Official YouTube Channel of Sahibzada Muhammad Asim Maharvi Chishti, Mir Murabit Chishtiya Ribbat Sufi Studies Center.
He belongs to the family of great Sufi Saint the revivalist of later Chishti Order in the 18th century; "Qibla Aalam Hazrat Khwaja Nur Muhammad Maharvi (R.A)".
Educated and Trained in the spiritual Sufi atmosphere since childhood. Early Study travels to Central Asia, Russia, England, and the United States of America to met with different Sufi masters of various Tariqat and got the honor of being in their service.
He has been lecturing on various topics at International Universities and official platforms around the Globe.
Sahibzada Asim Maharvi
https://youtu.be/R47O7zrXsM8
3 days ago | [YT] | 13
View 0 replies
Sahibzada Asim Maharvi
https://youtu.be/8AziRqx-WuQ
3 days ago | [YT] | 17
View 0 replies
Sahibzada Asim Maharvi
صاحبو !کبھی تم نے محسوس کیا کہ تم نے کسی سے کچھ کہا بھی نہیں،مگر دل میں یہ امید رکھی کہ وہ سمجھ جائے گا؟
اور جب اس نے ویسا نہیں کیا۔ تو تمہارا دل ٹوٹ گیا، تمہیں دکھ ہوا، تم نے خود سے کہا،
“میں نے تو صرف اتنی سی امید رکھی تھی…”
یہی امید، یہی ذہنی معاہدہ — توقع (Expectation) ہے۔
توقع وہ خاموش “contract” ہے جو ہم اپنے دل میں بناتے ہیں — بغیر دوسروں کو بتائے بغیر اُن کی رضا کے۔
ہم سوچتے ہیں، وہ ایسا کرے گا، وہ ایسے جواب دے گا،اور جب حقیقت ہماری مرضی سےمختلف نکلتی ہے،تو مایوسی، غصہ، اور دکھ جنم لیتا ہے۔
“توقع دل کے درد کی جڑ ہے۔”دراصل توقع کوئی غلط چیز نہیں،لیکن جب وہ بےقابو ہو جاتی ہے،تو وہ ہماری خوشی کو دوسروں کے ہاتھوں میں رکھ دیتی ہے۔
توقع، ایک ذہنی عادت ہے ۔جس کے زریعے ہم اپنے اندر کا سکون دوسروں کے رویے سے جوڑ دیتے ہیں۔یہ وابستگی (attachment) سے جنم لیتی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو۔
کہ دوسرے ہمارے جذبات، الفاظ، یا خاموشی کو سمجھ جائیں۔
اکثر ہم یہ توقعات کہتے بھی نہیں،بس اپنے دل میں رکھتے ہیں ۔اور پھر ان کے پورا نہ ہونے پر زخمی ہو جاتے ہیں۔
“توقعات وہ رنج ہیں جو ابھی ہونے باقی ہیں۔”
یہ ہمیں اپنے اندر سے باہر لے جاتی ہیں۔ہم اپنی توانائی اس پر ضائع کرتے ہیں کہ دوسرے کیا کریں ،بجائے اس کے کہ خود کیا کر سکتے ہیں۔
جب یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے،تو محبت بھی شرطوں پر چلنے لگتی ہے،احسانات حساب میں بدل جاتے ہیں اور رشتے بوجھ بن جاتے ہیں۔
صاحبو!جب تم لوگوں سے کمال کی توقع چھوڑ دیتے ہو، تب تم انہیں ویسے کے ویسے پسند کرنے لگتے ہو جیسے وہ ہیں۔اگر تم غور کرو،تو زیادہ تر دکھ، ناراضگیاں، اور فاصلےکسی غلطی سے نہیں — بلکہ کسی پوری نہ ہونے والی توقع سے جنم لیتے ہیں۔مایوسی اور تکلیف تب ہوتی ہے جب کوئی تمہاری امید پر پورا نہیں اترتا،تو تم خود کو کمتر یا غیر اہم محسوس کرتے ہو۔حالانکہ شاید دوسرے کو علم ہی نہ ہوکہ تم اس سے کیا توقع رکھتے تھے۔
یہی بغیر بتائی توقعات رشتوں میں کشیدگی کا باعث بن جاتی ہیں ۔بار بار کی توقعات دباؤ اور خفگی پیدا کرتی ہیں پھر فاصلہ بڑھتا ہے ،محبت کم ہو جاتی ہے۔
صاحبو !جب ہم دوسروں کے رویے سے خوشی جوڑ دیتے ہیں،تو ہمارا سکون ان کے رویے پر منحصر ہو جاتا ہے۔
یہی اصل غلامی ہے۔امن وہاں شروع ہوتا ہے جہاں توقع ختم ہو جاتی ہے۔
صاحبو! توقعات دراصل انا کا جال ہیں۔انا چاہتی ہے کہ سب ہمیں پہچانے،ہماری مرضی چلے، سب ہمیں تسلیم کریں ۔
صاحبو !جب محبت میں توقع آتی ہے،تو وہ تجارت بن جاتی ہے ۔ کہ میں تمہیں چاہوں گا “اگر” تم یہ کرو۔
سچی محبت وہ ہے جو دیتی ہے بغیر کسی امید کے،بولتی ہے بغیر کسی ارادے کے،اور خیال رکھتی ہے بغیر کسی بدلے کے۔
