اور کفر شکن بیانات ہوئے۔
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری جمال میں آ کر قرآن و سنت کے دلائل دیتے تو عدالت کے در و دیوار جھوم اٹھتے اور جلال میں آ کر مرزائیت کو للکارتے تو کفر کے ایوانوں میں زلزلہ طاری ہو جاتا، مولانا ابوالوفا شاہ جہان پوری نے اس مقدمہ میں مختار مدعیہ کے طور پر کام کیا۔ ایک دن عدالت میں مولانا محمد انور شاہ کشمیری نے جلال الدین شمس مرزائی کو للکار کر فرمایا کہ اگر چاہو تو میں عدالت میں یہیں کھڑے ہو کر دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔ مرزائی کانپ اٹھے۔ مسلمانوں کے چہروں پر بشاشت چھا گئی اور اہل دل نے گواہی دی کہ عدالت میں انور شاہ کشمیری نہیں بلکہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وکیل اور نمائندہ بول رہا ہے۔
علمائے کرام کے بیانات مکمل ہوئے، نواب آف بہاول پور پر برطانوی حکومت کا دباؤ بڑھا۔ پنجاب کے وزیر اعظم خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ لندن گئے ہوئے تھے۔ نواب آف بہاول پور بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب آف بہاول پور کی سر عمر حیات ٹوانہ سے لندن میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے مشورہ طلب کیا کہ برٹش گورنمنٹ کا مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست بہاول پور سے اس مقدمہ کو ختم کرا دیں تو اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تو ان سے سودا نہیں کیا، آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے میں حق و انصاف کے سلسلہ میں اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔
ڈسٹرکٹ جج محمد اکبر خان کو بھی ترغیب و تحریص کے دام تزویر میں پھنسانے کی مرزائیوں نے بہت کوششیں کیں لیکن ان کی تمام تدابیر غلط ثابت ہوئیں، مولانا سید محمد انور شاہ کشمیر ی اس فیصلہ کے لیے اتنے بے تاب تھے کہ بیانات کی تکمیل کے بعد جب بہاول پور سے جانے لگے تو مولانا محمد صادق سے فرمایا کہ اگر زندہ رہا تو فیصلہ خود سن لوں گا اور اگر فوت ہو جاؤں تو میری قبر پر آ کر یہ فیصلہ سنا دیا جائے۔ چنانچہ مولانا محمد صادق نے آپ کی وصیت کو پورا کیا۔
یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا، جب 7 فروری 1935ء کو فیصلہ صادر ہوا تو مرزائیت کے صحیح خدوخال آشکارا ہو گئے۔ ڈسٹرکٹ جج محمدا کبر خان جج نے کمال عدل و انصاف محنت و عرق ریزی سے ایسا فیصلہ لکھا کہ اس کا ایک ایک حرف قادیانیت کے تابوت میں کیل ثابت ہوا۔
اس تاریخی فیصلے کے نتیجے میں قادیانیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیر کی سربراہی میں اس کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ و بچار کی لیکن آخر کار اس نتیجہ پر پہنچے کہ فیصلہ اتنا مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا ہے کہ اپیل بھی ہمارے خلاف ہی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ جج غلام اکبر خان بعدازاں ریاست بہاول پور کے چیف جسٹس مقرر کئے گئے۔
▪️ترتیب و پیشکش: نعیم احمد ناز
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
Qari Akhtar Munir 623
استــــغــــفار کرنے کا خـاص الخاص طریقہ
*ان ہدایات پر عمل کریں*
✨ *🌸 1*. عمل شروع کرنے سے پہلے اللہ کی رضا کے لیے صدقہ دیں۔
✨ *🛁 2*. مسنون طریقے سے غسل کریں۔
