جب چار امام نہیں تھے تب لوگ کون سی نماز پڑھتے تھے؟” یہ سوال سننے میں بڑا وزنی لگتا ہے، مگر حقیقت میں اس کی بنیاد کمزور ہے۔ 1️⃣ نماز تو نبی ﷺ نے سکھائی نماز چار اماموں نے ایجاد نہیں کی۔ نماز کا پورا طریقہ: قرآن سے نبی ﷺ کی سنت سے اور صحابہؓ کے عمل سے آیا ہے: “صلّوا کما رأیتمونی أُصلّی” (نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا ہے) یعنی نماز کا اصل ماخذ رسول اللہ ﷺ ہیں، نہ کہ امام ابو حنیفہ، شافعی، مالک یا احمدؒ۔ 2️⃣ پھر چار امام آئے کیوں؟ چاروں اماموں نے: نماز نہیں بنائی بلکہ نماز، عبادات اور معاملات کے احکام کو منظم کیا جب اسلام مختلف علاقوں میں پھیلا: زبانیں بدلیں مسائل بدلیں حالات بدل گئے تو قرآن و حدیث کو سمجھنے کے اصول درکار تھے۔ یہی کام فقہ کہلاتا ہے، اور یہی چاروں اماموں نے کیا۔ 3️⃣ چاروں امام ایک ہی نماز پڑھتے تھے یہ بہت اہم بات ہے: چاروں امام قرآن و سنت پر متفق تھے اختلاف صرف جزئی مسائل میں ہے ہاتھ باندھنے کا انداز آمین آہستہ یا بلند رفع یدین وغیرہ یہ اختلاف: دین میں تفرقہ نہیں بلکہ رحمت ہے صحابہؓ کے درمیان بھی یہی جزئی اختلاف موجود تھا۔ 4️⃣ “اس وقت لوگ کس امام کو فالو کرتے تھے؟” سیدھا جواب: صحابہؓ نبی ﷺ کو فالو کرتے تھے تابعین صحابہؓ کو بعد میں علماء نے انہی روایات کو مرتب کیا چار امام نئے دین کے بانی نہیں بلکہ محافظ اور شارح ہیں۔ 5️⃣ اصل مسئلہ امام نہیں، نیت ہے آج کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ: حنفی ہو یا شافعی اصل مسئلہ یہ ہے کہ: نماز ہے یا نہیں؟ سنت ہے یا نہیں؟ دیانت ہے یا نہیں؟ جو لوگ نماز چھوڑ کر فقہ پر لڑتے ہیں وہ دین کی روح کھو بیٹھے ہیں۔ 6️⃣ نتیجہ (Conclusion) نماز نبی ﷺ کی ہے فقہ سمجھنے کا ذریعہ ہے چاروں امام اہلِ سنت کے ستون ہیں کسی ایک امام کو ماننا دین سے باہر نہیں کرتا سب کو گرانا جہالت ہے آخری بات: اگر چار امام نہ ہوتے تو: ہر شخص اپنی مرضی کا اسلام بناتا آج دین ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوتا فقہ نے دین کو محفوظ رکھا ہے، بگاڑا نہیں۔ اختلاف کو علم سے سمجھو، نفرت سے نہیں دین کو سیکھو، وائرل جملوں سے نہیں #imag #virul #post #nmaz #quran #islam #islamic #muslim #newnaat #qurankitilawat
البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ پانچ آیات ایسی ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان میں اسم اعظم ہے۔ ان میں سے ہر ایک آیت میں دس قاف ہیں تو جو ان آیات کو اپنا معمول بنالے اسے بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔ ان آیات کی تاثیر کا ایک عجیب واقعہ بھی روایات سے ملتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک بادشاہ کو اپنے وزیر سے سخت دشمنی تھی۔ ایک روز بادشاہ نے جلاد کو حکم دیا کہ جب وزیر آئے تو میں تجھے اشارہ کروں گا تم اس کی گردن اڑا دینا۔ مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ جب وزیر بادشاہ کے سامنے آیا تو بادشاہ کا سارا بغض محبت میں بدل گیا اور جلاد کو اشارہ کرکے کہا کہ واپس چلا جائے۔ پھر کئی روز تک ایسا ہی ہوتا رہا کہ جب وزیر غائب ہوجاتا تو بادشاہ اس کے قتل کا حکم دیتا اور وزیر جیسے ہی سامنےآتا تو اس کا غصہ محبت میں تبدیل ہوجاتا۔ ایک روز بادشاہ نے وزیر سے کہا میں تجھ سے ایک بات پوچھتا ہوں سچ سچ بتاؤ؟ وزیر نے کہا آپ حکم کیجئے میں اعلان کرتا ہوں کہ درست کہوں گا۔ بادشاہ نے کہا ایک عرصہ سے میں تیرے قتل کا ارادہ کرتا ہوں مگر جب تیری شکل دیکھتا ہوں تو سارا غصہ کافور ہوجاتا ہے اور تیری محبت دل میں جاگ جاتی ہے تو بتا اس کا راز کیا ہے؟ سچ کہہ دے‘ خوف نہ کر‘ اس لیے کہ میں تجھے معاف کرچکا ہوں۔ وزیر نے کہا حضور میرے استاد نے مجھے چند آیتیں ہمیشہ پڑھنے کی تلقین کی تھی اور فرمایا تھا ان میں سے ہر آیت میں دس ’’قاف‘‘ ہیں جو ان آیات کو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے پڑھے گا سب لوگ اس پر مہربان ہوں گے‘ اگر سلطان و حاکم ان کو پڑھتا رہے تو اس کی حکومت قائم رہے گی اور رعایا اور نوکروں پر اس کا رعب قائم رہے گا اور اگر کوئی حاجت مند ان آیات کو پڑھ کر حاجت مانگے تو اس کی حاجت پوری ہوگی۔ بادشاہ نے جب وزیر سے یہ باتیں سنیں تو بہت پسندیدگی کا اظہار کیا اور بادشاہ نے بھی آیات یاد کرلیں ۔ یہ درج ذیل پانچ آیات ہیں انہیں ایک بار صبح و شام ضرور پڑھ لیا کریں
قارئین! ان پانچ آیات کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں‘ ہر روز صبح و شام صرف ایک مرتبہ پڑھنا ہے اور پھر اس کی کرامات اپنی زندگی میں جاگتی آنکھوں کے ساتھ خود دیکھیں۔ آپ کو کوئی مسئلہ ہے‘ گھریلو حالات خراب ہیں‘گھر میں ہروقت لڑائی جھگڑےرہتے ہوں‘ میاں بیوی یا گھر کے دیگر افراد ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتے ‘کاروبار حالات ٹھیک نہیں‘ گاہک دکان پر نہیں آتا‘ جادو‘ بندش‘ نظر بد ہے تو ان آیات سے اپنی پریشانیاں بھگائیے اور سکون سے جینے کا گُر سیکھ لیں۔
ایک وقت تھا جب گاؤں کے سب لوگ بس میں بیٹھ کر بازار جایا کرتے تھے سڑک پر چلتی بس جب اپنا مخصوص ہارن بجاتی تو گھروں میں پتہ چلتا کہ پہلا ٹائم گزر رہا ہے کسی کو اپنے ہاں مہمان آنے کی اطلاع ہوتی اور کسی کو اپنے گھر بیٹھے مہمان کو روانہ کرنے کی فکر ہوتی اور پھر وقت بدل گیا روڈ بدل گۓ لوگ بدل گۓ ،محبتیں بدل گئی، بسیں بدل گئیں ،سائیکلیں ٹھکانے لگ گئ،درخت کٹ گۓ،چِڑیاں اُڑ گئیں ،چہچہاہٹ تھم گئی ، پیدل والے رستوں پر گھاس ہو گئ ، اور پھر گاؤں کے لوگ آپس میں بیگانے ہو گۓ، ایک دوسرے کی پرواہ ختم ہو گئی، اور یوں ایک حسِین زمانے کا اختتام ہو گیا.😥 🙏❤️ مولانا محمد حق نواز شمسی
ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیں
مسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہے کوئی بھی شخص امام پر اعتراض کر سکتا ہے اور کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کا حق رکھتا ہے امام کیسا بھی عالی مرتبہ اور عظیم کردار کا مالک کیوں نہ ہو مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھیےجلیل القدر صحابی ہیں پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں اور عشرہ مبشّرہ میں سے ہیں رسول اللّٰہ ﷺ جنہیں اپنا ماموں فرما رہے ہیں ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی ہیں واحد ایسے صحابی ہیں جن کے لئے رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے والد اور والدہ کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّی تجھ پہ میرے ماں اور باپ قربان جن کے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض وحسد نہ تھا مستجاب الدّعوات تھے رسول اللّٰہ ﷺ کی معیت میں تمام تر غزوات میں شریک ہوتے ہیں راہِ خُدا کے پہلے