توقعات کو چھوڑنا کیسے سیکھا جائے؟
صاحبو! یہی وہ مقام ہے جہاں حکمت شروع ہوتی ہے۔ہم توقع کو ختم نہیں کر سکتے،لیکن اسے بدل سکتے ہیں شکر،قبولیت، اور خود آگہی میں
نوٹ کرو کہ تم کس سے، کب، اور کیوں امید رکھتے ہو؟یہ آگہی تبدیلی کی پہلی سیڑھی ہے۔
صاحبو!اپنی خوشی کی ذمہ داری لو،یاد رکھو، تمہارا سکون تمہارا ہے۔کسی کے رویے یا الفاظ پر منحصر نہیں۔
خوش قسمت وہ ہے جو کسی سے کچھ توقع نہیں رکھت کیونکہ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔اپنی نیت اور محنت میں پورا دل لگاؤ،لیکن نتیجے کو چھوڑ دو،کامیابی تب ہی سکون دیتی ہے، ناکامی تب ہی سبق بن جاتی ہے۔
کھل کر بات کرو،اگر کوئی بات اہم ہےتو اس کہو،خاموش توقع بعد میں خفگی بن جاتی ہے۔
لوگوں کو جیسے وہ ہیں، قبول کرو۔انسان کامل نہیں،سب دراصل “عمل میں ہیں” ادھورے مگر بڑھتے ہوئے۔
صاحبو! نیت پر دھیان دو، نتیجے پر نہیں ،صحیح کام اس لیے کرو کہ وہ درست ہے۔نہ کہ کوئی تمہیں سراہے یا بدلہ دے۔
صاحبو !محبت، توجہ، اور خدمت
یہی روحانی آزادی ہے۔
صاحبو!طاقت اس میں نہیں کہ تم حالات بدل دو،
بلکہ اس میں ہے کہ تم خود بدل جاؤ۔
دُعاگُو و دُعا جُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی
3 days ago | [YT] | 462
View 32 replies
Sahibzada Asim Maharvi
https://youtu.be/ayhmUgxv9q8?si=1hcke...
3 days ago | [YT] | 13
View 0 replies
Sahibzada Asim Maharvi
صاحبو ! اگر ہم ذرا غور کریں تو کیا ایسا نہیں کہ آج کا انسان جاگتا کم ہے، چلتا زیادہ ہے؟ ایک خودکار پٹڑی پر، آٹو پائلٹ پر۔ آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، مگر نظر اپنی نہیں ہوتی۔ زبان بولتی ہے، مگر سوچ اکثر اپنی نہیں ہوتی۔ فیصلے ہوتے رہتے ہیں، مگر ان فیصلوں کے پیچھے اکثر وہی پرانے نقشے ہوتے( thought pattern )ہیں جو عادت، تربیت، ماحول، سیاست، نظریہ، کلچر اور اب تو کافی برسوں سے سوشل میڈیا ذہن پر ثبت کر دیتے ہیں۔
یہ ذہن کی وہ مشروط حالت ( conditioned)جس میں انسان بظاہر بیدار ہوتا ہے، مگر اندر سے ایک طرح کی غنودگی میں رہتا ہے۔ اس حالت کی ایک واضح علامت یہ ہے کہ بات سنی نہیں جاتی، فوراً “فیصلہ” صادر ہو جاتا ہے۔ فوراً لیبل لگ جاتا ہے, judgments آ جاتی ہیں ۔یہ اپنا ہے، یہ پرایا؛ یہ صحیح ہے، یہ غلط؛ یہ محبِ وطن، یہ غدار؛ یہ حق، یہ باطل۔ گویا ذہن کو ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کہ وہ ٹھہر کر دیکھے، بات کو پرکھے ، سمجھ کر بولے، یا سوال اٹھا کر آگے بڑھے۔
صاحبو ! ردِعمل، غور کی جگہ لے لیتا ہے۔
اور اگر جدید مثالیں سامنے رکھ دی جائیں تو یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ آج فیڈ (feed) اکثر وہی دکھاتی ہے جو جذبات کو بھڑکائے، تعصب کو مضبوط کرے، یا آدمی کو زیادہ دیر روکے۔ ایک وڈیو کے بعد اسی جیسی کئی suggested وڈیوز، ایک خبر کے بعد اسی مزاج کی کئی خبریں؛ پھر انسان کے ذہن میں یہ گمان بیٹھ جاتا ہے کہ “سب یہی کہہ رہے ہیں”، حالانکہ “سب” نہیں—اکثر صرف ہماری اپنی فیڈ ہوتی ہے۔ اس کو جدید نفسیات میں confirmation bias کہتے ہیں ۔ اسی طرح thumbnail کی سرخیاں نگل لی جاتی ہیں، پھر پوری بات جانے بغیر رائے قائم ہو جاتی ہے۔ ایک کلپ سے ایک پورے انسان کا فیصلہ، ایک جملے سے ایک پورے طبقے کا تعارف، اور پھر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم حقیقت کے ساتھ کھڑے ہیں—حالانکہ ہم اپنی conditioned عادتوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اس ذہنی کیفیت کا نقصان یہ ہے کہ انسان تحقیق تو کر لیتا ہے—یعنی معلومات کا مواد جمع کر لیتا ہے—مگر نئی زاویہ نگاہ کم بنتا ہے۔ تخلیق کم پیدا ہوتی ہے۔ ذہن نئی حقیقت دیکھنے کے بجائے پرانی رائے کے حق میں دلیلیں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ سچ کی تلاش کم رہ جاتی ہے، خود کو درست ثابت کرنے کی خواہش زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور پھر تعلقات میں بھی یہی خودکاری اتر آتی ہے۔