(جادو/جنات کے اثرات والے افراد بیری کے سات پتوں کو پانی میں جوش دے کر اس سے غسل کریں ۔)
✨ *🕌 3*. دو رکعت نفل نمازِ حاجت ادا کریں۔
*نیت یہ ہو*:
"یا اللہ پاک! یہ عمل تیری رضا، تیری خوشنودی اور گناہوں کی بخشش کے لیے کر رہا \ رہی ہوں اسے میرے لیے آسان بنا،خشوع وخضوع کے ساتھ اس عمل کو مکمل کرنے کی توفیق عطإ فرما، اور اس کی برکت سے مجھے گناہوں سے نفرت اور مرتے دم تک ہمیشہ اپنی عبادت کی توفیق عطإ فرمااور اس عمل کو میرے لیے بخشش و مغفرت کا ذریعہ بنا آمین"
🗓️ *عمل کی مدت:*
✅ 40 دن (یا 21 دن) مسلسل عمل کریں۔
🔢 روزانہ استغفار پڑھنے کے لیے مخصوص تعداد منتخب کریں*:
➤ 4100➤3125 ➤ 1100➤ 313 ➤ 100
(جو بھی تعداد منتخب کریں بہتر یہ ہے کہ ایک ہی نشست میں مکمل کیجیے بصورت دیگر2, 3یا 4 نشستوں میں بھی مکمل کر سکتے ہیں۔)
🕰️ *وقت:*
⏰ تہجد کا وقت سب سے افضل ہے وگرنہ کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیة
☑️مکروہ اوقات میں بھی وظیفہ پڑھا جا سکتا ہے ۔
✨ جو چلّے کی نیت سےنہیں پڑھ رہے وہ حیض کے دنوں میں بھی استغفار جاری رکھیں۔
🔆ناغہ نہ کریں اگر ناغہ بہت مجبوری میں ہوجاتا ہے۔تو جو اس وظیفے کو ثواب کی نیّت سے کریں گے تو ناغے کے بعد بھی عمل کو جاری رکھیں گے ۔۔
🔊 لیکن جو استغفار کے وظیفے کو عمل کی نیّت سے پڑھیں گے اورجو وقت اور جگہ تعداد مقرر کر کے پڑھیں گےتو وہ ناغہ نہیں کریں گے۔کیوں کہ اگر وہ ناغہ کریں گے تو اُن کا عمل ختم ہوجائےگا ۔پھر دوبارہ سے شروع کرنا ہوگا ۔
👈🏻 *وظیفہ پڑھنے سے پہلے 11 بار درود ابراہیمی پڑھیں اور اختتام پر بھی 11 مرتبہ درود ابراہیمی پڑھنا ہے اور درمیان میں استغفار کا یہ صیغہ پڑھنا ہے*
🌿✨ *اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّىْ مِنْ كُلِّ ذَنْۢبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ ✨🌿*
ترجمہ:
*"میں اللّٰہ سے اپنے تمام گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں جو میرا رب ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔"*
11 مرتبہ درود ابراہیمی پڑھنے کے بعد 1 مرتبہ یا 3 مرتبہ تیسرا کلمہ تمجید (سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ ) پڑھا جائے ۔پھر 33 باراستغفار پڑھیں پھر تیسرا کلمہ تمجید پھر اسی طرح اپنی تعداد کے مطابق 33 ،33بار استغفار پڑھ کر ایک بار تیسرا کلمہ تمجید پڑھنا ہے یا ہر تسبیح کے اول وآخر 3 مرتبہ کلمہ تمجیدپڑھنا ہے
❤️ اللّٰہ پاک ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے، ہماری مغفرت فرمائے، اور ہمیں اپنی رحمتوں کا وارث بنا دے، آمین یا رب العالمین! ❤️
اس وظیفے میں نہ کسی قسم کا ڈر،خوف،خطرہ،ہے اور نہ کسی قسم کا پرہیز ہے ۔
اپنے رب کی شان و عظمت اس کی محبت اس کے احسانات اور اس کا خوف دل میں رکھ کر ندامت شرمندگی اور خوفِ خدا سے آنسو بہاتے ہوٸے استغفار کرنا ہے اور جنہوں نے ابھی تک استغفار کرنے کا خاص طریقہ وڈیو نہیں دیکھی وہ ضرور دیکھ لیں ۔
*خوشخبری*
پیر اصغر حسین قادری طارقی درودی صاحب کی دعاوں میں وہ شامل رہیں گے جو اس عمل کی دعوت عام کریں گے انہیں اس عمل کی بہت برکات ملیں گی
ان شاء اللہ
ثواب کی نیت سے share کیجیے۔
┏━━━━━━━❀•ೋ° Gg°ೋ•❀━━━━━━━┓
۔ ۔ *استغفار کریں، مغفرت پائیں!*
┗━━━━━━━❀•ೋ° °ೋ•❀━━━━━━━┛
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more