تیر انداز ہیں خود رسول اللّٰہ ﷺ آپ کو سالارِ لشکر مقرر فرما کر خرار کی جانب روانہ فرماتے ہیں آپ کے ہاتھ پر بہت سی فتوحات ہوئیں لیکن جب امارتِ کوفہ کے دوران مصلائے امامت پہ کھڑے ہوتے ہیں تو کوفہ والوں کے اعتراضات کا محور بن جاتے ہیں کوفہ والے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایات بھجواتے ہیں اور ان میں ایک شکایت یہ بھی ہوتی ہے کہ سعد بن ابی وقاصؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے وہ شخص جس نےنماز اللّٰہ کے نبی ﷺ سے سیکھی اس شخص کی نماز پر دیہاتیوں کا اعتراض......
بالکل آج کل جیسے حالات کا منظر پیش کر رہا ہے آج کے آئمہ نے نماز اگرچہ براہ راست رسول اللّٰہ ﷺ سے نہیں سیکھی مگر رسول اللّٰہ ﷺ کے اقوال سے سیکھی ہے ان علماء کو نشانۂ تنقید بنایا جاتا ہے بہر حال! جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتی ہے تو عمر فاروقؓ تحقیقِ احوال کے لیے کوفہ والوں کی طرف محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ کو بھیجتے ہیں جو ایک ایک مسجد میں جا کرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے ہیں حیرت کی بات ہے کہ شکایات کوفہ سے چل کر مدینہ پہنچیں لیکن محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ جس سے بھی سوال کرتے ہیں تو جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی تعریف ہی سننے کو ملتی ہے ایک ایک مسجد میں جا کر پوچھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا البتہ جب پوچھتے پوچھتے سلسلہ بنو عبس کی مسجد تک پہنچا تو صرف ایک شخص "اسامہ بن قتادۃ" نامی اٹھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت کرتا ھے کہ آپ کی نماز ٹھیک نہیں. یہ جہاد کے سلسلے میں کوتاھی کرتے ہیں اور فیصلے میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیتے. اعتراض کچھ بھی تھا لیکن یہاں انتہائی قابلِ توجہ بات یہ ھے کہ شکایات کوفہ سے مدینہ بھیجی گئیں لیکن کوفہ کی کسی مسجد میں ایک شخص کے علاوہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ملتا یہ حقیقت تاریخ کا حصہ اور لائقِ اعتماد کتب میں موجود ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران صرف ایک ہی ایسا آدمی ملا جسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر اعتراض تھا لیکن شکایات مدینہ بھجوائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ اگر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول نہ کیا گیا تو فتنہ وفساد کا اندیشہ ہے اور پھر عمر فاروقؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر بھی دیا اس حقیقت کے پشِ نظر یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ بعض اوقات صرف ایک دو افراد یا مقتدیوں کو امام سے شکایت ہوتی ہے لیکن ان کا پروپیگنڈہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ "یہ شخص اس منصب کے لائق نہیں" میں اس مقام پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کو دل کے کانوں سے متوجہ ھونے کی دعوت دوں گا اس میں شک نہیں کہ مجھ جیسے ائمہ مساجد لائقِ تعریف نہیں لیکن میرے بھائیو! کبھی آپ کی مسجد کا امام بے قصور بھی ہوتا ھے اور آپ کے اعتراضات بے جا بھی ھوتے ہیں ایسی حالت میں اپنی "انا" کی تسکین کے بجائے اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ سے