Stay informed, stay engaged with Front Affairs! Our channel covers a wide range of global topics, including politics, economics, social issues, and current events. We aim to provide you with a comprehensive understanding of world affairs, helping you make sense of the complex issues shaping our world.
If you want to share your story, email us: frontaffair01@gmail.com


FRONT AFFAIRS

Ukrainian President Volodymyr Zelensky announced on June 25 that he authorized a 40-day intermediate- and long-range strike campaign to influence Russia to end the war in Ukraine. The Ukrainian Security Service (SBU) reported on June 26 that Ukrainian drones continued strikes against occupied Crimea as part of the 40-day operation,

6 days ago | [YT] | 0

FRONT AFFAIRS

Trump just dropped the 2025 National Security Strategy, and it’s a total shift from everything we’ve seen in the last 70 years. No more "Global Policeman"—it’s all about "Hard Sovereignty" and the "Trump Corollary.
​Do you think the US pulling back from being the "World's Police" will make the world safer or more chaotic?
​✅ Safer - Focus on home first.
​⚠️ More Chaotic - Power vacuum for China/Russia.
​🌍 It depends on the region.

6 months ago | [YT] | 3

FRONT AFFAIRS

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
​تمام چاہنے والوں اور طالب علموں کے لیے بڑی خوشخبری! انجینئر محمد علی مرزا صاحب اپنی حالیہ رہائی کے بعد اس اتوار کو پہلا باقاعدہ پبلک سیشن (نمبر 214) کرنے جا رہے ہیں۔
​یہ ایک انتہائی اہم اور یادگار سیشن ہوگا جس میں آپ سب کی شرکت متوقع ہے۔
​🗓️ پروگرام کی تفصیلات:
​تاریخ: اتوار، 21 دسمبر 2025 (ان شاء اللہ)
​داخلے کا وقت: صبح 07:00 سے 09:30 تک
​لیکچر کا آغاز: ٹھیک 10:00 بجے
​اختتامی دعا: دوپہر 01:30 بجے
​📍 مقام:
​قرآن اینڈ سنت ریسرچ اکیڈمی
محفوظ پلازہ، کاظم کمال روڈ، نزد کیکس اینڈ بیکس، جی ٹی ایس چوک، جہلم سٹی۔
#engalimirza #jhelum

6 months ago | [YT] | 2

FRONT AFFAIRS

‏(فتح ثمرقند اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ جسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے…)

حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ رحمة
ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کے حکمران “عمر بن عبد العزیز” سے ملنا چاہتا تھا۔
اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری ‏نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔

پادری نے لکھا !
“ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ‏ہیں۔
مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور ہم پر راتوں رات اچانک حملہ کرکے ہمیں مفتوح کر لیاگیا ہے۔”
یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے سلطنت اسلامیہ کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔

دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کررہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔

جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔

لوگوں نے کہا، “ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے۔”

قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھر پر جا کر دستک دی،
‏جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کررہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔

قاصد نے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبد العزیز کو دے دیا۔

عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام : ”ایک قاضی کا تقرر کرو، جو پادری کی شکایت سنے۔” مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔

سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ، تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا .. کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی ‏فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔

قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
‏پادری نے کہا :قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟

قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔

سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا ‏کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کرلیا۔

قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟

قتیبہ نے کہا :نہیں قاضی صاحب، ‏میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کردیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔

اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع ‏پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہوتو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت ‏کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جاچکا تھا۔

ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔

ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کردے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور "لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ" کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔

دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔ آج غیر مسلم تو دور کی بات ،مسلمان سے مسلمان کو کوئی امان نہیں۔
بلوچستان میں قتل ، غزہ میں قتل عام اور مسلمانوں کی بےحسی اس کی مثالیں ہیں۔

مستند حوالہ جات:

1) فتوح البلدان — امام بلاذری (م 279ھ)
باب: فتح سمرقند
(اہلِ سمرقند کی شکایت اور قاضی کے فیصلے کا بنیادی ذکر)

2) تاریخ الطبری — ابن جریر طبری (م 310ھ)
جلد 7 / واقعاتِ سمرقند
(قتیبہ بن مسلم کا فتحِ سمرقند اور اہلِ شہر کی فریاد کا حوالہ)

3) الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (م 630ھ)
سال 95–96 ہجری کے واقعات
(فتحِ سمرقند اور عدالتی فیصلہ مختصر بیان ہوا ہے)

دلچسپ و عجیب تاریخ
#frontaffairs

6 months ago | [YT] | 6

FRONT AFFAIRS

بابری مسجد کی دوبارہ سنگ بنیاد بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمداظہرالدین بھی میدان میں آگئے باوجود بھارتی سرکار کی مشکلات کےبابری مسجد کی دوبارہ سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے جس میں بھارت کے سابق کپتان اظہر الدین نے اپنے جیب سے ایک کروڑ روپے کا چندہ دیکر ساتھ میں یہ پیغام بھی جاری کردیاہے کہ مسجد ہر صورت میں دوبارہ بنے گی اور اس کے راستے میں روکاٹ بننے والوں کا راستہ اب ہم روکیں گے
بھارت کے مختلف شہروں میں اظہرالدین کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہے بھارتی میڈیا کے مطابق اظہرالدین کے علاوہ بھارت کے کچھ مسلمان فلمی ایکٹرز بھی ہے جنہوں نے مسجد کیلئے بھاری رقم دے دی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح بھارتی میڈیا نے یہ الزام بھی پاکستان پر عائد کردیا ہے بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو دوبارہ مسجد کی تعمیر کیلئے اکسانے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے

#BabriMasjid #india

6 months ago | [YT] | 8