صاحبو ! بات سننے سے پہلے جواب تیار، سمجھنے سے پہلے فیصلہ حاضر، اور پھر رشتوں میں وہ نرم خاموشی مرنے لگتی ہے جو زندگی بناتی ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس حالت میں قید نظر نہیں آتی۔ آدمی خود کو آزاد سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہر روز ایک ہی ردِعمل، ایک ہی غصہ، ایک ہی تعصب، ایک ہی دفاع دہراتا رہتا ہے۔ گویا زندگی جینے کے بجائے زندگی پر صرف ردِعمل دیا جا رہا ہے۔
صاحبو ! جینا عمل کا نام ہے رد عمل کا نہیں ۔
دُعاگُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی
4 days ago | [YT] | 398
View 24 replies
Sahibzada Asim Maharvi
Latest Bayan
https://youtu.be/xCYLCqlYGRQ?si=PrHQv...
5 days ago | [YT] | 16
View 0 replies
Sahibzada Asim Maharvi
صاحبو ! آپ کے پاس وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جو آپ چاہتے ہیں، مگر سب کچھ ایک ہی وقت میں نہیں، اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے، تو غور کریں کہ اگر آپ کے پاس وہ سب کچھ جو آپ چاہتے ہیں ایک ہی وقت میں ہوتا تو کیا آپ واقعی اس سب کا تجربہ یا اُس سب سے ایک ہی وقت میں لطف اندوز ہو سکتے ۔ آپ نے دنیا کی سیاحت بھی مانگ رکھی ہے اور ایک بڑی سی فیکٹری بھی آپ کی چاہت ہے ۔ تو یہ دونوں چاہتیں اگر ایک ہی وقت میں مل جائیں تو آپ کا تو حشر ہو جائے گا۔ تو آپ اپنی wish list نکال کر دیکھیں گے تو علم ہو گا کہ اس میں تو paradox ہے contradiction ہے اور یہ سب کچھ ایک ہی وقت میں اگر مل جائے تو disastrous ہو جائے گا۔ بیوی بھی اور محبوبہ بھی ایک ہی وقت میں مل جائیں تو catastrophes تو ہو گیا۔
آپ کی زندگی آپ کو define کر رہی ہے جبکہ آپ کو اپنی زندگی کو define کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو اپنی زندگی کو بدلنا ہے تو آپ کو خود کو بدلنا ہو گا۔
آپ کو انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ آپ کس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کثیف سوچیں ( gross thoughts) مادہ، دنیا، لالچ, شہرت ، طاقت ، غصب ، غضب، دھوکا اور لطیف سوچیں ( subtle thoughts) سچ ، خوبصورتی، ہمدردی، اُنس، پیار، ایثار ۔۔۔۔ آپ نے خود انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ آپ کن چیزوں کے بارے میں اپنی سوچ کو متحرک رکھتے ہیں، کس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آپ کو اپنے دوستوں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ، اپنی صحبت تلاش کرنا ہوتی ہے۔ انسان سے زیادہ کچھ قیمتی نہیں ۔۔۔۔ قیمتی انسانوں کی تلاش کریں ان کے ساتھ ربط میں رہیں صحبت میں رہیں ۔
کسی سے فکری اختلاف ہونے پر آپ کو نہ تو شرمندہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی معذرت خواہ ہونے کی۔ بس اختلاف ہوتا ہے زاویہ نگاہ کا۔۔۔
کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ کو جو معلومات سب سے پہلے ملتی ہیں آپ زندگی بھر انہی پر نہ صرف اکتفا کر لیتے ہیں بلکہ اسے پوری ایمانداری سے اپنا علم بھی سمجھنے لگتے ہیں ۔
دُعا گُو و دُعاجُو
محمد عاصم مہاروی چشتی
6 days ago | [YT] | 424
View 16 replies
Sahibzada Asim Maharvi
https://youtu.be/yLp9wr74ZbE
6 days ago | [YT] | 20
View 0 replies
Sahibzada Asim Maharvi
https://youtu.be/-Vf_PhdnnnM
1 week ago | [YT] | 20
View 1 reply
Sahibzada Asim Maharvi
https://youtu.be/JyFcVyviIPE
1 week ago | [YT] | 15
View 0 replies
Load more