ڈریے اور ذہن میں رکھیے کہ: جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نےمعترض کی ناحق باتیں سنی تھیں تو اپنے ہاتھ اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے دربار میں اُٹھا کر یہ دعا کی: اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هٰذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهٗ وَأَطِلْ فَقْرَهٗ وَعَرِّضْهٗ بِالْفِتَنِ اے اللّٰہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور نام ونمود کی خواہش میں اٹھا ہے تو اس کی عمر کو لمبا کر اس کی محتاجی میں اضافہ کر اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ وقت گزر گیا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معزول بھی ہو گئے پروپیگنڈہ جیت گیا لیکن سعد بن ابی وقاصؓ کی دُعا اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں محفوظ رہی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص انتہائی بڑھاپے کو پہنچا اس کی بھنویں آنکھوں پر گر چکی تھیں راستے میں کھڑے ہو کر بھیک مانگتا اور جب کوئی عورت سامنے سے گزرتی تو اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتا۔ لوگ کہتے: اے بوڑھے! تمہیں عورتوں کو چھیڑتے ہوئے حیاء نہیں آتی؟ جواب میں کہتا: میں کیا کروں؟ مجھ بڈھے کو سعد بن ابی وقاصؓ کی بد دعا لگ گئی ہے (صحيح البخاري كتاب الأذان باب وجوب القراءة للإمام والمأموم : 755)
آج کے دور کا کوئی امام حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسا تو نہیں لیکن کسی بھی مسلمان پر ناحق اعتراضات کرتے وقت اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ کو بھول جانا انتہائی بد نصیبی کی علامت ہے ہم اپنے پروپیگنڈہ میں جیت سکتے ہیں لیکن اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں ان فیصلوں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اللّٰہ تعالٰی ہمیں مسجدوں کے نظام میں بہتری لانے کی توفیق بخشے اور مسجد کے امام، خطیب اور انتظامیہ میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اسے حتٰی المقدور نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Haq nawaz Shamsi official
#logo
#haqnawazshamsi #haqnawazshamsiofficial
#HaqNawazShamsi #HNSLogo #PersonalBranding #LogoDesign #IslamicLogo #GeometricPattern #RoseGoldLogo #MinimalLogo #ProfessionalLogo #BrandIdentity
1 month ago | [YT] | 22
View 2 replies
Haq nawaz Shamsi official
جب چار امام نہیں تھے تب لوگ کون سی نماز پڑھتے تھے؟”
یہ سوال سننے میں بڑا وزنی لگتا ہے، مگر حقیقت میں اس کی بنیاد کمزور ہے۔
1️⃣ نماز تو نبی ﷺ نے سکھائی
نماز چار اماموں نے ایجاد نہیں کی۔
نماز کا پورا طریقہ:
قرآن سے
نبی ﷺ کی سنت سے
اور صحابہؓ کے عمل سے
آیا ہے:
“صلّوا کما رأیتمونی أُصلّی”
(نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا ہے)
یعنی نماز کا اصل ماخذ رسول اللہ ﷺ ہیں، نہ کہ امام ابو حنیفہ، شافعی، مالک یا احمدؒ۔
2️⃣ پھر چار امام آئے کیوں؟
چاروں اماموں نے:
نماز نہیں بنائی
بلکہ نماز، عبادات اور معاملات کے احکام کو منظم کیا
جب اسلام مختلف علاقوں میں پھیلا:
زبانیں بدلیں
مسائل بدلیں
حالات بدل گئے
تو قرآن و حدیث کو سمجھنے کے اصول درکار تھے۔
یہی کام فقہ کہلاتا ہے، اور یہی چاروں اماموں نے کیا۔
