Dr. Fawad Farooq is a highly qualified Interventional Cardiologist with a number of certifications including MBBS and FCPS (Cardio) as well as 16 years of experience in his field and He is also a highly skilled Cardiologist. Dr. Fawad Farooq offers a number of different services and treatments such as Beating Heart Surgery, Cardiac Bypass Surgery, Cardiac Catheterization, Cardiac CT Angiography, Echo-cardiogram, Electrocardiography (ECG), Exercise Tolerance Test (ETT), Stress Echocardiography, Treatment for Heart Attack and Ventriculo peritoneal (VP) Shunt.
Dr Fawad Farooq
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے ایک بار پھر کئی تلخ سوالات ہمارے سامنے لا کھڑے کیے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ایک دکان پر چھاپہ مارتے ہیں اور وہاں موجود دکاندار کو، جو نہ مزاحمت کر رہا ہے، نہ بدتمیزی اور نہ فرار کی کوشش، سرِعام تھپڑ مارا جاتا ہے۔
یہ تھپڑ شاید صرف ایک شخص کے چہرے پر نہیں پڑا…
بلکہ قانون، اختیار اور انسانیت کے چہرے پر بھی ایک سوال بن کر ابھرا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جرائم کی تفتیش کرنا، قانون نافذ کرنا اور معاشرے کو جرائم سے پاک رکھنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
لیکن کیا کسی وردی، کسی عہدے یا کسی اختیار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر کسی شہری کی عزتِ نفس کو مجروح کرے؟
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 14 ہر شہری کی عزت اور وقار کی ضمانت دیتا ہے۔
قانون یہ اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ ایک پُرامن اور تعاون کرنے والے شخص پر ہاتھ اٹھایا جائے۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 352 بھی واضح کرتی ہے کہ بلاجواز طاقت کا استعمال جرم ہے، چاہے یہ کسی عام شہری کی طرف سے ہو یا کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے۔
افسوس صرف اس واقعے پر نہیں…
افسوس اس سوچ پر ہے جہاں طاقت کو اخلاق سے بڑا سمجھ لیا گیا ہے۔
جہاں وردی خدمت کی علامت کم اور خوف کی علامت زیادہ بنتی جا رہی ہے۔
اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد چند دن کی معطلی، رسمی انکوائری یا وقتی شور کے بعد وہی لوگ دوبارہ وہی کچھ کرتے دکھائی دیتے ہیں جس پر کبھی کارروائی ہوئی تھی۔
گویا مسئلہ صرف افراد کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جہاں عوام کی عزت کے تحفظ کو کبھی سنجیدگی سے قانون کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا۔
حالانکہ انسان صرف موت سے نہیں مرتا…
کبھی بھرے بازار میں ہونے والی تذلیل،
کبھی اختیار کے نشے میں مارا گیا ایک تھپڑ،
اور کبھی ہجوم کے سامنے چھین لیا گیا وقار بھی انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔
ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس میں نہیں کہ وہ کسی کمزور کو کتنی آسانی سے خوفزدہ کر سکتی ہے،
بلکہ اس میں ہے کہ اختیار ہونے کے باوجود انصاف، تحمل اور انسانیت کو کیسے قائم رکھتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال، عوامی تذلیل اور بلاجواز تشدد کے خلاف ایسے سخت اور عملی قوانین نافذ کیے جائیں کہ ہر وردی قانون کی محافظ تو ہو، مگر انسانیت کی حرمت کی بھی نگہبان بنے۔
کیونکہ جہاں انسان کی عزت محفوظ نہ رہے، وہاں قانون کی بالادستی صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔
#قانون_کی_بالادستی #HumanRights #RuleOfLaw #SocialJustice #PakistanLaw #اپنے_حقوق_جانیں
3 weeks ago | [YT] | 20
View 1 reply
Dr Fawad Farooq
میں اکثر اپنے جونیئر ڈاکٹروں کو بزرگ مریضوں سے یہ کہتے سنتا ہوں:
“بابا جی کیا تکلیف ہے؟”
“تم ادھر چلے جاؤ…”
“یہ صبح دل کے درد کے ساتھ آیا تھا…”
اور دل بے اختیار سوچتا ہے کہ کیا واقعی ہم نے علم تو حاصل کر لیا، مگر ادب کھو دیا؟
اسلام نے گفتگو کو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ کردار کا آئینہ قرار دیا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا”
“اور لوگوں سے اچھی بات کہا کرو۔”
یہ حکم صرف عبادت گزاروں، علماء یا اپنے عزیزوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر انسان کے لیے ہے۔ خصوصاً وہ لوگ جو عوام سے براہِ راست وابستہ ہوں، ان کے لہجے میں نرمی، احترام اور شفقت اور بھی زیادہ ضروری ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا انداز دیکھیے کہ آپ ﷺ بچوں کو بھی عزت دیتے، غلاموں سے بھی محبت سے گفتگو فرماتے، اور بوڑھوں کے احترام کو امت کی پہچان قرار دیتے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔”
افسوس کہ آج ہمارے کئی اداروں میں لہجوں کی سختی، رویّوں کی درشتی اور طاقت کے اظہار نے انسانیت کو مجروح کرنا شروع کر دیا ہے۔
کسی کو سرِعام ذلیل کرنا، تھپڑ مار دینا، دھکے دینا یا اختیار کے نشے میں اس کی عزتِ نفس روند دینا… یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی اذیت بھی ہے۔
انسان صرف زخموں سے نہیں مرتا،
بعض اوقات تحقیر کے لفظ، بے توقیری کی نگاہ اور مجمع میں کی گئی تذلیل بھی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے:
“انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔”
اگر لہجہ مہذب ہو تو اختلاف بھی خوبصورت لگتا ہے، اور اگر زبان میں تکبر آ جائے تو علم بھی بے نور محسوس ہوتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، دفاتر اور تمام عوامی اداروں میں “ادب” کو دوبارہ زندہ کریں۔
کیونکہ تہذیب صرف ترقی یافتہ عمارتوں سے نہیں، بلکہ نرم لہجوں اور جھکے ہوئے رویّوں سے پہچانی جاتی ہے۔
خدا کرے ہم ڈگریوں کے ساتھ دلوں کی تربیت بھی سیکھ جائیں۔
3 weeks ago | [YT] | 23
View 5 replies
Dr Fawad Farooq
Dr.Fawad Farooq
7 years ago | [YT] | 29
View 60 replies
Dr Fawad Farooq
Heart diseases detailed discussion Urdu
7 years ago | [YT] | 35
View 31 replies