3️⃣ چاروں امام ایک ہی نماز پڑھتے تھے
یہ بہت اہم بات ہے:
چاروں امام قرآن و سنت پر متفق تھے
اختلاف صرف جزئی مسائل میں ہے
ہاتھ باندھنے کا انداز
آمین آہستہ یا بلند
رفع یدین وغیرہ
یہ اختلاف:
دین میں تفرقہ نہیں
بلکہ رحمت ہے
صحابہؓ کے درمیان بھی یہی جزئی اختلاف موجود تھا۔
4️⃣ “اس وقت لوگ کس امام کو فالو کرتے تھے؟”
سیدھا جواب:
صحابہؓ نبی ﷺ کو فالو کرتے تھے
تابعین صحابہؓ کو
بعد میں علماء نے انہی روایات کو مرتب کیا
چار امام نئے دین کے بانی نہیں
بلکہ محافظ اور شارح ہیں۔
5️⃣ اصل مسئلہ امام نہیں، نیت ہے
آج کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ:
حنفی ہو یا شافعی
اصل مسئلہ یہ ہے کہ:
نماز ہے یا نہیں؟
سنت ہے یا نہیں؟
دیانت ہے یا نہیں؟
جو لوگ نماز چھوڑ کر فقہ پر لڑتے ہیں
وہ دین کی روح کھو بیٹھے ہیں۔
6️⃣ نتیجہ (Conclusion)
نماز نبی ﷺ کی ہے
فقہ سمجھنے کا ذریعہ ہے
چاروں امام اہلِ سنت کے ستون ہیں
کسی ایک امام کو ماننا دین سے باہر نہیں کرتا
سب کو گرانا جہالت ہے
آخری بات:
اگر چار امام نہ ہوتے تو:
ہر شخص اپنی مرضی کا اسلام بناتا
آج دین ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوتا
فقہ نے دین کو محفوظ رکھا ہے، بگاڑا نہیں۔
اختلاف کو علم سے سمجھو، نفرت سے نہیں
دین کو سیکھو، وائرل جملوں سے نہیں
#imag
#virul
#post
#nmaz
#quran
#islam
#islamic
#muslim
#newnaat
#qurankitilawat
2 months ago (edited) | [YT] | 2
View 0 replies
Haq nawaz Shamsi official
*حفاظت کا خاص مجرب عمل*
البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ پانچ آیات ایسی ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان میں اسم اعظم ہے۔ ان میں سے ہر ایک آیت میں دس قاف ہیں تو جو ان آیات کو اپنا معمول بنالے اسے بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔ ان آیات کی تاثیر کا ایک عجیب واقعہ بھی روایات سے ملتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک بادشاہ کو اپنے وزیر سے سخت دشمنی تھی۔ ایک روز بادشاہ نے جلاد کو حکم دیا کہ جب وزیر آئے تو میں تجھے اشارہ کروں گا تم اس کی گردن اڑا دینا۔ مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ جب وزیر بادشاہ کے سامنے آیا تو بادشاہ کا سارا بغض محبت میں بدل گیا اور جلاد کو اشارہ کرکے کہا کہ واپس چلا جائے۔ پھر کئی روز تک ایسا ہی ہوتا رہا کہ جب وزیر غائب ہوجاتا تو بادشاہ اس کے قتل کا حکم دیتا اور وزیر جیسے ہی سامنےآتا تو اس کا غصہ محبت میں تبدیل ہوجاتا۔ ایک روز بادشاہ نے وزیر سے کہا میں تجھ سے ایک بات پوچھتا ہوں سچ سچ بتاؤ؟ وزیر نے کہا آپ حکم کیجئے میں اعلان کرتا ہوں کہ درست کہوں گا۔ بادشاہ نے کہا ایک عرصہ سے میں تیرے قتل کا ارادہ کرتا ہوں مگر جب تیری شکل دیکھتا ہوں تو سارا غصہ کافور ہوجاتا ہے اور تیری محبت دل میں جاگ جاتی ہے تو بتا اس کا راز کیا ہے؟ سچ کہہ دے‘ خوف نہ کر‘ اس لیے کہ میں تجھے معاف کرچکا ہوں۔ وزیر نے کہا حضور میرے استاد نے مجھے چند آیتیں ہمیشہ پڑھنے کی تلقین کی تھی اور فرمایا تھا ان میں سے ہر آیت میں دس ’’قاف‘‘ ہیں جو ان آیات کو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے پڑھے گا سب لوگ اس پر مہربان ہوں گے‘ اگر سلطان و حاکم ان کو پڑھتا رہے تو اس کی حکومت قائم رہے گی اور رعایا اور نوکروں پر اس کا رعب قائم رہے گا اور اگر کوئی حاجت مند ان آیات کو پڑھ کر حاجت مانگے تو اس کی حاجت پوری ہوگی۔ بادشاہ نے جب وزیر سے یہ باتیں سنیں تو بہت پسندیدگی کا اظہار کیا اور بادشاہ نے بھی آیات یاد کرلیں ۔ یہ درج ذیل پانچ آیات ہیں انہیں ایک بار صبح و شام ضرور پڑھ لیا کریں
پہلی آیت:سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 246
*اَلَمۡ تَرَ اِلَى الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰىۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِؕ قَالَ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآئِنَا ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ*
دوسری آیت:سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 181
*لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيۡرٌ وَّنَحۡنُ اَغۡنِيَآءُ ۘ سَنَكۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَقَتۡلَهُمُ الۡاَنۡۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقٍّ ۙۚ وَّنَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ*
تیسری آیت:سورۂ نساء کی آیت نمبر 77
*اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا* ﴿4:77﴾
چوتھی آیت: سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 27
*وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ ابۡنَىۡ اٰدَمَ بِالۡحَـقِّۘ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِؕ قَالَ لَاَقۡتُلَـنَّكَؕ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ* ﴿۲۷﴾
پانچویں آیت:سورۂ الرعد کی آیت نمبر 16
*قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ قُلِ اللّٰهُؕ قُلۡ اَفَاتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ لَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ نَفۡعًا وَّلَا ضَرًّاؕ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ اَمۡ هَلۡ تَسۡتَوِى الظُّلُمٰتُ وَالنُّوۡرُ ۚ اَمۡ جَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوۡا كَخَلۡقِهٖ فَتَشَابَهَ الۡخَـلۡقُ عَلَيۡهِمۡؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِـقُ كُلِّ شَىۡءٍ وَّهُوَ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ* ﴿13:16﴾
قارئین! ان پانچ آیات کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں‘ ہر روز صبح و شام صرف ایک مرتبہ پڑھنا ہے اور پھر اس کی کرامات اپنی زندگی میں جاگتی آنکھوں کے ساتھ خود دیکھیں۔ آپ کو کوئی مسئلہ ہے‘ گھریلو حالات خراب ہیں‘گھر میں ہروقت لڑائی جھگڑےرہتے ہوں‘ میاں بیوی یا گھر کے دیگر افراد ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتے ‘کاروبار حالات ٹھیک نہیں‘ گاہک دکان پر نہیں آتا‘ جادو‘ بندش‘ نظر بد ہے تو ان آیات سے اپنی پریشانیاں بھگائیے اور سکون سے جینے کا گُر سیکھ لیں۔
3 years ago | [YT] | 4
View 0 replies
Haq nawaz Shamsi official
ایک وقت تھا جب گاؤں کے سب لوگ بس میں بیٹھ کر بازار جایا کرتے تھے سڑک پر چلتی بس جب اپنا مخصوص ہارن بجاتی تو گھروں میں پتہ چلتا کہ پہلا ٹائم گزر رہا ہے کسی کو اپنے ہاں مہمان آنے کی اطلاع ہوتی اور کسی کو اپنے گھر بیٹھے مہمان کو روانہ کرنے کی فکر ہوتی اور پھر وقت بدل گیا
روڈ بدل گۓ لوگ بدل گۓ ،محبتیں بدل گئی، بسیں بدل گئیں ،سائیکلیں ٹھکانے لگ گئ،درخت کٹ گۓ،چِڑیاں اُڑ گئیں ،چہچہاہٹ تھم گئی ، پیدل والے رستوں پر گھاس ہو گئ ،
اور پھر گاؤں کے لوگ آپس میں بیگانے ہو گۓ، ایک دوسرے کی پرواہ ختم ہو گئی، اور یوں ایک حسِین زمانے کا اختتام ہو گیا.😥
🙏❤️ مولانا محمد حق نواز شمسی
3 years ago | [YT] | 5
View 0 replies
Haq nawaz Shamsi official
امامِ مسجد کی بد دُعا کا اثر
ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو
امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیں
مسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہے
کوئی بھی شخص امام پر اعتراض کر سکتا ہے
اور کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کا حق رکھتا ہے
امام کیسا بھی عالی مرتبہ اور عظیم کردار کا مالک کیوں نہ ہو مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھیےجلیل القدر صحابی ہیں پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں
اور عشرہ مبشّرہ میں سے ہیں رسول اللّٰہ ﷺ جنہیں اپنا ماموں فرما رہے ہیں
ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی ہیں واحد ایسے صحابی ہیں جن کے لئے رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے والد اور والدہ کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّی
تجھ پہ میرے ماں اور باپ قربان
جن کے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض وحسد نہ تھا مستجاب الدّعوات تھے
رسول اللّٰہ ﷺ کی معیت میں تمام تر غزوات میں شریک ہوتے ہیں راہِ خُدا کے پہلے تیر انداز ہیں خود رسول اللّٰہ ﷺ آپ کو سالارِ لشکر مقرر فرما کر خرار کی جانب روانہ فرماتے ہیں آپ کے ہاتھ پر بہت سی فتوحات ہوئیں لیکن جب امارتِ کوفہ کے دوران مصلائے امامت پہ کھڑے ہوتے ہیں
تو کوفہ والوں کے اعتراضات کا محور بن جاتے ہیں
کوفہ والے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایات بھجواتے ہیں اور ان میں ایک شکایت یہ بھی ہوتی ہے کہ سعد بن ابی وقاصؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے
وہ شخص جس نےنماز اللّٰہ کے نبی ﷺ سے سیکھی
اس شخص کی نماز پر دیہاتیوں کا اعتراض......
بالکل آج کل جیسے حالات کا منظر پیش کر رہا ہے آج کے آئمہ نے نماز اگرچہ براہ راست رسول اللّٰہ ﷺ سے نہیں سیکھی مگر رسول اللّٰہ ﷺ کے اقوال سے سیکھی ہے ان علماء کو نشانۂ تنقید بنایا جاتا ہے
بہر حال! جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتی ہے تو عمر فاروقؓ تحقیقِ احوال کے لیے کوفہ والوں کی طرف محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ کو بھیجتے ہیں جو ایک ایک مسجد میں جا کرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے ہیں
حیرت کی بات ہے
کہ شکایات کوفہ سے چل کر مدینہ پہنچیں
لیکن محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ جس سے بھی سوال کرتے ہیں تو جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی تعریف ہی سننے کو ملتی ہے ایک ایک مسجد میں جا کر پوچھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا البتہ جب پوچھتے پوچھتے سلسلہ بنو عبس کی مسجد تک پہنچا تو صرف ایک شخص "اسامہ بن قتادۃ" نامی اٹھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت کرتا ھے کہ آپ کی نماز ٹھیک نہیں.
یہ جہاد کے سلسلے میں کوتاھی کرتے ہیں اور فیصلے میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیتے.
اعتراض کچھ بھی تھا لیکن یہاں انتہائی قابلِ توجہ بات یہ ھے کہ شکایات کوفہ سے مدینہ بھیجی گئیں لیکن کوفہ کی کسی مسجد میں ایک شخص کے علاوہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ملتا یہ حقیقت تاریخ کا حصہ اور لائقِ اعتماد کتب میں موجود ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران صرف ایک ہی ایسا آدمی ملا جسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر اعتراض تھا
لیکن شکایات مدینہ بھجوائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ اگر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول نہ کیا گیا تو فتنہ وفساد کا اندیشہ ہے اور پھر عمر فاروقؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر بھی دیا
اس حقیقت کے پشِ نظر یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ
بعض اوقات صرف ایک دو افراد یا مقتدیوں کو امام سے شکایت ہوتی ہے لیکن ان کا پروپیگنڈہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ "یہ شخص اس منصب کے لائق نہیں"
میں اس مقام پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کو دل کے کانوں سے متوجہ ھونے کی دعوت دوں گا اس میں شک نہیں کہ مجھ جیسے ائمہ مساجد لائقِ تعریف نہیں
لیکن میرے بھائیو!
کبھی آپ کی مسجد کا امام بے قصور بھی ہوتا ھے
اور آپ کے اعتراضات بے جا بھی ھوتے ہیں
ایسی حالت میں اپنی "انا" کی تسکین کے بجائے اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ سے ڈریے اور ذہن میں رکھیے کہ:
جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نےمعترض کی ناحق باتیں سنی تھیں تو اپنے ہاتھ اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے دربار میں اُٹھا کر یہ دعا کی:
اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هٰذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهٗ وَأَطِلْ فَقْرَهٗ وَعَرِّضْهٗ بِالْفِتَنِ
اے اللّٰہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور نام ونمود کی خواہش میں اٹھا ہے تو اس کی عمر کو لمبا کر اس کی محتاجی میں اضافہ کر اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔
وقت گزر گیا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معزول بھی ہو گئے پروپیگنڈہ جیت گیا
لیکن سعد بن ابی وقاصؓ کی دُعا اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں محفوظ رہی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص انتہائی بڑھاپے کو پہنچا اس کی بھنویں آنکھوں پر گر چکی تھیں راستے میں کھڑے ہو کر بھیک مانگتا اور جب کوئی عورت سامنے سے گزرتی تو اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتا۔
لوگ کہتے: اے بوڑھے! تمہیں عورتوں کو چھیڑتے ہوئے حیاء نہیں آتی؟
جواب میں کہتا: میں کیا کروں؟ مجھ بڈھے کو سعد بن ابی وقاصؓ کی بد دعا لگ گئی ہے
(صحيح البخاري كتاب الأذان باب وجوب القراءة للإمام والمأموم : 755)
آج کے دور کا کوئی امام حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسا تو نہیں لیکن کسی بھی مسلمان پر ناحق اعتراضات کرتے وقت اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ کو بھول جانا انتہائی بد نصیبی کی علامت ہے
ہم اپنے پروپیگنڈہ میں جیت سکتے ہیں
لیکن اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں ان فیصلوں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں مسجدوں کے نظام میں بہتری لانے کی توفیق بخشے اور مسجد کے امام، خطیب اور انتظامیہ میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اسے حتٰی المقدور نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
3 years ago | [YT] | 2
View 0 replies
Haq nawaz Shamsi official
ہمارے پیارے استاد محترم ۔حضرت مولانا خلیل احمد صاحب مدظلہ العالی ۔۔اللہ کریم عمر میں مال میں جان میں عزت میں بے بہا برکتیں نصیب فرماۓ
3 years ago | [YT] | 10
View 0 replies
Haq nawaz Shamsi official
ہمارے چینل کولاٸک اور سبسکراٸب لازمی کریں شکریا
3 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
Haq nawaz Shamsi official
مولانا محمد حق نواز شمسی
3 years ago | [YT] | 11
View 3 replies
Haq nawaz Shamsi official
4 years ago | [YT] | 4
View 1 reply
Load more